Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

محترمہ عائشہ سید سے خصوصی انٹرویو

  1. محترمہ عائشہ سید صاحبہ جماعت اسلامی پاکستان کی رکن قومی اسمبلی ہیں۔ سوات میں امراء کے ایک بڑے خاندان سے تعلق ہے،ان کے تایا جناب تاج الملوک مرحوم مولانا مودودی ؒ کے قریبی رفیق اور صوبہ سر حد (KPK)میں جماعت اسلامی کے بانی ارکان میں سے تھے۔ان کے والد ڈاکٹر زین العابدین مرحوم بھی سوات میں جماعت کے اہم رہنما تھے۔انیس سوساٹھ کے عشرے میں جب سوات میں جماعت اسلامی سے تعلقِ خاطر جرم قرارپایااوربہت سے اکابرین جماعت کو ریاست بدر کر دیا گیا،توڈاکٹر زین العابدین بھی اس قافلہ ابتلا میں شامل تھے۔ان کے بڑے بھائی سیف الملوک مرحوم والیئ سوات کے وزیر اور مدار المہام تھے۔انہوں نے خود اپنے بھائی کے اخراج کے فیصلے پر دستخط کیے اورحکم دیا کہ ریاست سے نکلتے ہوئے ضروریات زندگی کا سامان بھی
    ان کے ساتھ نہ جانے دیا جائے،یہاں تک کہ ان کی گاڑی بھی ان سے چھین لی گئی۔ڈاکٹر زین العابدین نے عمر کا ایک بڑا حصہ جلا وطنی میں گزارا۔تاہم ان کے گھرانے نے عیش و مسرت کے ایام میں بھی اللہ کو نہیں بھلایا اور مشکلات و مصائب کے دورمیں بھی کہ جب وہ کراچی میں کسی قدر کس مپرسی زندگی گزار رہے تھے،اللہ کو یاد رکھا۔ ڈاکٹر صاحب اور ان کے گھرانے کے لوگ ہر حال میں جماعت اسلامی کوہی اوڑھنا بچھونا بنائے رہے ۔ڈاکٹر زین العابدین کی پوری زندگی ا پنی علمی صلاحیت اور سیاسی شعور کے ساتھ اسلامی تحریک کے کام آتی رہی ،ان کی اہلیہ بھی علم وفضل اور ایثارمیں اپنی ہم عصر خواتین میں نمایاں تھیں۔ محترمہ عائشہ سید کو اپنی والدہ کی وفات کا دن اچھی طرح یاد ہے کہ اس روز بھی وہ روزے سے تھیں:''جب ہم لوگ سکول سے واپس آئے ،تو ہمارے پیچھے وہ چپ چاپ اللہ کے پاس جا چکی تھیں۔ ہماری امی کی زندگی سراپا ایثار تھی،اسلامی جمعیت طلبہ کے چالیس نوجوان جیل میں تھے،ان کے لیے اپنا سارا زیوردے دیا تھا،صرف دو ٹاپس بچے تھے،جو وفات کے دن ان کے کانوں میں موجود تھے''۔ محترمہ عائشہ سید کے مثالی والدین نے اپنے بچوں اور بچیوں کی مثالی تربیت کی، عائشہ سید بھی ان ہی کی تربیت کا شاہ کار ہیں۔ان کوبلا شبہ سوات میں تباہ شدہ تعلیمی ڈھانچے کوبحال کرنے اورپاکستان کی عزت کو چار چاند لگانے والی مجاہدہ کا مقام حاصل ہے ۔امید ہے قارئین کرام کومحترمہ عائشہ سید سے ''جہاد کشمیر'' کے لیے لیا گیا ساجدہ ابصار کایہ انٹرویو پسند آئے گا۔
    ******************************************************************************
    ساجدہ ابصار:اپنی ابتدائی زندگی،خاندان اور تعلیم کے بارے کچھ بتائیے؟
    عائشہ سید:میری پیدائش ایک دین دار خاندان میں ہوئی۔ میری بچپن کی یاد وں میں سے ایک یہ ہے کہ والد صاحب صبح فجر سے پہلے اٹھ کر امی کو قرآن پڑھاتے تھے۔ فجر کے بعد ہم سب بہن بھائیوں کو جگاتے،ہم آٹھ بھائی اور چار بہنیں تھیں۔ بھائیوں کوابو اپنے ساتھ مسجد لے جاتے اور ہمیں جگاگھر پر نماز پڑھنے کی ہدایت کرتے۔امی جس وقت ناشتہ بناتی تھیں اس وقت والد محترم ہمیں ترجمے کے ساتھ قرآن پڑھاتے تھے۔ ہم سب بہن بھائیوں نے آٹھویں کلاس تک پہنچتے پہنچتے قرآن پاک ترجمے کے ساتھ مکمل کر لیا تھا۔قرآن کے بعدہمیں صحائح ستہ شروع کروائی گئیں۔امی نے بھی اس عرصے میں ہمارے ساتھ ساتھ قرآن بھی حفظ کیا۔ چنانچہ جب وہ بیالیس سال کی عمر میں فوت ہو ئیں،تو انیس پارے حفظ کر چکی تھیں۔ یہ تھاہمارے ماحول پر گہرے دینی اثرات کا عالم اور میرے والدین کی دین سے کمٹ منٹ کی حالت،حالانکہ میری امی اس عرصے میں ایک بڑے گھر کی بہت زیادہ ذمے داریاں بھی ادا کر رہی تھیں،مگر دینی تعلیم بھی ساتھ ساتھ حاصل کرتی رہیں۔ اسی ماحول میں میری ابتدائی اوردینی تعلیم گھر پر ہی ہوئی۔گھرکے ماحول سے ہی ہمیں افغان جہاد میں شرکت کا احساس ملا،یہیں رہ کرہم کشمیر کے جہادمیں مالی شرکت کرتے رہے۔کشمیر کے جہاد کا بہت سا کام ہمارے گھرمیں ہوتا تھا۔ مجاہدین ہمارے ہاں قیام کرتے تھے،ہمارے بیس کمرے کابہت بڑاگھر تھا ،اس کے کئی کمرے مجاہدین کے لیے مختص تھے۔ والد صاحب ہمیں قرآن پڑھانے کے بعد علاقے کے بہت سے سرکاری اہل کاروں کو بھی قرآن پرھاتے تھے،مثلاً ہسپتال کے ڈاکٹر،تھانے کے ایس ایچ اور ایس پی وغیرہ ...علاقے کے چالیس کے قریب افسر اور سرکاری ملازمین پر مشتمل قرآن کلاس ہوتی تھی۔اس کلاس میں ان کو قرآن کے ساتھ ساتھ ریاض الصالحین اور صحائح ستہ بھی پڑھائی جاتی تھیں۔
    میری سکُولنگ بہت اچھی ہوئی ،الحمد للہ، کلاس میں ہمیشہ میری فرسٹ پوزیشن آتی تھی ،میری تقریر بھی سب کو پسند آتی تھی،تیسری جماعت سے ہی میں کلاس مانیٹربن گئی تھی۔اباجان مجھے درس دینے کی تیاری کرواتے اور میں سکول میں درس بھی دیاکرتی تھی۔ابا جان فرماتے تھے، تم ذہین ہو اس لیے تم دین کا علم حاصل کرو،لیکن میرا دینی تعلیم کی طرف رجحان نہ تھا۔ میں اپنے بارے میں سمجھتی ہوں کہ اباجان کے سب بچوں میں ان کاسب سے کم کہنا ماننے والی میں تھی۔میری چھوٹی بہن جو اب ماشاء اللہ رکن جماعت ہیں،وہ شروع سے ہی تہجد گزار تھیں اور میرا حال یہ تھا کہ اگر نماز کے لیے کوئی نہ جگاتا تووہ بھی مجھ سے چھوٹ جاتی تھی۔ بعد میں الحمد للہ میری چھوٹی بہن کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے میرے ہاتھ سے رکنِ جماعت بنوایا۔ مجموعی طور پرہم پانچ بہن بھائی جماعت اسلامی کے ارکان ہیں۔اپنے بچپن میں مجھے سلائی کڑھائی کے کام کابہت شوق تھا۔ ہمارے علاقے میں یہ رجحان تھا کہ جو لوگ وسائل رکھتے تھے وہ اپنی بچیوں کو سلائی،کڑھائی اور کھانا پکانا سکھاتے تھے۔ ابا جان بھی چاہتے تھے کہ ان کی تمام بچیاں گھر داری میں طاق ہوں۔ میرے بارے میں ان کا خیال تھا کہ یہ سلائی نہیں سیکھے گی،لیکن یہ بات ان کوبھی حیران کرنے والی تھی اور مجھے اب بھی یہ بات یاد کر کے بڑی حیرت ہوتی ہے کہ میں نے سات سال کی عمر میں بہت اچھی سلائی اور کٹنگ سیکھ لی تھی۔ بعد میں سلائی کڑھائی وغیرہ کی طرف میری بہت زیادہ توجہ اور شوق دیکھ کر ابا جان پریشان ہوجاتے تھے ،ان کو ڈر تھاکہ اس کا دھیا ن پڑھائی سے ہٹ جائے گا،مگرمیرا شوق تھا ،اس لیے میں اس سے باز نہیں آتی تھی۔ میں جس سکول میں پڑھتی تھی وہ مڈل سکول تھا،اس کے ساتھ ہی ایک گاؤں کا سکول اور ایک سرکاری سکول تھا ،میں ان سارے سکولوں سے بچیوں کو اکٹھا کر کے ان سب کو ایک گروپ کی شکل میں کام کرواتی تھی۔ میری ہمیشہ سے یہ عادت تھی کہ میں اکیلی کام نہیں کر سکتی تھی،جو بھی کرنا ہوتا سب کو ساتھ لگا کر کرتی تھی۔ ہماری گرمیوں کی چھٹیوں کی اجتماعی مصروفیات میں سے ایک مصروفیت یہ ہوتی کہ یتیم اورغریب بچیوں کی فہرستیں بناتے اوردوسرے کھاتے پیتے گھروں کی لڑکیوں کے ساتھ مل کر پرانی کتابیں اکھٹی کرتے ،خود ہی ان کی جلدبندی کرتے اور ان کتابوں کو ضرورت مند بچیوں کے گھر دے کر آتے۔ان بچیوں کے والدین مجھ سے بہت خوش ہوتے تھے کہ اس نے ہماری بچیوں کو پڑھنے کے کام میں لگا دیا اورسلائی،کڑھائی سکھا دی۔ میرے والدین بھی میرے ان مشاغل کو پسند کرتے تھے اوراس کام میں مجھ سے تعاون بھی کرتے تھے، لیکن ان کی خواہش یہ تھی کہ میں اس وقت کو دین کی تعلیم حاصل کر نے میں صرف کرتی۔

    ٭ آپ کی شادی کب ہوئی اور شادی سے آپ کی زندگی میں کیا تبدیلی آئی؟
    ٭٭ ابھی میں آٹھویں جماعت میں تھی کہ شادی ہو گئی،تاہم شادی ایسے گھرانے میں ہوئی جہاں میری پسند کا ماحول تھا۔میری سسرال کا تعلق نون لیگ سے تھا ،اور ان لوگوں کادین کی طرف میلان زیادہ نہیں تھا۔ یہاں مجھے آسانی یہ تھی کہ دین کے لحاظ سے کوئی پابندی نہیں تھی۔ میرے شوہر بھی ہمارے ہی سید خاندان سے تھے اور میرے والد صاحب کے فرسٹ کزن تھے۔البتہ یہاں نہ توکوئی نماز کے لیے کہتا تھا،نہ اس پر کوئی ملامت کرتا تھا،لیکن میں نے اپنے گھر میں جو ماحول دیکھاتھا،اس کے اثرات اتنے جلدی زائل ہونے والے نہ تھے،خصوصاً والدہ کی وفات کے بعد ہم سب بہن بھائیوں میں سے جس جس کی نماز کمزور تھی وہ بہتر ہو گئی۔ میرا معاملہ بھی ایسا ہی تھاکیونکہ امی بہت کہہ کہہ کر نماز پڑھاتی تھیں۔شروع میں تو مجھے اپنے سسرال کے کھلے ڈلھے ماحول میں بہت مزہ آیا،لیکن بچپن کی جو تربیت تھی،جب سب کچھ اس کے برعکس ہوتا دیکھا،تو آسانی سے ہضم نہ کر پائی۔ تھوڑے عرصے میں مجھے بہت سی باتیں چبھنے لگیں،مثلاًزکوٰۃ نہ دینا اور دین کا کوئی کام نہ ہونا... یہ سب چیزیں بہت محسوس ہونے لگیں۔ ہمارے گھر کا طریقہ یہ تھاکہ ابا جان گھر کے ملازموں کو بھی ہمارے ساتھ ہی دین کی تعلیم دیتے تھے اورانہیں سکول بھی بھیجتے تھے۔ ہمارے وہ ملازم جو ہمیں اپنے کندھوں پر اٹھا کر سکول لے کر جایا کرتے تھے، خود بھی سکول جاکر تعلیم حاصل کرتے تھے، آج ان میں سے کئی ڈاکٹر، انجینیر،اچھے پڑھے لکھے اور کئی ایک فوج میں ہیں۔ سسرال میں ایسا کچھ نہیں تھا بلکہ غریب لوگوں کے بارے میں وہاں یہ نظریہ تھا کہ لکھنا پڑھنا ان غریبوں کا حق نہیں ،کہا جاتا یہ بیچارے پڑھ ہی نہیں سکتے، پڑھ بھی لیا تو کیا کریں گے؟اس وجہ سے یہ ماحول مجھے تکلیف دہ لگنے لگا،پھر جب اللہ نے پہلے تین سالوں میں مجھے تین بیٹے دیے،تومیں اپنے اندرہمت نہیں پا رہی تھی کہ اس ماحول میں ان کی تربیت کیسے کروں گی؟میری والدہ فوت ہو چکی تھیں ،سسرال میں بھی کوئی بڑابزرگ نہیں تھا۔ ساس سسر میری شادی سے پہلے ہی فوت ہو چکے تھے۔ جب اللہ نے مجھے پہلا بیٹا دیا تو اس وقت میری اپنی عمر بہت کم تھی۔ میں یہ محسوس تو کرتی تھی،لیکن کسی کو یہ کہنے کی ہمت نہیں رکھتی تھی کہ ملازموں کے بچوں کی تعلیم بھی ضروری ہے۔ بڑا بیٹا ابھی پونے چھے برس کا تھا کہ اچانک فوت ہوگیا او دوسرے بچے بھی بیمار ہوگئے۔ اس کی وفات کو ابھی ایک ہفتہ بھی نہیں ہوا تھا کہ چھوٹا بیٹا جو ساڑھے تین سال کا تھا وہ بھی فوت ہوگیا۔ میں بہت غم گین ہوئی،خصوصاً جب بڑا بیٹا اچانک فوت ہوگیا،کیوں کہ اس بیٹے کے ساتھ میں نے بہت محنت کی تھی جس طرح میرے والدین مجھے پڑھاتے تھے، اسی طرح میں اس کو پڑھانا سکھاتی تھی۔اس کے بارے میں طرح طرح سوچتی تھی کہ میں اس کو کیا بنا ؤں گی۔ دو بچوں کی وفات سے مجھے بہت پریشانی ہوئی ، آٹھ دس دن تک مجھ پر بہت زیادہ اثر رہا۔ صبح کے وقت جب بڑے بیٹے کی وین آتی تھی اورمیں باہر انتظار میں کھڑی ہوتی تھی،یاد آتا کہ میں اس کو کس طرح تیار کر کے بھیجتی تھی،دل سخت صدمے کی گرفت میں ہوتا،لیکن آہستہ آہستہ میں نے یہ سوچ کر اپنی اصلاح کر لی کہ اس کا کیا فائدہ ؟فائدہ تو اس میں ہے کہ میں دوسروں کے بچوں کو اپنا بچہ سمجھوں اور ان پر بھی ایسی محنت کروں جس طرح میں نے اپنے بچوں پر کی تھی؛چنانچہ میں نے غریب بچوں کو اکٹھا کیا۔اپنے ملازموں کے بچے جو سرونٹ کواٹر میں رہتے تھے،سب سے پہلے ان سب کو جمع کیا۔٨٥بچے تو صرف یہی ہو گئے۔ان سب کو میں نے قرآن پڑھانا شروع کیا اور سکول کا نصاب بھی ساتھ ساتھ پڑھایا۔ یوں میں نے اپنے لیے مصروفیت ڈھونڈ لی۔ایک جانب بچوں کی پڑھائی کا سلسلہ چلنے لگااور دوسری طرف میں مختلف سیاسی پارٹیوں میں شمولیت اختیار کرتی رہی۔ جماعت اسلامی میرے گھر کی جماعت تھی،مگرمیں صرف اس لیے جماعت میں نہیں جانا چاہتی تھی کہ یہ میرے والدین کی جماعت تھی۔تاہم میں نے یہ طے کر لیامجھے اللہ کے قریب ہونا ہے ،میں نے یہ سوچ لیا جس پارٹی میں بھی مجھے یہ چیز ملے گی،اس میں جاؤں گی۔ تبلیغی جماعت میں گئی وہاں بھی میرامقصد پورا نہیں ہوا،جیسا کام میں کرنا چاہتی تھی ویسا وہاں پر کچھ نہ تھا۔مسلم لیگ نون تو میری سسرال کی جماعت تھی،میرے اپنے خاندان کے زیادہ لوگوں کی جماعت تھی،ان کے ساتھ بھی میں کام کرتی رہی ،مگروہاں بھی میری ضرورت پوری نہیں ہوپائی ۔اس کے بعد جے یو آئی(جمعیت علماء اسلام) میں چلی گئی، مگروہاں کا ماحول بھی مجھے پسند نہیں آیا۔ پیپلز پارٹی کو بھی میں نے قریب سے دیکھ لیا تھا ،کیونکہ میرے شوہر اس میں تھے اور بے نظیر کے جیالے تھے،وہاں میں نے ان کے ساتھ بھی کام کیا تھا۔ میں نے تورات بھی پڑھی،والد صاحب کی لائبریری میں سے چھپاکر کچھ صحائف بھی پڑھے تھے ۔ارادہ یہی تھا کہ گھسی پٹی راہوں پر چلنے کے بجائے خود سچائی کو تلاش کروں گی،جہاں سکون ملے گا، جو مذہب اچھا لگے گا،اسے اختیارکر لوں گی۔
    میرے ابا جان نے سوات کے امیر ضلع خالق داد خان صاحب اور ڈاکٹر نثار صاحب سے کہا کہ یہ ہمارے ہاتھ تو نہیں آتی ،آپ ہی اس کو دعوت دے کردیکھیں۔اس کے بعد جماعت اسلامی کی ناظمہ صوبہ ہمارے گھر آئیں،انہوں نے مجھے دعوت دی، تو میں جماعت میں آ گئی۔یہ سال١٩٩١ء کے اواخر یا ١٩٩٢ء کے آغازکا زمانہ تھا۔١٩٩٢ء میں ضلع سوات کی ناظمہ کے منصب کے لیے حلف اٹھایا۔ جماعت اسلامی کی رکن میں١٩٩٣ء میں بنی،یعنی ناظمہ پہلے بنی اوررکنیت بعد میں منظور ہوئی۔ میں سوات سے پہلی خاتون رکن تھی۔ جماعت کے کام کے ساتھ ہمارے سکول بھی چلتے رہے۔ اس وقت تک میں تین سکول چلا رہی تھی۔ ایک میرے اپنے گھر میں تھا ، ایک بہن کے گھر میں اور تیسرا سکول مینگورہ میں تھا۔ یہ سکول میں اپنے خاندان اور جماعت کے کچھ افراد کی زکوٰۃ سے چلایا کرتی تھی۔ان سکولوں کے ساتھ بچوں کے لیے مدرسے اور خواتین کے لیے قرآن ترجمہ کلاسز بھی تھیں۔ اس کے ساتھ میری اپنی تعلیم بھی چلتی رہی ۔میں نے اسی دوران میں گریجوایشن بھی کر لی۔ ١٩٩٥ء میں ایچ یو (کیو)والے ہمارے پاس آئے، ان کے ساتھ ہم نے کام کیا اور تقریبا بارہ سکول ہم نے ان کے تعاون سے کھولے، جس میں لڑکیوں کے لیے بھی سکول کھولے گئے۔میرے پاس تقریبا آٹھ سال تک ضلع سوات کی نظامت رہی۔ نظامت کے ساتھ ساتھ میں ان تمام سکولوں کو بھی مانیٹر کرتی رہی۔اس کے بعد نائب ناظمہ صوبہ کی ذمہ داری مجھے دے دی گئی۔اس کے بعد جماعت اسلامی نے ایک آرگنائزیشن بنائی جس کی صدارت کی ذمے داری مجھے دی گئی۔اس کے کام میں اللہ تعالیٰ نے بہت برکت دی،بہت کام ہوا جس پرجنرل مشرف نے مجھے فاطمہ جناح گولڈ میڈل صدارتی ایوارڈ دیتے ہوئے کھلے دل سے تحسین کی کہ میں ایک مخالف پارٹی کے کام کی تعریف کرتا ہوں،اس لیے کہ انہوں نے بڑے شفاف طریقے سے کام کیا ہے۔اس کے بعد صوبائی سطح پر بھی ایوارڈ دیے گئے اور انٹر نیشنل لیول پر بھی آفر کی گئی جس کو میں نے نظر انداز کر دیا۔اس آرگنائزیشن کو چلانے میں میرے ساتھ سوات کی تمام مذہبی اور سیاسی پارٹیوں نے تعاون کیا۔ ٢٠٠٥ ء کے زلزلے میں بھی سب نے ہمارے ساتھ تعاون کیا۔ صوبے کی نائب ناظمہ کی ذمے داری کے بعد مجھے٢٠٠٧ ء میں صوبے کی ناظمہ بنا دیا گیا۔ دوسال بعد پھر انتخابات ہوئے ،تودوبارہ ناظمہ صوبہ کی ذمہ داری دے دی گئی۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی آزمائشیں بھی ساتھ رہیں،اسی دوران میرا ایک جوان بیٹا فوت ہوگیا۔
    ٢٠٠٧ء میں سوات تباہ حالی سے دوچار ہوا،میں اسی زمانے میں اسلام آباد شفٹ ہو ئی۔اسی زمانے میں مجھے صوبے کی نائب قیمہ(اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل) کی ذمہ داری دی گئی۔٢٠١٣ ء میں جماعت اسلامی کے پی کے کی طرف سے ایم این اے منتخب ہوئی۔اللہ تعالیٰ نے مجھے اس میں بھی سرخ رو فرمایا۔٢٠١٣اور٢٠١٤ میں نیشنل اسمبلی میں مختلف محکموں کے متعلق سوالات اٹھانے اور کام کرنے میں میرا نمبر پہلارہا۔ قانون سازی ،کالنگ اٹینشن اور پوائنٹ آف آرڈراٹھانے میں دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہی۔اس کے علاوہ دیگرحلقوں میں بھی الحمدللہ کافی کام ہوا۔اس عرصے میں پہلی مرتبہ خواتین یونیورسٹی منظور کرائی گئی۔چکدرہ سے کالام تک٧٢ کلو میٹر سڑک ایکسپریس وے منظور کرائی۔اس کے ساتھ ساتھ انٹرنیشنل آرگنائزیشنز سے ہزاروں لاکھوں روپے میں عوام کی بنیادی ضروریات کے لیے لیتی اور کام کراتی رہی ہوں۔میں نے اس ضمن میں تمام سٹیک ہولڈرز کو بھی آن بورڈ لیاہے۔اللہ کا شکر ہے ،یہ جماعت کی تربیت ہی کا نتیجہ ہے کہ میرے حلقے کے تمام کام بہت اچھے طریقے سے ہو رہے ہیں،بس اللہ تعالیٰ انہیں قبول فرمالے۔ سوات میں بھی میر ادفتر ہے اور اسلام آبادمیں بھی دفتر ہے،جہاں پر عام افراد رابطہ رکھتے ہیں۔ سب کے ساتھ ٹیلیفون پر بھی رابطہ رہتا ہے۔

    ٭ کیا آپ شروع سے سیاسی مزاج رکھتی ہیں یا بحیثیت ممبر قومی اسمبلی سیاست میں آئیں؟
    ٭٭ لوگوں نے اب سیاست کو کچھ مختلف چیز سمجھ لیا ہے،جب کہ ہمارے لیے سیاست عبادت ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی سیاست کا یہی مطلب و مفہوم سمجھااورلوگوں کوسمجھا یا۔ ہماری سیاست لوگوں کی خدمت کرنا،ان کے مسائل سننا اوران کو حل کرنا ہے۔اس لیے ہمارے لیے سیاست نام ہی اصلاح اور عوامی خدمت کا ہے۔اس حوالے سے دیکھا جائے، تو ہمیشہ سے ہی سیاست میں تھی۔ ہمارے والدین کے گھر میں بھی سب اس کام سے وابستہ تھے، میرے تایا سینیئر منسٹر اوروالیئ سوات کے اہم مشیروں میں سے تھے ،وہ ان پر بڑا اعتماد کرتے تھے۔اگرچہ وہ جماعت سے نہیں تھے،بلکہ اس وقت کی مسلم لیگ میں تھے۔ میرے والدڈاکٹر زین العابدین اور تایا جان جناب تاج الملوک جماعت اسلامی میں تھے اورمولانا مودودیؒ کے بہت قریبی ساتھیوں میں سے تھے۔ جس زمانے میں میرے والد صاحب ایم این اے کی سیٹ پر الیکشن کے لیے کھڑے ہوئے،اس وقت میں ان کی گود میں بیٹھتی تھی۔

    ٭ سوات میں لڑکیوں کے تعلیمی اداروں کو تباہ کیا گیا،اس حوالے سے ملالہ یوسف زئی کا نام بہت معروف ہوا،آپ نے بھی خواتین کی تعلیم کے حوالے سے ٹھوس کام کیا ہے،مگر عالمی ذرائع ابلاغ آپ کا نام نہیں لیتے،کیا آپ سوات میں تعلیمی خدمات کے حوالے سے اپنے کام پر روشی ڈالنا پسند کریں گی؟
    ٭٭ سوات کے تعلیمی اداروں خصوصاً بچیوں کے سکولوں اور کالجوں پر شب خون مارا گیاتھا،اکثر تعلیمی ادارے تباہ وبرباد کر دیے گئے تھے اور جہاں ادارے موجودتھے، وہاں شدید خوف تھا، بچے اور بچیاں تعلیم چھوڑ کر گھروں میں بیٹھ گئے تھے ،الحمد للہ ہم نے تعلیمی اداروں کی بحالی کے ساتھ ساتھ سکول کالجوں میں بچوں اور بچیوں کے داخلوں کو یقینی بنانے کے لیے جدوجہد کی اور اس میں کامیاب ہوئے،ہمارے معاشرے کے بارے میں جہاں طالبات کی تعلیم پر پابندی کا پروپیگنڈا پوری دنیا میں کیا جا رہا تھا، تعلیم پرپابندیوں کی خبریں شائع ہو رہی تھیں،یہ کام آسان نہ تھا،مگر اللہ کی مدد اور توفیق سے ہم نے اس عالمی پروپیگنڈے کو رد کیا، گھر گھر تعلیم کی مہم چلائی، ہر والد کو اپنی بیٹی اور بیٹے کو سکول بھیجنے کے لیے رضامند کیا،اگرچہ لوگ ایسے کام کاکریڈٹ لینے کی مہم پر لاکھوں کروڑوں خرچ کرتے رہے ،مگر ہمیں اس جد وجہد کا کریڈٹ نہ تو اخبارات نے دیا نہ ہی قومی اور بین الاقوامی میڈیا نے اس کے بارے میں خبریں نشر کیں ۔ بلا شبہ جماعت اسلامی کے کارکن مصنوعی کریڈٹ کی خواہش رکھتے بھی نہیں،ہم تو چاہتے ہیں کہ اللہ ہماری حقیر مساعی کو قبول کر لے،مگر عالمی میڈیاجو تباہی اور بربادی کی خبریں شائع کرنے میں پیش پیش تھا،بحالی اور ترقی کو دیکھ کر اس کی خبریں نشر اور شائع نہیں کرتا،تاکہ پاکستان کا حسین چہرہ سامنے نہ آجائے اورہماری جدو جہد سامنے نہ آجائے۔عالمی میڈیاکی دلچسپی اس میں تھی کہ سوات کی مظلوم عورت کا چہرہ نمایاں ہو،وہ عورت جواپنا حق منوانے کی ہمت نہیں رکھتی ،جسے گولی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور وہ بے بس مرغی کی طرح خاموشی سے ذبح ہو جاتی ہے،ہم نے اس کے بجائے ایک بہادر اور جدوجہد کرنے والی، تعلیم عام کرنے والی، سوات کی خوب صورتی کو چار چاند لگانے والی عورت کو نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے ۔عالمی میڈیا نے سوات کی تباہی اوربربادی کا پروپیگنڈہ تو خوب کیا،مگر جب اللہ تعالیٰ نے تعلیم کی بحالی میں ہماری مدد فرمائی، تعلیمی اداروں میں طلبہ وطالبات کے داخلے ممکن ہوئے، تو عالمی ذرائع ابلاغ کو یہ سب کچھ نظر نہ آیا، ہم نے بند تعلیمی اداروں کو فعال کرانے اورداخلہ مہم کے ذریعے اورخواتین کے لیے ووکیشنل ٹرینگ سینٹرز قائم کرنے کی جو کوششیں کی انہیں وہ دکھائی نہ دیں۔الحمد للہ ہم اپنا کام کرتے رہے اورکبھی کریڈٹ لینے کی خواہش نہیں کی،ہم نے خواتین کو فنی تربیت دلانے کے لیے اقدامات کیے ،جس کا مقصد خواتین کو بااختیار بنانا ہے، تاکہ وہ حالات کی ستم ظریفی کی شکایت کرنے کے بجائے اپناروزگار چلا سکیں اوردوسروں کی محتاج نہ ہوں۔ بچپن سے میرا یہی ہنر رہا ہے،ماں باپ سے یہی سیکھا ہے اور اسی کو اپنا مشن بنا یا ہے کہ انسانیت کے کام آؤں ۔ میں ان تمام کاموں کو اپنے کمال کے بجائے اللہ کا احسان سمجھتی ہوں،بلکہ میرے دل میں تو ہمیشہ یہ خوف رہتا ہےکہ میں اپنی ذمے داری صحیح طور پر ادا نہیں کر پا رہی ہوں۔

    ٭ معلوم ہوا ہے آپ نے سوات میں تباہ حال انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے سعودی حکومت سے تین ارب منظور کرائے ، دیگر این جی اوز سے تعاون حاصل کیا، آپ کا کام تمام ممبران قومی اور صوبائی اسمبلیوں ، وزراء اور بیورو کریٹس کے لیے ایک مثال ہے۔ کیا حکومت آپ کے کام میں تعاون کرتی ہے،مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف کی حکومتوں کا رویہ کیسا ہے کیا سرکاری سطح پر سوات میں تعلیم کے فروغ کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں،خواتین کو سہولیات دینے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں ؟
    ٭٭ میں پوائنٹ سکورنگ کو مناسب نہیں سمجھتی ،سوات وہ سرزمین ہے جہاں ہر طرح کاجوہرِ قابل موجود ہے ،یہاں کی خواتین نے بھی اپنے کردار، محنت اور عزم صمیم سے یہ ثابت کیاہے کہ وہ کمزور نہیں اور وہ اپنی طاقت کو مثبت سرگرمیوں کے فروغ اور اپنے مقصد کے حصول کے لیے صرف کرنا شروع کردیں تو راستے میں لاکھ روڑے اٹکائے جائیں، آندھیاں چلیں یا طوفان آئیں وہ اپنی منزل کو پالیتی ہیں۔ بس ان کو منزل کے حصول کا طریقہ آنا چاہیے، کامیابی خود ہی قدم بوسی کو حاضر ہو جاتی ہے۔ ہمارا خطہ قربانیوں کی سنہری تاریخ رکھتا ہے۔مالاکنڈڈویژن کے پندرہ ہزار جوانوں نے جان کی قربانی دے کرپاکستان کوبچایا۔تاہم حکومتوں نے ان قربانیوں کی قدر نہیں کی۔وزیراعظم جب بھی نے سوات کے دورے پر آتے ہیں پہلے کے اعلانات اورماضی کے وعدوں اور اقدامات کو دہرا دیتے ہیں ،مثلاً لنڈاتاخوازہ خیلہ روڈ کاافتتاح گزشتہ چند برسوں میں تین بار ہوچکاہے، کڈنی ہسپتال چھ سال قبل منظورہوچکی تھی ،اس بار اسے پھرمنظوری دی گئی ہے۔اسی طرح بحرین تاکالام روڈ کی منظوری بھی دوسال قبل ورلڈبنک سے ہوچکی ہے۔اب پھر افتتاح کیا گیا ہے۔ نواز شریف نے تین سال قبل چکدرہ سے کالام تک ایکسپریس وے کا اعلان کیا تھا ، تاحال وہ نہیں بن سکا، سوات میں ہمارے مطالبے پرخواتین کے لیے یونی ورسٹی کا اعلان کیا گیا تھا،اب اس کے بجائے کیمپس کا اعلان کردیاگیاہے جوقومی اسمبلی میں قرادرد کی توہین ہے۔ بعض منصوبے جوپہلے ہی سے منظور ہوچکے ہیں،ان پر افتتاح کی نئی تختیاں نصب کی جا رہی ہیں جو اہل سوا ت کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے ،افسوس کی بات یہ ہے کہ نواز شریف نے اپنے ذاتی فنڈ سے سوا ت اور ملاکنڈڈویژن کے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔

    ٭ خواتین کا اصل میدان گھر ہوتا ہے،بحیثیت ممبر قومی اسمبلی آپ کی مصروفیات گھر اور خاندان کوکس حدتک متاثرکرتی ہیں؟
    ٭٭ اس وقت دنیا کو اچھے انسانوں کی بڑی ضرورت ہے اور یہ اچھے انسان مائیں گھر میں بیٹھ کر تیار کر سکتی ہیں،لیکن اس کے ساتھ میں یہ سمجھتی ہوں کہ جدید ٹیکنالوجی نے ماں کی زندگی آسان کر دی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کے ساتھ بھی بڑے مسائل اور مشکلات ہیں لیکن انسان کا بہت سارا وقت بچتاہے۔یہ اللہ کا احسان ہے کہ اس طریقے سے جو وقت بچتا ہے اس میں ہمیں اللہ نے اپنے دین کے لیے چن لیا۔ پہلے لوگ کپڑے ہاتھ سے دھویا کرتے تھے اب واشنگ مشین نے اس کام کو آسان کر دیا۔ طویل سفروں میں بہت سارا وقت لگتا تھا اب تیز رفتار سواریوں نے دنوں کے سفر کو گھنٹوں میں بدل دیاہے۔اس دور میں فتنے جتنی تیزی سے پھیل رہے ہیں،اس کا تقاضا ہے کہ شیطان اور اس کے فتنوں کے مقابلے میں دین کا کام بھی اتنی ہی زیادہ قوت اور شدت سے کیا جائے،تاکہ شیطانی فتنوں کا موثرتوڑ ہو سکے۔اگرکفر اور باطل کی قوتیں میدان میں ہیں ،تواہل اسلام کے پاس ان کے مقابلے میں نہ نکلنے کا کیا عذر ہو سکتاہے؟ حق کوباطل کے ساتھ ہر حال میں برسر پیکار ہو نا چاہیے۔یہ اللہ کا بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے اپنے دین کے لیے اور حق کا ساتھ دینے کے لیے ہمیں پسند کیا ہے۔ میرے گھر پر نہ ہونے سے بچے متاثر تو ہوتے ہیں لیکن ماں کی سوچ ،ماں کا نظریہ بچے کی زندگی پر بہت اثر انداز ہو تا ہے۔جو مائیں دین کا کام نہیں کرتیں اور پورا وقت گھر کی عورت بنی رہتی ہیں،وہ اپنا فالتو وقت خاندان کی غیبتوں میں اورگلے شکووں میں یاسو کرگزار دیتی ہیں۔ میں تو اس کو اللہ کا اپنے اوپر بہت زیادہ احسان سمجھتی ہوں کہ اس نے مجھے بے کاری کے مشغلے سے بچا لیااور اپنے بندوں کی خدمت کا کام لیا۔ وہ مائیں جن کا مشن قرآن ہو اور مقصد اللہ کا نور پھیلانا ہو، تو اس کے بچوں پر اللہ تعالیٰ کے بہت احسانات ہوتے ہیں۔لیکن جو ماں باپ اپنے آپ کودنیا میں اتنا الجھا لیتے ہیں کہ اللہ سے دور ہو جاتے ہیں تو ان کی اپنی اور بچوں کی پوری زندگی متاثر ہو تی ہے۔اگر اللہ کے ساتھ جڑے رہیں ،کسی قسم کی دنیاوی غرض کے بغیر اللہ کے دین کے کام کو عبادت سمجھ کر کرتے رہیں،تو ہی اللہ کی مددملتی ہے۔اللہ تعالیٰ بچوں کی غیب سے مدد کرتے ہیں اور ان کو ہر حوالے سے بگڑنے سے بچاتے ہیں۔مجھے جب لاہور رپورٹ سیشن کے لیے جانا ہوتا تھا ،اس وقت میرے بچے چھوٹے تھے۔میں جب دیکھتی تھی کہ میرے گھر میں نوکروں کے سوا کوئی نہیں ہے، تو میں اللہ سے کہتی تھی،اے اللہ میرے بچے تیرے حوالے ہیں۔اللہ کا احسان ہے کہ میرے بچے اچھے ہیں ،اچھا پڑھتے ہیں اورنیک ہیں۔کبھی کمزوری بھی آجاتی ہے ،کچھ ایسے ہیں جو خود پڑھتے ہیں،نماز کا بھی خود ہی خیال رکھتے ہیں، کچھ ایسے بھی ہیں جن کو مجھے خود کہہ کر نماز اور سکول کا کام کرانا پڑتا ہے۔یہ یعنی وہ میرے ہی جیسے ہیں۔میرے والدین کو بھی مجھے نماز کے لیے بہت کہنا پڑتا تھا۔

    ٭ ماضی قریب میں سوات بری طرح تباہ ہوا، دہشت گردی کی وجہ سے لڑ کیوں کے لاتعداد سکول تباہ ہوئے یا بند کر دیے گئے تھے،ان کی بحالی میں آپ کا بنیادی کردار بتایا جاتا ہے۔سوات میں تعلیم اور تعلیمی اداروں کی اب کیا حالت ہے، کیا تمام تباہ شدہ تعلیمی اداروں کو فعال کر دیاگیاہے؟ آپ کو اس کام میں دوسروں سے کتنا تعاون ملا؟
    ٭٭ اکثرجگہوں میں تن تنہاکام شروع کیاتھا،لیکن پھر دوسرے لوگ آتے رہے اور کاررواں بنتا گیا۔جماعت اسلامی کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کے نمائندوں ، مقامی قبائل کے سربراہان، نوجوانوں کے وفود اور خواتین کے ذریعے ان تعلیم اداروں کو بحال کرنے میں بہت مدد ملی۔ صوبہ خیبر پختونخواہ میں سوات نے ملینیئم ڈویلپمنٹ گول کے مطلوبہ اہداف مکمل کیے،جان کے خوف سے بچیاں سکولوں کا رخ نہیں کرتی تھیں،الحمد للہ،وہی سوات جہاں درس گاہیں بند ہو گئی تھیں اور تعلیم کا کام مفلوج ہو چکا تھا، طلبہ و طالبات کی انرولمنٹ کی شرح سب سے زیادہ سوات میں ریکارڈ کی گئی ہے جواللہ کی توفیق اور ہماری جد وجہد کا ثمر ہے۔ سوات کے تعلیمی ادارے نئے رنگ و روپ سے بحال ہو گئے ہیں،مثلاً نوے فی صد تعلیمی اداروں میں بیت الخلاء کی سہولت موجود نہیں تھی ،ہم نے اس پر بھی خصوصی کام کیااورمختلف این جی اوز اور صوبائی حکومت کے ذریعے یہ سہولت مہیا کرائی گئی ہے۔طلبہ و طالبات کے لیے بھرپور تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کے لیے نہ صرف سوات، بلکہ صوبے کے دیگر پس ماندہ اضلاع بونیر اور دیر میں بھی سو فی صد داخلے کی مہم چلائی، بونیر میں ای ڈی او ایجوکیشن ، ڈپٹی کمشنر اور لوکل باڈی کے منتخب عوامی نمائندوں سے مل کر طلبہ و طالبات کے بند سکول کھلوائے۔

    ٭ جماعت اسلامی کی قومی اسمبلی میں تعداد بہت محدود ہے۔اتنے کم ارکان کس حد تک مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں؟
    ٭٭ بہت سی چیزیں ایسی ہیں جہاں ہم اپنی تعداد کی کمی کی وجہ سے کچھ نہیں کر پاتے،مثلا جیسے بجٹ کے معاملے میں ہم کچھ نہیں کر سکتے، کیونکہ ہماری تعداد محدود ہے،لیکن میں سمجھتی ہوں کہ جماعت اسلامی پاکستان کے لیے ایک بہت بڑی رحمت ہے۔بہت ساری چیزیں ہم پارلیمنٹ کے اندراور کچھ پارلیمنٹ کے باہر وزیر اعظم کے ساتھ بیٹھ کر،کابینہ کے ساتھ بیٹھ کر ان کو قائل کر کے اوران کے ضمیر کو جگانے کی کوشش کرکے کر لیتے ہیں۔مثلا جیسے بنگلا دیش کی قرار داد پر کچھ پارٹیاں راضی نہیں تھیں۔طارق اللہ صاحب جو ہمارے پارلیمانی لیڈر ہیں، وہ جا رہے تھے، انہوں نے میری ڈیوٹی لگائی کہ میں جا کربات کروں ۔ میں چودھری نثار کے پاس گئی،سپیکر کے پاس گئی،دوسرے پارٹی ممبران کے پاس گئی، ان سب کو قائل کیا۔اسی طرح کئی اور مسائل ہوتے ہیں جن کو ہم اپنی تعداد کے لحاظ سے تو نہیں منوا سکتے،لیکن بات چیت کے ذریعے جہاں تک ممکن ہو سکتا ہے اسے منوانے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔جیسے پی ٹی آئی کا دھرنا تھا اس میں امیر جماعت اسلامی جناب سراج الحق صاحب کا بہت بڑا کردار رہا ۔ہم سب بھی ان کے معاون تھے۔اس وقت بھی کہ جب دھمکی ملی تھی کہ ہم کسی ایم این اے کو مار دیں گے ،اتنا خوف تھا اس وقت گھر سے نکلتے ہوئے،لیکن جب امیر جماعت نے پارلیمنٹ ہاؤس میں بلایا اورگھر سے اجازت نہیں ملی۔اس پر میں نے اپنے میاں کوبہت مشکل سے یہ کہہ کر قائل کیا کہ مجھے آپ اللہ کے دین کی مجاہدہ سمجھیں اور موت کا خوف نہ دلائیں،موت تو جس وقت جہاں آنی ہوگی وہاں آ کے رہے گی۔تب بڑی مشکل سے میرے گھر والوں نے آنسوؤں کے ساتھ مجھے رخصت کیا۔ ہم لوگ جب وہاں پہنچے تو پارلیمنٹ کو گھیرے میں لے لیا گیا۔ گھر میں بچے اور میاں سب بہت روئے۔ حکومت نے ہمیں پارلیمنٹ کی پچھلی طرف سے نکال لیا۔بر حال یہ بھی اللہ کا احسان تھا کہ اس خوف میں بھی اللہ تعالیٰ نے ہم سے اپنے امیر کی اطاعت کروائی۔ حکومت کے ساتھ ہمارے بہت سے مسائل رہتے ہیں جن کو ہم سخت جدوجہد سے سلجھاتے ہیں۔اگرچہ بہت سارے معاملات میں ہمیں حکومت مات بھی دے دیتی ہے ،مگرہم کوشش کرتے ہیں کہ افہام و تفہیم سے معاملات کو سلجھا لیں اور اس طریقے سے اپنی کم نمائندگی کا بھرم رکھتے ہوئے اچھی پر فارمنس دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ معاملات میں حکومت ہمارا لحاظ بھی رکھتی ہے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس