Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

پس منظر


اِنَّ اللّٰہَ یَامُرُکُم اَن تُوَدُّوا الاَمٰنٰتِ اِلٰٓی اَھلِھَا وَ اِذَا حَکَمتُم بَینَ النَّاسِ اَن تَحکُمُوابِالعَدلِ اِنَّ اللّٰہَ نِعِمَّا یَعِظُکُم بِہ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ سَمِیعًام بَصِیرًا       النسآ:85
ترجمہ:مسلمانو!اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کرو ا ور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو۔ اللہ تم کونہایت عمدہ نصیحت کرتا ہے ، یقیناً اللہ سب کچھ دیکھتا اور سنتاہے۔
اَلَّذِینَ اِن مَّکَّنّٰھُم فِی الاَرضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوةَ وَ اَمَرُوا بِالمَعرُوفِ وَنَھَواعَنِ المُنکَرِ وَ لِلّٰہِ عَاقِبَةُ الاُمُور (الحج۲۲:۱۴)
ترجمہ:یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگرہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے زکوٰة دیں گے نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے اور تمام معاملات کا انجام کار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم


آج کل پاکستان اپنی تاریخ کے بد ترین حالات سے گزر رہا ہے۔ امن و امان جو کسی معاشرہ کی بنیادی ضرورت ہے وہ موجود نہیں ، جرائم ، ڈاکہ ، چوری، قتل اور اغوا عام ہیں۔ قتل و غارت گری بالخصوص کراچی ،بلوچستان،قبائلی علاقہ جات اور خیبر پختونخوا میں روز مرہ کا معمول بن چکی ہے ۔ اور صاف نظر آ رہا ہے کہ حکومت بے حس اور بے بس ہے۔ معیشت زبوں حالی کا شکار ہے، عوام مہنگائی اور بے روزگاری کی چکی میں پس رہے ہیں ۔ بجلی، گیس اور پٹرول کے بحرانوں نے جینا دوبھر کر دیا ہے۔ حکمران اور ان کے اتحادی سیاستدان اور نوکر شاہی قوم کے وسائل کو دونوں ہاتھوں سے بڑھ چڑھ کر لوٹ رہے ہیں۔ آئے دن نئے نئے اسکینڈل سامنے آ رہے ہیں اور کوئی احتساب کرنے والا نہیں ہے۔ رشوت عام ہے، پی آئی اے، ریلوے، اسٹیل مل بہت بڑے خسارے میں ہیں اور بنکوں میں بھی لوٹ مار ہو رہی ہے۔
بے حیائی اور فحاشی پھیلانے اور نوجوان نسل کا اخلاق تباہ کرنے کی منظم مہم چلائی جارہی ہے اور کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ معاشرہ میں تشدد کا رجحان بڑھ رہا ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے خود عام شہریوں کے لیے خطرہ جان بن گئے ہیں ۔ اس پر مستزاد دہشت گردی کا بڑھتا ہوا طوفان ہے جس کا ہدف اب ہماری مساجد ، عبادت گاہیں ، مزارات، بازار، سڑکیں اور محلے بن گئے ہیں ۔ اس کے ساتھ ہمارے دفاعی ادارے اور تنصیبات سب باری باری اس کا شکار ہو رہے ہیں۔ غرض کوئی مقام اور کوئی فرد محفوظ نہیں ہے اور قوم سہمی ہوئی ہے۔
امریکہ نے ملک کو اپنے چنگل میں لے لیا ہے۔ اس کے ایجنٹ اور جاسوس پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں اور ہم اس کے غلام بن کر اس کے ہر حکم کو ماننے پر مجبور ہیں ۔ حکمرانوں نے ایک پرائی جنگ کو اپنی جنگ بنا کر ہماری فوج کو اپنے ہی عوام سے لڑا دیا ہے۔ امریکہ اور اس کے حواری ہماری حاکمیت اور خودمختاری کو پامال کر کے ملک کے اندر کاروائیاں کر رہے ہیں۔ ڈرون حملے روز افزوں ہیں اور امریکہ ہمارے احتجاج پر معذرت کی بجائے دھڑلے سے کہتا ہے کہ" ہم یہ کرتے رہیں گے "اور اس کے ساتھ یہ طعنہ بھی دیتا ہے کہ" ہم سے پیسے لیتے ہو تو ہمارے حکم بھی مانو"۔گویا حالت یہ ہے کہ ۔
تن ہمہ داغ داغ شد پنبہ کجا کجا نہم
قوم ایک دلدل میں پھنسی ہوئی ہے اور بظاہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں مل رہا ۔
تاریخ شاہدہے کہ قوموں کی تعمیر و ترقی اور ان کا انحطاط و زوال ان کی قیادت پر منحصر ہے۔ اگر قیادت مخلص، دیانتدار ،با صلاحیت، بے لوث اور پر عزم ہو تو قومیں آگے بڑھتی اور عروج کی طرف جاتی ہیں اور اگر قیادت مفاد پرست ہو، اپنے اقتدار کے سوا اس کا کوئی ہدف نہ ہو اور وہ دوسروں کے سہارے پر چلنے والی ہو تو وہ قوم زوال کا شکار ہو جاتی ہے۔ قیادت اگر خود کھری، مخلص اور ہر حال میں انصاف کرنے والی اور قانون اور آئین کی پابند نہ ہو تو اچھے سے اچھے قوانین اور آئین بے اثر ہو جاتے ہیں۔ لیکن قیادت اگر مخلص اور پر عزم ہو تو آئین اور قانون میں سقم کے باوجود وہ عوام کو نہ صرف اچھی ، عوام دوست حکومت اور انصاف فراہم کرتی ہے بلکہ وہ آئین و قانون کی اصلاح کے ساتھ قوم کو ترقی کی طرف لے جاتی ہے۔
انتخابات قیادت کی فراہمی کا بنیادی اور اہم ذریعہ ہیں ۔ ووٹ ایک امانت اور عوام کے لیے صحیح نمائندے منتخب کرنے کا واحد موقع ہے۔یہ بات اچھی طرح سمجھنے کی ہے کہ اگر ووٹر اپنے ووٹ کا صحیح استعمال نہیں کرتا ہے اور ذاتی مفاد، برادری یا دباو کے تحت ووٹ دیتا ہے تو غلط قیادت اور ملک میں اس کی تباہ کاریوں کی ذمہ داری سے وہ عہدہ برآ نہیں ہو سکتا۔ ووٹر اچھی اور بری قیادت کے بر سرِ اقتدار آنے میں پوری طرح ذمہ دار ہے ۔ اگر ووٹرز اپنے چھوٹے چھوٹے نجی اور مقامی مسائل ، برادری، علاقہ اور زبان کے تعصبات میں گھر کر اچھی اور بری یا دیانتدار اور مفاد پرست قیادت میں تمیز نہ کریں اور اپنی پرانی ڈگر پر چلتے ہوئے ووٹ دیں تو ویسی ہی قیادت ہمیں ملے گی جیسی اس وقت ہم پر مسلط ہے۔ اور اس سے ہمارے حالات بھی جوں کے توں رہیں گے ۔ اگر ووٹرز ملک کے مفاد( جس میں خود ان کا مفاد بھی شامل ہے) کے پیشِ نظر مخلص اور دیانتدار لوگوں کو ووٹ دیں تو ہمیں صحیح قیادت میسر آ سکتی ہے۔
ہمارے ملک میں جمہوریت اور انتخابات کو اقتدار اور مفاد کا کھیل بنا دیا گیا ہے۔ حالانکہ وہ ملک و قوم کی تعمیر و تخریب کا ذریعہ بنتے ہیں اور تعمیر وہی لوگ کر سکتے ہیں جو اپنے لیے کسی دنیاوی اجر کے متلاشی نہ ہوں۔ بلا استثنا ءہ اللہ کے ہر نبی ؑنے اپنے مشن کے لیے کام کرتے ہوئے اپنی قوم سے ہمیشہ یہی کہا کہ ”میں اس کے لیے آپ سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔ میرا اجر تو اللہ کے پاس ہے“۔ جب تک ایسی قیادت آپ کو میسر نہ ہو آپ اپنے مسائل کو حل نہیں کرا سکیں گے ۔
اب ایک بار پھر انتخابات کی آمد اور آپ کے امتحان کا وقت ہے کہ آپ کس قسم کی قیادت منتخب کرتے ہیں۔ میدان میں ووٹ مانگنے والوں کا ہجوم ہے۔ پُر کشش نعرے اور بڑے بڑے دعوے ہیں لیکن ان میں اکثر وبیشترلم تقولون مالا تفعلون (وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو) کا مصداق ہیں۔
جماعت اسلامی پاکستان محض ایک ”سیاسی“یا ”مذہبی“ یا ”اصلاحی“جماعت نہیں ہے بلکہ یہ وسیع معنی میں ایک اور نظریاتی جماعت (Ideological Party) ہے جو پوری انسانی زندگی کے لیے اسلام کے جامع اور عالمگیر نظریہ حیات پر یقین رکھتی ہے اور اس کو زندگی کے ہر شعبے میں عملًانافذ کرنا چاہتی ہے ۔ اس جماعت کے نزدیک دنیا کے بگاڑ کا حقیقی سبب خدا اور آخرت سے بے نیازی اور رسالت کی رہنمائی سے روگردانی ہے۔ دنیا میں جب ، جہاں اور جس شعبہ زندگی میں بھی خرابی پیدا ہوئی ہے، اس کی تہہ میں یہی بنیادی سبب کار فرما رہا ہے، اور کوئی اصلاح اس کے بغیر ممکن نہیں ہے کہ خدا کی اطاعت ، آخرت کی جواب دہی کے احساس اور رسالت کی راہنمائی کو نظامِ زندگی کی بنیاد بنایا جائے۔ اس کے بغیر کسی مادہ پرستانہ نظریہ کی اساس پر عدل قائم کرنے کی جو کوشش بھی کی جائے گی وہ ایک نئے ظلم کی شکل اختیار کر لے گی۔
جماعت اسلامی کا نظریہ حیات عالمگیر ہے اور پوری انسانیت کی فلاح اس کے پیشِ نظر ہے ۔ مگر وہ یقین رکھتی ہے کہ جب تک ہم خود اپنے ملک کو اسلامی نظام کا مثالی نمونہ نہ بنا دیں، اور جب تک ہم یہ ثابت نہ کردیںکہ جس حق و صداقت پر ہم ایمان کا دعویٰ کر رہے ہیں اس پر خود بھی عمل کر رہے ہیں اور جب تک ہم یہ نہ دکھا دیں کہ اس پر عمل کرنے کے کیسے بہتر نتائج ہمارے ملک میں بر آمد ہوئے ہیں اس وقت تک ہم دنیاکو اس کے حق اور صداقت ہونے کا قائل نہیں کر سکتے۔
اس جماعت کے نزدیک پاکستان میں در اصل کمی اس چیز کی نہیں ہے کہ یہاں خدا اور آخرت اور رسالت کے ماننے والے کم ہیں بلکہ اصل کمی یہ ہے کہ جس عقیدے اور نظام کو یہاں کے باشندوں کی عظیم اکثریت حق مانتی ہے وہ عملًا نافذ نہیں ہو رہا ہے اور اس پر ملک کا پورا نظامِ قائم نہیں ہے۔ اسی وجہ سے ہمارا ملک ایک اسلامی ملک ہونے کے باوجود اسلام کی نعمتوں اور برکتوں سے نہ خود فائدہ اٹھا رہا ہے اور نہ دنیا کے لیے اسلام کے برحق ہونے کا گواہ بن رہا ہے۔
جماعت اسلامی اس کمی کو پورا کرنے کے لیے تمام ممکن تدابیر سے کام لے رہی ہے۔ اسلام کا علم پھیلانا، قدیم اور جدید جاہلیتوں کی پیدا کی ہوئی گمراہیوں کو دور کرنا ، سوچے سمجھنے والے طبقوں کو علمی حیثیت سے یہ بتانا کہ اسلام ہمارے تمام مسائل کو کس طرح حل کرتا ہے ، اور اخلاقِ عامہ کی اصلاح کی جد و جہد کرنا ، یہ سب کام جماعت کے پروگرام کے لازمی اجزاءہیں ، جن پر وہ گذشتہ ساٹھ ستر سال سے عمل پیرا ہے ۔ لیکن اس کے ساتھ حکومت کے نظام کی اصلاح بھی قطعاً ایک ناگزیر ضرورت ہے ، خصوصیت کے ساتھ موجودہ زمانے میں جب کہ زندگی کا ہر شعبہ حکومت کی گرفت میں آ گیا ہے اور اس کے اختیارات ہر گوشہ حیات پر حاوی ہو گئے ہیں ، نظامِ حکومت کی اصلاح کے بغیر نہ افراد کی انفرادی اصلاح ہو سکتی ہے اور نہ معاشرے میں اجتماعی عدل قائم کیا جا سکتا ہے۔ ایک بگڑی ہوئی حکومت اصلاح کے راستے میں سب سے بڑی مزاحمتی طاقت ہوتی ہے اور وہ بگاڑ پیدا کرنے والے تمام عناصر اور اسباب کی پشت پناہ بن جاتی ہے۔ اسلامی نظام کے خواہش مند لوگ غیر سیاسی تدبیروں سے اپنے اس مقصد کے لیے خواہ کتنی ہی کوشش کریں ان کو ایسی حالت میں کوئی کامیابی نہیں ہو سکتی جب کہ حکومت کی باگیں ان لوگوں کے ہاتھوں میں ہوںجو ملک کے تمام ذرائع و وسائل اور قانون و انتظام کی تمام طاقتیں ملک کو سرمایہ داری یا اشتراکیت یا کسی دوسرے غیر اسلامی نظامِ زندگی کی طرف لے جانے میں استعمال کر رہے ہوں۔
اسی غرض کے لیے جماعت اسلامی پر امن، آئینی اور جمہوری طریقوں سے نظامِ حکومت کو بدلنا چاہتی ہے۔ اس کے پیشِ نظر پاکستان کو ایک ایسی ریاست بنانا ہے: جو قرآن و سنت کے اتباع کی پابند اور خلافتِ راشدہ کے نمونے کی پیرو ہو۔ جس میں اسلام کے اصول و احکام پوری طرح کار فرما ہوں،آپ کے پاس ووٹ کے لیے آنے والوں میں جماعت اسلامی کے کارکنان بھی شامل ہے لہٰذا آپ کی یادداشت تازہ کرنے کے لیے یا جو حضرات لاعلم میں لانے ،ان کے علم کے لیے چند باتیں جماعت اسلامی کے حوالے سے پیش ہیں ۔
جماعت اسلامی کبھی پورے اقتدار کی حامل نہیں ہوئی لیکن اس نے زندگی کے ہر میدان میں آپ کی خدمت کی ہے اور اس کی قیادت اور کارکن اس بے لوث خدمت میں ہمہ تن مصروف رہے ہیں ۔ جب بھی اور جس حد تک ان کو اقتدار میں شرکت کا موقع ملا ان کا کردار اور کارکردگی آپ کے سامنے ہے۔ 2002 ءمیں صوبہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت میں ثانوی کی حیثیت سے جماعت نے شرکت کی۔ کراچی میں تین مرتبہ جماعت اسلامی کو میئر شپ ملی ۔ عوام ہمارے وزراءکی کارکردگی کے گواہ اور اسے تسلیم کرتے ہیں ۔ کراچی کی میئرشپ کی کارگردگی کو تو مخالف بھی تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن اصل نکتہ یہ ہے کہ ان میں سے کسی دور میں بھی ہمارے کسی وزیر،ممبرپارلیمنٹ یا میئر پر مخالف بھی کرپشن یا بدعنوانی کاکوئی الزام نہیں لگا سکے۔ نہ ان میں سے کسی نے اپنے لیے کوئی ذاتی مفاد حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اسی طرح الخدمت فاﺅنڈیشن کے تحت پاکستان میں رفاہ عامہ اور تعلیم و صحت کے میدان میں خدمت ِ خلق کا سب سے بڑا نیٹ ورک چل رہاہے۔ جہاں ہم اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں وہیں قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ سب کی کارکردگی کی بنیاد پر قوم اورا للہ کے سامنے جوابدہی کے احساس کے ساتھ اپنا فیصلہ کریں۔
جماعت اسلامی کا منشور آپ کے ہاتھ میں ہے۔ اس سے مختلف مسائل اور ایشوز پر جماعت کا نقطہ نظر دیکھنے اور سمجھنے میں آپ کو مدد ملے گی۔ انشاءاللہ جماعت اپنے قول کا پاس کرنے والی اور اس پر پورا اترنے والی جماعت ہے۔ لیکن اصل مسئلہ اس قیادت کا ہے جسے منشور پر عمل کرنا ہوتا ہے اور جو ملک و قوم کو اس دلدل سے نکالنے کا ،جس میں اس وقت یہ پھنسی ہوئی ہے ،عزم اور اس کے لیے مطلوب صلاحیت ، دیانت اور اخلاص بھی رکھتی ہو اور اس کا ماضی اس کی تصدیق کرتا ہو، ایسی قیادت جو قوم کو امریکی غلامی کے پھندے سے نکال کر اس کی اپنی خود مختاری کو بحال کرے، ملک کو اپنے پیروں پر کھڑا کرے اور عوام کو امن و امان فراہم کرنے کے ساتھ معاشی بحرانوں سے نکال کر آگے بڑھائے۔ جماعت اسلامی کا یہی ایجنڈا ہے۔ جو لوگ میدان میں ہیں ان سب کا ماضی آپ کے سامنے ہے اور ان کو دوبارہ آزمانا خود کو ایک بار پھر اندھیرے میں دھکیلنے کے مترادف ہے

فیصلہ تیرا تیرے ہاتھوں میں ہے دل یا شکم
 

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس