Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

معاشرتی اصلاحات


٭       عوام کو اسلامی عقائد، عبادات اوراخلاق کی تعلیم کے لیے ممکنہ ذرائع و وسائل استعمال کیے جائیں گے۔

٭       نظام صلوٰة و زکوٰة عشر و خمس کے قیام کے لیے موثر تدابیر اختیار کی جائیں گی۔ احترام رمضان کے قوانین کو پوری طرح نافذ کیا جائے گا۔ مسجد کے لیے بجلی، پانی اور گیس کی سہولیات مفت فراہم کی جائیں گی۔

٭       خطباءاورآئمہ کی تربیت کرکے معاشرتی اصلاح و تطہیر کے لیے ان سے کام لیا جائے گا۔ مساجد کو حقیقی مقام دلایا جائے گا۔

٭       فرقہ وارانہ ہم آہنگی پیدا کرنے اوربحال رکھنے کے لیے ایک مستقل ادارہ قائم کیا جائے گا اورکسی بھی فرد یا مسلک کی تحریری و تقریری دلآزاری کو روکا جائے گا۔

٭       ذرائع ابلاغ کو مخربِ اخلاق پروگراموں اورتشہیر سے روکا جائے گااورسب سے ضابطہ اخلاق کی پاسداری لازمی کروائی جائے گی۔

٭       معاشرے میں سادگی کو رواج دیا جائے گا۔

٭       حکومتی افراد اورسرکاری افسروں میں اسراف کی بجائے سادگی کو فروغ دیا جائے گا اوروسیع و عریض رہائش گاہوں، مہنگی گاڑیوں اور مسرفانہ اخراجات کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

٭       شادی بیاہ اوردیگر تقریبات میں اسراف و نمائش دولت پر پابندی عائد کی جائے گی، جہیز پر پابندی کے موثر قوانین نافذ کئے جائیں گے اورشادی کے لیے ضرورت کے مطابق قرضہ جات اورامداد کی جائے گی۔

٭       گداگری کا انسداد کرکے گداگروں کو روزگار ”عافیت ہومز“فراہم کیے جائیں گے۔

٭       بڑے شہروں میں آبادی کے مزید اضافے کی بجائے جدید خطوط پر نئے شہر آباد کیے جائیں گے۔

٭       ضرورت سے بڑے اوربہت قیمتی مکانات تعمیر کرنے کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔

٭       زمینوں کی الاٹ منٹ کا طریقہ آسان بنایا جائے گا اور سیاسی بنیادوں پر یا رشوت اور اقرباپروری کے طور پر زمینوں کی الاٹ منٹ روکی جائے گی۔بیت المال کے ذریعہ بلا امتیاز ضرورت مند کی معاونت اس طرح کی جائے گی کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہوسکے۔

٭       صفائی کلچر کو فروغ دیا جائے گا۔ گندگی پھیلانے کو جرم بنادیا جائے گا۔

٭       ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے موثر اقدامات کئے جائیں گے۔

٭۔     فحاشی کے اڈوں کا مکمل خاتمہ ہوگا۔ گیسٹ ہاسوں کے نام پر کھلنے والے ایسے اڈوں کا مکمل سروے اور محاکمہ ومحاسبہ کریں گے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں







سوشل میڈیا لنکس