Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

حقوقِ نسواں ……مغرب اور مشرق

  1. عورت ’’نصف بہتر ‘‘اورمعاشرے کا اہم جزو ہے۔اس کے بغیر صحت مند معاشرے کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اس کی اہمیت ہی ہے جس کے سبب اس کا وجود ہمیشہ زیر بحث رہا ہے۔مختلف تہذیبوں،مذاہب، اور نظریات نے اس کی تفہیم کے لیے تخیل و تدبر کے ’’گھوڑے‘‘ دوڑائے،مگر’’مسئلہ زن ‘وہیں کا وہیں رہا:
    ؎ ہزار بار حکیموں نے اس کو سلجھایا
    مگر مسئلہ زن رہا وہیں کا وہیں
    پاکستانی معاشرہ،اسلامی جمہوریہ پاکستان کہلائے جانے کے باوجود دیگر تہذیبوں کے اثرات کو لیے چل رہا ہے۔ہندووانہ معاشرت کے اثرات عوام نے از خود کشید کیے،اور مغربی تہذیب انگریزو ں کے تعلیمی نظام،اور ہندوستان پر ان کے قبضے کے باعث در آئی۔
    سرسید احمد خان مرحوم نے قوم کو ذلت آمیز پستی سے نکالنے کے لیے جدید تعلیم کا راستہ دکھایا،اس کے نتیجے میں ہمارے ہاں آزادی ِ نسواں کا تصور بھی پھیلنے لگا۔
    ’’تحریک آزادی نسواں ‘‘کادل فریب نعرہ ،کارل مارکس اور اینجلز نے 1848ء میں لگایا۔پھر دو عالمی جنگوں کے بعد کے پیدا شدہ حالات میں مردوں کی بڑی تعداد جنگ میں کام آگئی ،تو عورتوں نے معاشی ضرورت کے لیے گھر سے نکلنا شروع کیا۔صنعتی مراکز میں بھی کارکنوں کی ضرورت تھی۔انھوں نے بغیر کسی تفریق کے مرد و عورت کو بھر تی کر کے اپنی مشینیں چالو کیں۔
    عورت کے ہاتھ میں پیسہ آیا تو فطری طور پر اس نے خود پر توجہ دینا شروع کی۔دفتروں میں مرد اور عورت کا ایک جگہ موجود ہونا،ذہنی سکون کی تلاش،تفریح کی ضرورت،نائٹ کلبوں کے ماحول نے عورت کویہی سمجھایا کہ وہ حسین سے حسین تر نظر آئے۔اسی دوران عورت ماڈل گرل بھی بن گئی۔
    عورت کی بڑھتی مصروفیات نے گھر کے مسائل اور کام کو بوجھ سمجھنا شروع کیا،بچوں کو کون سنبھالے، ’ڈے کیئر‘کھولے گئے،مگر یہ مسئلے کا بھر پورا حل نہ تھا۔ایک یہودی دانشور ’مالتھس‘ نے ’’آبادی کے زیادہ ہونے اور خوراک کے کم ہوجانے ‘‘ کا فلسفہ پیش کیا۔اورعورت کو یہ نعرہ بھی دیا کہ ’’بچے قربان کر دو مگر عیاشی قربان نہ کرو۔‘‘
    ؎فساد کا ہے فرنگی معاشرت میں ظہور
    کہ مرد سادہ ہے بیچارہ،زن شناس نہیں
    عورت کو آزادانہ معاشرے میں ہر مرحلے پر پہلے سے بڑھ کر پذیرائی ملی۔معاشرے نے ترقی حاصل کی۔اب عورت نے مطالبہ کیا کہ اس کی فکری ذہنی صلاحیتیں کسی طور بھی مردوں سے کم نہیں ہیں لہذا اُسے سیاست میں بھی شریک کیا جائے۔بہت پہلے اُسے جو نعرہ Make no coffe but make policyدیا گیا تھا،اب اس کی تکمیل کا موقع اُسے ملا ۔

    الغرض مغربی معاشرے نے عورت اور مرد کی مساوات کا نعرہ بلند کر کے عورت کو :
    ٭…معاشی آزادی دی۔
    ٭…دونوں صنفوں کے آزادانہ میل جول پر عائد تمام پابندیاں ہٹا لیں ۔تاکہ اُسے برابری ،عزت،احترام مل سکے ۔
    ٭…اس کی صلاحیتوں کا اعتراف و ادراک بھی کیا۔اور اس کو موقع فراہم کیا کہ وہ ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائے۔جو کام مرد کرے ،وہی عورت بھی انجام دینے کی اہلیت رکھتی ہے۔لہذا تھانہ،پولیس،فوج،بنک،سیکرٹری،دفتر،کارخانہ ہر شعبے میں اُسے جانے کا موقع دیا۔
    ٭…عورت،مرد کی ’قوّامیت ‘ سے آزاد ہے۔’مرد کمائے اور عورت کھائے۔‘پرانا اصول ہے۔اب دونوں کو کمانے کا کام دیا۔گھر کا انتظام بازار کے سپرد کیا۔
    لہذا اب مغرب جن نتائج کے ساتھ زندگی گزار رہاہے۔وہ یہ ہیں کہ
    ٭…اس کا خاندان تباہ ہو گیا ہے۔
    ٭…بچے ،بوڑھے ،بیمار،عورت ہر طرح کے سکون کو ترس گئے ہیں۔معاشرے میں بن بیاہی ماؤں اور تنہا والدین والے بچوں کی کثیر تعداد ہے۔طلاق کی شرح میں اضافہ ہوا۔
    ٭…مغربی ممالک میں پندرہ سے بیس فی صد بچے اپنے باپوں سے واقف ہی نہیں ہیں۔2007ء کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میں 13.7ملین عورتیں اور مرد،21.8ملین بچوں کی ’’تنہا والدین‘‘ کی حیثیت سے پرورش کر رہے ہیں۔
    ٭…عورت اپنے دُہرے کردار (زوجیت،مادریت اور خانہ داری) کی ادائیگی کے باعث پریشان ہے۔فرانس کی عورتوں نے back to homeکا مطالبہ کیا ہے،کہ وہ گھر جانا چاہتی ہیں۔کیونکہ ان کی زندگی شدید مسائل اور مشکلات کا شکار ہے۔پانچ ہزار عورتوں سے انٹرویو کے بعد ان کی بھاری اکثریت کی آراکی روشنی میں ناپ سانتے کی ایڈیٹر کو کہنا پڑا کہ working women are hearting sick of these do it all role models.It is time for superman to be put back in her box.
    ٭…معاشی جدوجہد میں عورت کی شرکت نے معاشی طور پر خوشحالی عطا کی ہے۔مگر یہ خوشحالی چند ہی لوگوں کے لیے ہے،امریکہ میں ایک فی صد امیر ترین لوگ ،نیچے کے 95%لوگوں سے زیادہ وسائل کے مالک ہیں۔معیار زندگی میں اضافہ جو بھی ہو۔مگر بچوں کی دیکھ بھال ،گھر کا انتظام ،کھانا پکانا ،یہ سب اضافی بوجھ سمجھے جاتے ہیں۔
    ٭…گھر سے باہر نکلی عورت کو جنسی حملوں کا بھی سامناکرنا پڑتا ہے۔سکولوں کی کم عمر بچیاں بھی اس سے محفوظ نہیں ہیں۔جیل،فوج،گھر میں شوہر یا دوست کے ہاتھوں عورت بسا اوقات جان تک ہار بیٹھتی ہے۔اور جنسی تشدد کا نشانہ بنائی جاتی ہے۔2008ء کی رپورٹ کے مطابق اوسطاً روزانہ 500عورتیں جنسی حملوں کا نشانہ بنیں۔
    ٭…2011ء کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میں ایک ہی نوعیت کے کام کے لیے مرد کارکن کو ایک ڈالر ،مگر عورت کو 77سینٹ کی اجرت دی جاتی ہے۔نسلی امتیاز کا شکار عورتوں کی تنخواہ اور بھی کم ہے۔
    اس ساری صورت حال میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ مغرب میں حقوق نسواں کی تحریک مردوں کی برابری ،مساویانہ حقوق حاصل کرنے کے لیے شروع کی گئی تھی،مگر عورت کو جو کچھ ملا،اس کے نتیجے میں وہ شدید اضطراب ،دکھ کا شکار ہو گئی ہے۔یہ چشم کشا حقائق ،اور نتائج متقاضی ہیں کہ ہم اہل مشرق خصوصاً مسلمان اُس تجربے کو نہ دُہرائیں۔جب ہمارے پاس بہترین تعلیمات ،مکمل ہدایات اور واضح عملی و فکری راہنمائی موجود ہے تو پھر ان ترقی یافتہ اقوام کی پیروی کسی طور پر بھی احسن رویہ نہیں ہے۔ویسے تو ہم معترف ہیں کہ اسوۂ حسنہ بہترین نمونہ ہے۔حضرت خدیجہؓ، حضرت عائشہؓ، حضرت فاطمہؓ اور حضرت خنساءؓ کے کردار کو ہم معیاری و مثالی گردانتے ہیںلیکن جب پالیسی سازی کا موقع ملتا ہے یا گرداب میں پھنسے معاشرے اور دُکھ کی ماری عورت کو حوصلہ تسلی دینے کی بات آتی ہے تو ہمارے ہاں کیے جانے والے اقدامات سے اندازہ ہوتا ہے کہ صاحبان اختیار عورت کے اصل مسائل سے ناواقف ہیں اس لیے اس کی ضرورت کا حقیقی ادراک کر کے زخموں پر مرہم نہیں رکھا جا رہا۔
    ٭…دور دراز علاقوں میں بچیوں کو بنیادی تعلیمی سہولیات بھی میسر نہیں ہیں،والدین ان کو دور دراز بھجوانے سے قاصر ہیں۔یہ عورت ساری عمر اسی طرح جاہل رہ جاتی ہے۔
    ٭…وہ مرد کا تشدد(بلاوجہ) سہتی ہے،اور مہر،وراثت ،اظہار رائے،دینی و دنیاوی تعلیم جیسے حقوق سے بھی محروم رہتی ہے۔
    ٭…شہروں میں زیادہ تر تعلیمی ادارے (بی ایس،اور مابعد تعلیم کے لیے) مخلوط ہیں۔اور طالبات کی ایک بڑی تعداد انھی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہے۔کیونکہ سرکاری اداروں میں مختص سیٹیں نہایت محدود ہوتی ہیں۔ان اداروں میں پیش آنے والے مسائل کی ایک الگ کہانی ہے۔
    ٭…میڈیا کے ذریعے والدین،استاد اور مقدس رشتوں کی بے تو قیری ،مغرب زدہ لباس کی ترویج،افزائش حسن کے لیے جدید کاسمیٹکس کے استعمال کی ترغیب اور بیرون خانہ سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے،جس کے بعد جو نتائج آنا شروع ہوئے ہیں وہ کسی سے مخفی نہیں۔
    ٭…دینی تعلیمات سے دوری کے باعث ،معاشی عدم استحکام نے مادیت پرستی کی سوچ کو بھی فروغ دیا ہے جس سے عورت میں ملازمت کا رجحان بڑھ رہا ہے۔اس کو معاشی دوڑ میں شامل کر نے کے عمل کی حوصلہ افزائی کے طور پر اس کی ملازمت کا کوٹہ بڑھا یا گیاہے۔حتی کہ سیاست کے ایوانوں میں اس کی ناگزیر شرکت سے آگے بڑھ کر بھی فیصلے کیے جا رہے ہیں۔
    ٭…آباد ی میں تحدید کے لیے ’’کم بچے ،خوشحال گھرانا‘‘ کی زبر دست مہم نے عورت کو گھریلو ذمہ داری سے قدرے غافل کیاہے۔بچے کی پرورش ،گھریلو کام کاج،بہ نسبت ملازمت کے،حقیر اور کم تر خدمت تصور کی جانے لگی ہے۔
    ٭…معاشرے میں عورت تعلیم،مہر،وراثت ،جیسے بنیادی حقوق سے ناواقف ہے اور مناسب تعلیم و تربیت نہ ہونے کے باعث بھی مسائل کا شکار ہے۔
    ٭…ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ مرد / لڑکا بھی اپنے فرائض سے ناواقف ہے،اور اسی وجہ سے وہ خاتون کا استحصال کرتاہے،بیوی،بیٹی ،بہن یا ماں ہر صورت میں اس کی دینی فرائض و ذمہ داریوں سے لاعلمی ،اُسے ظالم (قوام اپنے محدود تصور میں ) بناتی ہے۔یہ اس کا ردعمل ہے کہ اب عورت اپنے حقوق لینا نہیں ،’’چھیننا ‘‘چاہتی ہے۔
    ہماری حکومتیں خواتین کے لیے قانون سازی کرتی ہیں،حالانکہ مسئلہ ’شعور ‘ کا ہے۔قانون سازی توچودہ سو سال قبل ہو چکی ہے۔اب نفاذ کی ضرورت ہے،تعلیم کی ضرورت ہے،آگاہی ،اور اعتماد کی ضرورت ہے،یقین کس پر ہے۔اور کس پر نہیں ہے۔؟یہ سمجھنے کی ضرورت ہے ۔قبلہ کس کو بنانا ہے ۔اور کس کا قبلہ درست کرنا ہے۔دانش وروں کو اس پر افہام و تفہیم کے بعد ماحول بدلنے کے لیے اقدامات کرنے چاہییں۔

     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس