Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

قانون توہین رسالت میں تبدیلی قوم کو نامنظور

  1. قوم کو یاد ہے کہ ضیاء الحق کے دور میں ایک آرڈیننس کے ذریعے قانون توہین رسالت 295دستور کا جز بنا تھا۔جو شخص بھی نبی اکرم ؐ کی شان میں گستاخی کاارتکاب کرے گا ، اس کی سزا موت ہوگی۔اس قانون کے بعد کتنے افراد کو اس جرم کی سزا دی گئی وہ ایک الگ ایشو ہے۔ہمارے ہاں کا دانشور طبقہ جس کی رسائی پرنٹ اور الکٹرونک میڈیا تک ہے، کوشاں ہے کہ اس سزا میں نرمی پیدا کی جائے۔کسی شے کو diluteکرنے کے لیے اس میں سے اس کی روح کا نکال دینے کی کوشش کی جاتی ہے تو یہاں روح محمدؐ کو مسلمانوں کے دلوں سے نکالنے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ کوئی شے مسلمانوں کے نزدیک قابل قبول ہو یا نہ ہو،لیکن اپنے نبی ؐ کی ناموس کے لیے جان قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کرسکتا۔ کوشش یہ ہورہی ہے کہ کسی طرح اس قانون میں ترمیم کی جائے۔عالمی تحریک تحفظ ختم نبوت کاجس میں ملک کی تمام معروف دینی شخصیتیں موجود ہیں ،چند دن قبل ایک اجلاس ہوا تھا کیوں کہ ان تک یہ خبریں مختلف ذرائع سے پہنچی تھیں کہ حکومت اس سلسلے میں کوئی نئی کروٹ لینے کے درپے ہے۔ اس کی وجہ مغربی قوتوں کا اس پر دباؤ ہے۔خود بے نظیر بھٹو صاحبہ نے رجم کو وحشیانہ سزا قرار دیا تھا حالاں کہ ہماری شریعت کے مطابق شادی شد ہ مرد یا عورت زنا کے مرتکب ہوں توان کو رجم کیا جائے گا۔توہین رسالت کے معاملے میں کچھ مداہنت کا راستہ ڈھونڈا جارہا ہے۔ان کی کوشش ہے کہ پارلیمنٹ کے ذریعے diluteکرکے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا جائے۔عمر قید میں تو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کوئی حکمراں مجرم کو آزاد کردے ۔یا رحم کی اپیل دائر کروادے۔اول رحم کی اپیل کا ہمارے دین سے کوئی تعلق نہیں۔لیکن ہمارے ہاں اگر کوئی کسی کو قتل کردے تو اس کی موت کی سزا معاف کی جاسکتی ہے اگر صدر مملکت چاہیں۔ہمارے دین میں تو حکومت کو یہ اختیار دیا ہی نہیں گیا۔ مغرب سے درآمد شے ہمارے آئین میں داخل کردی گئی ہے۔توہین رسالت کے ضمن میں رپورٹنگ سسٹم کو اس قدر پیچیدہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ گر کوئی اس جرم کا مرتکب ہوا ہے تو اس کی ایف آئی آر کٹ ہی نہیں سکتی جب تک کہ ممکنہ پورا پراسس مکمل نہ ہو۔یہ دو معاملات یعنی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیلی اور رپورٹنگ سسٹم کو پیچیدہ بنائے جانے کی کوششیں ہمارے مغرب سے مرعوب حکمرانوں کی ذہنیت کی عکاس ہیں۔
    ہم نے یہ ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا تھالیکن اب جو ریورس گیئر لگایا ہے تو اسی طرف بگٹٹ بھاگتے چلے جارہے ہیں۔قادیانیوں کا غیر مسلم قرار دیا جانا جس کے لیے لوگوں نے تحریک کے دوران اپنی قیمتی جانیں قربان کی تھیں اور بھٹو دور میں یہ مسئلہ طے ہوا تھاکہ جو محمد رسول اللہ ؐ کو آخری نبی نہیں مانتا ،وہ مسلمان نہیں ہے ۔یہ اورقانون توہین رسالت دو ایشوزنہایت حساس ہیں۔ کوشش کی جارہی ہے کہ ان دو ایشوز کے بارے میں مسلمانوں کے دلوں سے روح محمدؐ نکال دی جائے تاکہ بتدریج تخفیف والے پراسس کے ذریعے یہ عادی ہوجائیں۔ یہ اس وقت کا ماڈرن ایجنڈاہے جو فحاشی، عریانی اور ابلیسیت کے فروغ پر مشتمل ہے ، اس راستے کا ہمیں راہی بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ عالمی تحریک تحفظ ختم رسالت کے اجتماع میں شامل ہماری مذہبی جماعتوں کے قائدین اور علماء نے خبردار کیا تھا کہ خواہ حکومت مغربی قوتوں کے یا وہ مقامی عناصر جو سیکولر ذہن رکھتے ہیں اور جو ان معاملات کو ببانگ دہل استہزاء کا نشانہ بناتے ہیں ، زیر اثرکوئی تبدیلی کرے گی تو یہ معاملہ قابو سے باہر ہوجائے گاکیونکہ یہ بہت حساس معاملہ ہے ۔اگر خاکم بدہن ناموس رسالت پر کوئی آنچ آتی ہے تو کوئی مسلمان اسے برداشت نہیں کرے گا۔ آخر میں میں چاہتا ہوں کہ حضورؐ کے حوالے سے امیر خسرو کا ایک شعر قارئین کے ذہنوں میں تازہ کرنے کی سعادت حاصل کر وں۔انہوں نے کہا تھا ؂
    خدا خودمیر محفل بوداندر لامکاں خسرو
    محمد شمع محفل بود شب جائے کہ من بودم
    وہ لوگ جو ناموس رسالتؐ کے معاملے میں مداہنت کا رویہ اختیار کرنا چاہتے ہیں محمد عربیؐ کے مقام کو کیا پہچانیں۔ اللہ کے بعد اگر کوئی درجہ ہے تو وہ اللہ کے رسول محمدؐ کا ہے۔لامکاں کی جس محفل کے شرکاء میں اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے ہیں، اس کی شمع محمدؐ ہیں۔ہمارا محدود ذہن لامکاں کا تصور کرنے سے عاجز ہے۔حواس خمسہ سے آگے تو ہماری رسائی نہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں ناموس رسالت کے تحفظ کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس