Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

جاگیردارانہ نظام کاخاتمہ اور زرعی اصطلاحات


جاگیردارانہ طرز سیاست کے خاتمے کے لیے ہم
• انگریزوں کی عطا کردہ جاگیروں کو تمام قانونی تقاضے پورے کر کے ضبط کر لیں گے۔
• اسلامی تعلیمات اور اسلامی نظریاتی کونسل کی رہنمائی کے مطابق حد ملکیت سے زائد زمین حکومت منصفانہ شرح سے خرید کے ترجیحی حق کے تحت مزارعین اور ہاریوں کو آسان شرائط پر دی جائے گی۔
• غیر آباد بنجر سرکاری زمینوں کو پانی کی سہولت اور آبادکاری کی شرط کے ساتھ غیر مالک ، غریب کا شتکاروں میںگزارہ یونٹ کے مطابق آسان شرائط پر تقسیم کر دیا جائے گا۔
• زراعت کے بجائے ایک خاص حد سے زائد زرعی آمدن پر ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ ٹیکس فارمولا ایسا ہو گا کہ جس کا اثر غریب کسان، کاشتکار یا ہاری پر نہیں پڑے گا۔
• پہلے سے لیے گئے تمام زرعی قرضوں پر سود معاف کر دیا جائے گا۔
• کاشتکار کو قرضہ آسان شرائط پر اور سود سے پاک نظام کے تحت فراہم کیا جائے گا۔ فصلوں کی اسلامی انشورنس (تکافل)کا نظام قائم کیا جائے گا۔
• زرعی ترقیاتی بینک کے ذریعے کسانوں کو Inputsفراہم کیے جائیں گے۔ اور فصل کی کٹائی اور فروخت کے موقع پر چیک یا نقد کی صورت میں معاوضہ واپس لیا جائے گا۔
• شمسی توانائی کے ذریعے چلنے والے ٹیوب ویل کسانوں میں متعارف کرائے جائیں گے۔
• زراعت سے متعلق تمام ضروریات ۔ مثلاََ بیج،کھاد،زرعی ادویات پر سے ناواجب ٹیکس ختم کر کے ان کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی جائے گی۔
• زراعت کے لیے استعمال ہونے والی بجلی اور ڈیزل کے لیے گرین لائٹ اور گرین ڈیزل کا نظام وضع کیا جائے گا۔ جن کی قیمت عام نرخ سے نصف ہوگی۔ زرعی اجناس کی برآمد کے لیے کاشتکار کے لیے مفید موثر حکمت عملی طے کی جائے گی۔سیم اور تھور کے خاتمے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر پروگرام شروع کیا جائے گا تا کہ قابل کاشت رقبہ میں خاطر خواہ اضافہ کیا جاسکے۔نیشنل ڈرینیج سسٹم کے تحت ملک بھر کے سیم کے پانی کو سمندر میں ڈالنے کے لیے لیفٹ آوٹ فال ڈرین اور رائٹ آوٹ ڈرین کے کام کو جلد از جلدمکمل کیا جائے گا۔
• ریونیو ریکارڈ کو کمپیوٹر ائزڈ کیا جائے گا۔ہر مالک زمین کو کمپیوٹرائزڈ پاس بک جاری کی جائے گی۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں







سوشل میڈیا لنکس