Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

قافلہ حجازکا حسین

  1. آغا جان کو ہم سے رخصت ہوئے پانچ سال ہوگئے ہیں ، ان پانچ سالوں میں کوئی ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا جب آغا جان کی کوئی بات ، کوئی جملہ ، کوئی قہقہہ یا کوئی مسکراہٹ آس پاس چمک نہ رہی ہو ۔ میں ہر روز چشم خیال سے اُن کا شفیق مسکراتاہوا چہرہ دیکھتی ہوں اور اُن کی روشن خوبصورت آنکھیں اور محبت سے لبریز لبوں سے اپنے لیے زندگی کی راہنمائی لیتی ہوں ۔ مجھے اُن کے مضبوط کاندھے ہمیشہ اپنے سامنے اپنی ڈھال بن کر دکھائی دیتے ہیں ، جن سے گزر کر کوئی مشکل کبھی مجھ تک پہنچی ہی نہ تھی ۔ اُن کا وہ مخصوص انداز جس میں وہ ہمیں اپنے شفیق سینے میں چھپا کر ماتھے اور گالوں پر بوسہ دے کر ایسے چمٹاتے تھے کہ روح تک محبت اور حفاظت کے احساس سے سرشار ہوجاتی تھی ۔ میرے آغا جان محبت فاتح عالم کے سارے گر جانتے تھے اور انہوںنے اس محبت کے اظہار میں کبھی بھی بخل سے کام نہ لیاتھا۔ وہ کہتے تھے کہ ایک روایت کے مطابق عورت حضرت آدم علیہ السلام کی پسلی سے پیداہوئی ہے ۔ پسلی بازو کے نیچے اور دل کے قریب ہوتی ہے۔ جس عورت کو محبت اور حفاظت کے حصار مل جائیں وہ ہر ناممکن کام کو ممکن بنالیتی ہے۔ میرے آغا جان نے اپنی زندگی میں آنے والی ہر عورت اور ہر عورت کے ہر روپ کو محبت اور حفاظت کے ان حصاروں سے نوازا۔ وہ ہماری دادی جان کے سب سے چھوٹے لاڈلے بیٹے ، 5بہنوں کے سب سے چھوٹے بھائی ، 2بیٹوں کے بہت ہی شفیق باپ اپنی دونوں بہوئوں کے انتہائی عزیز آغا جان اور ہماری پیاری امی کے نصف صدی کے ہم سفر تو تھے ہی مگر وہ اپنے اتنے بڑے خاندان کی سینکڑوں عورتوں کے آغا جان اور اپنی جماعت کی ہزاروں کارکنان کے قاضی صاحب بھی تھے جن سے ہمیشہ وہ شفقت اور محبت سے ملے ۔ میں نے انہیں زندگی بھر کسی بھی عورت سے بدتہذیبی سے پیش آتے ہوئے نہ دیکھا ۔ اپنے گھر میں کام کرنے والی خواتین کے وہ ہمیشہ سے شفیق باپ بن کر رہے جن کی ضرورتوں کو پورا کرنا اُن کا فرض اولین تھا اور آج چارسال ہوگئے ہیں ۔ سب اُن کو ایسے ہی اپنے قریب پاتے ہیں کہ کسی دورے پر گئے ہیں اور ابھی آجائیں گے ، ابھی دروازے پر اُن کی مخصوص دستک ہوگی اور اُن کے گھر میں داخل ہوتے ہی جیسے عید کا سماں بن جائے گا ۔ مجھے سمجھ میں نہیں آتاکہ وہ اپنا ہر ہر لمحہ کتنے بھرپور طریقے سے گزارتے تھے کہ لگتاتھاکہ ایک ایک پل میں وہ صدیاں گزار کے گئے ہیں ۔ اُن کے اوقات میں اللہ نے کوئی خصوصی برکت ڈال رکھی تھی ۔ انہوںنے تمام مردوں ،لیڈروں یا مذہبی رہنمائوں کی طرح رعب داب والی گھریلو زندگی نہیں گزاری بلکہ وہ اپنے ساتھ محبت ، حفاظت ، آسائش اور راحت کا جان فزا احساس لیے ہمارے پاس آئے۔ ہمارے ہر مسئلے کا حل اور ہر تکلیف کا علاج اُن کے ایک جملے میں موجود تھا کہ ’’بس فکر نہ کرو یہ کون سی اتنی بڑی پریشانی ہے ۔ ‘‘اُن کے چہرے کی ایک مسکراہٹ اور اُن کے تسلی کے دو بول ہمارے سارے درد کا درماں بن جاتے ۔ اس پورے عرصے میں کسی بھی روز یہ ممکن نہ ہوا کہ ہم سب کہیں بیٹھے ہوں اور اُن کا تذکرہ نہ ہوا ہو ۔ اُن کی خوشبو جیسی یادیں ہمیں آبدیدہ نہ کردیں ۔ اُن کے ساتھ گزارے گلاب جیسے لمحات ہمیں فکرِ خیال میں اُن کے پاس پہنچا نہ دیں ایک قبائلی پشتون شاعرنے اُن کے بارے میں لکھا:
    پختون یم ڈیر سنگین یم
    دقاضی بابا غمہ خدائے دواخلہ
    بے پختو دے کڑمہ
    میں پشتون ہوں اور چٹانوں کا بیٹاہوں تو بہت ہی سخت جان ہوں مگر قاضی بابا کے غم ! تجھے اللہ مارے مجھے اپنی روایت سے بھی باغی کردیا (مردوں کا رونا مردانگی کے خلاف سمجھاجاتاہے۔ ) آج تک سفر وحضر میں بلکہ طول و عرض میں پھیلے اُن کی جان جماعت اسلامی (جسے انہوں نے اپنے حسن کردار کی بدولت ہم سب کی جان بنادیا) کے پروگراموں میں جہاں بھی گئی اُن کی محبت کی بوئی ہوئی فصل سے ہم مستفید ہوئے ۔ کوئی جگہ ایسی نہ ملی جہاں اُن کا چاہنے والا اُن کے تذکرے کو چھیڑ نہ دے ۔ جہاں اُن کی کوئی روحانی بیٹی میرے گلے لگ کر سسکیوں سے رونہ پڑی ہو۔ جہاں اجتماعی زندگی کے دائروں میں لوگوں نے اُن کی کمی کو شدت سے محسوس نہ کیا ہو۔ مجھے ان چارسالوں میں جس بھی مکتبۂ فکر کا ، جس بھی سیاسی جماعت کا ،جس بھی گروہ یا نظریے سے تعلق رکھنے والا فردملا ۔ مجھے یہ محسوس ہواکہ شاید یتیم صرف میں ہی نہیں ہوئی یہاں ہزاروں اور بھی لوگ ایسے موجود ہیں جو خود کو اس کڑی دھوپ میں خود کو اُن کے بغیر کسی صحرا میں محسوس کرتے ہیں۔
    غضب کی دھوپ تھی تنہائیوں کے جنگل میں
    کئی شجر تھے مگر سایہ دار کوئی نہ تھا
    میرے آغا جان ایک شجر سایہ دار بھی تھے اور عزم وہمت کی چٹان بھی ۔ میں نے اپنے آغا جان کو جماعت اسلامی کے ایک عام سے کارکن سے قائد تک کا سفر طے کرتے ہوئے دیکھا ۔ میں اپنے کارکن آغا جان کو پوسٹر لگاتے ہوئے ،نعرے بلند کرتے اور اسٹیج سجاتے ہوئے دیکھتی ہوئی بڑی ہوئی ، میں نے انہیں الخدمت کے ٹرکوں کے ساتھ مزدوروں کی طرح دور دراز دیہات میں سامان تقسیم کرنے کے لیے جاتے بھی دیکھا اور لاکھوں کے مجمع میں اونچے اسٹیجوں سے وقت کے طاغوت کو للکارتے ہوئے بھی سنا۔ حلقۂ یاراں میں انہیں ریشم کی طرح نرم، سمندر کی طرح وسیع، شفقت سے معاف کردینے والا، اپنوں کے درد پر تڑپ اٹھنے والا ، محبت سے چمٹا کر بوسہ دینے والابھی پایا اور رزم حق وباطل میں آہنی اعصاب والے قائد کی حیثیت سے بھی دیکھا۔ گھوڑے کی پیٹھ پر ہردم مستعد ، قرون اولیٰ کے کسی لشکر کا مجاہد بھی پایا اور مڑنے نہیں موڑ دینے ، دبنے نہیں دبا دینے اور جھکنے نہیں جھکا دینے کی صلاحیت رکھنے والا بے باک وجی دار لیڈر بھی پایا ۔ افغانستان میں برستی گولیوں سے لے کر بوسنیا کے جنگی میدانوں تک میرے آغا جان مجھے جب بھی ملے صف اول میں ملے۔ یہی نہیں اُن کے بدترین مخالف ، ان پر زبان طعن دراز کرنے والے بھی جب ان کے اوصاف اور اُجلے کردار کی بات کرنے پر آئے تو الزام کاکوئی ایک چھینٹا بھی نہ اُڑا سکے۔ مجھے اپنے ایسے ہی آغا جان پر فخر ہے ۔ جنہیں آج اپنے پرائے سب Saint Qaziکے نام سے یاد کرتے ہیں۔
    وہ میرے محبوب اور شفیق آغا جان بھی تھے کیونکہ ہر بیٹی اور باپ کاتعلق محبت اور شفقت سے بھرپور ہوتاہے ۔ وہ میرے قائد بھی تھے کہ انہوںنے اپنے کردار کے حسن کی بدولت مجھے اپنی جماعت کی طرف راغب کیااور میرے آئیڈیل بھی کیونکہ آئیڈیل کے ساتھ انسان کا معاملہ اخلاص ، انسپائریشن اور اُس کے لیے سب کچھ وار دینے سے عبارت ہوتاہے۔ حضور نبی مہربان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عشق اُن کو ورثے میں ملاتھا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کانام آتے ہی اُن کی آنکھیں ڈبڈبا جاتیں اور وہ آبدیدہ ہو کر گلوگیر آواز میں ہمیں اقبال کاکلام سناتے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اُن کا عشق چھلکنے لگتا۔ خود کہتے کہ مولانا شاہ احمد نورانی کہتے ہیں کہ قاضی صاحب آپ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے عاشق اُمتی ہیں مجھے آپ سے اسی کے لیے بہت محبت ہے۔ انہوںنے اسلام آباد اور لاہور میں اپنے دونوں دفتروں میں روضۂ مبارک کی ایک بڑی تصویر فریم کرکے اُس کے نیچے کاتب سے لکھوایاتھا کہ ’’اسے خوشاشہر ے کہ آنجادلبراست ‘‘ ہمیں اُنہوںنے بچپن سے یہ بات ذہن نشین کروائی تھی کہ لوگ چھوٹی چھوٹی سنتوں کے اہتمام میںتو بہت خیال کرتے ہیں کہ ان کو ضرور کرناہے مگر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے بڑی سنت یعنی اللہ کی زمین پر اللہ کانظام قائم کرنے کی جدوجہد کو بھول جاتے ہیں۔
    وہ ہمیشہ ہمیں بتاتے کہ قافلہ حجاز کے ہمراہیوں میں شامل ہونے کے اعزاز کو اگر پاناہے تو اس جدوجہد میں شامل بھی ہوناہے ۔ مجھے وہ ہمیشہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک عاشق اُمتی اور سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے قافلے کے ایک جانثار سپاہی لگے جو امام المجاہدین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جان نثاروں کی صف میں کسی غلام کی طرح ہی سہی شامل ہونے کے لیے ہمہ وقت متحرک اور بے قرار رہتاہو۔
    آغا جان آپ نے میری تخلیق کے ابتدائی لمحوں سے اپنے پیار بھرے لمس اور بھرپور محبت سے حاصل ہونے والی ایک پُرکیف آسودگی کو میرے شعور اور لاشعور کاحصہ بنادیا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی نہ ختم ہونے والی زندگی میں وہی آسودگی اور اطمینان بھردے ۔ اللہ آپ سے راضی ہوجائے اور آپ کے ساتھ اُسی رحمت اور شفقت کا معاملہ فرمائے جس محبت سے آپ نے ہمیں پالاتھا۔
    رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْہُ۔ رَّبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس