Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

کربلا کا دل فگار واقعہ

  1. ماہِ محرم آتا ہے تو واقعاتِ کربلا کا تذکرہ شروع ہو جاتا ہے ۔ان واقعات کی تاریخی شہادتیں اور مستند اسناد موجود ہیں مگر مجالس کے بیشتر واقعات مبالغہ آمیزی، داستان گوئی اور محفل آرائی کے زمرے میں آتے ہیں ۔سیّدنا امام حسین ؓ نے دیگر صحابہ کی طرح یزید کی حکومت کو اس بنیاد پر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا کہ وہ ایک نااہل اور کردار کے لحاظ سے انتہائی پست انسان تھا۔آپؓ کو اہلِ عراق نے سفارتوں اور خطوط کے ذریعے دعوت دی کہ وہ کوفہ آجائیں تاکہ لوگ ان کی بیعت کر لیں ۔یہ طویل داستان تاریخ میں محفوظ ہے۔ کئی پیش بندیاں کرنے اور اپنے نمائندے حضرت مسلم بن عقیلؓ کو کوفہ بھیجنے کے بعد آپؓ نے اس پر خطر سفر کا فیصلہ کیا تھا۔بعد میں حالات بدل گئے اور عراق کے نئے گورنر عبید اللہ ابنِ زیاد کے ظلم و ستم کے نتیجے میں بزدل اور بے وفا کوفیوں نے آپ کا ساتھ چھوڑ دیا۔ مسلم بن عقیلؓ اور ان کے بچوں کو شہید کر دیا گیا،اور حالات یکسر بدل گئے ۔اس وقت تک امام حسین ؓ حدودِ عراق میں داخل ہو چکے تھے ۔بدلے ہوئے حالات میں انہوں نے مزاحم قوتوں سے کہا کہ وہ ان کا راستہ چھوڑ دیں تاکہ وہ براہِ راست یزید سے جاکر بات کر لیں، یا ان کو واپس جانے دیا جائے مگر انہیں بتایا گیا کہ یا تو یزید کی بیعت کریں یا پھر مرنے کے لیے تیار ہو جائیں ۔ان حالات میں امام حسینؓ نے بزدلی کی بجائے بہادری کا راستہ اپنایا،اور رخصت کی بجائے عزیمت کی راہ لی۔ پھر وہ المناک معرکہ پیش آیا جس میں ایک جانب چند اہلِ حق تھے اور دوسری جانب ہوا و ہوس کے غلام ہزاروں لشکر ۔ اس معرکے میں حضرت حسینؓ کے تمام ساتھی ایک ایک کر کے شہید ہوتے چلے گئے ۔حتیٰ کہ ایک معصوم بچہ بھی شہید ہو گیا ۔

    واقعاتِ کربلا تفصیلی ہیں مگر اختصار کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ جب حضرت امام حسینؓ کو تمام راستے مسدود کرکے جنگ پر مجبور کر دیا گیا تو پھر آپؓ نے پیٹھ نہیں پھیری۔ البتہ یہ بھی آپؓ کی عظمت ہے کہ رات کو آپؓ نے اپنے تمام ساتھیوں کو جمع کرکے فرمایا کہ یہ لوگ میرے خون کے پیاسے ہیں۔ انھیں یا تو میری بیعت چاہیے یا پھر سر۔ آپ لوگوں سے ان کو کوئی غرض نہیں ہے۔ آپ رات کی تاریکی میں خاموشی سے یہاں سے کوچ کر جائیں۔ میں ان سے خود نمٹ لوں گا مگر ان کے سب ساتھیوں نے یک زبان یہ کہا کہ ہم کسی صورت آپؓ کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔ ہمارا جینا مرنا آپؓ کے ساتھ ہے۔ آپؓ کے ان ساتھیوں میں حر بن یزید اور اس کے چند رفقا حقیقت میں بنو امیہ کی طرف سے آپؓ کا راستہ روکنے والوں میں شامل تھے مگر آپؓ کی پر اثر تقریر کو سن کر انھوں نے سرکاری ذمہ داریوں اور مناصب کو پائے استحقار سے ٹھکرا دیا اور آپؓ کے ساتھ آخر وقت تک وفاداری کا حق نبھایا۔
    معصوم بچے کا خو ن
    ۹؍ محرم کو عملاً جنگ شروع ہوگئی۔ قافلۂ حسین کے جاں نثار ایک ایک کرکے شہید ہوتے چلے گئے۔ اس دوران ایک بڑا دلدوز واقعہ پیش آیا، جسے مورخین نے نقل کیا ہے۔ سیدنا حسین ابن علیؓ نے اپنے ایک شیر خوار بچے کو گود میں اٹھا رکھا تھا، جس طرح آنحضورؐ خود آپؓ کو گود میں اٹھایا کرتے تھے۔ دشمن کی طرف سے ایک تیر آیا اور اس بچے کے حلق میں پیوست ہوگیا۔ آپؓ کی گود ہی میں یہ معصوم شہید ہوگیا۔ آپؓ اس کا خون پونچھتے اور فرماتے جاتے تھے کہ اے اللہ! یہ خون بھی تیرے راستے میں قربان ہے۔ ہمارے اور ان کے درمیان تو ہی فیصلہ کرنے والا ہے۔ ان لوگوں نے ہمیں خود ہی یہاں آنے کی دعوت دی اور اب یہی ہمارے قتل کے درپے ہیں۔ (واقعۂ کربلا از پروفیسر سید ابو بکر غزنوی، ص ۴۸-۴۷)
    شہادت کا اعلیٰ رتبہ
    جب آپؓکے سب ساتھی ایک ایک کرکے شہید ہوگئے تو آپؓ نے ایک یمنی چادر اپنے بدن پر لپیٹ لی۔ پھر تلوار لے کر میدان میں اترے۔ وہ جس جانب جھپٹتے تھے جنگ جو منتشر ہوجاتے تھے۔ آپؓ کو کئی زخم لگ چکے تھے اور پیاس سے بھی آپؓ نڈھال تھے۔ موت آنکھوں کے سامنے تھی مگر آپؓبلا خوف و خطر دشمن سے نبرد آزما رہے۔ کربلا کا ذرہ ذرہ اس شہید وفا کو دیکھ کر پکار رہا تھا ؎
    دل میں سما گئی ہیں قیامت کی شوخیاں
    دو چار دن رہا تھا کسی کی نگاہ میں
    ۱۰؍ محرم کے روز ظہر اور عصر کے درمیان آپؓ کی شہادت ہوئی۔ آپ کے قاتل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ شمر بن ذی الجوشن تھا جبکہ یہ رائے بھی بیان کی جاتی ہے کہ آپؓ کو قبیلہ مُذحج کے ایک بدبخت شخص نے شہید کر دیا۔ یہ رائے امام ابن کثیر نے البدایۃ والنھایۃ میں دی ہے۔ (دیکھیے ج۸، ص ۱۸۸) اس کے مقابلے میں تاریخ طبری میں جس شخص کو آپؓ کا قاتل قرار دیا گیا ہے، وہ نسان بن انس نخعی تھا اور آپؓ کا سر کاٹنے والے کا نام طبری نے خولی الاصبعی بیان کیا ہے۔ یہی رائے امام ذہبی کی بھی ہے۔ آپؓ کا سر کاٹنے والا شقی القلب جب سنگ دل ابن زیاد کے پاس پہنچا تو بڑے فخر سے یہ اشعار پڑھے:
    اوقر رکابی فضۃ و ذھبا
    فقد قتلت الملک المحجبا
    قتلت خیر الناس اَمَّا وَ اَبَّا
    و خیرھم اذ ینسبون نسبا
    یعنی میرے اونٹ کو سونے اور چاندی سے لاد دو۔ میں نے ایسے بادشاہ کو قتل کیا ہے جس تک رسائی بڑی مشکل تھی۔ میں نے اس انسان کو موت کے گھاٹ اتارا جس کے ماں باپ سب انسانوں سے افضل تھے۔ یہ وہ شخص ہے جو تمام بنی نوعِ آدم میں اعلیٰ ترین نسب کا حامل تھا۔
    صبر کی تلقین
    ایامِ کرب و بلا میں بعض مواقع پر خیموں میں موجود خواتین کی طرف سے اگر کسی نوعیت کی پریشانی کا اظہار ہوا تو اس عظیم انسان نے انھیں بہترین انداز میں تلقین فرمائی کہ مومن کی ڈھال صبر ہے۔ دنیا کی بے ثباتی اور آخرت کی حیاتِ ابدی کو اتنے موثر اور دلنشین پیرائے میں بیان فرماتے رہے کہ ان کے ملفوظات پڑھ کر دل کو عجیب تسکین ملتی ہے۔ اگر امام حسینؓ کمزوری دکھا جاتے تو ایک بہت بڑا فکری انحراف رونما ہوجاتا۔ اس میں شک نہیں کہ عملی طور پر خلافت ملوکیت میں بدل گئی جو امت کے لیے بہت بڑا سانحہ ہے، مگر یہ بات قابلِ لحاظ ہے کہ اگر فکری لحاظ سے بھی یہ امت راستہ کھو بیٹھتی تو اس کا حال بھی ان دیگر مذاہب کی طرح ہوتا جو الہامی کتب اور وحیِ ربانی کی روشنی سے فیض یاب ہونے کے باوجود مکمل طور پر اپنی منزل سے نابلد ہوگئے اور اپنا تشخص کھو بیٹھے۔ شہادتِ حسین ایک بہت بڑا سانحہ ہے لیکن اس کے بعد کے مراحل اس سے بھی زیادہ دلدوز ہیں۔
    کوفہ و دمشق کے درباروں میں
    مستند روایات کے مطابق حضرت حسینؓ کا سر کاٹ کر پہلے کوفہ میں عبید اللہ بن زیاد کے سامنے پیش کیا گیا، پھر دمشق میں یزید کے دربار میں پیش کیا گیا۔ دونوں جگہ ان دونوں بد بخت افراد نے نواسۂ رسول کے بارے میں گستاخانہ رویہ اختیار کیا۔ یزید کے دربارمیں جب امام کا سر پیش کیا گیا تو اس نے آپؓ کے چہرہ مبارک پر ایک چھڑی سے ٹھوکا دیا۔ مورخین کے مطابق اس نے بار بار یہ حرکت کی۔ اس موقع پر دربار میں آنحضورؐ کے صحابی حضرت ابو برزہ اسلمیؓ بھی موجود تھے۔ ان سے برداشت نہ ہوسکا اور انھوں نے کہا: اے یزید! اس چہرہ مبارک سے چھڑی الگ کر لو۔ خدا کی قسم میں نے اپنی آنکھوں سے بارہا یہ منظر دیکھا کہ نبی اکرمؐ اپنے مبارک لبوں سے اس چہرے کو نہایت محبت سے چوما کرتے تھے۔ دونوں درباروں میں خاندانِ اہل بیت کی عفت مآب بیٹیوں کو بھی حاضر کیا گیااوردونوں جگہ ابن زیاد اور یزید نے بڑے تکبرکا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ حسین باغی تھا جو اپنے انجام کو پہنچ چکا ہے۔ ہر دو مقامات پر حضرت حسینؓ کی شیردل ہمشیرہ سیدہ زینب بنت علیؓ نے ان کو منہ توڑ جواب دیا۔
    حضرت معاویہؓ کی نصیحت اور یزید کا عمل
    یزید کو حضرت معاویہؓ نے بارہا یہ نصیحت کی تھی کہ وہ حضرت حسینؓ کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرے اور انھیں حکمت سے شیشے میں اتارنے کی کوشش کرے۔ البدایۃ والنہایۃ کے الفاظ ہیں انظر حسین بن فاطمۃ بنت رسول فانہ أحب الناس إلی الناس فصل رحمہ وارفق بہ( دیکھیے ج۸، ص ۱۶۲ )۔حسین بن فاطمہ بنت محمدؐ کا خصوصی خیال رکھنا کیونکہ وہ معمولی آدمی نہیں۔ لوگوں کے دلوں میں ان کی بڑی محبت ہے۔ ان کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے صلہ رحمی اور نرمی کا اہتمام کرنا۔ابن الاثیر نے بھی لکھا ہے کہ حضرت معاویہؓ نے یزید کو خصوصی نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اگر تمھارے مقابلے پر حسین بن علیؓ خروج کریں اور تم انھیں زیر کر لو تو عفو و درگزر کا معاملہ کرنا کیونکہ وہ ہمارے قریبی رشتہ دار ہیں۔ نیز وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے ہیں۔ اس لحاظ سے ان کا بڑا حق ہے۔ (دیکھیے الکامل ج۳، ص ۲۵۹)
    یزید نے اپنے والد کی نصیحت پر عمل کرنے کے بجائے وہ راستہ اختیار کیا جو ظلم، شقاوت، سنگ دلی اور قطع رحمی کی بدترین مثال ہے۔ یزید کے بعض وکلا اس کی بریت ثابت کرنے کے لیے یہ دور کی کوڑی بھی لاتے ہیں کہ اس نے حضرت حسینؓ اور ان کے ساتھیوں کے قتل کا حکم نہیں دیا تھا، یہ محض عبید اللہ بن زیاد کا عمل ہے۔ ان وکلا کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں کہ اگر اس نے ایسا حکم نہیں دیا تھا تو:
    ۱- کیا اس نے ابن زیاد سے کوئی ہلکی سی بھی باز پرس کی کہ اس کے حکم کے بغیر اس نے اتنے بڑے جرم کا ارتکاب کیوں کیا؟
    ۲- تاریخ کے اس ریکارڈ کا کیا کیا جائے کہ ابن زیاد جس سے یزید نالاں تھا اس واقعہ کے بعد اس کا پسندیدہ اور چہیتا گورنر بن گیا؟
    ۳- جب شہید کربلا کا سر یزید کے دربار میں پہنچا تو ابن زیاد ہی کی طرح ان کے چہرہ اطہر پر چھڑی سے ٹھونکے کیوں دیے گئے؟
    ۴- اتنے بڑے سانحہ کے بعد بنات اہل بیت کو جس لب و لہجے میں اپنے دربارمیں اس نے مخاطب کیا اس کا اخلاقی یا انسانی لحاظ سے کیا جواز تھا؟
    ہماری رائے
    یزید کے اس عمل کی کوئی توجیہہ ممکن نہیں۔ البتہ امام ابن تیمیہؒ کی طرح ہمارا موقف یہ ہے کہ اس کے باوجود سب و شتم اسلامی نقطۂ نظر سے ہر گز پسندیدہ عمل نہیں۔ یزید کا جو بھی جرم ہے، اس کا بدلہ وہ اللہ کے ہاں پارہا ہوگا اور روز محشر بھی پائے گا۔ اخلاقِ نبوی سے جو کچھ ہم نے سیکھا ہے، اس کا جوہر تو یہ ہے کہ کسی بد ترین دشمن کو، کسی کٹے کافر کو اور کسی ناپاک جانور کو بھی کبھی گالی نہ دو۔ تاریخ کا کوئی باب ہو یا اپنے ذاتی معاملات، ایک مومن کے لیے اسوۂ حسنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس ہے۔ جہاں ہم اپنا یہ موقف واضح کرنا چاہتے ہیں وہیں ہم بلا خوف لومۃ لائم یہ حقیقت بھی واضح کرنا چاہتے ہیں کہ یزید جیسا ایک فرد جس کے بارے میں اس دور میں زندہ صحابہ کرام کی ایک بہت بڑی اکثریت کے خیالات و ملفوظات غیر مبہم انداز میں بتاتے ہیں کہ وہ ایک انتہائی ناپسندیدہ کردار ہے، نرم گوشہ رکھنا بڑی جسارت اور ناانصافی ہے۔ پھر یہ تو ایک جرم سے کم نہیں کہ جس شخصیت کو نبی اکرمؐ نے جنت کے نوجوانوں کا سردار ہونے کی بشارت دی، جسے آپؐ نے اپنے بازووں اور کندھوں پر اٹھایا اور جسے آپؐ نے اپنا محبوب قرار دیا، اس کے مقابلے میں یزید جیسے ایک مستبد، بد عمل اور قاتل حکمران کو ترجیح دی جائے۔ آنحضورؐ کی یہ حدیث کافی واضح ہے کہ قیامت کے دن ہر شخص اسی کے ساتھ کھڑا ہوگا، جس کے ساتھ اس نے محبت کی۔ المرأمع من احبہ ( صحیح بخاری کتاب الأدب باب علامۃ حب اللّٰہ عزوجل حدیث نمبر ۵۷۰۲)
    واقعہ کی اصل اہمیت
    واقعاتِ کربلا کی تفصیلات مورخین نے بڑی شرح و بسط کے ساتھ قلم بند کی ہیں مگر ہمارے نزدیک اس کی اصل اہمیت یہ ہے کہ اسلام کا نظامِ خلافت اتنا قیمتی اثاثہ ہے کہ اس کے لیے بڑی سے بڑی قربانی بھی دی جاسکتی ہے۔ آمریت و ملوکیت اور استبداد و ظلم کا نظام اتنا ناپسندیدہ ہے کہ اسے مسترد کرنا اور اسے بدلنے کے لیے جدوجہد کرنا تقاضائے ایمانی ہے۔ انسان کی زندگی میں ابتلا و امتحان کے مرحلے آتے ہیں۔ ان مراحل میں ایک بندۂ مومن کی کیا شان ہونی چاہیے، یہ بھی واقعات کربلا اور اس کے مابعد پیش آمدہ مراحل میں بخوبی دیکھا جاسکتا ہے۔ حضرت حسینؓ اور ان کے ساتھی چند لمحات کے لیے سخت صورتِ حال سے دوچار ہوئے مگر شہادت نے یہ سختیاں جلد ہی ختم کردیں۔ البتہ بچ جانے والا قافلہ جس میں ایک مرد کے سوا باقی سب خواتین تھیں، عزیمت کا پہاڑ بن کر تاریخ میں جگمگا رہا ہے۔ ہمیں ہر مرحلے میں اس سے سبق اور حوصلہ حاصل کرنا چاہیے۔ (ماخوذ از ’’شہادت امام حسینؓ کا حقیقی پیغام‘‘)

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس