Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

مجلس شوری کے فیصلوں اوراہم امور کے متعلق اضلاع کو خط

بخدمت امرائے صوبہ ،حلقہ ، اضلاع، زون اور مقامی جماعت اسلامی پاکستان
بخدمت قیمہ ،ناظمات صوبہ اور اضلاع حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان
بخدمت ذمہ داران برادر تنظیمات جماعت اسلامی پاکستان
بخدمت مرکزی ذمہ داران جماعت اسلامی پاکستان

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
اُمید ہے آپ خیریت سے ہوں گے ۔
جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کا غیرمعمولی اجلاس مورخہ 2تا4ذیعقدہ1433ھ بمطابق 19 تا21 ستمبر 2012ءبروزبدھ،جمعرات،جمعہ محترم امیرجماعت اسلامی پاکستان سیدمنورحسن صاحب کی زیرصدارت منصورہ لاہور میں منعقد ہوا جس میں طے شدہ ایجنڈے کےمطابق کارروائی مکمل کی گئی۔ ذیل میں شوریٰ کےفیصلے اوراہم امورآپ کےعلم،اطلاع اورعمل درآمد کےلیےپیش کیے جارہے ہیں۔ امیدہےآپ تمام ارکان و کارکنان جماعت اورممبران تک ان کی ترسیل کابھی اہتمام فرمائیں گے۔
٭ تلاوت قرآن کریم کے بعداوقات کار کےلیےطےہوا کہ 10بجے صبح سےمعمول کےوقفوں کےساتھ رات10:00بجے تک اجلاس جاری رکھا جائے گا۔
٭ ڈاکٹر پرویز محمود (شہید )،انجینئر احسن عزیز واہلیہ(شہید)،عبدالواحد (شہید ) ،چوہدری غلام حسین کمبوہ (مرحوم )،ہمشیرہ سیدقطب شہید،بنگلہ دیش جماعت کے نائب قیم قمر الزمان صاحب کی والدہ محترمہ، دلاور حسین سعیدی(بنگلہ دیش)کے صاحبزادے ،شام کے شہداء،ناموس رسالت اور ڈرون حملوں کے شہداء، بختیارمعانی صاحب کے کم سن بیٹے عامر اور دیگر مرحومین کے لیے دعائے مغفرت کی گئی ۔
٭ محترم امیرجماعت نے اجلاس کے لیے چوہدری محمد اسلم سلیمی صاحب ،ڈاکٹر محمد کمال صاحب اورسراج الحق صاحب کومتبادل صدورمقرر کیا۔
٭ پروفیسرغفوراحمدصاحب (بوجہ علالت )،پروفیسر خورشید احمد صاحب (بوجہ بیرون ملک )،محمد حسین محنتی صاحب ،ڈاکٹر عبیداللہ گوہر صاحب(بوجہ رخصت )،محبوب الٰہی صاحب،محمد یونس خٹک صاحب،پروفیسر گوہر صدیقی صاحب (بوجہ علالت ) شریک اجلاس نہ ہوسکے ۔
٭ محترم قیم جماعت نےآگاہ کیا کہ کراچی میں ڈاکٹر پرویز محمود کی شہادت کے بعد کی صورت حال کی وجہ سے کراچی سے بیشتر ارکان تاخیر سے اجلاس میں شریک ہوں گے۔
محترم امیرجماعت نےحمدو ثناءکے بعداپنے افتتاحی کلمات میں ملک کی سیاسی صورتحال پرتبصرہ کرتےہوئے فرمایا ۔ شوریٰ کے اجلاس کے لیےاکٹھےہونےپریہ احساس ہوتاہےکہ ملکی حالات مزید ابتراورپیچیدہ ہوتے جارہے ہیں۔ مسائل اس قدر تہہ درتہہ اورالجھے ہوئے ہیں کہ کسی سرے کو پکڑنا مشکل محسوس ہوتاہے ۔ بنیادی طور پر سب سے بڑا مسئلہ اس خطے میں امریکی اثرو نفوذ ہے جو دن بدن بڑھ رہاہے۔ سلالہ چیک پوسٹ کے واقعہ کے بعد قوم کی توقعات کے برعکس نیٹو سپلائی کی بحالی کا فیصلہ ، ڈرون حملے اور فوجی آپریشن کے لیے رضامندی، قوم کی بے بسی کی علامت بن گیاہے۔امریکی مداخلت بڑھنے کے نتائج پاکستان پر عسکری ،معاشی، تہذیبی ،سیاسی ہر ہر دائرے میں نظر آ رہے ہیں چند روز قبل کراچی اور لاہور میں فیکٹریوں میں آتشزدگی کے سانحات ، بلوچستان کی بدامنی اورکراچی میں ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے واقعات صورت حال کی سنگینی کی نشاندہی کررہے ہیں ۔اسی دوران ناموسِ رسالت پر حملہ کا واقعہ بھی ہواہے جو مسلسل ہونے والے واقعات کے تناظر میں شدید اشتعال انگیزی کی حیثیت رکھتاہے تاہم اس امر کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے کہ ردعمل میں پُر امن تحریک دیر پا نتائج کی حامل ہوتی ہے۔
یہ امر افسوسناک ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایسی آوازیں بلند ہو رہی ہیں کہ ہمیں ردعمل کا اظہار نہیں کرنا چاہیے خصوصاً اس لیے کہ اس میں تشدد شامل ہونے کااندیشہ ہوتاہے۔ یہ بات سمجھنے کی ہے کہ احتجاج میں تشدد کی ایک اہم وجہ مسلمانوں کی حکومتوں کی نااہلی اور بزدلانہ رویہ ہے۔ ہمارا کردار یہ ہونا چاہیے کہ احتجاج کوپُرامن طور پر اس طرح منظم کیا جائے کہ اس کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ دباﺅ ڈالا جاسکے۔ کراچی میںٹارگٹ کلنگ ،بھتہ خوری اور غنڈہ گردی کے تسلسل میں ہمارے دوساتھیوں کی شہادت پر آج شہر میں ہماری اپیل پر پُرامن کامیاب ہڑتال ہوئی جس پر ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ کراچی میں دیگر جماعتوں کی جانب سے بھی ہڑتال کی تائید کی گئی تھی ۔ موجودہ حکومت کے پانچ سال پورے ہونے کو ہیں ، مڈٹرم الیکشن کی بات اب غیر متعلق ہے ۔ اس وقت انتخابی ماحول تشکیل پا رہاہے جس میں ایک طرح کی اتھل پتھل کا عمل جاری ہے۔ آج پیش کی گئی مجلس شوریٰ کی سابقہ کاروائی کے نکات ذہنوں میں تازہ رکھے جائیں تو ایم ایم اے کے حوالہ سے ہمارا نقطہ نظر اور مولانا فضل الرحمن صاحب کا طرزعمل ہمارے سامنے آچکاہے۔ دوسری جانب کارکنوں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو اپنے پرچم اور انتخابی نشان پر الیکشن لڑنے کی خواہشمند ہے۔ہماری کوشش رہی ہے کہ ہمارے نقطہ نظر کے ساتھ اوروں کی مفاہمت کا ماحول برقرار رہے اور ہمارے لیے بھی آپشنز کھلے رہیں۔
سابقہ اجلاسوں کی کاروائی کی توثیق :
٭ نائب قیم جماعت خالدرحمن صاحب نے مجلس شوریٰ کے اجلاس منعقدہ 19تا21جنوری 2012ءکی کاروائی کی روداد پیش کی ، کاروائی کی توثیق کی گئی ۔
٭ نائب قیم جماعت حافظ ساجد انور صاحب نے مرکزی مجلس عاملہ منعقدہ24 اپریل2012ءکی کاروائی کی روداد پیش کی ،جزوی ترمیم کے ساتھ کاروائی کی توثیق کی گئی ۔
٭ قیم جماعت اسلامی پاکستا ن لیاقت بلوچ نے مرکزی مجلس شوریٰ اور مرکزی مجلس عاملہ کے فیصلوں پر عمل درآمد کا جائزہ پیش کیا ۔
٭ قیم جماعت نے بتایا کہ محترم امیرجماعت نے میاں محمد اسلم صاحب اور ڈاکٹر حسن صہیب مراد صاحب کی باالترتیب جماعت اسلامی کے ترجمان برائے زراعت ،صنعت وتجارت اور تعلیم کے طور پر تقرری کی ہے۔
٭ قرطبہ پراجیکٹ کے حوالہ سے جائزہ رپورٹ سرفراز احمد خان صاحب نے ملٹی میڈیا پر پیش کی اور موجودہ صورت حال اور آئندہ مراحل کے حوالہ سے شرکاءاجلاس کو تفصیل سے بریفنگ دی ۔
٭ قیم جماعت نے کے ایس ایس کے حوالے سے تحریری رپورٹ پڑھ کر سنائی اور سوالوں کے جواب دیئے۔
٭ ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی صاحب نے کراچی کی موجودہ صورت حال پر شرکاءمجلس کو تفصیل سے بریف کیا۔ انہوںنے کراچی میں ایم کیو ایم کی کھلی جارحیت ، بھتہ خوری ، ٹارگٹ کلنگ اور دیگر جرائم کا تذکرہ کیا ۔ ان شرپسند عناصر نے ہی ڈاکٹر پرویز محمود کو شہید کیا۔
٭ محترم قاضی حسین احمد صاحب نے ملی یکجہتی کونسل کے حوالہ سے تفصیلات رکھیں۔ انہوںنے واضح کیا کہ ملی یکجہتی کونسل کے تحت خطبات جمعہ ، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عمل درآمد اور مصالحت کے لیے کمیشنز قائم ہیں۔مختلف دینی جماعتوں کی شرکت او ردلچسپی کو مدنظر رکھ کر ایسے اقدامات کیے جارہے ہیں جس کے نتیجہ میں قدرمشترک پر سب کو اکٹھا کیا جاسکے ۔
٭ ڈاکٹر طاہر سراج صاحب نے اپنے ایک خط کے ذریعے شرکاءاجلاس کو متوجہ کیا کہ پنجاب میں 31ہزار طلبہ و طالبات کے پرائمری سکولوں کو باہم ضم کرنے کا فیصلہ کرلیاگیا ہے۔جبری مخلوط تعلیم کے نتیجے میں کئی مفاسد سامنے آئیں گے۔ اسی طرح پنجاب میں پہلی کلاس سے ہی انگریزی ذریعہ تعلیم کو لازمی کردیا گیاہے جس کے نتیجے میں غریب کا بچہ تعلیم اور اپنی اقدار وشناخت سے محروم رہے گا۔ یہ خط تعلیمی کمیٹی کے سپرد کردیاگیا تاکہ بغور جائزہ اور مناسب اقدامات ہوسکیں ۔
٭ مجلس عاملہ کے ایک فیصلہ پر گفتگو کے ضمن میں واضح ہواکہ جماعت اسلامی پاکستان کے جھنڈے پر ”جماعت اسلامی پاکستان‘ ‘ کے الفاظ بھی تحریر کیے جانے کا اہتمام ہونا چاہیے۔ یہ صورت حال کہ بعض اوقات یہ تحریر ہو اور بعض اوقات ایسا نہ ہو اُلجھن کا سبب بنتی ہے۔
٭ حاجی خالق داد خان صاحب نے دستور جماعت میں اپنی تجویز کردہ ترمیم پڑھ کر سنائی جو ایجنڈے کے ساتھ ہی اراکین مجلس شوریٰ کو فراہم کردی گئی تھیں۔
دفعہ ۶۹۔
۱۔ہر جماعت کا بیت المال اُس کے امیر کے تحت ہوگا اور امیرکو اپنے بیت المال سے ہر جماعتی کام پر خرچ کرنے کے اختیار ات ہوں گے۔ لیکن ہر امیراپنے امرائے بالا کے سامنے جوابدہ ہوگا۔
ترمیم کے بعد :
دفعہ ۶۹۔
۱۔ ہر جماعت کا بیت المال اُس کے امیر کے تحت ہوگا اور امیرکو اپنے بیت المال سے ہر جماعتی کام پر خرچ کرنے کے اختیار ات ہوں گے۔ لیکن ہر امیراپنی مجلس شوریٰ اور امرائے بالا کے سامنے جوابدہ ہوگا۔
ارکان شوریٰ نے خالق داد خان صاحب کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے ترمیم کو منظور کرلیا۔ چوہدری محمد اسلم سلیمی صاحب او رخالق داد خان صاحب ترمیم کے مطابق مناسب الفاظ کے لیے مشاورت کرکے محترم امیرجماعت کو آگاہ کردیں گے۔
٭ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ صاحب نائب قیم جماعت اسلامی پاکستان نے سیاسی اُمور کمیٹی کی رپورٹ پڑھ کر سنائی ۔
٭ کراچی سے ارکان شوریٰ کی گفتگو کی روشنی میں طے پایا کہ کراچی میں بد امنی اور قتل و غارت گری کی وجہ سے ابتر سیاسی صورت حال کے حوالہ سے اس سے قبل جو مشاورتیں ہوئیں ان کی سفارشات کو از سر نو دیکھا جائے او رمتعین اقدامات کیے جائیں ۔
٭ سیاسی صورت حال پر بحث کے ضمن میں طے پایا کہ مرکز کی سطح پر ایک کمیٹی سیاسی و دینی جماعتوں کے ساتھ اتحاد یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے حوالہ سے مزید تیاری کرلے تاکہ اگلے مراحل میں پیش رفت میں آسانی ہو۔
٭۔ اختتامی خطاب محترم امیرجماعت!
محترم امیرجماعت نے اپنے اختتامی خطاب میںفرمایا کہ مختلف سیاسی اور رفاہی دائروں میں جماعت کی سرگرمیوں کی اہمیت مسلم ہے تاہم لٹریچر کو فروغ دینے اور مطالعہ کروانے کی ازحد ضرورت ہے ۔ یہ تحریکی شعور ہی دین اسلام کا کامل وژن عطا کرتاہے ۔ جو ہماری سیاسی رفاہی تعلیمی اور زندگی کے تمام شعبوں کے لیے ممد ومعاون بن سکتاہے لہٰذا اس کی طرف مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
٭ بیرون ملک پاکستانیوں کی ملک کی سیاسی جماعتوں سے وابستگی کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے ۔شعبہ اُمور خارجہ کے ناظم اور اُمو رخارجہ کمیٹی اس پر غور کرلیں کہ مختلف ممالک میں جماعت کے نام سے کام کرنے کی کتنی گنجائش ہے اور جماعت کی اس سلسلہ میں کیا حکمت ہو ۔
٭ منشور کی اشاعت ہوچکی ہے اسے پھیلانے اور اپنی تقریروں میں موضوع بحث بنانے کی ضرورت ہے۔ جس طرح عبادات کے بارے میں کہا جاتاہے کہ ہر عبادت دوسری عبادت کے لیے تقویت کا ذریعہ اور سبب بنتی ہے اسی طرح تحریکی سرگرمیاں بھی ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ چنانچہ جماعت کی سرگرمیوں سے ایسی کیفیت قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ جماعت کے امیج اور اس کی تائید میںبھی اضافہ ہو اور اس کے اثرات و فوائد ووٹ کی صورت میں جماعت کو ملیں ۔ برادر تنظیمات کی اپنے اپنے دائروں میں افادیت مسلم ہے تاہم انہیں مزیدبہتر بنانے اور نتیجہ خیز بنانے کی ضرورت سے بھی انکار نہیں کیاجاسکتا۔
٭ مرکزی مجلس شوریٰ نے اپنے اجلاس میں 11.موضوعات پر قرار دادیں منظور کیں جن کے مکمل متن ہفت روزہ ایشیا اور روزنامہ جسارت میں شائع ہو رہے ہیں ۔ ارکان وکارکنان سے گزارش ہے کہ جماعت کی پالیسی کے حوالہ سے شعور اور فیصلوں سے آگاہی کے لئے ان قراردادوں سے بھرپور استفادہ کریں اور انہیں زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کا اہتمام کریں ۔ ان قرار دادوں کو متعلقہ محکموں اور اداروں تک بھی پہنچایا جارہاہے۔
٭ 12:15 بجے دوپہر محترم امیرجماعت کی دعاکے ساتھ اجلاس کا اختتام ہوا۔
دعاہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے فیصلوں میں برکت عطا فرمائے ،انہیں ملک و قوم اور جماعت کے لئے سود مند بنائے اور ہم سب کو ان پر عمل درآمد کی توفیق مرحمت فرمائے ، آمین۔
والسلام
خاکسار

(لیاقت بلوچ)
قیم جماعت اسلامی پاکستان
 

 

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس