Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

کرپشن کا ناسور۔۔۔نجات کا راستہ

  1.  وطن عزیز کاقیام قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں قوم نے قربانیوں کی داستانیں رقم کرتے ہوئے ممکن بنایا۔ اسلام کے نام پر حاصل کیے جانے والے اس خطے کے حصول کے وقت پیش نظریہ تھا کہ اس کو اسلام کامرکز ومحور اور نمونہ بنائیں گے اور مسلمان اس میں ایک سچے مسلمان کی طرح زندگی گزار سکیں۔ اسلام ، اسلامی نظام زندگی کو پھر سے زندہ وتازہ کرسکیں۔ اور اسلام کی بنیاد پر اسلامی تہذیب و تمدن کی مکمل عمارت استوار کرسکیں۔
    پاکستان کی عمارت سراسر دین پر استوار ہے اور اس نے اہل پاکستان کو ایک قوم بنایا ،اسے متحد کیا اور ملت واحدہ کی صورت دی۔ آج جب کہ پاکستان کے قیام کو سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزر چکاہے ۔ قیام پاکستان کے مقاصد ہنوز تشنہ تکمیل ہیں اور سفر جاری ہے۔ اس میں شک نہیںکہ پاکستان اس وقت گوناگوں مسائل اور مشکلات کا شکار ہے۔ بدامنی ، دہشت گردی ، بے روزگاری اور ،بجلی ،پانی ، گیس اور توانائی کابحران ہے۔ فکری ونظریاتی انحطاط ،سیاسی و معاشی انتشار ،تہذیبی زوال، طبقاتی تقسیم در تقسیم اور تصادم ، اسٹیبلشمنٹ سے نفرت ، اداروں میں ٹکرائو اور کشمکش ، صوبہ جات میں باہم کشمکش اور تنائو ،تعلیم و صحت کاغریب کی دسترس سے باہر اور سہولیات کا ناپید ہونااور عوام الناس کی زبوں حالی اور پریشان خیالی ،اعتماد کافقدان روز بروز بڑھ رہاہے۔
    حکومت وسائل کو منظم کرکے عوام کے مسائل کو حل کرتی ہے اورایک اچھی حکمرانی (Good Governance) کے ذریعے عوام الناس کے دکھ درد دور کیے جاتے ہیں لیکن بد قسمتی سے مسلم لیگ کا دور حکومت ہو یا پیپلزپارٹی کا ،یہ برسراقتدار گروہ اور صلاحیتوں سے عاری رہے اور نہ صرف خود بلکہ ان کے حواریوں نے بڑھ چڑھ کر لوٹ کھسوٹ میں حصہ لیااور اس طرح بُرے طرز حکمرانی Bad) (Governance کو رواج دیا ۔جس کے باعث آج پاکستان کرپٹ ترین ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔ پاکستان کا ہر پیداہونے والا بچہ ایک لاکھ 20ہزار روپے کا مقروض ہے ، ایک سابق چیئرمین نیب کے مطابق پاکستان میں روزانہ 12ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے۔اس طرح ملک میں ہونے والی کرپشن کا تخمینہ لگایاجائے تو سرکاری ادارے اور حکمران 43کھرب 80ارب روپے کی کرپشن سالانہ کرتے ہیں جو نہایت پریشان کن اور تکلیف دہ صورت حال ہے۔
    مشرف دورحکومت میں اکتوبر 2005ء کے زلزلے کے بعد پوری دنیا سے5ارب ڈالر (5کھرب23ارب92لاکھ50ہزار) کی امدادی رقم متاثرین کے لیے موصول ہوئی ۔یہ امداد اصل متاثرین تک پہنچنے کی بجائے کہیں اور پہنچ گئی اور اصل متاثرین محروم رہے۔ اسی طرح اُس وقت کے وزیراعظم شوکت عزیز نے عام شہری کو انصاف فراہم کرنے کے نام پر ایشیائی ترقیاتی بینک سے 135ارب روپے قرضہ لیا۔اس کے نتیجے میں عام آدمی کو انصاف تو فراہم نہیں ہوسکا۔ لیکن آج تک قوم اس قرضے کی اقساط ادا کرنے پرمجبور ہے۔
    سابق صدر آصف علی زرداری کے غیر قانونی طور پر ڈیڑھ کھرب روپے اور 22ارب روپے کمانے کے الزامات کی نیب تحقیق کررہاہے جبکہ اس سے قبل زرداری صاحب پر سرے محل، ایس جی ایس کو ٹیکنا، منی لانڈرنگ، عوامی ٹریکٹر سکیم کے تحت 800ٹریکٹر کی خریداری پر کمیشن بنانے اور فرانسیسی کمپنی سے معاہدے میں بھی کمیشن وصول کرنے کا الزام ہے۔
    سینٹ کی فنانس کمیٹی میں سٹیٹ بینک نے انکشاف کیاکہ آصف زرداری کے دور میں ایک کھرب روپے کی غیر قانونی ادائیگی براہ راست آئی پی پیز کو کی گئی اور آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی ڈاکٹر عاصم حسین نے 460ارب روپے کی کرپشن کی ہے۔سابق وفاقی وزیرمواصلات ارباب عالمگیر نے ایک چینی کمپنی کو ٹھیکہ دیتے ہوئے 24لاکھ ڈالر(25کروڑ14لاکھ84ہزار) کمیشن لیاجس سے لندن میں 4فلیٹ خریدے ہیں۔
    جب سے میاں نواز شریف وزیراعظم بنے ہیں، تب سے قوم کو معاشی خوشحالی کی نوید سنائی جارہی ہے۔ لیکن گورننس کا حال یہ ہے کہ 15لاکھ نئے بیروزگاروں کااضافہ ہوچکاہے، پاکستان کا ہر شہری ایک لاکھ روپے سے زائد کا مقروض ہوچکاہے۔برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق نواز دور حکومت میں پنجاب اور سندھ کو 70کروڑ پاؤنڈ یعنی ایک کھرب 6ارب 93کروڑ 62لاکھ 36ہزار کی امداددی گئی جو کرپشن کی نذرہوگئی۔سندھ میں امداد سے چلنے والے 5ہزار اسکول اور 40ہزار اساتذہ جعلی نکلے۔
    قومی اسمبلی میں جمع کرائی گئی ایک دستاویزکے مطابق میاں محمدنواز شریف نے 2009ء سے 2016ء تک، 7سال سے ٹیکس ادا نہیں کیا۔
    غریب قوم کے صدر ،صدرپاکستان ممنون حسین کی سیکورٹی پرایک سال میں ایک ارب روپے کے لگ بھگ خرچ کیے جارہے ہیں،اسی دوران انہوں نے قومی خزانے سے 60ہزار ڈالر (62لاکھ 87ہزارروپے) کی ٹپ بیرونی ممالک کے دوروں میں اپنی خدمت پر مامورخادموں کو عنایت کردی۔اسی طرح گذشتہ تیس برسوں میں 430ارب روپے کے قرضے معاف کرائے گئے ہیں۔
    پانامہ لیکس کے ذریعے ایک بڑا دھماکہ ہوا جس میں کل 479بڑے پاکستانیوں کے نام شامل ہیںجن میں وزیراعظم نواز شریف اورسابق صدر زرداری کے خاندان اور دوست احباب سرفہرست ہیں انہوں نے ٹیکس سے بچنے کے لیے غیر قانونی طریقے اختیار کیے اور وطن عزیز کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا۔ اسی طرح ڈھائی ہزار پاکستانیوں کے نام دبئی لیکس میںبھی شامل ہیں جنہوں نے دبئی میں ایک کھرب روپے سے زیادہ کی جائیدادخرید رکھی ہے۔ ان میں سب سے بڑا نام موجودہ وزیرخزانہ اسحاق ڈارکاہے جو وزیراعظم کے قریبی عزیز ہیں۔
    حکومتی ترجیحات کا یہ عالم ہے کہ صرف لاہور شہر کے ایک حصے پر بننے والی اورنج لائن ٹرین کا بجٹ(162ارب روپے) صحت کے کل بجٹ سے تقریباً آٹھ گنازیادہ ہے۔یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے وفاقی بجٹ میں صحت کے لیے محض /22ارب 40کروڑروپے مختص کیے تھے۔اس کے مطابق ہر پاکستانی کی صحت کے لیے حکومت کا مختص کردہ بجٹ 110روپے سالانہ اور9روپے ماہانہ فی کس بنتا ہے۔
    اس وقت کرپشن ہی کی وجہ سے وطن عزیز کی صورت حال یہ ہے کہ یوتھونومیکس گلوبل انڈیکس 2015ء نے پاکستان کو 25سال سے کم عمر نوجوانوں کے لیے دنیا کا بدترین ملک قراردیاہے۔2015ء میں دس لاکھ پاکستانی روزگارکی تلاش میں اپنا ملک چھوڑ چکے ہیں، 1971ء سے اب تک 90لاکھ پاکستانی اپنے وطن کو خیرباد کہہ کر دوسرے ملکوں میں جاچکے ہیں۔ پاکستان سے نقل مکانی کی بنیادی وجہ یہاں روزگارکی کمی ہے۔
    ڈاکٹرز سرکاری ملازمت کو خیرباد کہہ کر بین الاقوامی تنظیموں کا حصہ بن رہے ہیں۔سوشل پالیسی ڈویلپمنٹ سنٹر(ایس پی ڈی سی ) کے تازہ سروے کے مطابق پاکستان میں 30لاکھ سے زیادہ نوجوان بے کارزندگی بسرکررہے ہیں۔نوجوانوں کی 54فی صد آبادی کسی بھی تعلیمی یاجسمانی سرگرمی میں مشغول نہیں ہے۔
    نیب کرپشن کے خاتمے کے لیے بنا۔ اس میں گزشتہ 16سالوں میں نیب نے 309,000شکایات سرکاری وغیرسرکاری محکموں سے وصول کیں اور 6300انکوائریوں کو مکمل کیا۔ جبکہ اس دوران اربوں روپے کی مبینہ کرپشن کے ڈیڑھ سو بڑے مقدمات کی رپورٹ ملکی سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی ہے۔
    جبکہ اس دوران 150میں سے 71مقدمات کی انکوائری مکمل کی گئی ہے، 41مقدمات کی تحقیقات تکمیل کے مرحلے میں ہیں جبکہ 38کی تحقیقات مکمل کرکے ریفرنس احتساب عدالتوں کو بھجوائے گئے ہیں۔اس وقت حکمرانوں پر ٹیکس چوری کے الزامات اور ناقص پالیسیوں کے باعث ایف بی آر تمام ترکوششوں کے باوجودتاجروں کو ٹیکس دینے پر آمادہ نہیں کرسکا۔1960ء اور 1970ء کی دہائی میں ہانگ کانگ دنیا کا کرپٹ ترین خطہ تھا۔ لیکن ICACکے قیام کے محض 5سالوں کی قلیل مدت میں کرپشن کے عفریت پر قابوپالیاگیا۔اسی طرح 1959ء میں برطانوی استعمار سے آزادی حاصل کرنے والا ’’سنگاپور‘‘کرپشن کی بدترین مثال تھا۔
    ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل (TI) کے سروے کے مطابق آج کا سنگا پورسب سے کم کرپشن والے ممالک میں تیسرے نمبرپر ہے۔
    Political Economic And Risk Consultancy(PERC)کی رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ گزشتہ 10سال کے اعداد وشمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ کرپشن کے ناسورپرکامیابی سے قابوپانے والے دنیا بھر کے ممالک میں ایشیائی ملک سنگا پور پہلے نمبر کے ساتھ سرفہرست ہے۔
    پانامہ پیپرز لیکس ، دوبئی پراپرٹی لیکس ، قرضے معاف کرانے اور سینکڑوں میگا سیکنڈلز کی فہرستیں منظر عام پر آنے کے بعد ،جماعت اسلامی کی ’’کرپشن فری پاکستان ‘‘تحریک کا مطالبہ کرپشن کاخاتمہ قوم کی آواز بن گیاہے ، عوامی دبائو پر ماحول تو یہ بن گیا ہے کہ سپریم کورٹ سطح کاعدالتی کمیشن بنے اور بلا امتیاز تحقیقات اور احتساب ہو لیکن سیاسی ، جمہوری ، سول ملٹری صفوں میں بیٹھے افراد جو کرپشن میں ملوث ہیں انہوں نے پوری مہارت سے عدالتی کمیشن اور احتساب کے مطالبہ کارخ موڑ کر عملاً معاملہ سرد خانے کی طرف دھکیل دیا ۔ لیکن اب ملک میں نظریاتی ،اخلاقی ، معاشی اور انتخابی کرپشن کے خاتمہ کامطالبہ سرد نہیں ہوسکتا۔اسی طرح ریاستی اداروں اور حکومت نے بلاامتیاز احتساب کا معاملہ تقریباً مفلوج کردیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے متفقہ ٹی او آرز کی بنیاد پر چیف جسٹس آف پاکستان ایک عدالتی کمیشن تشکیل دیں ، اس وقت جو کیفیت ہے اس میں سیاسی بحران اور بے یقینی کی فضا قائم رہے گی اور ملک و ملت کو لاحق خطرات اور نقصانات کی ذمہ داری سراسروفاقی حکومت پرہوگی۔
    کرپشن کے خاتمے کے لیے سب سے اہم چیز پختہ ارادہ اوراخلاص نیت ہے۔قانون سازی، عملدرآمداور سزاؤں کے نفاذ کی مربوط اور جامع حکمت عملی ترتیب دینا بہت ضروری ہے۔لیکن اس پر عمل درآمد نہ ہو تو یہ سارا عمل بے کار کی مشق بن جاتاہے۔ ایمان دارسیاسی قیادت، ترجیحات کے تعین، دیانت دارافسران اور عوام کی تائیدسے کرپشن کی لعنت سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتاہے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس