Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

رمضان المبارک کے حوالے سے ارسال کردہ سرکلر

بخدمت امرائے صوبہ ،حلقہ ، اضلاع، زون اور مقامی جماعت اسلامی پاکستان
بخدمت قیمہ ،ناظمات صوبہ اور اضلاع حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان
بخدمت ذمہ داران برادر تنظیمات، جماعت اسلامی پاکستان
بخدمت مرکزی ذمہ داران، جماعت اسلامی پاکستان

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے آپ ایمان و صحت کی بہترین حالت میں ہوں گے۔
رمضان المبارک کی آمد آمد ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ معمول تھا کہ رمضان المبارک کے آغاز میں لوگوں کواس کی اہمیت و برکت سے آگاہ کرنے کے لیے خطبات ارشاد فرمایا کرتے تھے تاکہ وہ اس ماہ مبارک کے خزانوں سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔تحریک اسلامی کے کارکنان کو بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ پر عمل کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں،دوستوں،اعزہ واقارب اور عوام الناس کو رمضان کے استقبال اور اس سے استفادے کے لیے تیار کرنا چاہیے۔
آپ کے ہاتھوں میں موجود یہ سرکلر محض اتباع سنت کی ایک کوشش ہے۔ اس کا غور سے مطالعہ فرمائیں اور اسے اپنے حلقہ میں زیادہ سے زیادہ پھیلانے کی کوشش کریں ۔
ماہ رمضان کو خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شھر عظیم اور شھرمبارک قرار دیاہے۔ حضرت سلمان فارسیؓ روایت کرتے ہیں کہ ماہِ شعبان کی آخری تاریخ کو رسول اللہصلی اللہ علیہ وآلہ وسلمنے ہمیں یہ خطبہ ارشاد فرمایا :’’اے لوگو!تم پر ایک عظمت اوربرکت والا مہینہ سایہ فگن ہو رہا ہے۔اس مہینے کی ایک رات (شب قدر) ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔اس مہینے کے روزے اللہ تعالیٰ نے فرض کیے ہیں۔ اس کی راتوں میں بارگاہ خداوندی میں کھڑا ہونے (نماز تراویح) کو نفل عبادت قرار دیا ہے۔ جو شخص اس مہینے میں اللہ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لیے کوئی غیر فرض عبادت(سنت یا نفل)ادا کرے گا تو اس کو دوسرے زمانے کے فرضوں کے برابر ثواب ملے گا اور اس مہینے میں فرض ادا کرنے کا ثواب دوسرے زمانے کے ستر فرضوں کے برابر ہے۔ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے۔یہ ہمدردی اور غم خواری کا مہینہ ہے ۔ یہی وہ مہینہ ہے جس میں مؤمن بندوں کے رزق میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ جس نے اس مہینے میں کسی روزے دار کو افطار کرایاتو اس کے لیے گناہوں کی مغفرت اور آتش دوزخ سے آزادی کا ذریعہ ہو گااور اس کو روزہ دار کے برابر ثواب دیا جائے گابغیر اس کے کہ روزہ دار کے ثواب میں کچھ کمی کی جائے۔
آپؐ سے عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہؐ ! ہم میں سے ہر ایک کے پاس تو افطار کرانے کا سامان مہیا نہیں ہوتا۔آپؐ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ یہ ثواب اس شخص کو بھی دے گاجو دودھ کی تھوڑی سی لسی یا پانی کے ایک گھونٹ سے ہی کسی روزہ دار کو روزہ افطار کرا دے۔ اور جو کسی روزہ دار کو پورا کھانا کھلائے گااللہ تعالیٰ اس کو میرے حوض (کوثر)سے ایسا سیراب کرے گاجس کے بعد اس کو کبھی پیاس نہیں لگے گی تاآنکہ وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔
اس ماہِ مبارک کا ابتدائی حصہ رحمت ہے،درمیانی حصہ مغفرت ہے اور آخری حصہ آتش دوزخ سے آزادی ہے۔جو آدمی اس مہینے میں اپنے خادم کے کام میں تخفیف اور کمی کرے گااللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرما دے گااور اس کو دوزخ سے رہائی دے دے گا۔‘‘(البہیقی)۔اس عظیم مہینے کی برکتوں سے مکمل استفادے کے لیے ابھی سے اپنی کمر کس لیجیے، اس کے لیے بھر پور منصوبہ بندی کیجیے۔درج ذیل اُمور سے بھی انفرادی و اجتماعی سطح پر استفادہ کیا جاسکتاہے۔
۱۔نیت و ارادہ
رمضان المبارک کے استقبال کے لیے سب سے پہلا کا م یہ ہے کہ ابھی سے اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی خالص نیت اور پختہ ارادہ کر لیں۔یہ وہ طاقت ہے جس کے بغیر کوئی راستہ طے نہیں ہو سکتا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے مطابق نیت پر ہی تمام اعمال کا دارو مدار ہوتاہے۔ رمضان کے پیغام، اور اس کی عظمت و برکت کے احساس کو تازہ کر لیں۔ ایسے کام کرنے کاعزم و ارادہ کریں کہ جن سے آپ اور آ پ کے مخاطبین کے اندر تقویٰ پیدا ہو،جو روزے کا حاصل اورمطلوب ہے۔آپ کو معلوم ہے کہ تقویٰ قلب و روح اور عمل و کردار کی اس قوت کا نام ہے ، جس سے ہم غلط، بُرے اور نقصان دہ کاموں سے رک جائیں اور استقامت کے ساتھ صحیح ،اچھے اور نفع بخش کام کرنے لگ جائیں ۔اچھے کاموں کی تفصیل جاننے کے لیے بہت مفید ہو گاکہ رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی اس سے متعلقہ کتابوں اور پمفلٹس کے مطالعہ کاآغاز کردیاجائے۔مولانا مودودیؒ کی کتب، کتاب الصوم،فضائل قرآن، خطبات اور اسلامی عبادات پر ایک تحقیقی نظر سے ضرور استفادہ کریں۔
۲۔قرآن مجید سے گہری وابستگی
رمضان اور قرآن کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔قرآن مجید اسی ماہِ مبارک میں نازل کیا گیا۔تراویح کی صورت میں ہماری توجہ قرآن پر مرکوز رہتی ہے۔نماز تراویح کی پابندی سے کم از کم اتنا ضرور ہوتا ہے کہ آپ پورا قرآن ایک بار سن لیتے ہیں۔اس مہینے کا اصل حاصل ہی قرآن سننا اور پڑھنا، قرآن سیکھنااور اس پرعمل کرنے کی استعداد پیدا کرنا ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے ذریعے ہی لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب پیدا کیا تھا۔ ہم بھی جس تبدیلی کا علَم تھامے ہوئے ہیں،وہ اسی کے ذریعے ہی آئے گی۔
۔۔۔روزانہ قرآن کا کچھ حصہ ترجمے کے ساتھ سمجھ کر پڑھنے کی کوشش کریں اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیں۔یکم رمضان سے ہی اس ارادے کے ساتھ قرآن ترجمے کے ساتھ پڑھنا شروع کر دیں کہ آئندہ رمضان تک پورا قرآن ترجمے کے ساتھ پڑھنے کی استعداد پیدا ہو جائے۔۔۔یہ نہ ہو سکے تو بھی چار ،پانچ آیات روزانہ ترجمے کے ساتھ پڑھنا اپنا معمول بنا لیں۔۔۔ان شا ء اللہ ایک دن آئے گا کہ آپ بھی اللہ کے پیغام کو براہ راست سمجھنے کے قابل ہو جائیں گے۔۔۔اللہ تعالیٰ کی مدد بھی ضرور شامل حال ہوگی۔جو لوگ اللہ کے راستے میں چلنے کی کوشش کرتے ہیں ، اللہ ان کی ضرور رہنمائی کرتا ہے۔
۔۔۔رمضان نیکیوں کا موسم بہار ہے اور روزے کی وجہ سے لوگوں کے دل اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ۔اس قلبی کیفیت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ہرمقامی جماعت پانچ یا دس روزہ فہم قرآن کلاس اورجہاں ممکن ہو ،دورۂ تفسیر کا اہتمام کرنے کی کوشش کریں۔
۔۔۔ جماعتی احباب جن جن مساجد میں نماز پڑھتے ہیں یا جو مساجد ہمارے زیرانتظام ہیں ان میں خلاصہ تراویح کا اہتمام کریں۔یہ قرآن کی دعوت کو عام کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔۔۔۔اکثر مساجد میں نماز تراویح میں مکمل قرآن پاک سنایا اور سنا جاتاہے۔جس دن قرآن کا آخری پارہ تلاوت کیا جاتا ہے،اس دن ختم قرآن کی تقاریب منعقد ہوتی ہیں۔اپنے اردگرد مساجد میں ہونے والی ایسی تقاریب میں شرکت کریں اورعوام الناس تک اپنی دعوت پہنچانے کی کوشش کریں۔
مولاناسیدابوالاعلیٰ مودودی ؒ کی تفسیر تفہیم القرآن اور ترجمہ قرآن کی آڈیو سی ڈیزسے خود بھی ضرور استفادہ کریں اور اپنے حلقہ احباب اور اعزہ و اقارب کو بھی ان سے مستفید ہونے پر آمادہ کریں۔
۳۔برائیوں کا علاج
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ’’ روزہ( گناہوں سے بچنے کے لیے) ڈھال ہے،پس اس کو ڈھال بناؤ۔روزہ دار بدکلامی کرے نہ چیخے چلائے، اگر کوئی اس کو براکہے یا اس سے لڑے تو یہ کہہ کر الگ ہو جائے کہ میں روزے سے ہوں،میرے لیے یہ ممکن نہیں کہ ان برے کاموں میں مشغول ہوں۔‘‘
۔۔۔اپنی خامیوں کی ایک فہرست بنائیں اوراکٹھے نہیں تو ایک ایک کر کے ان سے بچنے کا اہتمام کریں۔۔۔۔غیبت ، چغلی ، لعن طعن ،بدگمانی ، تکبر ، ظلم ، غصہ ،جھوٹ ،وعدہ خلافی ،بد نگاہی، حسد ،بغض وغیرہ۔۔۔یہ سب اخلاقی برائیاں ہیں۔۔۔ اور ماہ رمضان ان برائیوں کا علاج کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔۔۔اس موقع کو ضائع مت کیجیے۔
۴۔ باجماعت نمازوں کااہتمام
۔۔۔ اذان کے بعد سب کام چھوڑ کر مسجد پہنچیں اور پہلی صف میں نماز ادا کرنے کی کوشش کریں تاہم تکبیر تحریمہ کسی صورت فوت نہ ہونے پائے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا فرمان ہے کہ’’ جس شخص کو یہ بات پسند ہوکہ وہ مطیع و فرمانبردار بندے کی حیثیت سے روزِ قیامت اللہ سے ملے،تو اس کو پانچوں نمازوں کی دیکھ بھال کرنی چاہیے اور انہیں مسجد میں جماعت کے ساتھ ادا کرنی چاہیے۔۔۔اگر تم اپنے گھروں میں نماز پڑھو گے جیسا کہ یہ منافق لوگ اپنے گھروں میں نماز پڑھتے ہیں تو تم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقے کو چھوڑ دو گے اور اگر تم نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقے کو چھوڑا تو صراط مستقیم کو گم کر بیٹھوگے۔‘‘
۔۔۔گھر سے وضو کرکے آئیں اور مسجد میں پہنچ کر تحیۃ المسجدکے دو نوافل ادا کریں۔
باقاعدگی کے ساتھ نمازِ تراویح کا اہتمام کریں۔آنحضرتؐنے فرمایا ہے کہ ’’جوشخص یہ نماز[تراویح] پڑھتا ہے اس کو پوری رات کے قیام کا ثواب ملے گا۔‘‘
۔۔۔رات کے آخری تہائی حصے میں پڑھی جانے والی نمازتہجد بھی تقویٰ کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے، اس کا بھی التزام کرنے کی کوشش کریں۔ رمضان المبارک میں تو اس کا اجر کئی گنازیادہ ہے۔
۵۔ افطار پارٹیوں کو دعوت کا ذریعہ بنائیں
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان المبارک کو ہمدردی و غم خواری کا مہینہ قرار دیا ہے۔ہمدردی کا ایک پہلوکسی روزہ دار کا روزہ افطار کروانا بھی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے افطار کروانے کی ترغیب دی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے : ’’جوشخص کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرائے تو اس کے لیے گناہوں سے مغفرت اور دوزخ کی آگ سے رہائی ہے۔اس کو اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا روزہ دار کو، اور اس سے روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔‘‘
۔۔۔ انفرادی و اجتماعی سطح پر افطاری کا اہتمام کریں۔افطاری سے کم از کم آدھاگھنٹہ پہلے لوگوں کی شرکت کو یقینی بنائیں اور ان کے لیے درس قرآن، درس حدیث، لیکچروغیرہ کا اہتمام کریں۔ افطاری سے پہلے دعا ضرور پڑھیں۔
۔۔۔افطار پارٹیوں کو کھانے پینے کی نمائش کے بجائے دعوتی عمل کومہمیز دینے کا ذریعہ بنائیں۔
۔۔۔ غرباء و مساکین کو افطار پارٹیوں میں ضرور دعوت دیں۔
۔۔۔پہلے افطار ،پھرنماز اورآخرمیں طعام کی ترتیب کو روا ج دیں۔
۶۔اہم ایام
اضلاع ،تحصیل/ٹاؤن اورمقامات اپنے ماہانہ تنظیمی اجتماعات کے ایجنڈے میں درج ذیل ایام منانے کی کوشش کریں:
۱۰رمضان المبارک یوم باب الاسلام ۱۷ رمضان المبارک یوم غزوۂ بدر
۲۱ رمضان المبارک یوم فتح مکہ ۲۷ رمضان المبار ک یوم نزول قرآن
۲۷ رمضان المبار ک یوم آزادی پاکستان
۔۔۔ان ایام کی مناسبت سے پروگرامات ترتیب دیں اورانہیں جماعت کی دعوت کاذریعہ بنائیں ۔۔۔ نماز جمعہ اورعید الفطر کے اجتماعات بھی رابطہ عوام کا بہترین ذریعہ ہیں۔
۷۔اعتکاف
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ’’ جب رمضان کا آخری عشرہ آتاتوآپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کمر کس لیتے،راتوں کو جاگتے،اپنے گھر والوں کو جگاتے،اور اتنی محنت کرتے جتنی کسی اور عشرے میں نہ کرتے۔‘‘
رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا۔ ایک سال بوجوہ ناغہ ہوا توآپؐنے اگلے سال بیس دن اعتکاف کیا۔
۔۔۔رمضان المبارک مومن کی تیاری کا مہینہ ہے تاکہ بقیہ گیارہ مہینے شیطانی قوتوں سے لڑنے کی قوت فراہم ہو جائے۔اعتکاف اس تیاری کا اہم جزو ہے۔
۔۔۔اجتماعی اعتکاف اور شب بیداری کا پروگرام بنائیں اور ارکان،اُمیدواران رکنیت،زیر تربیت افراد اور کارکنان کو شوق دلا کر ایک مقام پر جمع کریں۔
۔۔۔آخری عشرے کی پانچ طاق راتوں،۲۱،۲۳،۲۵،۲۷ اور ۲۹ کو اعتکاف اور شب بیداری کے لیے مختص کردیں اور مقامی جماعتوں کے لیے طے کر دیں کہ جماعت کے جملہ متعلقین فلاں مسجد میں ان تاریخوں میں جمع ہوا کریں گے۔
۸۔ شب قدر
قرآن مجید کے فرمان کے مطابق شب قدر ہزار مہینوں سے افضل ہے۔۔۔۔امام بخاریؒ نے حضرت ابوہریرہؓ کی روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’جس شخص نے شب قدر میں ایمان اور خود احتسابی کی حالت میں قیام کیا تو اللہ رب العالمین اس کے پچھلے تمام گناہ معاف فرما دیں گے۔‘‘
۔۔۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شب قدر کو تلاش کرورمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں۔۔۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اگر مجھے پتا چل جائے کہ فلاں رات شب قدر ہے تو اس میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟آپؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کیا کرو: اَللّٰہُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ۔’’اے اﷲ ! بلاشبہ تو معاف کرنے والا ہے، اور معاف کرنے کو پسند کرتا ہے ،پس تو مجھے معاف فرمادے۔ ‘‘
۹۔انفاق فی سبیل اللہ
نماز کے بعد سب سے بڑی عبادت اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہے۔وقت ،جان،مال ،اولاد،صلاحیتیں اور جسم و جان کی جملہ قوتیں ،غرض جو کچھ بھی مالکِ دوجہاں نے دیا ہے اس کی راہ میں خرچ کرنا ۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سارے انسانوں سے زیادہ فیاض اور سخی تھے۔لیکن رمضان المبارک میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بارش لانے والی تیز ہوا سے بھی زیادہ سخاوت فرمایا کرتے تھے۔
۔۔۔اگر آپ اللہ تعالیٰ کا قرب چاہتے ہیں ، جنت میں اعلیٰ درجات کی خواہش رکھتے ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قُرب کے طلب گار ہیں تو اللہ کی راہ میں دل کھول کر خرچ کریں اور دیگر لوگوں کو بھی اس طرف متوجہ کریں۔
۔۔۔ حضرت ابن عباسؓسے روایت ہے کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر کو فرض قرار دیا ہے [تاکہ]روزے لغو اور بے ہودہ باتوں سے پاک ہوجائیں اور مسکینوں کو کھانے پینے کا سامان میسر آئے۔صدقہ فطرعید کی آمد سے پہلے ہی ادا کرنے کی کوشش کریں تاکہ غرباء ومساکین بھی عید کی خوشیوں سے لطف اندوز ہو سکیں۔
۔۔۔دستور جماعت کے مطابق ارکان جماعت اپنی زکوٰۃ ،عشر اور صدقات واجبہ لازماً جماعت کے بیت المال میں داخل کروائیں۔ مختلف مسائل کی وجہ سے جماعت کا مرکز ی بیت المال خسارے میں ہے۔ اس لیے انفاق کرتے وقت اس پہلو کو نہ صرف اپنی نظروں سے اوجھل نہ ہونے دیں بلکہ بیت المال کو مستحکم کرنے کے لیے دیگر اہل خیر سے بھی بھر پور تعاون حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
۱۰۔آخری گزارش
دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔آخرت کی تیاری کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو مہلتِ عمل ہمیں دے رکھی ہے اس کا نام زندگی ہے۔یہ مہلتِ عمل کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے۔رمضان المبارک تیاری کا بہترین موقع ہے،اس سے فائدہ اٹھائیے ،اسے نیکیوں کا موسم بہار کہا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی رحمت حاصل کرنے ،اپنے گناہ معاف کروانے اور جہنم سے آزادی کا پروانہ حاصل کرنے کے لیے اس کے ایک ایک لمحے کو قیمتی بنائیں اور ضائع ہونے سے بچائیں۔
دعاہے کہ اللہ تعالیٰ اس دفعہ رمضان المبارک سے بھر پور استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور دنیا و آخرت میں ہمیں کامیابیوں سے نوازے۔ [آمین]

والسلام
خاکسار

لیاقت بلوچ
قیم جماعت اسلامی پاکستان
 

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس