Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

عدل و انصاف سب کےلیے


٭       قرآن و سنت (شریعت)کو عملاً ملک کا بالادست بنیادی قانون بنایا جائے گاتمام قوانین کو جلدازجلد قرآن وسنت کے مطابق ڈھال دیا جائے گا۔

٭       حسبہ نظام نافذ کر کے انصاف کو گھر کی دہلیز تک پہنچانے کو یقینی بنایا جائے گا۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ذریعے معاشرے کی دینی اور اخلاقی حس کو مسلسل بیدار کیا جائے گا۔

٭       سستے اور فوری انصاف کو یقینی بنانے کے لیے ۔۔۔ اعلیٰ و ماتحت عدالتوں کی تمام خالی آسامیوں کو چھ ماہ کی مدت میں پُر کیا جائے گا۔

٭       دیوانی و فوجداری مقدمات کے فیصلے زیادہ سے زیادہ ایک سال میں مکمل ہونے کا نظام وضع کیا جائے گا۔

٭       ایف آئی آر درج کرنے کے نظام کو سادہ اور آسان بنایا جائے گا۔

٭       پولیس کی جدید پیشہ واران تربیت کے ساتھ ساتھ دینی تربیت کو لا زمی قرار دیا جائے گا۔ نیز نگرانی کا بھی موثر نظام وضع کیا جائے گا۔

٭       عوام کو انتظامیہ اورپولیس کی زیادتیوں سے بچانے کے لیے ہر سطح پر بااختیار کمیشن قائم کیے جائیں گے۔

٭       غریب افراد کو مقدمات کی پیروی کے لیے وکلا کی سرکاری سطح پر فراہمی کی جائے گی۔

٭       پولیس کی تنخواہوں ومراعات میں مزید اضافے، ان کے لئے ڈیوٹی اوقات کی پابندی ، ان کے لیے قیام کی سہولت کو بہتر بنانے نیز پولیس کی محکمانہ چیکنگ اور گرفت کا بہترین اور سخت نظام بنایا جائے گا۔

٭       شہریوں کو مقدمات قائم کئے بغیر، لاپتہ کئے جانے کے خاتمہ کے لئے سخت ترین قوانین بنائے جائیں گے۔ اور ہر سطح کی ایجنسیاں،اعلیٰ عدلیہ اور پارلیمنٹ کو جوابدہ ہوں گی۔

٭       جعلی پولیس مقابلوں، ماورائے عدالت قتل، دوران حراست قتل و تشدد کی صورت میں عدالتی تحقیقات کے بعد ذمہ داران کو عبرتناک سزائیں دی جائیں گی۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس