Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

مجاہدِ ملت قاضی حسین احمد

  1.  

    چار سال بیت چکے ہیں مگر اس عظیم شخصیت کی یادیں اب تک دلوں میںتازہ ہیں۔ اُس کا غم رُلا دیتا ہے اور اس کی پُرعزم شخصیت حوصلہ بھی دیتی ہے۔ یہ ملتِ اسلامیہ کا عظیم سرمایہ تھا اسے اُمت مسلمہ سے حقیقی محبت تھی ۔وہ انقلاب کا داعی ہی نہیں سراپا انقلاب تھا۔ اے قاضی حسین احمدؒ اللہ تجھے بہشت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، تُو نے پوری زندگی اللہ کے دین کے لیے وقف کر دی تھی۔ ہمارے قائد اور مربی جناب قاضی حسین احمد ؒ کا تذکرہ جس محفل میں ہو ہر شخص کے پاس ان کے متعلق بے شمار یادیں محفوظ ہوتی ہیں۔ وہ ایک انسائیکلوپیڈیا تھے، جامع شخصیت اور شیر دل رہنما ، نرمی میں موم سے زیادہ نرم اور سختی میں مانندِ فولاد! قاضی صاحب کے ساتھ بیتے لمحات یادگار ہیں۔ سال کا آغاز ہوتے ہی یہ تمام یادیں نہاں خانۂ دل چراغاں کر دیتی ہیں۔ 5اور 6جنوری 2013ء کی درمیانی رات وہ داغِ مفارقت دے گئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔
    قاضی صاحب نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں میں حاصل کی ۔ پھر اسلامیہ کالج پشاور سے گریجویشن اور جامعہ پشاور سے ایم ایس سی جغرافیہ میں تعلیم مکمل کی۔ کچھ عرصہ تک وہ جہانزیب کالج سیدو شریف (سوات) میں بطور لیکچرر بھی کام کرتے رہے۔ پھر ملازمت چھوڑ کر پشاور میں اپنا کاروبار منظم کیا۔ اللہ نے ان کے کاروبار میں بڑی برکت دی۔ یہ میڈیسن کا کاروبار تھا جو اب تک ڈائگنوسٹک سنٹر بن کر بخیروخوبی چل رہا ہے۔ قاضی صاحب کی اہلیہ، چاروں بچے عزیزم آصف لقمان قاضی، عزیزی ڈاکٹر انس فرحان قاضی، عزیزہ ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی اور عزیزہ خولہ سلجوقی سبھی جماعت کی اگلی صفوں میں کام کر رہے ہیں بلکہ پورا خاندان جو سیکڑوں ارکان پر مشتمل ہے، اسی فکر کا داعی اور اسی رنگ میں رنگا ہوا ہے جو خاندان کے اس نایاب سپوت نے اپنایا اور زندگی بھر نبھایا۔ آخری وقت میں بھی اپنے بچوں کو وصیت فرمائی کہ جماعت اسلامی کا ساتھ کبھی اور کسی حال میں بھی نہ چھوڑنا۔ زندگی بھر اس راہ پہ گام زن رہنا جس پہ میں نے اپنی ساری زندگی پوری یک سوئی کے ساتھ گزاری ہے۔
    ظالم اور ظلم کو للکارنا قاضی صاحب کے خون میں شامل تھا۔ ان کی غیرت گوارا نہیں کرتی تھی کہ مظلوم کو بے یارومددگار چھوڑا جائے۔ لاہور کے قریب بھارت کی سرحد سے ملحق علاقوں میں قبضہ گروپوں اور غنڈہ گرد مافیا کے خلاف ان کی جدوجہد بھی لوگوں کو یاد ہے۔ کشمیری مسلمانوں کے لیے مسلسل جدوجہد اور ان کی مکمل حمایت قاضی صاحب کی پہچان تھی۔ انھوں نے 1990ء میں کشمیری عوام کے ساتھ یوم یک جہتی کے لیے 5 فروری کو ملی و بین الاقوامی دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس فکر کو شرفِ قبولیت بخشا اور وہ دن اور آج کا دن یہ تاریخ یوم یک جہتیٔ کشمیر کی علامت بن گئی ہے۔ حکومتِ پاکستان نے بھی اسے قومی تعطیل اور یوم احتجاج کے طور پر تسلیم کر رکھا ہے اور پوری دنیا میں مسلمان اس روز جہاد و حریتِ کشمیر کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔ یہ عظیم صدقۂ جاریہ بھی ہے اور مرحوم کی قبولیتِ دعا کی علامت بھی! بقول اقبال:
    ہر لحظہ ہے مومن کی نئی آن ، نئی شان
    گفتار میں ، کردار میں اللہ کی برہان!
    یہ راز کسی نہیں معلوم ، کہ مومن
    قاری نظر آتا ہے ، حقیقت میں ہے قرآن!
    قاضی صاحب نے اپنے دورِ امارت میں جو کاروانِ دعوت ومحبت چلایا تھا اس نے ملک بھر میں لسانی ونسلی اور سیاسی ومذہبی نفرتوں کے مقابلے میں اسلامی اخوت ومحبت کا پرچار کیا۔ مہینے بھر کی یہ کٹھن مہم بہت مشکل اور تھکا دینے والی تھی۔ ہر روز نیا سفر اور نئی منزلیں، قیام وطعام کے مسائل ومشکلات، سفر کی تھکاوٹ اور بے آرامی، کوئی چیز قاضی صاحب اور ان کے کاروان کے لیے سدِّراہ نہ بن سکی۔ مذہبی ودینی جماعتوں کے درمیان روایتی وتاریخی دوریاں، نفرتوں کے الاؤ بھڑکانے کا سبب بن رہی تھیں۔ اس آگ کو بجھانا ملک و ملت کے مفاد و سلامتی کا تقاضا تھا مگر یہ کام کوئی آسان نہ تھا۔ قدم قدم پر مشکلات اور رکاوٹیں، راستے تنگ اور گلیاں بند، کئی لوگ اس بھاری پتھر کو چوم کر رکھ دیتے۔ قاضی صاحب نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور بڑے عزم اور قوت ارادی سے کام لیتے ہوئے، اپنی مضبوط شخصیت کے ساتھ میدان میں اترے اور نفرتوں کی آگ کو ٹھنڈا کرنے میں بڑی حد تک کامیابی حاصل کی۔ شیعہ سنی مسئلہ اگرچہ ابھی تک مکمل اور حتمی طور پر تو حل نہیں ہوسکا مگر قاضی صاحب نے ملی یکجہتی کونسل کے تحت دونوں متحارب گروہوں کو ایک میز پر اکٹھا کیا، ان کے درمیان مذاکرات ہوئے اور کئی موضوعات پر باہمی رواداری کی فضا بھی پیدا ہوئی۔
    جماعتِ اسلامی کے ساتھ سیاسی میدان میں جن مذہبی جماعتوں کا ٹکرائو ہوتا تھا ان میں جمعیت علمائے پاکستان اور جمعیت علمائے اسلام خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ آپس میں افہام و تفہیم کے فقدان نے بلاوجہ ان پارٹیوں کے لوگوں کو ایک دوسری سے متنفر کر دیا تھا۔ قاضی صاحب کی کوششوں سے متحدہ مجلس عمل وجود میں آئی تو مولانا شاہ احمد نورانی اور قاضی صاحب کے درمیان اتنا قرب پیدا ہوا کہ دونوں ایک دوسرے سے بے پناہ محبت اور احترام کے رشتوں میں جڑ گئے۔ قاضی صاحب کسی بھی مسلک کے دینی ادارے اور مدرسے میں چلے جاتے، ہر مسلک کے اساتذہ و طلباوالہانہ ان کا استقبال کرتے۔ یہی کیفیت عالمی اسلامی تحریکوں کے کارکنان و قیادت کی تھی۔ قاضی صاحب کو دیکھتے ہی وہ ان کی طرف لپکتے، ان کی پیشانی، چہرہ اور ہاتھ چومنے لگتے۔ قاضی صاحب کی شخصیت ایک عالمی راہ نما کے طور پر مسلمہ تھی۔ ترکی، ایران، افغانستان، عالمِ عرب، یورپ ، امریکہ، افریقہ، جنوبی ایشیا اور مشرقِ بعید کے تمام ممالک میں اسلامی اور جہادی تحریکیں دینی اور تبلیغی مراکز، علمی اور تحقیقی ادارے، ہر ایک میں قاضی صاحب کا تعارف بھی موجود تھا اور لوگ دل سے ان کی قدر بھی کرتے تھے۔ جس طرح اپنے ملک کے اندر انھوں نے مختلف گروہوں کو مختلف اوقات میں مشترکہ و متفقہ اصولوں پر جمع کرنے کا کارنامہ سرانجام دیا اسی طرح عالمی سطح پر بھی مختلف ملکوں کے اندرونی اور بین الملکی اتحادوں کے لیے بھی انھوں نے بیش بہا خدمات سرانجام دیں۔
    ہے وہی تیرے زمانے کا امامِ برحق
    جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے!
    قاضی صاحب کو اللہ کی طرف سے اچانک بلاوا آگیا اور وہ اپنے رب کے حضور حاضر ہوگئے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ آخری دم تک میدانِ جہاد میں سرگرم عمل رہے۔ 26 دسمبر 2012ء کو جماعت اسلامی کے عظیم راہنما پروفیسر غفور احمد صاحب کا انتقال ہوا۔ قاضی صاحب ان کے جنازے کے لیے کراچی تشریف لے گئے۔ انھوں نے جنازے کے موقع پر مجمع عام کے سامنے بھی اپنے ساتھی اور دوست کی جدائی پر اپنے غم کا اظہار کیا اور پھر اپنے مضمون میں بھی ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ کون جانتا تھا کہ جس قریبی ساتھی کے غم میں قاضی صاحب پر بار بار رقت طاری ہوتی تھی، قاضی صاحب اتنی جلد اس سے جا ملنے والے تھے۔ قاضی صاحب کا جنازہ موٹروے چوک پشاور کے وسیع و عریض میدان میں پہنچا تو ہزاروں کی تعداد میں ان کے عشاق و مداحین، دست و بازو اور بیٹے، ساتھ جینے اور ساتھ مرنے کا عہد کرنے والے، پیرو جوان، سسکیوں اور آہوں، آنسوئوں اور نعروں کے ساتھ اس سانحۂ ارتحال پر غم زدہ و نڈھال نظر آرہے تھے۔ جنازہ ٹھیک تین بجے ہونا تھا۔ ہر جانب سے لوگوں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ چلے آرہے تھے اور تین بجے سے پہلے ہی کھلا میدان اپنی تنگ دامنی کا شکوہ کرتا نظر آیا۔جنازے میں موجود لوگ جب مرحوم کا آخری دیدار کرنے ان کی چارپائی کے پاس آتے تو یوں محسوس ہوتا جیسے اشک آلود آنکھیں اور غمزدہ چہرے کہہ رہے ہوں
    جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے
    کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور!
    مجھے شیخ سعدیؒ یاد آئے اور میں بس ایک شعر پڑھ کے رہ گیا
    بگذار تابہ گِریم چوں ابر در بہاراں
    کز سنگ نالہ خیزد وقتِ وداعِ یاراں!

    کچھ ذاتی یادیں


    عیسوی سال کا آغاز ہوتا ہے تو چار سال قبل رونما ہونے والی اندوہناک موت دل کے زخم تازہ کر دیتی ہے۔ 5اور 6جنوری 2013ء کی درمیانی رات قاضی حسین احمد کی وفات حسرت آیات کی اطلاع ملی۔ اس عظیم مربی نے اور داعیِ حق نے کتنے ہی لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب برپا کیا۔ وہ ایک مزدور سے بھی اسی طرح محبت اور اپنائیت سے ملتا تھا، جس طرح بادشاہوں سے ملاقات کرتا تھا۔ وہ کسی کو حقیر نہ جانتا تھا، نہ ہی کبھی کسی سے مرعوب ہوا تھا۔ وہ اللہ کا عظیم بندہ تھا۔ اس کے پیش نظر ہمیشہ رضائے الٰہی کا حصول اور دینِ حق کا غلبہ رہا۔ میں مرحوم کا تصور کرتا ہوں تو میرے ذہن میں یہ بات آتی ہے کہ ان کی پہچان چیتے کا جگر اور شاہین کا تجسّس تھا۔ ہر لمحے اپنی منزل کی جانب بڑھتے رہنے کی آرزو اور سنگلاخ وادیوں میں جرأت مندانہ پیش قدمی !
    چیتے کا جگر چاہیے، شاہیں کا تجسس
    جی سکتے ہیں بے روشنیِ دانش و فرہنگ!
    قاضی صاحب نے جو مجلس بھی سجائی، امت کے درد کا مداوا کرنے، ظلم کے خاتمے اور عدل و انصاف کے قیام کی فکر ہی ان پر غالب رہی۔ کلمۃ اللہ کی سربلندی ان کا مطمح نظر تھا اور اس راستے میں شہادت ان کی تمنا۔ وہ جہاد کرتے ہوئے ہی اللہ کے دربار میں گئے ہیں۔ ان کا درجہ حدیث کے مطابق شہید کا ہے
    نگاہ پاک ہے تیری تو پاک ہے دل بھی
    کہ دل کو حق نے کیا ہے نگاہ کا پیرو
    حقیقتِ ابدی ہے مقامِ شبیری
    بدلتے رہتے ہیں اندازِ کوفی و شامی
    پہلی بار قاضی صاحب سے پشاور میں ان کے کاروباری دفتر میں ملاقات ہوئی تھی۔ بڑے تپاک سے ملے۔ پشاوری چائے اور بسکٹوں سے تواضع کی۔ ان کی شخصیت ظاہری طور پر بھی بہت پرکشش تھی اور ان کے چہرے سے احساس ہوتا تھا کہ وہ اپنے اندر انقلابی روح لیے بیٹھے ہیں۔ بعد کے ادوار میں قاضی صاحب پشاور شہر کے امیر جماعت، پھر صوبہ سرحد کے صوبائی امیر بنے۔ میں اس دور میں بیرون ملک تھا۔ جماعت کے مرکزی و صوبائی قائدین کے بارے میں دوست احباب کے خطوط سے معلومات ملتی رہتی تھیں۔ پھر معلوم ہوا کہ ضیا الحق کے مارشل لا میں پاکستان قومی اتحاد (پی این اے) کی جماعتوں نے انتخابات کے لیے بنیادی انتظامات اور دیگرا مور نپٹانے کی خاطر جنرل ضیا الحق کی درخواست پر عبوری حکومت میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے۔ مجھے یہ خبر اچھی تو نہ لگی مگر چونکہ یہ اجتماعی فیصلہ تھا اس لیے بیرون ملک بیٹھے ہوئے ہم لوگوں نے بھی اسے قبول کرلیا۔ اسی دور میں معلوم ہوا کہ جماعتِ اسلامی کے قیم چوہدری رحمت الٰہی صاحب، پروفیسر غفور احمد صاحب اور محمود اعظم فاروقی صاحب کے ساتھ جماعت کی تین رکنی ٹیم کے ساتھ کابینہ میں چلے گئے ہیں۔ صوبہ سرحد کے امیر قاضی حسین احمد صاحب کو مرکز جماعت میں میاں صاحب کے ساتھ قیم کی ذمہ داری پر فائز کر دیا گیا ہے۔ کینیا میں ہمارے ساتھی قاضی صاحب کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں جانتے تھے۔ مجھ سے انھوںنے تبصرہ مانگا تو میں نے مختصر طور پر کہا: ’’امیر و قیم دونوں اپنی اپنی ذات میں خوب ہیں، بزرگی کا ہوش اور جوانی کا جوش مل کر حسین امتزاج قائم کریں گے۔ ‘‘
    اس دوران جب پہلی مرتبہ پاکستان آیا تو منصورہ میں قائدین سے ملاقات کے دوران قاضی صاحب سے بھی تفصیلی تبادلۂ خیالات ہوا۔ وہ اس زمانے میں زیادہ تر تنظیمی دورے اور جماعتی امور نپٹا رہے تھے۔ مجھ سے کینیا کے حالات پوچھتے رہے اور پھر فرمایا: ’’اس ملک کو دیکھنے کا شوق ہے، کبھی موقع ملا تو ان شاء اللہ ضرور وزٹ ہوگی۔‘‘ میں نے عرض کیا کہ ہمیں آپ کی آمد کی بڑی خوشی ہوگی۔ چنانچہ اس کے جلد ہی بعد ڈاکٹر سید مراد علی شاہ صاحب کے ہمراہ سوڈان میں ایک کانفرنس میں شرکت کے بعد کینیا تشریف لائے۔ ان کی آمد کی اطلاع ہمیں پہلے سے مل چکی تھی۔ ہم نے ان کے لیے کئی پبلک خطابات اور اپنے تمام مراکز کے دوروں کا پروگرام ترتیب دیا۔ یہ پروگرام خاصے ٹائٹ تھے اور بعض مقامات کا سفر بھی طویل مگر قاضی صاحب ہمارے اس شیڈول کے مطابق پوری مستعدی اور مسرت کے ساتھ ہر پروگرام میں شریک ہوئے۔ جناب قاضی صاحب کا وہ دورہ یادگار تھا۔ اس سے قبل امیر جماعت محترم میاں طفیل محمد صاحب اور مولانا خلیل حامدی صاحب کینیا کا دورہ کرچکے تھے۔ ان کے علاوہ پروفیسر خورشید احمد صاحب اور خرم مراد صاحب بھی اپنی شفقتوں سے نواز چکے تھے۔
    نیروبی کی مرکزی جامع مسجد ایک تاریخی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں قاضی صاحب کا خطاب ’’جہادِ افغانستان‘‘ کے موضوع پر تھا۔ اس زمانے میں افغان جہاد اپنے جوبن پر تھا اور پوری دنیا کی نظریں اس جہاد کے نتائج کی تلاش میں تھیں۔ ابھی کافی سفر باقی تھا مگر قاضی صاحب نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ میں اپنے بھائیوں کی خدمت میں یہ بشارت اور پیشگی مبارکباد پیش کرنا چاہتا ہوں کہ ان شاء اللہ سوویت یونین کا قبرستان سرزمینِ افغانستان ہوگی۔ پھر انھوں نے فرمایا ’’ہمارے دانش ور یہ بات کہتے نہیں تھکتے کہ روس جہاں بھی جاتا ہے کبھی واپس نہیں پلٹتا اور یہ بائیں بازو کے دانش ور اپنے اس دعوے کو تاریخی حقیقت قرار دیتے ہیں۔ میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ روس کے بارے میں یہ خود ساختہ حقیقت محض پروپیگنڈا ہے جبکہ اس سے بڑی، پائیدار اور ثابت شدہ حقیقت یہ ہے کہ غیرت مند افغانوں نے تاریخ کے کسی دور میں غلامی قبول نہیں کی۔ وہ آزادی کے متوالے اور اس کے لیے سب کچھ قربان کر دینے کے جذبے سے سرشار ہیں۔ برطانیہ عظمیٰ کی فوج کا جو انجام افغانستان میں ہوا تھا اسے انگریز فوج اور ان کے مورخین آج تک نہیں بھولے۔ روس کا انجام ان سے بھی زیادہ عبرت ناک ہوگا۔‘‘ کینیا کے بہت سے احباب روس کی شکست اور اس کی فوجوں کی پسپائی کے بعد قاضی صاحب کے ان الفاظ کو یاد کرتے تھے اور اہلِ دانش پکار اٹھتے تھے: ’’قلندر ہر چہ گوید دیدہ گوید‘‘۔
    قاضی صاحب افغانوں کی تاریخ، افتادِ طبع، نسلی و ملّی روایات ہر چیز سے بخوبی واقف تھے اور پھر روس کے مقابلے پر جہادِ افغانستان میں تو وہ اگلے مورچوں پر جا کر خود، سر بکف افغان و دیگر نسلوں کے مسلمان مجاہدین کے ساتھ جنگ میں شریک بھی ہوئے تھے۔ ان کی بات محض علمی تجزیے کی حیثیت نہیں رکھتی تھی بلکہ عملی طور پر وہ اس کے جملہ رموز و اسرار اور نشیب و فراز کو جانتے تھے۔ اس جہاد کے دوران وہ جب بھی افغانوں کی فتح اور روس کی شکست کا تذکرہ کرتے، پورے ایمان و یقین کے ساتھ کرتے۔ افغانوں کی تعریف سے اقبال کا کلام بھرا پڑا ہے۔ قاضی صاحب اس معاملے میں علامہ کے اشعار اپنی تقاریر و خطابات اور مضامین و مقالات میں یوں پیش کرتے تھے کہ وہ نگینوں کی طرح چمکتے اور پھولوں کی طرح مہکتے تھے
    آسیا یک پیکرِ آب و گلِ است
    مِلّتِ افغاں در آں پیکر دل است
    از فسادِ او ، فسادِ آسیا
    درکشادِ او ، کشادِ آسیا!
    1985ء میں مرکز جماعت کے حکم پر میں کینیا سے واپس پاکستان آیا۔ مرکز جماعت میں رپورٹ کی تو محترم میاں طفیل محمد صاحب نے مجھے حکم دیا کہ میں مرکزی نظم میں بطور نائب قیم ذمہ داری ادا کروں۔ میں نے امیر جماعت کے حکم پر سر تسلیم خم کر دیا۔ اس وقت قاضی صاحب قیم جماعت تھے اور محترم چوہدری محمد اسلم سلیمی صاحب ان کے ساتھ نائب قیم کے طور پر کام کر رہے تھے۔ اس عرصے میں میری ذمہ داری فیلڈ میں تنظیمی و تربیتی امور سے متعلق اور ملک بھر میں مسلسل دورے اور پروگراموں میں شرکت تھی۔ اکثر قیم جماعت کے ساتھ اکٹھے سفر کرنے کا موقع ملا۔ کئی پروگراموں میں ان کے ساتھ شرکت کیا کرتا تھا۔ سفر میں ان کی نفاستِ طبع اور بھی کھل کر سامنے آئی۔ ڈرائیور اگر بلاوجہ ہارن بجاتا تو سرزنش فرماتے کہ ہارن ناگزیر ضرورت کے بغیر بجانا تہذیب و ثقافت کے خلاف ہے۔ ان کے ساتھ چلنے والے ڈرائیور بہت محتاط ہوا کرتے تھے۔ غلط اوورٹیکنگ یا پیدل چلنے والوں کا خیال نہ رکھنے پر قاضی صاحب ناراض ہوا کرتے تھے۔ خوش خوراک تھے مگر میں نے بارہا دیکھا کہ نہایت سادہ اور روکھا سوکھا کھانا بھی ملا تو اسی طرح شوق سے کھایا جس طرح اپنے مرغوباتِ اکل و شرب شوق سے کھاتے پیتے تھے۔ کبھی کسی چیز کو ناپسند نہیں کیا۔
    قاضی صاحب اور راقم پنجاب کے مغربی اور جنوبی اضلاع کے طویل تنظیمی دورے پر تھے جب 1987ء میں امارتِ جماعت کے لیے انتخاب ہو رہا تھا۔ مظفر گڑھ میں رات کے وقت ہمیں ٹیلیفون سے اطلاع ملی کہ امیر جماعت کے انتخاب کا نتیجہ آگیا ہے اور ناظمِ انتخاب نے امیر جماعت میاں طفیل محمد صاحب کی خدمت میں یہ پیش کر دیا ہے۔ اس کے مطابق قاضی حسین احمد صاحب کو امیر منتخب کیا گیا تھا۔ یہ خبر سن کر قاضی صاحب گہری سوچ میں پڑ گئے اور پھر اللہ سے اپنے لیے خودبھی استقامت کی دعا کی اور تمام دوستوں سے بھی یہی درخواست کی۔ جماعت کے حلقوں میں بحیثیتِ مجموعی اس نتیجے سے خوشی کی لہر دوڑ گئی کیونکہ فیلڈ میں کام کرنے والے کارکنان و ذمہ داران بالخصوص نوجوان چاہتے تھے کہ جماعت اسلامی کو پُرجوش انداز میں میدان میں نکلنا چاہیے۔ قاضی صاحب نے اپنے بائیس سالہ دورِ امارت (1987ء تا 2009ء) میںجماعت کو عوامی اور پاپولر سیاسی جماعت بنانے کے لیے مختلف منصوبے شوریٰ کے سامنے پیش کیے۔ یہ تمام منصوبے مشاروت میں کثرتِ رائے یا اتفاقِ رائے سے طے کیے جاتے رہے۔ ان میں پاسبان اور شباب ملی کا قیام، پاکستان اسلامک فرنٹ کا قیام، ملی یکجہتی کونسل، شریعت محاذ، ممبر سازی مہم اور مختلف دیگر پلیٹ فارم انھی کی کاوشوں کا نتیجہ تھے۔ ملک بھر میں کاروانِ دعوت و محبت اور مختلف مواقع پر دیگر عوامی کارواں اور ریلیاں قاضی صاحب کے ذہنِ رسا اور متحرک قیادت کے نتیجے میں وجود میں آئیں۔
    یقیں محکم، عمل پیہم ، محبت فاتح عالم
    جہاد زندگانی میں یہ ہیں مردوں کی شمشیریں!
    قاضی صاحب کے دورِ امارت میں کافی عرصے کے بعد جماعت اسلامی کے کل پاکستان اجتماعاتِ عام مسلسل منعقد ہوئے۔ پہلا نومبر89ء میں مینار پاکستان پر ہوا۔ دوسرا نومبر95ء میں پھر مینار پاکستان پر ۔ تیسرا اکتوبر98ء میں فیصل مسجد اسلام آباد میں۔ چوتھا اکتوبر2000میں قرطبہ نزد چکری میں۔ پانچواں اکتوبر2004ء میں اضاخیل، نوشہرہ میں۔ چھٹا نومبر2007ء شامکے بھٹیاں میں ارکان و امیدواران۔ ساتواں اجتماعِ عام اکتوبر2008ء مینار پاکستان میں ہوا۔ ان اجتماعات پر کافی اخراجات ہوئے اور مشاورتوں میں کئی احباب ان کے انعقاد کے خلاف بھی آرا دیتے رہے مگر کثرتِ رائے سے فیصلے ہوئے اور سچی بات یہ ہے کہ ان اجتماعاتِ عام نے جماعت کے کام میں خاصی وسعت پیدا کی اور جمود ٹوٹا، تحرّک پیدا ہوا۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس