Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

کشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی!

  1. مسئلہ کشمیر پاکستان کی بقا اور سلامتی کے لیے بڑی اہمیت کا حامل بنیادی اشو ہے۔ بابائے قوم نے اسے پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا تو یہ ان کے سیاسی تدبر اور قومی حمیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ عالمِ اسلام کو بے شمار سلگتے ہوئے مسائل درپیش ہیں۔ عالمِ کفر اپنے دانت خوب تیز کر چکا ہے اور ہر مسلم ایشو کو دشمنی اور عناد کی نظر سے دیکھتا ہے۔ امریکہ کے معروف اخبارات و رسائل ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ اور نیو یارک ٹائمز وقتاً فوقتاً مسئلہ کشمیر و فلسطین سے توجہ ہٹانے کے لیے مختلف شر انگیز مہمات شروع کر دیتے ہیں۔ سوڈان کے جنوبی خطے کو جنوری 2011ء میں ریفرنڈم کے ذریعے سوڈان سے علیحدہ کرنے کے لیے بھی ان عناصر نے خوب مہم چلائی تھی۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ صدر عمر البشیر کی حکومت نے جنوبی علاقے کے آنجہانی راہ نما جنرل گرینگ کے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا، اس کے مطابق طے پایا تھا کہ 2011ء میں جنوبی سوڈان کے اس علاقے میں مقامی باشندے ریفرنڈم کے ذریعے فیصلہ کریں گے کہ وہ سوڈان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا اس سے آزادی حاصل کرنے کے حق میں ہیں۔
    ایک جانب، مغربی ذرائع ابلاغ نے عالمی اداروں اور رائے عامہ کو اس طرف منتقل کیا اور جنوبی سوڈان کی علیحدگی عمل میں لائی گئی۔ دوسری جانب مسلم ملک انڈونیشیا میں ایک چھوٹی سی عیسائی آبادی کو ملک سے علیحدہ کرنے کے لیے عالمی اداروں نے اتنا دباؤ بڑھایاکہ انڈونیشیا کو گھٹنے ٹیکنے پہ مجبور کردیا۔ مشرقی تیمور کے اندر علیحدگی پسندی کی تحریک بلاشبہ موجود تھی، مگر مسئلہ کشمیر سے اس کی اہمیت کہیں کم تھی۔ عالمی دباؤ کے تحت آخر مشرقی تیمور 20مئی 2002ء کو ایک آزاد ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر نمودار ہوئی۔ اسے فوری طور پر یو این او کا ممبر بھی بنا لیا گیا اور دیگر تنظیموں میں بھی اسے نمایندگی دے دی گئی۔ اس کا کل رقبہ 5400مربع میل ہے۔ اس کی کل آبادی گیارہ لاکھ ساٹھ ہزار ہے۔ کشمیر 1947ء سے یو این او کی قراردادوں میں متنازعہ علاقے کے طور پر تسلیم شدہ مسئلہ ہے، مگر منافقت اور دورنگی کے یہ عجیب پیمانے ہیں کہ پوری کشمیری آبادی کے یک زباں مطالبے پر بھی کسی نے اب تک کوئی کان نہیں دھر۔ جب امت مسلمہ کا کوئی مسئلہ ہو تو انسانی حقوق کے علمبردار گونگے شیطان بن کر چپ سادھ لیتے ہیں۔
    امت مسلمہ کے تمام قدیم اور تاریخی مسئلوں کو سرد خانے کی نذر کرنے کی پالیسی اب تک مسلسل جاری ہے جسے دیکھ کر یہ کہنا پڑتا ہے کہ یو این او بڑی قوتوں کی لونڈی کے سوا کچھ نہیں۔ تحریک آزادیِ کشمیر نے گزشتہ کئی مہینوں، بالخصوص نوجوان مجاہد اسلام اور اسلام کے عظیم سپوت برہان مظفروانی کی شہادت کے بعد سے جو رخ اختیار کیا ہے اس نے عالمی رائے عامہ کو بھی اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ بھارتی فوج، ان کا پورا سیاسی ڈھانچہ اور حکمران بی جے پی پارٹی کے علاوہ اپنی باری کا انتظار کرنے والی دیگر سیاسی قوتوں کو بھی سخت تشویش لاحق ہے کہ وادی میں کیا ہونے جارہا ہے۔ پہلی مرتبہ انڈیا نے اس تحریک سے خوف زدہ ہوکر کل جماعتی سیاسی کانفرنس بلائی جو کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوگئی۔ بابری مسجد اور رام مندر کے طویل عرصے سے محفوظ فیصلے کو اب پبلک میں لایا جارہا ہے، اس کا مقصد بھی عوامی توجہ مسئلہ کشمیر سے ہٹا کر ایک نئے ایشو کو پبلک میں لانا ہے۔ حکومتِ پاکستان نے کشمیریوں سے غداری نہ کی ہوتی تو اس وقت کی تحریکِ حریت، جس کا رنگ عوامی اور جس کی اٹھان سو فیصد مقامی ہے، ضرور کامیابی سے ہمکنار ہوجاتی۔ ہر روز بیسیوں کشمیری خلعتِ شہادت سے سرفراز ہوتے ہیں اور اگلے دن پھر ہزاروں اور لاکھوں کا مجمع سڑکوں پر آزادی کے نعرے بلند کرتا ہوا نمودار ہوجاتا ہے، ان جذبات سے سرشار کسی قوم کو غلام رکھنا کسی قوت کے بس میں نہ کل تھا نہ آج ہے۔
    آج تحریک آزادی کشمیر کو خون شہیداں نے ایک نیا ولولہ اور جوش عطا کر دیا ہے۔ نوجوان اور بچے پیلٹ گولیوں کا نشانہ بنا کر بینائی سے محروم کردیے جاتے ہیں، مگر غلامی کا طوق اتار پھینکنے کا جذبہ کسی صورت ٹھنڈا نہیں ہورہا۔ اس میں روز افزوں تیزی دیکھنے میں آرہی ہے۔ پوری دنیا یہ منظر دیکھ اور سن رہی ہے کہ ہر کشمیری کی زبان پر ایک ہی نعرہ ہے ’’بھارتیو، کشمیر چھوڑو انڈیا واپس جائو‘‘۔ جو سرکاری وفد اور بھارتی وزرا کا ٹولہ کشمیر کے دورے پر گیا اس کو نہ صرف عام لوگوں نے جوتے دکھائے بلکہ اس نے ہسپتالوں میں مریضوں کی عیادت کا ڈرامہ کھیلنا چاہا تو مریضوں نے بھی ان کا گھیرائو کرلیا اور بیک زبان ان کے خلاف نعرے بازی کی کہ ظالمو اور غاصبو دفع دور ہوجائو۔
    ان حالات میں امریکی اور مغربی پریس اس مسئلے کو اتنی اہمیت نہیں دے رہا جتنا اس کا حق ہے۔ ان نام نہاد روشن خیال صحافیوں سے کوئی یہ پوچھے کہ جن موضوعات پر اقوامِ متحدہ قرار دادیں منظور کر چکی ہے اور اخلاقی و قانونی ہر لحاظ سے پابند ہے کہ ان کا حل نکالے، ان پر کیوں کسی کو دو لفظ لکھنے کی توفیق نہیں ہوتی۔ اسرائیل کے مظالم، سینہ زوری اور غاصبانہ قبضے کے خلاف اقوام متحدہ کے ریکارڈ میں درجنوں قرار دادیں موجود ہیں۔ کشمیر پر اس کے باشندگان کی طرف سے آزادانہ استصواب کے ذریعے فیصلہ صادر کرنے کی قرار دادیں بھی اقوام متحدہ کے ریکارڈ میں 68 سال سے گل سڑ رہی ہیں۔ آخر ان پر مغربی دانش وروں کی زبانیں کیوں گنگ ہوجاتی ہیں اور ان کے قلم کیوں ٹوٹ جاتے ہیں۔ یہ منافقانہ تہذیب کے شاخسانے ہیں اور ہمیں ان کو پہچاننے میں کوئی غلطی نہیں کرنی چاہیے۔
    اس ساری المناک صورت حال پر ہم باہر کے لوگوں کو کیا دوش دیں، ہمارے اپنے ملک میں بلکہ اعلیٰ ترین اداروں میں بے حسی کی کیفیت طاری ہے۔ چند سال قبل ملک کی ایک سیاسی پارٹی اے این پی کے ایک ایم این اے پرویز خان نے عجیب منطق جھاڑی تھی۔ ان کا بیان قومی اخبارات میں 23ستمبر2010ء کو چھپا تھا۔ وطن سے غداری کا مفہوم اگر کسی کو معلوم نہیں تو اپنے منتخب نمایندوں کا یہ شاہکار ملاحظہ فرمالیں۔ ’’کشمیر پاکستان کی شہ رگ نہیں ہے، شملہ معاہدے کے بعد اب پاکستان مسئلہ کشمیر میں فریق نہیں رہا، ہم انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو صرف کشمیر سے وابستہ کرنے کے حق میں ہیں نہ مولانا فضل الرحمن کے آلہ کار بن سکتے ہیں، کشمیر مولوی کا مسئلہ ہے اے این پی کا نہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ رپورٹ کے مطابق پرویز خان نے ہی قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمن کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف پیش کردہ مذمتی قرار داد کی مخالفت کی تھی۔ پرویز خان نے مزید کہا کہ شملہ معاہدے کے بعد اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی اہمیت ختم ہوچکی ہے۔‘‘ مولانا فضل الرحمن اس وقت بھی قومی اسمبلی میں کشمیر کمیٹی کے چیئرمین تھے اور اب بھی وہ اسی منصب پر فائز ہیں۔ ان کی پیش کردہ قرارداد بھاری اکثریت سے منظور تو ہوگئی تھی، مگر ایک ممبرقومی اسمبلی کے اس بیان کو بھارت نے اس وقت سے لے کر اب تک اپنے حق میں کیے جانے والے پروپیگنڈے میں خوب استعمال کیا ہے۔ مولانا فضل الرحمن صاحب کو اس پارٹی سے اتحاد کرنے میں احتیاط برتنی چاہیے کیونکہ اس پارٹی کا موقف کشمیر پر اب بھی تبدیل نہیں ہوا۔ حقائق یہ ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں عوامی تحریک چل رہی ہے، عوام اپنا حق آزادی مانگ رہے ہیں۔ اس کے خلاف کچھ کہنا شرانگیزی اور چپ سادھ لینا بزدلی وبے غیرتی ہے۔ حالیہ دنوں میں شہید ہونے والے کشمیریوں کے خون نے بھارت کی غلامی سے مکمل انکار کردیا۔
    دنیا کی جو طاقتیں غاصب وظالم بھارت کا ساتھ دے رہی ہیں وہ انسانیت کا قتل اور بنیادی حقوق کا مثلہ کررہی ہیں۔ یہ مسئلہ اب محض علمی مباحث کا موضوع نہیں ہے۔ اہلِ کشمیر نے بے پناہ قربانیاں دے کر اپنا کیس زندہ کردیا ہے۔ بھارت کے مظالم اور اسلام دشمن قوتوں کی اشیرباد اب زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکے گی۔ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں سے نکال کر عملی زندگی میں داخل کردیا گیا ہے۔ اسے خون شہیداں نے چار چاند لگا دیے ہیں۔ سیدعلی گیلانی کی پاکیزگی اور بے باک بزرگی اور نوجوان برہان وانی کی شہادت تمام کشمیریوں کے لیے لیے مہمیز اور فخر کا باعث ہے۔
    اگر چمگادڑ کو سورج کی روشنی میں کچھ نظر نہ آئے تو قصور سورج کا نہیں چمگادڑ کی کم نظری کا ہے۔ اللہ بھلا کرے ان تمام عناصر کا جو بھارت کے اندر رہتے ہوئے بھی کشمیری حریت پسندوں کی حمایت کررہے ہیں۔ پاکستان میں بیٹھے بھارتی بولی بولنے والے دشمنوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ اب کشمیر آزاد ہو کر رہے گا۔ کشمیری جہاں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں وہاں ان وطن دشمنوں کو مردہ باد کہے بغیر بھی ان کے پاس کوئی چارہ کار نہیں۔ تحریکِ آزادی کشمیر زندہ باد کا نعرہ تو وادیٔ جنت نظیر میں ہر شجر و حجر اور درو دیوار سے گونج رہا ہے! بقول حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ آج صورتِ حال یوں ہے:
    جس میں نہ ہو انقلاب، موت ہے وہ زندگی
    روحِ امم کی حیات کشمکشِ انقلاب
    صورتِ شمشیر ہے دستِ قضا میں وہ قوم
    کرتی ہے جوہر زماں اپنے عمل کا حساب
    نقش ہیں سب ناتمام خونِ جگر کے بغیر
    نغمہ ہے سودائے خام خونِ جگر کے بغیر

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس