Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

افتراق امت ذلت کا سبب

  1.  ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
    نیل کے ساحل سے لے کر تابہ خاکِ کاشغر
    مولانا مودودیؒ اور دیگر علمائے حق کی کاوشوں سے قیام پاکستان کے بعد علماء کا ایک عظیم الشان اجلاس منعقد ہوا جس میں وہ مشہور 22نکات مرتب کیے گئے تھے جو قرارداد مقاصد اور دستورِ پاکستان کی روح ہیں۔ اس مسودے پر ملک کے تمام مکاتبِ فکر کے جیّد علمائے کرام نے دستخط کیے تھے جن کی تعداد 31 تھی۔ 24 جنوری 1951ء کو کراچی میں ان نکات کا اعلان کیا گیا۔ بعد کے ادوار میں بھی جماعت نے اتحاد و یک جہتی کے لیے بے پناہ محنت کی اور امت کو متحد کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ قاضی حسین احمد صاحب تو اتحادِ امت کے نقیب بلکہ سمبل کے طور پر تاریخ میں زندہ ہیں۔ سال 2016ء میں مرکز جماعت اسلامی منصورہ میں علماء اور مشائخ کی بڑی چھوٹی 9 کانفرنسیں منعقد ہوئیں۔ ان سب میں مشترکات پر ایک موقف اختیار کرنے کی سب شرکا نے حمایت کی۔
    امت مسلمہ ایک اللہ کو ماننے اور محمد رسولؐ کی ختم نبوت پر ایمان رکھنے والے ایک ارب پچاس کروڑ باشندگان ارض کا ایک خاندان ہے۔ عقیدے اور ایمان نے نبی کریم ؐکے دور میں عربی و عجمی، سیاہ و سفید، امیر و غریب اور حاکم و محکوم کو آپس میں بھائی بھائی بنا دیا تھا۔ تمام لوگ انسان اور مسلمان ہونے کے ناطے آپس میں برابر تھے۔ قرآن پاک (سورہ الحجرات آیت:13 ) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تمام انسان ایک ہی مرد اور عورت (آدمؑ اور حواؑ ) سے پیدا کیے گئے۔ پھر ان کو قبائل و اقوام میں پھیلا دیا گیا۔ یہ اقوام و قبائل آپس میں تعارف کے لیے ہیں، تفاخر کے لیے نہیں۔ عزت و برتری تو محض تقویٰ سے ہے۔ کسی کے اعلیٰ و ارفع ہونے کا مدار صرف تقویٰ تھا۔ اللہ کا ارشاد ہے:اللہ کے نزدیک تم میں سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ متقی اور پرہیز گار ہے۔ ’’امت مسلمہ جب تک اس اصول پر گامزن رہی، دنیا میں غالب اور حکمران تھی۔ جب قرآنی و نبوی اصول کو پامال کر کے دیگر پیمانے اور معیار اپنائے گئے تو امت زوال کا شکار ہوئی اور پھر بدقسمتی سے ایک طویل عرصے تک استعماری غلامی میں جکڑی رہی۔ اللہ کا ارشاد ہے: تمہاری یہ امت ایک اکائی ہے اور میں تمہارا ربّ ہوں۔ پس میری ہی عبادت کرو۔‘‘ (الانبیاء :92)
    اس اُمت کے دشمنوں نے آنحضورؐ کے دور میں بھی جماعت صحابہ کے درمیان مختلف اوقات میں تفرقہ ڈالنے کی کوشش کی، مگر مضبوط ایمان کی وجہ سے صحابہ کرام ان کے ہر فتنے کو ناکام بناتے رہے۔ آج کے دور میں ہمارے ایمان کمزور ہو چکے ہیں اور ہمارے دشمن کی چالیں بڑی خطرناک ہیں۔ انہوں نے اس امت کو لسانی بنیادوں پر بھی تقسیم کیا ہے اور رنگ و نسل کو بھی تفرقے کا ذریعہ بنایا ہے۔ سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ دین جو ہمارے درمیان اتحاد کا ذریعہ ہے بھی فرقہ واریت کی نظر ہو گیا۔ اسلام کا ماخذ قرآن و سنت ہے۔ اسی کو اللہ تعالیٰ نے حبل اللہ یعنی اللہ کی رسی قرار دیا ہے اور حکم ہے کہ اسے مضبوطی سے پکڑے رکھو اور فرقہ پرستی میں نہ پڑو۔ یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ آج اُمت بے شمار فرقوں میں بٹ کر خزاں کے پتوں کی طرح بے وقعت ہو چکی ہے۔ قرآن میں تو واضح طور پر حکم دیا گیا ہے: اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہو جائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ صبر سے کام لو، یقیناًاللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ (الانفال:46)
    ائمہ کرام اور مجتہدین عظام نے قرآن و سنت کی روشنی میں جو مسائل امت کی رہنمائی کے لیے پیش کیے، ان کو بنیاد بنا کر ان کی حکمت اور دلائل سے بے خبر، نام نہاد مذہبی رہنما ایک دوسرے کو اسلام سے خارج کرنے کے درپے ہیں۔ آئمہ کرام نے آپس میں کبھی ایک دوسرے کی رائے یا عمل کو کفر قرار نہیں دیا۔ان کے درمیان محض اس بات پر اختلاف تھا کہ ارجح و اولیٰ کیا ہے؟ وہ جس رائے کو اولیٰ سمجھتے تھے اس کے مقابلے میں دوسرے ائمہ کی آرا کو بھی مبنی بر صواب قرار دیتے تھے۔ اسلام کو بیرونی دشمنوں سے کبھی اتنے خطرات پیش نہیں آئے جتنے اندرونی فتنہ اندازیوں کے نتیجے میں بھگتنے پڑے۔ آج بھی ہم خود ہی اپنی کشتی میں چھید کرنے اور اپنے پاؤں پہ کلہاڑا مارنے کا ارتکاب کر رہے ہیں۔
    مولانا اشرف علی تھانویؒ کا قول بڑا جامع ہے ’’اپنے مسلک کو چھوڑیے نہیں اور دوسروں کے مسلک کو چھیڑیے نہیں۔‘‘آپ غور کریں کہ اس کے اندر کتنی جامعیت اور حکمت ہے۔ ہمارے اندر مشترکات بے انتہا ہیں اور اختلافات معمولی اور وہ بھی فروعی معاملات میں۔ بنیادی چیزوں میں اتفاق ہی اتفاق ہے۔ علامہ اقبالؒ نے کیا خوب فرمایا: ؂
    منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک
    ایک ہی سب کا نبیؐ، دین بھی، ایمان بھی ایک
    حرمِ پاک بھی، اللہ بھی، قرآن بھی ایک
    کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
    فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں!
    کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟
    علامہ اقبالؒ نے کم و بیش ایک سو سال قبل جو نقشہ کھینچا تھا آج صورت حال اس سے بھی بدتر ہے۔ مسلمان ملکوں میں باہمی چپقلش اور مسلمان معاشروں میں فرقہ واریت و لسانیت کا عفریت بہت بری طرح اپنے پنجے گاڑ چکا ہے۔ نبی اکرمؐنے ارشاد فرمایا تھاکہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم ڈھاتا ہے، نہ اسے دشمن کے حوالے کرتا ہے، نہ اس کی رسوائی کے درپے ہوتا ہے اور نہ اسے حقیر جانتا ہے۔ (سیدناابوہریرہؓ ،مسند امام احمد، صحیح مسلم ) اسی طرح آپ کا ارشاد ہے کہ تم مومنین کو دیکھو گے تو وہ ایک جسم کی مانند ہیں جس طرح ایک جسم میں کوئی عضو تکلیف اور بیماری میں مبتلا ہو جائے تو سارا جسم اس تکلیف کی وجہ سے بخار اور بے خوابی کا شکار ہو جاتا ہے، اسی طرح ایک مسلم کی تکلیف دوسرے مسلمان بھائی کو تڑپا دیتی اور اس کی نیند اڑا دیتی ہے۔ (متفق علیہ) اسی طرح آپؐ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے اسی طرح مضبوطی کا باعث ہوتا ہے جس طرح دیوار کی اینٹیں ایک دوسری کو مضبوط بناتی ہیں۔
    جس طرح مسلمان ایک ملت ہیں اسی طرح ان کے مقابلے پر اہلِ کفر اپنے اختلافات کے باوجود یک جان و یک زبان ہو جاتے ہیں۔ ’’الکفر ملۃ واحدۃٌ۔‘‘ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: جو لوگ منکرِ حق ہیں وہ ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں۔ اگر تم یہ نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد برپا ہو گا۔( الانفال:73)
    انگریزوں نے اپنے دور استعمار میں دنیا کے بیش تر ملکوں پر قبضہ جما لیا تھا۔ کم و بیش سارا عالم اسلام مغربی قوتوں کے زیر تسلط آ گیا۔ برصغیر میں انگریزوں نے ہر علاقے پر غلامی مسلط کر دی مگر خیبرپختوا کے قبائلی علاقے انگریزوں کے مقابلے پر ڈٹ گئے۔ انہوں نے انگریزوں کی بالادستی کو قبول نہیں کیا۔ یہ ایک طویل جہادی داستان ہے جس کا صرف ایک واقعہ ہم یہاں امت مسلمہ کی رہنمائی اور غوروفکر کے لیے لکھنا چاہتے ہیں۔ انگریز فوجیں قبائلی مجاہدین کے مقابلے پر اس علاقے میں بے بس ہو گئیں۔ آخر انگریزی استعمار نے قوت استعمال کرنے اور ہزیمتیں اٹھانے کے بجائے سودے بازی کا راستہ اختیار کیا۔ مجاہدین کی قیادت کرنے والے عظیم مجاہد رہنما حاجی صاحب ترنگ زئی کے سامنے انہوں نے ایک پیش کش رکھی جو بظاہر بڑی پُرکشش تھی۔ اس کے نتیجے میں مادی وسائل اور ترقی کے منصوبے ملنے کا امکان تھا، لیکن شرط یہ تھی کہ قبائلی جنگجو انگریزوں سے صلح کر کے ہتھیار ڈال دیں۔ قبائلی سرداروں نے اس پیش کش کو بہت پُرکشش اور فائدہ مند سمجھا، لیکن حاجی صاحب کی دور رس نگاہوں نے دشمن کی مکارانہ چال کو سمجھ لیا اور انہوں نے اس پیش کش کو ٹھکرا دیا۔
    جب سرداروں نے ان سے جرگہ کیا تو حاجی صاحب نے ان کے سامنے وضاحت کی کہ انگریز جنگ عظیم میں بری طرح پھنسے ہوئے ہیں۔ ہم نے ان کی ایک دو ڈویژن فوج کو یہاں مصروفِ پیکار کر رکھا ہے۔ وہ ہم سے معاہدہ کرنے کے بعد اس فوج کو ترکی کے مقابلے پر بھیجنا چاہتے ہیں۔ اگر ہم نے اس وقت یہ معاہدہ کیا تو اپنے مسلم ترک بھائیوں سے بے وفائی ہو گی۔ ہم اگرچہ انگریزوں کو ملک سے نکالنے کی طاقت اپنے اندر نہیں رکھتے مگر جتنا کچھ ہمارے بس میں ہے وہ تو ہم ترک نہیں کریں گے اور اللہ کے ہاں ہمیں اُسی چیز کا حساب دینا پڑے گا جو ہمارے اختیار میں ہے۔ اس عظیم مجاہد کی یہ سوچ واقعتا بہت قابل تحسین اور فکر انگیز ہے۔ وہ جس چیز کے مکلف تھے اس میں انہوں نے کوئی مداہنت اور کمزوری نہیں دکھائی۔ آج بھی امت مسلمہ اگر اس فکر کو اپنا لے تو نہ کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کا خون بہائے اور نہ ہی اسلام دشمن قوتوں کی صف میں کھڑا ہو کر ان کا حصہ بنے۔ اس وقت جو صورت حال ہے اس سے ہمارا دشمن بہت خوش ہے کیوں کہ اس کا خون بھی محفوظ ہے اور اس کا اسلحہ بھی بک رہا ہے۔ ساتھ ہی وہ اسلام کی ایسی تصویر دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہے جس میں خون ریزی اور قتل و غارت گری ہو حالاں کہ اسلام کا معنی ہی سلامتی اور امن ہے۔ اتحادِ امت میں ہماری قوت و بقا ہے اور افتراق و انتشار میں تباہی و بربادی ہے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس