Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اب انہیں ڈھونڈ چراغِ رخِ زیبا لے کر

  1. قاضی حسین احمد مرحوم کے ساتھ طویل تعلقات اور گہرے روابط کے ذکر سے قبل میں جماعت اسلامی کے بانی رکن اور اسلام کے نام پر ضلع سیالکوٹ کے موضع گوہر پور میں ایک تعلیمی ادارے کے قیام اور اس کے سربراہ چوہدری لال دین اور خود چوہدری محمد اکبر کا ذکر اس لیے ضروری سمجھتاہوں کہ انہی کے توسط سے مجھے بانی جماعت اسلامی مولانا ابوالاعلیٰ مودودی ؒ سے ملاقات اور ان کے ایما پر چوہدری رحمت علی اور عبدالوحید خان کے توسط سے صحافت کی دنیا میں روزنامہ کوہستان سے وابستگی کا موقع ملا اور اس کے ساتھ ہی سربراہان جماعت اوردوسرے قائدین سے تعلقات کی جڑیں مضبوط ہوئیں ان میں محترم قاضی حسین احمد بھی شامل تھے ۔1987 ءمیں امیر جماعت بننے والے قاضی حسین احمد نے نوشہرہ کے علاقے میں جنم لیا اور پھر تعلیم کے مختلف مراکز و مراحل سے گزرتے ہوئے جماعت اسلامی کے ساتھ اپنی وابستگی کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے میں مصروف رہے ۔امر واقع یہ ہے کہ وہ سراپا علم و حلم تھے اور دین اسلام کی تعلیمات سے سر ِمو انحراف کا تصور بھی ان کے نزدیک قابل گرفت جرم تھا ۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے حلقہ احباب کے علاوہ جماعت کے حلقے میں ہمیشہ سرگرم عمل رہے اور نہ صرف پاکستان بلکہ پوری امت مسلمہ بالخصوص مختلف ممالک میں اسلام دشمن قوتوں کا نشانہ بننے والے مسلمانوں کی ہر ممکن امداد اور تعاون ان کی تعمیری سوچ کا مرکز و محور تھا۔ مقبوضہ کشمیر ، افغانستان ، بوسنیا ، برما ، چیچنیا ، البانیہ ، فلسطین ، شیشان ، عراق اور افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بھارت اور دوسرے پاکستان دشمن ممالک کی طرف سے داخل کیے جانے والے دہشتگرد بھی ان کا حدف تھے ۔وہ جماعت سے وابستگی سے قطع نظر ہر پاکستانی کے مسائل و مشکلات پر ہمیشہ نظر رکھتے اور مستحق افراد کی مالی اعانت کو اپنی ذمہ داری قرار دے کر کسی کو مایوس نہ کرتے ۔چنانچہ ایک مستحق پاکستانی صحافی کو ایک خاص ضرورت کے لیے جس نے امداد کے لیے درخواست دی اور کہاکہ وہ یہ رقم اقساط کی صورت میں واپس بھی کر دے گا 35 ہزا ر روپے کی امداد ایک خاص کارکن کے ذریعے اسے فراہم کردی اور پھر آج تک انہوں نے یہ رقم واپس لی اور نہ ہی اس کا مطالبہ کیا ۔ اس سے ان کی مسلم دوستی کا بھی اظہار ہوتاہے ۔ مجھے ان کی بیٹی کی شادی میں شرکت کا موقع ملاتو دیکھا کہ انہوں نے تمام روایتی رسم و رواج کو مسترد کر دیا ہے ۔ میں نے ان کی دعوت پر ایک مرتبہ آزاد کشمیر کا دورہ بھی کیا ۔ جماعت نے لاہور سے مظفر آباد تک سفر کی تمام سہولتیں فراہم کیں ۔ انہو ں نے ہمیں شہدائے بالاکوٹ تک پہنچانے کا خاص اہتمام کیا تھا اور قرطبہ شہر کو بسانے میں بھی بنیادی کردار ادا کیا اور صحافیوں کی ایک جماعت کو بھی شہر دکھانے اور ضروری معلومات فراہم کرنے کا اہتمام کیا ۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پاکستان اور اسلام کی بھارت دشمنی کو اجاگر کرنا ا ن کی سرگرمیوں کا محور تھا ۔ دنیا بھر کی جہادی تنظیموں ، ان کی سرگرمیوں کی بھر پور حمایت و تائید اور اسلام دشمن قوتوں اور اقوام متحدہ ایسے منافق ادارے اور مسلم ممالک پر قبضہ ان کے لیے ناقابل برداشت تھا۔ وہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں عالم اسلام کے اتحاد اور یک جہتی اور تمام مذہبی جماعتوں کے درمیان بڑے اور پائیدار وابط کو بھی اسلام کی تعمیر و ترقی کے لیے ناگزیر قرا ر دیتے ہوئے اپنی تمام فکری توانائیاں بروئے کار لاتے رہے ۔ انہوں نے انتہائی متحرک سیاسی زندگی کو اپنا وطیرہ بنا رکھاتھا ۔ انہوں نے اسلام دشمن قوتوں کے خلاف اور اپنے دینی مقاصد کی تکمیل کے لیے کئی شہروں میں ریلیوں اور دھرنوں کا اہتمام کیا وہ ہر سال منصورہ میں رمضان المبارک میں افطار پارٹی کا بھی اہتمام کرتے جن میں خادم کو بھی ہر سال شامل ہونے کا موقع ملا اور وہ آنے والے ہر صحافی کا خود خیرمقدم کرتے ۔ کئی دھرنوں ، جلسوں جلوسوں ، لانگ مارچ میں انہیں پولیس تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑا لیکن انہوں نے عوامی جذبات اور حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے بے دریغ تمام مشکلات و مصائب کو گلے لگائے رکھا ۔ وہ ہمیشہ بھارت کی طر ف سے کشمیری عوام پر ہونے والے مظالم کے خلاف سرگرم عمل رہے اور انہی کے ایما پر5 فروری یوم یکجہتی کشمیر کا آغازہوا جو ہر سال کشمیری عوام کے ساتھ گہرے تعلقات کے اظہار کا دن تصور کیا جاتاہے اور تمام سیاسی ، فکری اور قلمی حلقے اس کے حق میں آواز بلند کرتے اور کشمیر کی آزادی کے لیے پاکستان کی حکومت اور کشمیری عوام اپنی کامیابی و کامرانی کے اعتراف کے طور پر تسلےم کرتے ہیں ۔ پاکستان کی ایٹمی قوت پر انگلی اٹھانے والے اور ان پر قبضہ کرنے کی سازش کرنے والوں کو انہوں نے قدم قدم پر بے نقاب کیا کیونکہ وہ اسے پاکستان کی سلامتی اور بقا کے لیے ایک گہری سازش سمجھتے تھے ۔ وہ عالم اسلام کے خلاف اسلام دشمن قوتوں کے عزائم کو بے نقاب کرنے کے لیے اتحاد امت مسلمہ کوکامیابی و کامرانی کے لیے سر فہرست قرار دیتے ۔ اسلام کی دعوت ، فکر و عمل ان کی سرگرمیوں کا مرکزو محور رہا ۔ اس سال بھی قاضی حسین احمد مرحوم کے پروگرام کے مطابق 5 فروری کو پورا عالم اسلام کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی اور اتحاد و تعاون کا اہتمام کر کے ماضی کی یادیں اور خاص طور پر قاضی حسین احمد مرحوم کے کردار کو زندہ و سلامت رکھنے میں اپنا کردار ادا کرے گا ۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس