Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

31علمائے کرام کے 22نکات

دستوراسلامی کی مہم
قیام پاکستان کےفورا بعد سیدابولاعلی ٰ موددی نے ملک میں اسلامی دستور کے نفاذ کے مطالبے پر مسلمانوں کے تمام گروہوں کومتحدہ کردیااور ملک کے گلی گلی اور کوچے کوچے میں یہ صدائیںگونجنے لگیںکہ ’جب ہم مسلمان ہیں تو ہمارا دستور بھی اسلامی ہونا چاہیے، انگریز رخصت ہوچکا اس کا قانون کب رخصت ہوگا؟“ ملک خدا کا ، قانون شریعت کا ، کے مطالبات کی شکل اختیار کرگئے۔ حکمران مسلم لیگ کے لیے جس نے ”پاکستان کامطلب کیا ،لاالہ الااللہ “ کے نعرے کیبنیاد پرمسلمانان برصغیر ہند کو ایک متفقہ جدوجہد اور قربانی پر آمادہ کیا تھا، اسلامی دستور کے مطالبے کو یکسر مسترد کرنا ممکن نہیں تھا۔ چنانچہ اس کے نے حیلے بہانے شروع کردیے اور ان کا سب سے بڑا بہانہ یہ تھا کہ کس کا اسلام؟سنیوں، شیعوں کا یا صوفیوں کا ، دیوبندیوں کایا بریلویوں کا یا سلفیوں کا، جماعت اسلامی کا یا جمعیت علمائے اسلام کا؟اس کا مسکت جواب دینے کے لیے پاکستان بھر سے 31جید علمائے کرام اکٹھے ہوئے، ان میں علامہ سید سلیمان ندویؒ اور مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ جیسے مشاہیر علماءشامل تھے اور انہوں نے متفقہ طور پر اسلامی دستور کی تدرین کے لیے 22نکات مرتب کیے جو علماءکے 22نکات کے نام سے مشہور ہوئے۔ یہ 22نکات آج بھی پاکستان کے دینی طبقوں کے درمیاں اتفاق کی اساس ہیں۔
31علمائے کرام کے 22نکات
1۔ اصل حاکم تشریعی و تکوینی حیثیت سے اللہ رب العزت ہے۔
2۔ ملک کا قانون کتاب و سنت پر مبنی ہوگا اور کوءایسا قانون نہ بنایا جاسکے گا اور نہ کوئی ایسا انتظامی حکم دیا جاسکے گا جو کتاب و سنت کے خلا ف ہو
)تشریحی نوٹ: اگر ملک میں پہلے سے کچھ ایسے قوانین جاری ہوں جو کتاب و سنت کے خلاف ہوں تو اس کی تصریح بھی ضروری ہے کہ بتدریج ایک معینہ مدت کے اندر منسوخ یا تبدیل کردیے جائیں گے۔
3۔ مملکت کسی جغرافیائی، نسلی ، لسانی یا کسی اور تصور پر نہیں بلکہ ان اصول و مقاصد پر مبنی ہوگی جن کی اساس اسلام کا پیش کیا ہوا ضابطہ حیات ہے۔
4۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ قرآن و سنت کے بتائے ہوئے معروفات کوقائم کرے، منکرات کومٹائے اور شعائر اسلام کے احیاءو اعلاءاور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری اسلامی تعلیم کا اہتمام کرے۔
5۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمان عالم کے رشتہ اتحاد و اخوت کو قوی سے قوی تر کرنے اور ریاست کے مسلم باشندوں کے درمیان عصبیت جاہلیہ کی بنیادوںپر نسلی،لسانی، علاقائی یا دیگر مادی امتیازات کے ابھرنے کی راہیں مسدود کرکے ملت اسلامیہ کی وحدت کے تحفظ و استحکام کا انتظامی کرے۔
6۔ مملکت بلا امتیاز مذہب و نسل وغیرہ تمام ایسے لوگوں کی بنیادی انسانی ضروریات یعنی غذا،لباس، مسکن ، معالجہ اورتعلیم کی خود کفیل ہوگی جو اکتساب رزق کے قابل نہ ہوں یا نہ رہے ہوں یا عارضی طور پر بے روزگاری، بیماری یا دوسرے وجوہ سے فی الحال سعی اکتساب پر قادر نہ ہوں۔
7۔ باشندگان ملک کو وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے جو شریعت اسلامیہ نے ان کوعطا کیے ہیں، یعنی حدود قانون ک اندرتحفظ جان و مال وآبرو ، آزادی مذہب و مسلک ، آزادی عبادت، آزادی ذات، آزادی اظہار رائے، آزادی نقل و حرکت ، آزادی اجتماع، آزادی اکتساب رزق، ترقی کے مواقع میں یکسانی اور رفاہی ادارت سے استفادہ کا حق۔
8۔ مذکورہ بالاحقوق میں سے کسی شہری کا کوئی حق الامی قانسن کی سندجوز کے بغیر کسی وقت سلب نہ کیاجائے گا اور کسی جرم کے الزام میں کسی کو بغیر فراہمی موقع صفائی و فیصلہ عدالت کوئی سزا نہ دی جائے گی۔
9۔ مسلمہ اسلامی فرقوں کو حدودِقانون کے اندر پوری مذہبی آزادی ہوگی۔انہیں اپنے پیروؤں کو اپنے مذہب کی تعلیم دینے کا حق حاصل ہوگا۔ وہ اپنے خیالات کی آزادی کے ساتھ اشاعت کرسکیں گے۔ ان کے شخصی معاملات کے فیصلے ان کے اپنے فقہی مذہب کے مطابق ہوں گے اور ایسا انتظام کرنا مناسب ہوگا کہ انہی کے قاضی یہ فیصلے کریں۔
10۔ غیر مسلم باشندگان مملکت کوحدود قانون کے اندر مذہب وعبادت، تہذیب و ثقافت اور مذہبی تعلیم کی پوری آزادی ہوگی اور انہیں اپنے شخصی معاملات کا فیصلہ اپنے مذہبی قانون یا رسم و رواج کے مطابق کرانے کا حق حاصل ہوگا۔
11۔ غیر مسلم باشندگان مملکت سے حدود شرعیہ کے اندر جو معاہدات کیے گئے ہوں ان کی پابندی لازمی ہوگی اور جن شہری حقوق کا ذکردفعہ نمبر۷ میں کیاگیا ہے ، ان میں غیر مسلم باشندگان ملک اورمسلم باشندگان ملک سب برابر کے شریک ہوں گے۔
12۔ رئیس مملکت کا مسلمان مردہونا ضروری ہے جس کے تدین، صلاحت اور اصابت رائے پر جمہور یا ان کے منتخب نمائندوں کااعتمادہو۔
13۔ رئیس مملکت ہی نظم مملکت کااصل ذمہ دارہوگا۔البتہ وہ اپنے اختیارات کاکوئی جزوکسی فردیا جماعت کو تفویض کرسکتا ہے۔
14۔ رئیس مملکت کی حکومت مستبدانہ نہیںبلکہ شورائی ہوگی یعنی وہ ارکان اور منتخب نمائندگان جمہور سے مشورہ لے کر اپنے فرائض انجام دے گا۔
15۔ رئیس مملکت کو یہ حق حاصل نہ ہوگا کہ وہ دستور کوکلا یا جزا معطل کرکے شوریٰ کے بغیر حکومت کرنے لگے۔
16۔ جوجماعت رئیس مملکت کے انتخاب کی مجازہوگی وہی کثرت آرا سے اسے معزول کرنے کی بھی مجاز ہوگی۔
17۔ رئیس مملکت شہری حقوق میں عامة المسلمین کے برابرہوگااورقانونی مواخذہ سے بالاتر نہ ہوگا۔
18۔ ارکان و عمال حکومت اور عام شہریوں کے لیے ایک ہی قانون وضابطہ ہوگا اور دونوں پر عام عدالتیں ہی اس کو نافذ کریں گی۔
19۔ محکمہ عدلیہ محکمہ انتظامیہ سے علیحدہ اور آزاد ہوگا تاکہ عدلیہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں ہیئت انتظامیہ سے اثر پذیر نہ ہو۔
20۔ ایسے افکار و نظریات کی تبلیغ و اشاعت ممنوع ہوگی جومملکت اسلامی کے اساسی اصول ومبادی کے انہدام کاباعث ہوں۔
21۔ ملک کے مختلف ولایات واقطاع مملکت واحدہ کے اجزائے انتظامی متصور ہوں گے،ان کی حیثیت نسلی،لسانی یا قبائلی واحدہ باتکینہیں بلکہ محض انتظامی علاقوں کی ہوگی جنہیں انتظامی سہولتوں کے پیش نظر مرکزکی سیادت کے تابع انتظامی اختیارات سپردکرنا جائز ہوگامگر انہیں مرکز سے علیحدگی کاحق حاصل نہ ہوگا۔
22۔ دستور کی کوئی ایسی تبری معتبرنہ ہوگی جوکتاب وسنت کے خلاف ہو۔
اسمائے گرامی حضرات علمائے کرام
1۔ علامہ سیدسلیمان ندوی(صدر مجلس)
2۔ مولاناسیدابوالاعلیٰ مودودیؒ(امیرجماعت اسلامی پاکستان)
3۔ مولاناشمس الحق افغانی (وزیرمعارف ریاست قلات)
4۔ مولانامحمدبدرعالم(استاذ الحدیث دارالعلوم الاسلامیہ ،اشرف آباد ٹنڈوالہ یار،سندھ)
5۔ مولانااحتشام الحق تھانوی(مہتمم دارالعلوم اسلامیہ ،اشرف آباد سندھ)
6۔ مولانا محمدعبدالحامدقادری بدایوانی (صدر ، جمعیت علمائے پاکستان)
7۔ مفتی محمدشفیع(رکن بورڈ آف تعلیمات اسلام، مجلس دستور ساز پاکستان)
8۔ مولانامحمدادریس(شیخ الجامعہ،جامعہ عباسیہ بہاولپور)
9۔ مولاناخیرمحمد(مہتمم جامعہ خیرالمدارس،ملتان شہر)
10۔ مولانامفتی محمدحسن(مہتمم جامعہ اشرفیہ ،لاہور)
12۔ مولانا محمدیوسف بنوری(شیخ التفسیر دارالعلوم الاسلامیہ،اشرفآباد ، سندھ)
13۔ حاجی خادمالاسلام محمدامین(خلیفہ ھاجی صاحب ترنگ زئی، مجاہد آباد،پشاور سرحد)
14۔ قاضی عبدالصمدسربازی(قاضی قلات،بلوچستان)
15۔ مولانااطہرعلی(صدر عامل جمعیت علمائے اسلام مشرقی پاکستان)
16۔ مولاناابوجعفرمحمدصالح(امیر جمعیت حزب اللہ مشرقی پاکستان)
17۔ مولاناراغب احسن(نائب صدرجمعیت علمائے اسلاممشرقی پاکستان)
18۔ مولانامحمدحبیب الرحمن(نائب صدر جمعیت المدرسین،سرسینہ شریف مشرقی پاکستان)
19۔ مولانامحمدعلی جالندھری (مجلس احراراسلام پاکستان)
20۔ مولاناداودغزنوی(صدر جمعیت اہلحدیث،مغربی پاکستان)
21۔ مفتی جعفر حسین مجتہد(رکن بورڈ آف تعلیمات اسلام مجلس دستورساز پاکستان)
22۔ مفتی کفایت حسین مجتہد(ادارہ عالیہ تحفظ حقوق شیعہ پاکستان)
23۔ مولانامحمداسماعیل(ناظم جمعیت اہلحدیث پاکستان)
24۔ مولانااحمدعلی لاہوری(صدرا نجمن خدام الدین، شیرانوالہ گیٹ،لاہور)
25۔ مولاناحبیب اللہ(جامعہ دینیہ دارالہدیٰ، خیرپور میرس)
26۔ مولانا محمدصادق(مہتمم مدرسہ مظہر العلوم، کراچی)
27۔ پرفیسرعبدالخالق(رکن بورڈ آف تعلیمات اسلام،مجلس دستور ساز پاکستان)
28۔ مولانا شمس الحق فریدپوری(صدر مہتمم مدرسہ اشرف العلوم،ڈھاکہ مشرقی پاکستان)
29۔ مفتی محمدصاحب داد(سندھ مدرسة الاسلام،کراچی)
30۔ مولاناظفراحمدانصاری(سیکرٹری بورڈ آف تعلیمات اسلام،مجلس دستورسازپاکستان)
31۔ پیر صاحب محمدہاشم مجددی(ٹنڈو سائیں دادو،سندھ

 

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس