Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

سقوط ڈھاکہ کا پیغام

  1.  16دسمبرپاکستان ہی نہیں امت مسلمہ کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے ،جب اسلام کے نام پر قائم ہونے والی دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت دو لخت ہوئی اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کی صورت میں عملاً بھارت کی ایک کالونی بن گیا ۔اس سانحے کے محرکات کے حوالے سے آج تک کئی کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں اور حمود الرحمن کمیشن رپورٹ بھی تاریخ کا ایک حصہ ہے ۔یہ سانحہ اس وقت کے قائدین کی ہوس اقتدار اور بد اعمالیوں کا نتیجہ ہے۔بظاہر 70ء کے انتخابی نتائج تسلیم نہ کرنے کے نتیجے میں یہ آویزش شروع ہوئی جو بعد میں خانہ جنگی اور پھر بھارت کے ساتھ حتمی جنگ میں تبدیل ہو گئی ۔قیامت تک آنے والی تاریخ اس سانحے کے تین فیصلہ کن کرداروں جنرل یحییٰ ، شیخ مجیب الرحمن اور ذوالفقار علی بھٹو کو کٹہرے میں کھڑا رکھے گی جہاں پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی بے تدبیریوں اور بد اعمالیوں کی وجہ سے یہ سانحہ رونما ہواوہاں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر بھارت عوامی لیگ اور مکتی باہنی کی مکمل پشتیبانی نہ کرتا تو یہ سانحہ کبھی رونما نہ ہوتا۔المیہ یہ ہے کہ یوں تو دو قومی نظریے کا تصور علامہ اقبال اور قائد اعظم نے پیش کیا لیکن اس کی حقیقی آبیاری ڈھاکہ میں ہوئی ۔ مسلم لیگ کے قیام سے لے کر قرارداد پاکستان قائم ہونے تک بنگالی قائدین مسلم کاز کے ترجمان رہے۔پاکستان کے قیام کے بعد ملک کے دونوں حصوں کے درمیان ڈیڑھ ہزار کلومیٹر کا فاصلہ موجود تھا ، بری اور فضائی راستے بھارت کی دسترس میں تھے جہاں قیام پاکستان قائد اعظم کی قیادت میں بر صغیر کے مسلمانوں کی ایک عظیم فتح و کامیابی کا ذریعہ بنا،وہیں کانگریسی قیادت نے ایک دن کے لیے بھی اس فیصلے کو دل سے تسلیم نہ کیااور قیام پاکستان کے ساتھ ہی پاکستان کو کمزور کرنے کی سازشیں شروع کر دیں جس کا آغاز ریاست جموں وکشمیر پر بھارتی قبضے کی صورت میں ہوا ۔ جونا گڑھ اور حیدر آباد پر ہندوستانی فوج کشی ہوئی وہ اسی پالیسی کا حصہ تھی۔صوبہ سرحد اور سلہٹ کے سو فیصد مسلم اکثریتی خطے بھی ہتھیانے کی کوشش کی گئی لیکن یہاں کے باغیرت مسلمانوں نے ریفرنڈم کے ذریعے پاکستان سے الحاق کرتے ہوئے بھارتی عزائم کو شکست سے دو چار کیا ۔اس کے بعد مشرقی پاکستان خاص طور پر ہدف بنایاگیا اور وہاں مسلم قومیت کے تصور کو تحلیل کرتے ہوئے بنگلہ قومیت کے عفریت کو تقویت پہنچائی گئی اور اس کے لیے ایک طویل المیعاد حکمت عملی طے کی گئی ۔وہاں بڑے پیمانے پر ہندو اساتذہ کے نفوذ کا اہتمام کیاگیا جنہوں نے ڈھاکہ یونیورسٹی سمیت باقی دانش گاہوں اور تعلیمی اداروں کو اپنا مورچہ بنایا۔
    بد قسمتی سے قائد اعظم کی وفات اور لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد زمام کار عملاً سول اور ملٹری سیکولر بیورو کریسی کے ہاتھ میں منتقل ہو گئی ، جنہوں نے حتی المقدور کوشش کی کہ نظریہ پاکستان کمزور ہواور اسلام بیزار کلچر کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی ۔دینی رشتے کی کمزوری کے ساتھ ساتھ اس بیورو کریسی کے متکبرانہ انداز حکمرانی نے مشرقی پاکستان کے لوگوں میں احساس محرومی پیدا کیا ۔اضطراب اور بے چینی سے بھارت نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور زندگی کے ہر شعبے میں اپنے زرخرید ایجنٹوں کی ایک فوج تیار کی۔شیخ مجیب الرحمن کی قیادت میں مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے کا ایک طویل المیعاد منصوبہ تیار کیا گیا ۔ اگرتلہ سازش کیس کے حوالے سے اب جوتحقیقاتی کتب سامنے آئی ہیں ، اس میں بر ملا اس بات کا اعتراف کیاگیا ہے کہ وہ افسانہ نہیں تھا ،بلکہ ایک حقیقت تھی کہ شیخ مجیب الرحمن نے بھارت سے مل کر مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے کا ایک منصوبہ تیار کیا تھا۔چنانچہ جہاں 1947ء میں مسلم قومیت کی لہر نے قیام پاکستان کی راہ ہموار کی ، وہاں پاکستان سے نظریاتی بے وفائی کے نتیجے میں بنگلہ قومیت کی صورت میں ایک لہر اٹھی ، جس پر سوار ہوتے ہوئے شیخ مجیب الرحمن نے مشرقی پاکستان کے انتخابات میں کلین سویپ کیااور اپنے چھ نکات کی روشنی میں اس مینڈیٹ کو مشرقی پاکستان کے عوام کا فیصلہ قرار دیا۔پاکستانی حکمرانوں کی نا اہلی کے نتیجے میں ہندوستان پاکستان کو دو لخت کرنے میں کامیاب ہوگیا اور سقوط ڈھاکہ کا عظیم سانحہ رونما ہوا۔اس جنگ میں پاکستانی افواج کے ساتھ ساتھ محب وطن پاکستانیوں نے بھی پاکستان کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے آخری کوشش کی اور بے پناہ قربانیاں دیں۔خاص طور پر جماعت اسلامی ، مسلم لیگ ، نظام اسلام پارٹی ، جمہوری پارٹی کے سربرآوردہ قائدین جناب نور الامین ، جناب پروفیسر غلام اعظم ، جناب فضل القادر چوہدری ، جناب مولانا فرید احمد ، جناب عبدالصبور خان اوران جماعتوں کے کارکنان نے دفاع وطن کی آخری جنگ لڑی ۔نظریاتی محاذ پر عوامی لیگ کے بنگلہ نیشنلزم کا بھرپور مقابلہ جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ نے کیااور پاکستان کی سلامتی کے لیے ہزاروں کی تعداد میں اپنے رضا کار نوجوان پیش کیے جن میں سے بڑی تعداد میں شہید ہو ئے لیکن مقام افسوس ہے کہ جب پاکستان کی عسکری قیادت نے ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ کیا تو ان محسنوں کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔مکتی باہنی کے غنڈوں نے بھارتی فوج کی سرپرستی میں سقوط ڈھاکہ کے بعد ان محب وطن نوجوانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا۔
    بہر حال شیخ مجیب الرحمن کے عزائم اس کے اقتدار کی مختصر مدت میں آشکارا ہوئے ، بھارت سے پچیس سالہ معاہدہ کرتے ہوئے بنگلہ دیش کی آزادی کو رہن رکھ دیاگیا۔صدارتی نظام نافذ کر کے عملاً ایک آمریت مسلط کر دی گئی اور شیخ مجیب کے بیٹوں اور رشتہ داروں نے شیر مادر کی طرح قومی وسائل کی لوٹ مار کا عمل شروع کیا۔جس کے نتیجے میں بنگالیوں پر یہ آشکارا ہوا کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے اور پاکستان سے علیحدگی اختیار کر کے ہم ایک سنگین غلطی کے مرتکب ہوئے اس رد عمل اور احساس زیاں کے پس منظر میں وہاں فوجی انقلاب کے ذریعے نہ صرف مجیب الرحمن کے اقتدار کا خاتمہ ہوا بلکہ حسینہ واجد کے علاوہ اس کا سارا خاندان بھی برے انجام سے دو چار ہوا ۔اس احساس زیاں کا تدارک کرنے کے لیے پوری قوم نے نئی صف بندی کرتے ہوئے جماعت اسلامی اور بی این پی کا ساتھ دیا اور بھاری اکثریت سے ان کو جتوایا ۔ان کی جماعت بی این پی کی مخلوط حکومت نے ایک مرتبہ پھر بنگلہ دیش کا اسلامی تشخص بحال کرنے کی کوشش کی ۔ پاکستان کے ساتھ بھی تعلقات میں اضافہ ہوا ، O.I.Cمیں بنگلہ دیش نے ایک فعال کردار ادا کیا ، کشمیر کے حوالے سے عوامی اور حکومتی سطح پرتحریک آزادی کشمیر کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کیاگیا ۔تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ کشمیریوں کے حق میں اسلام آباد سے زیادہ ڈھاکہ میں بڑے اور بھرپور مظاہرے ہوئے ۔عوامی لیگ کے سرکاری پروپیگنڈے کے باوجود بنگلہ عوام کو باور ہوا کہ 1971ء میں جماعت اسلامی کا موقف صائب تھا ۔ پاکستان کی علیحدگی کے نتیجے میں بنگلہ دیش کی آزادی بھارت کے رحم و کرم پر ہو گئی ۔عوامی سطح پر جماعت کی اس پذیرائی کو ہندوستان نے اپنے لیے ایک چیلنج سمجھا اور من موہن سنگھ جیسے دانشور وزیر اعظم نے اس بات کا اعتراف کیا کہ بنگلہ دیش جماعت اسلامی پچیس سے تیس فیصد عوامی رائے عامہ کی نمائندگی کرتی ہے۔بھارت کو یہ خدشہ تھا کہ ایک مرتبہ پھر بی این پی اور جماعت اسلامی انتخابی اتحاد کی صورت میں سامنے آئے تو بنگلہ دیش کے حوالے بھارت کے خواب چکنا چور ہو جائیں گے اس لیے انہوں نے پینتالیس سال بعد جماعت اسلامی کے قائدین کو پاکستان سے وفاداری کرنے پر سبق سیکھانے کا فیصلہ کیاگیا ۔وہاں کے قائدین کی شہادتیں، جماعت پر پابندیاں اور آزمائشیں بھارت کی اسی مسلم دشمن اور پاکستان دشمن پالیسی کا تسلسل ہے ۔آج کے دن اس سانحہ سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ ہندوستان پاکستا ن کا ازلی دشمن ہے اور اسے دوست سمجھنا اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے ۔لہٰذا پاکستان کے حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہ تاریخ کے آئینے میں بھارت کی اس کردار کی روشنی میں اپنی حکمت عملی مرتب کریں اور یاد رکھیں کہ جو قومیں تاریخ سے سبق حاصل نہیں کرتیں ، ان کا جغرافیہ سلامت نہیں رہتا۔
    آج کشمیر میں بھارتی افواج کی طرف سے ظلم و ستم کے جو پہاڑ توڑے جا رہے ہیں یقیناً اس کا سبب کشمیریوں کی پاکستان سے لازوال محبت ہے اور یہ عظیم تاریخی المیہ ہے کہ پاکستان کے لیے قربانیاں دینے والے بنگلہ دیش میں تختہ دار پر لٹکائے جا رہے ہیں ، لیکن حکومت پاکستان اس ساری صورت حال میں ایک غیرجانبدار فریق کے طور پر مجرمانہ کردار اد اکر رہی ہے ۔اسی طرح کشمیری شہداء وصیتوں کے مطابق اپنی میتوں کو پاکستان کے پرچموں میں لپیٹ کر دفن کر رہے ہیں ۔وہ اپنی جانوں پر کھیل کر ہندوستانی استعمار کا مقابلہ کر رہے ہیں اور پاکستان سے اپنی عقیدت اور وابستگی کا مظاہرہ کر رہے ہیںلیکن ان کی توقع کے مطابق ابھی تک بھارت کو عالمی سطح پر نہ بے نقاب کیا جا سکا اور نہ کوئی بڑی ہمہ گیر سفارتی مہم ہی شروع ہو سکی اور پاکستان میں مقتدر اشرافیہ اور ذرائع ابلاغ اس کے اسلامی تشخص کو تحلیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ سندھ اسمبلی کی حالیہ پاس کردہ قرار داد ایک خطرناک رحجان کی عکاسی کرتی ہے ۔اس لیے آج کے دن ایک مرتبہ پھر عزم نو کیا جائے کہ پاکستان کو ایک حقیقی اسلامی ، جمہوری اور فلاحی مملکت بنایا جائے اور بھارت کے ساتھ دوستی کے فریب پر مبنی بچھائے گئے جالوں سے اپنے آپ کو بچایا جائے اور ایک بنیادی اصول طے ہونا چاہیے کہ جب تک مسئلہ کشمیر پر ٹھوس پیشرفت نہ ہو ،اس وقت تک بھارت سے تجارتی اور دوستی کے تعلقات کے نعرے اور دعوے ترک کیے جائیں ۔پاکستان آج جن خطرات سے دو چار ہے ، ان سے بھارت اپنے عالمی سرپرستوں کی معاونت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے ۔اس کے لیے قومی سطح پر یکجہتی ہی ایک موثر ہتھیار ہو سکتا ہے ۔اگر چھوٹے چھوٹے مسائل پر پاکستان کے قومی قائدین آپس میں الجھ کر اپنی توانائیاں ضائع کریں گے تو تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔مشرقی پاکستان کے سانحے میں بلا شبہ سیاسی قائدین کی نااہلی اور غداری کا بھی بڑا عمل دخل ہے لیکن یہ سانحہ چونکہ جنرل یحییٰ کے فوجی اقتدار کے دو رمیں رونما ہوا ،اس لیے یہ پاکستانی فوج کے لیے ایک تاریخی بوجھ ہے ، جس سے سبکدوشی کی واحد صورت یہ ہے کہ کشمیر بھارت کے ناجائز تسلط سے آزاد ہو ۔اہل کشمیر کو پاکستان کی نئی عسکری قیادت سے توقع ہے کہ وہ بھارت سے حساب برابر کرنے کے لیے کشمیر کے مسئلے میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی حکمت عملی وضع کریں گے اور ڈھاکہ سے لے کر سری نگر تک کشمیر کے لیے قربانیاں دینے والوں کو نظر انداز نہیں کریں ۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس