Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

مدینہ کی اسلامی ریاست۔۔۔۔ایک بہترین ماڈل


مدینہ کی اسلامی ریاست ۔۔۔۔۔ایک بہترین ماڈل

ہمارے لئے مدینہ منورہ کی اسلامی ریاست ایک بہترین ماڈل ہے جہاں قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں فلاحی نظام وضع کیا گیا ۔ اُس بابرکت اسلامی ریاست کی چند خصوصیات یہ تھیں
i۔ معاشرہ میں دولت اور دیگر وسائل ثروت کی عادلانہ تقسیم کا بندوبست کیا گیا۔ زکوٰة اور انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب کے ذریعہ دولت کا رُخ امراءسے غرباءکی طرف پھیرا گیا۔ ایسے ذرائع اور طور طریقوں پر پابندی لگائی گئی جس سے کسی خاص طبقے کے ہاتھ میں دولت کے ارتکاز کا امکان تھا۔ مثلاً سُود، احتکار ، ذخیرہ اندوزی ، ناجائز منافع خوری وغیرہ ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ چند ہی سالوں میں دولت صالح خون کی مانند پورے معاشرے میں گردش کرنے لگی اور خوش حالی کا دور دورہ ہو گیا۔
ii۔ رعایا کے لیے خوراک ، لباس ،صحت اور تعلیم کا مناسب انتظام کیا گیا۔ شیر خوار بچوں تک کے لیے ریاست کی طرف وظائف کے انتظامات کی مثالیں بکثرت ملتی ہیں۔
iii۔ قانون کا احترام سب کے لیے لازم قرار دیا گیا۔ حکمران او ررعایا کے درمیان فرق ختم کیا گیا۔ لوگوں کے لیے اپنے خلیفہ ، گورنر یا امیرتک رسائی انتہائی آسان بنائی گئی۔
iv۔ کاروبار، تجارت، صنعت و حرفت، زراعت غرض ہر میدان میں کام کرنے کے کھلے مواقع فراہم کیے گئے۔ رسل ورسائل کے ذرائع وضع کئے گئے۔ راستے محفوظ ہو گئے۔ بد امنی،بے چینی اورڈاکہ زنی کا قلع قمع کر دیا گیا ۔
v۔ زکوٰة، صدقات، اموال فے اور دیگر مدّات میں جمع ہونے والی رقوم کو رعایا کی فلاح و بہبود اورخدمت خلق کے دیگر کاموں پر خرچ کیا گیا۔ اور چند ہی سالوں میں صورت حال یہ ہو گئی کہ صدقات دینے والے توموجود تھے لیکن لینے والا کوئی نہ رہا۔
vi۔ نہ صرف انسان کی زندگی میں اس کی کفالت کا انتظام کیابلکہ مرنے کے بعد بھی اُس کی جانب سے رہ جانے والی ذمہ داریوں کی ادائےگی کا انتظام کیا۔
vii۔ انسان تو کُجا جانوروں اور نباتات کے بارے میں بھی واضح احکامات جاری کیے گئے ۔ درختوں کے کاٹنے کو ناپسند کیا گیا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا فرات کے کنارے پیاسا کتا بھی مرجائے تو خدشہ ہے کہ عُمر ؓ سے اُس کا حساب لیا جائے گا۔
آزاد ،با وقار ،خود مختار پاکستان:
ہم اپنی خارجہ ،داخلہ اور معاشی پالیسیوں میں بنیادی اور انقلابی تبدیلوں کے ذریعہ پاکستان کو حقیقی معنوں میں آزاد ،مکمل طور پر خود مختار اور عالم اسلام کی قیادت کرتاایک ترقی یافتہ ، جدید ،مضبوط اور باوقار پاکستان بنائیں گے اس مقصد کے لیے حسب ذیل اہم اقدامات کیے جائیں گے ۔
۔ آئی ایم ایف سمیت بیرونی قرضوں پر معیشت کا انحصار ختم کیا جائے گا اور وسائل کے حصول کے لیے اندرون ملک اور بیرون ملک پاکستانیوں کے وسائل کو موثر طریقے سےبروئے کار لایا جائے گا۔
تمام بین الاقوامی معاہدات پارلیمان کے توسط سے کئے جائیں گے۔
۔ تمام ممالک کے ساتھ برابری، انصاف ،پُر امن بقائے باہمی اور عدم مداخلت کی بنیاد پر تعلقات استوار کئے جائیں گے۔
۔ مسلم اُمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی کردار ادا کیا جائے گا، مسلم ممالک کی مشترکہ پارلیمنٹ ،مشترکہ دفاع اور مشترکہ منڈی کے قیام کے لیے کوشش کی جائے گی نیز اُمہ کی سطح پر قرآنِ پاک، ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ و سلم اور اسلامی شعائر کے تحفظ کے لیے بشمول او آئی سی تمام اداروں اور قوتوں کو متحرک کیا جائے گا۔
۔ ہمسایہ ملک چین سے تعلقات کو مزید فروغ دیا جائے گا اور زندگی کے تمام شعبوں میں باہمی تعاون کی راہیں تلاش کی جائیں گی۔
۔ بھارت کے ساتھ متنازعہ اُمور با مقصد ، جامع اور نتیجہ خیز مذاکرات کے ذریعے حل کئے جائیں گے۔ اس سلسلے میں تمام متعلقہ بین الاقوامی اداروں سے رجوع کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک کی رائے بھی اپنے حق میں ہموار کرنے کی پوری کوشش کی جائے گی۔
۔ کشمیر کی بھارت سے آزادی ہماری خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہے۔ ہم گزشتہ سات عشروں سے جاری جدوجہد ا ٓزادی کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ہمارا پختہ یقین ہے کہ ان کی لازوال قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ ہمارے نزدیک مسئلہ کشمیر کا واحد حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں رائے شماری ہی ہے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے اسلامیانِ کشمیر کی مکمل سیاسی، اخلاقی اور سفارتی مدد کرنا اپنا فرض اولین سمجھتے ہیں۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس