Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

آئینی اصلاحات


آئینی اصلاحات :

جماعت اسلامی انشاءاللہ درج ذیل آئینی اصلاحات کرے گی ۔

- قرآن و سنت کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے آرٹیکل 2میں ترمیم۔

- دستور توڑنے، معطل کرنے یا اس عمل میں مدد دینے والے افراد اوراداروں کے خلاف یقینی عملی قانونی کاروائی کے لیے ہر شہری کو مدعی بننے کاحق دینے کے لیے آرٹیکل 6میں ترمیم۔

- پارٹی کے اندر انتخابات لازمی کرانے کے لیے دستور اورمتعلقہ قوانین میں ترامیم۔

- آئین پاکستان اوراس کی اسلامی شناخت و حیثیت کے خلاف کام کرنے والی جماعت پر پابندی کے لیے آرٹیکل 17میں ترمیم کی جائے گی۔

- آرٹیکل 45میں ترمیم کرکے صدر پاکستان کے معافی دینے کے اختیار کو قرآن و سنت کی تعلیمات کے تابع کیا جائے گا۔

- آرٹیکل 63-62اور113کے موثر اطلاق کے لیے جامع قانون سازی کی جائے گی۔

- مالیاتی بل (بجٹ) کے دونوں ایوانوں میں پیش ہونے اورپاس ہونے نیز عسکری اسٹیبلشمنٹ سمیت تمام اداروں کے بجٹ کوایوانوں میں لازماً زیر بحث لانے اوراس میں ترمیم و اضافہ کرنے کے لیے آرٹیکل 73،80،81،85اور121میں ترامیم کی جائیں گی۔

- ٹیکس کا اطلاق صرف متعلقہ اسمبلی کی منظوری سے ہوگا۔ اس امر کے لیے اضافی مطالبات زر کے نظام کا مکمل خاتمہ ضروری ہے جس کے لیے آرٹیکل 77میں ترمیم۔

- آئین میں ترمیم کرکے اسلامی نظریاتی کونسل کی تمام سفارشات پر ایک مقررہ مدت میں قانون سازی کرنے یا مدت گزرنے کے بعد خودبخود قانون بن جانے کو یقینی بنایا جائے گا۔

- قبائلی علاقہ جات کو دستور اور قانون کے دائرہ سے باہررکھنے کے موجودہ نظام کو ختم کرکے عمومی نظام کا حصہ بنایا جائے گاآرٹیکل 246اور247ب میں ضروری ترامیم کی جائیں گی۔اس سلسلے میں بطور رہنما اصول مند رجہ ذیل کا خیال رکھا جائے گا۔

الف) صوبہ خیبر پختونخواہ سے ملحق فاٹا کے علاقوں کو آرٹیکل (c) 246کے تحت ریفرنڈم کے ذریعہ وہاں کے عوام کی مرضی کے مطابق علیحدہ صوبہ یا صوبہ خیبر پختونخواہ کا حصہ بنایا جائے گا۔

ب)  صوبہ خیبر پختونخواہ کے علاقہ جات جو کہ آرٹیکل 246(a)(i)(ii)(iii)(iv)اور246(b)میں بیان کیے گئے ہیں ان کو مکمل طور پر صوبہ کاحصہ بنایا جائے گا۔

ج)    FCRسمیت تمام کالے قوانین کا خاتمہ کیا جائے گا اورملکی دستور و قوانین کا اطلاق کیا جائے گا اوردستور میںبیان کردہ بنیادی حقوق پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔

د)       اُردو کو سرکاری زبان کے طور پر عملاً اختیار کرنے کے آئینی تقاضوں کو پورا کیاجائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ معروف زبانوں سندھی، پنجابی ، پشتو ، بلوچی ،براہوی اور سرائیکی کی ترقی اور ملکی انتظام میں ان کے فروغ کے لیے ضروری قانونی اور انتظامی اقدامات کیے جائیں گے۔

۔        انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام کی حقیقی ضرورت کے مطابق قومی اتفاق رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے قابلِ عمل اور قابلِ قبول انتظامی یونٹس کے قیام کے لیے آئینی ترامیم کی جائیں گی۔

۔        بلوچستان کی محرومیوں کا ازالہ کرنے کے لیے آئینی پیکیج دیا جائے گا۔

۔        شفاف ،غیر جانبدار اور آزادانہ انتخاب کو یقینی بنانے کے لیے انتخابی نظام کی مکمل اصلاح کے ساتھ بتدریج متناسب نمائندگی کا نظام لانے کی کوشش کی جائے گی ۔

آئیے!

پاکستان کے روشن مستقبل کی طرف

ایک ایسا اسلامی فلاحی جمہوری پاکستان

جہاں

تعلیم

صحت

اور رہائش سب کو میسر ہو

انصاف

روز گار

اور خوش حالی سب کی دہلیز تک پہنچے

آیئے

پاک سرزمین کو تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن کرنے اور اس سوہنی دھرتی میں ہریالی ۔۔امن اور خوشحا لی لانے کےلئے جماعت اسلامی کا ساتھ دیجیے
 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں







سوشل میڈیا لنکس