Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

پاکستان کو بنجربنانے کا بھارتی منصوبہ

  1.  

    بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پاکستان کو یہ دھمکی دے چکے ہیں کہ وہ اسے پانی کی بوند بوند کو ترسا دیں گے یہ محض دھمکی نہیں وہ پاکستان کو آبی وسائل سے محروم کرنے اور اسے بنجر بنانے کے منصوبے پر نہایت تیز رفتاری سے کام بھی کررہے ہیں۔ سندھ طاس معاہدے کے تحت جن دریاؤں پر پاکستان کا حق تسلیم کیا گیا ہے، بھارت اُن دریاؤں پر بھی ڈیمز بنانے میں مصروف ہے اور اب تک کئی آبی ذخائر تعمیر کرکے پاکستان کو اس کے حق سے محروم کرچکا ہے لیکن پاکستان میں سندھ طاس کمیشن کے ذمے داران اور آبی وسائل سے متعلق دیگر ماہرین چپ کا روزہ رکھے ہوئے ہیں، وہ حکومت کو یہ بتانے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ پاکستان اب تک اپنے حق کے کتنے فی صد پانی سے محروم ہوچکا ہے اور پاکستان کی زرعی معیشت کو کس خطرناک امکانی بحران کا سامنا ہے۔ سندھ طاس معاہدے کے تحت دریائے سندھ پر کلیتاً پاکستان کا حق تسلیم کیا گیا ہے، بھارت دریائے سندھ پر ڈیم بنانے، پانی کو روکنے یا دریا کا رُخ موڑنے کا مجاز نہیں ہے لیکن بھارت نہایت ڈھٹائی اور بے خوفی سے یہ سارے کام کررہا ہے۔ وہ اربوں ڈالر کی لاگت سے زیر زمین آبی سرنگ تعمیر کررہا ہے جس کے ذریعے وہ دریائے سندھ کے پانی کا رُخ موڑ دے گا اور پاکستان اس دریا پر اپنے حق سے بالکل محروم ہوجائے گا۔ نریندر مودی نے ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دریائے سندھ کا پانی مشرقی پنجاب کے کسانوں کو دیا جائے گا جو پانی کی قلت کا شکار ہیں، اس تناظر میں اقوام متحدہ کے ادارے یو این ڈی پی کی تازہ رپورٹ پاکستانی حکمرانوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد معطل ہوا تو اس کے نتیجے میں پاکستان میں پانی کا بحران انتہائی شدت اختیار کرسکتا ہے اور پاکستان کی زرعی زمینیں بنجر ہوسکتی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان آبی تنازعات کا مقدمہ سندھ طاس واٹر کمیشن یا عالمی بینک میں لے جانے میں تاخیر کررہا ہے، اس طرح سندھ طاس معاہدہ غیر موثر ہو کر رہ جائے گا اور اس پر عمل درآمد ممکن نہیں رہے گا۔ واضح رہے کہ بھارت نے اس معاہدے کو منسوخ کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔ وہ پہلے ہی اس معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی کررہا ہے لیکن وہ اب مکمل طور پر اس کی پابندی سے آزاد ہونا چاہتا ہے۔ پاکستان نے اگرچہ اس پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت یک طرفہ ایسا نہیں کرسکتا کیوں کہ عالمی ادارے اس معاہدے کے ضامن ہیں لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ پاکستان ابھی تک معاہدے کے ضامن عالمی بینک کے سامنے اپنا کیس پیش ہی نہیں کرسکا۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں اس بات پر تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ پاکستان کی مسلسل تاخیر سے سندھ طاس معاہدہ کمزور پڑتا جارہا ہے اور بھارت سے اس کی پابندی کرانا دشوار ہوجائے گا۔ رپورٹ میں اس کی ایک وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ معاہدے کی بعض شقوں میں ابہام ہے اور بھارت اس ابہام سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے پاکستان کے پانی کو روکنے اور آبی ذخائر تعمیر کرنے میں مصروف ہے جب کہ پاکستان نے ابھی تک معاہدے کی متنازع اور مبہم شقوں کا جائزہ نہیں لیا اور نہ ہی اس سلسلے میں اپنا کوئی کیس تیار کیا ہے۔
    واقعہ یہ ہے کہ سندھ طاس معاہدے کا جھکاؤ پہلے ہی بھارت کی جانب تھا اور جنرل ایوب خان پر دباؤ ڈال کر انہیں یہ معاہدہ قبول کرنے پر مجبور کیا گیا تھا لیکن اس معاہدے کے تحت پاکستان کو جو کچھ ملا تھا وہ اپنی غفلت کے سبب اس کی بھی حفاظت نہ کرسکا۔ بھارت نے راوی، ستلج اور بیاس کا پانی تو مکمل روک لیا، یہ دریا خشک ہوگئے اور ان کے پانی سے سیراب ہونے والی ہزاروں ایکڑ زرعی زمینیں بنجر ہوگئیں لیکن پاکستان صدائے احتجاج بلند کرنا تو کجا اُف تک نہ کرسکا۔ اب ان دریاؤں میں صرف سیلابی ریلا آتا ہے اور بستیوں کو تہہ و بالا کرکے چلا جاتا ہے۔ دریائے جہلم اور سندھ کے پانی پر پاکستان کا مکمل حق تسلیم کیا گیا ہے لیکن بھارت ان دونوں دریاؤں پر بھی قابض ہے اور ان کا پانی اپنی مرضی سے استعمال کررہا ہے، ان دونوں دریاؤں کے پاکستان کی جانب بہاؤ میں غیر معمولی کمی آئی ہے لیکن پاکستان ابھی تک اس کا اندازہ نہیں کرسکا۔ بھارت نے پاکستان کو آبی ذخائر تعمیر کرنے سے روکنے کی بھی جامع منصوبہ بندی کررکھی ہے اور اس منصوبے پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ پاکستان تربیلا ڈیم اور منگلا ڈیم کے بعد گزشتہ پچاس سال کے عرصے میں ایک بھی بڑا ڈیم تعمیر نہیں کرسکا۔ یہ بھارت کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ جس کے جال میں پاکستان بُری طرح پھنسا ہوا ہے۔ پاکستان نے کالا باغ ڈیم کی پلاننگ 1960ء کے عشرے میں ہی کرلی تھی اور اس پر ابتدائی کام بھی شروع ہوگیا تھا کہ انہی دنوں بھارتی لیڈروں نے سرحدی گاندھی عبدالغفار خان کو دورۂ بھارت کی دعوت دی، وہ دہلی پہنچے تو ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا، ان کے اعزاز میں تقریبات منعقد کی گئیں۔ تحریک آزادی میں ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں سونے میں تولا گیا اور واپسی پر نوے لاکھ کی تھیلی ان کے سپرد کی گئی۔ عبدالغفار خان پاکستان واپس آئے تو ان کا پہلا بیان یہ تھا کہ کالا باغ ڈیم نہیں بننے دیں گے، اسے بنانے کے لیے میری لاش پر سے گزرنا ہوگا، اس بیان کے بعد تو عبدالغفار خان کے خاندان نے کالا باغ ڈیم کی مخالفت کو اپنا وظیفہ بنالیا۔ عبدالولی خان نے کہا کہ کالا باغ ڈیم بنا تو ہم اسے بم مار کر تباہ کردیں گے۔ ان کی پارٹی کے تمام چھوٹے بڑے بس یہی راگ الاپنے لگے، یہ اس بھارتی سرمایہ کاری کا نتیجہ تھا جو بھارت نے اس خاندان پر کی تھی۔ پھر اس نے سندھ کی تمام قوم پرست جماعتوں پر کالا باغ ڈیم کے خلاف سرمایہ کاری کی اور انہیں ڈیم کے خلاف کھڑا کردیا۔ ان کی دیکھا دیکھی پیپلز پارٹی بھی یہی راگ الاپنے لگی، اب تو کالا باغ ڈیم کا ذکر کرنا بھی ایک ڈراؤنا خواب بن گیا ہے۔ بھارت نے آبی وسائل سے پاکستان کو محروم کرنے کے لیے عالمی سطح پر اتنا کام کیا ہے کہ پاکستان بھارت کا این او سی کے بغیر کوئی بڑا ڈیم نہیں بنا سکتا۔
    اِدھر ہماری حکومتوں کا یہ حال ہے کہ پاکستان کا مفاد جائے بھاڑ میں، انہیں صرف اپنے اقتدار کی فکر ہے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس