Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

مولاناسید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ کا تاریخی کارنامہ !جماعت اسلامی کا قیام

  1.   مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ 1903ءمیںپیدا ہوئے اور 22ستمبر 1979ءمیں وفات تک تاریخ ساز کام کرکے چھوڑگئے ہیں ۔ان کے اعلیٰ وارفع کارناموں میں سب سے اہم تر مسلمان معاشرے کے اندرپاکیزہ اصلاح ودعوت اور دین حق کے قیام یعنی معاشرتی عدل وانصاف کے پاکیزہ نظام کی ازسرنوتشکیل کیلئے اجتماعی جدوجہد وسیاست کی غرض سے اسلامی پارٹی” جماعت اسلامی“کی تشکیل وقیام ہے ۔
    مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ مرحو م ومغفور نے زمانہ طالب علمی اورعلمی مرکز دیوبند میں کام کرنے کے بعد 1925 ءمیں مشہورزمانہ کتاب ”الجہاد فی الاسلام “تصنیف کی اور1933ءمیں رسالہ ”ترجمان القرآن “جاری فرمایا۔ ترجمان القرآن میں مولانا مرحوم ومغفور نے اسلامی پارٹی کے قیام کیلئے یکم شعبان ۰۴۳۱ء(۵۲اگست ۱۴۹۱)اجتماع کی تاریخ مقررکی ۔75افراد جمع ہوگیے اور ۲شعبان کی صبح مولانا مرحوم ومغفور نے دفتر ترجمان القرآن کے کمرے میں پہلا خطاب فرماتے ہوئے کہا کہ ”ایک وقت تھا کہ عام مسلمانوں کی طرح میں خود روائیتی اور نسلی مذہبیت کا قائل اور اس پر عمل پیراتھا جب ہوش آیاتومحسوس ہوا کہ اس طرح محض ماالفینا علینا اباوناکی پیروی ایک بے معنی چیزہے آخرکارمیں نے کتاب اللہ اورسنت رسول ﷺ کی طرف توجہ کی اسلام کو سمجھا اور اس پر ایمان لانا اورپھر آہستہ آہستہ اسلام کے مجموعی اور تفصیلی نظام کو سمجھنے کی اور معلوم کرنے کی کوشش کی ۔جب اللہ تعالیٰ نے قلب کو اس طرف سے پوری طرح مطمئن کر دیا تو جس حق پر خود ایمان لایا تھا اس کی طر ف دوسروںکو دعوت دینے کا سلسلہ شروع کیا اور اس مقصد کیلئے ۲۵۳۱ھ رسالہ ”ترجمان القرآن “جاری کیا ابتدائی چندسال الجھنوں کو صاف کرنے اور
    دین اسلام کا ایک واضع تصور پیش کرنے میں صرف ہوئے اس کے بعد دین کو ایک تحریک کی شکل میں جاری کرنے کیلئے پیش قدمی شروع کی ۔
    دین کو تحریک کی شکل میں جاری کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہماری زندگی میں دین داری محض ایک انفرادی رویہ کی صورت میں جامد وساکن ہوکر نہ رہ جائے بلکہ ہم اجتماعی صورت میں نظام دینی کو عملاًنافذ قائم کرنے اور مانعم ومزاحم قوتوں کو اس راستہ سے ہٹانے کیلئے جدوجہد بھی کریں ۔
    جماعت اسلامی اوردوسری جماعتوں کا اصولی فرق
    اس تاریخی تبصرے کے بعد مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ نے خطاب میں کہا کہ ملک میں عموماًجو تحریکیں اُٹھتی رہی ہیں اور جواب چل رہی ہیں پہلے ان کے اوراس تحریک کے اصولی فرق کو ذہن نشین کرلینا چاہیے ۔
    1۔ اولاً: ان میں یاتواسلا م کے جزکو یا دنیوی مقاصدمیں سے کسی کو لیکربنائے تحریک بنایاگیا لیکن ہم عین اسلام اور اصل اسلام کو
    لیکر اُٹھ رہے ہیں اور پوراکا پورااسلام ہی ہماری تحریک ہے ۔
    2۔ ثانیاً:ان میں سے ہرقسم کے آدمی اس مفروضہ پربھرتی کرلیے گئے کہ جب یہ مسلمان قوم میں پید اہوئے ہیں تو مسلمان ہی ہوں گے اور اس کانتیجہ یہ ہوا کہ ارکان سے لیکر کارکنان اور لیڈروں تک بکثرت ایسے آدمی ان جماعتی نظام میں گھس گئے جو اپنی سیرت کے اعتبارسے ناقابل اعتماد تھے اور اورکسی بارامانت کو سنبھالنے کے لائق نہ تھے لیکن ہم کسی شخص کو اس مفروضے پر نہیں لیتے کہ وہ ”مسلمان “ہوگا بلکہ جب وہ کلمہ طیبہ کے معنی ،مفہوم اورمقتضیات (مطالبات وتقاضوں)کوجان کر اس پر ایمان لانے کااقرارکرتاہے تب اسے جماعت میں لیتے ہیں اورجماعت میںآنے کے بعد اس کے جماعت میں رہنے کیلئے اس بات کو شرط لازم قراردیتے ہیں اس میں جو کم ازکم مقتضیات (تقاضے)ایمان ہیں انہیں پوراکرے اس طرح انشاءاللہ مسلمان قوم میں سے صرف صالح عناصرچھوٹ کر جماعت میں آئیگا اور جوجو صالح بنتا جائے گا وہ جماعت میں داخل ہوتا جائیگا۔
    3۔ ثالثاً:ان تحر یکوں (پارٹیوں) کی نظر ہندوستا ن (یادرہے 1941ءکی بات ہے تقسیم برصغیر سے پہلے متحدہ ہندوستان تھا) تک اورہندوستان میں بھی صرف مسلم قوم تک محدودرہی ۔کسی نے وسعت اختیار کی تو زیادہ سے زیادہ انہی کہ دنیا کے مسلمانوں تک نظرپھیلادی مگر بحرحال یہ تحریکیں صرف ا ن لوگوں تک محدود رہی جو ”مسلم قوم “میں شامل ہیں اور ان کی دلچسپیاں بھی انہی مسائل تک محدود ہیں جن کا تعلق مسلمانوں سے ہے ان کے کارناموں میں میں کوئی چیز اچھی شامل نہیں رہی ہے جو غیر مسلموں کواپیل کرنے والی ہو بلکہ الفصل ان میںسے اکثر کی سرگرمیاں غیر مسلموں کے اسلام کی طرف آنے میں اکٹھی مدراہ بن گئی ہیں ہمارے لیے چوں کہ خوداسلام ہی تحریک ہیں اور اسلام کی دعوت تودنیا کے انسانوں کیلئے ہے لہٰذاہماری نظر کسی خاص قوم یا کسی خاص ملک کے وقتی مسائل میں سے الجھی ہوئی نہیں ہے بلکہ پوری نوع انسانی اور سارے کرہ زمین پر وسیع ہے تمام انسانوں کے مسائل زندگی ہمارے مسائل زندگی ہیں اور اللہ کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی سنت سے ہم ان مسائل زندگی کا وہ حل پیش کرتے ہیں جن میں سب کی فلاح اور سب کیلئے سعادت ہے اسی طرح ہماری جماعت میں نہ صرف پیدائشی مسلمانوں کا صالح عنصر کھینچ کر آئیگا بلکہ نسل غیر مسلموں میں بھی جو سعید روحیں موجودہیں وہ انشاءاللہ اس میں شامل ہوتی چلی جائیں گے ۔
    جماعت اسلامی کاقیام اور نام
    اس پس منظر کے ساتھ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ نے فرمایا کہ یہی خصوصیات ہیں جن کی بناءپر ہم اس جماعت کو’اسلامی جماعت ‘اور اس تحریک کو ’اسلامی تحریک‘ کہتے ہیں کیوں کہ جب اس کا عقیدہ ،نصب العین ‘جماعت اورطریق کار بلاکسی کمی وبیشی کے وہی
    ہے جو اسلام کا ہمیشہ رہاہے تو اس کیلئے اسلامی جماعت کے سواکوئی دوسرا نام نہیں ہوسکتااورجس پر عین اسلام کی نصب العین کی طرح اسلامی طریق کار کے مطابق حرکت کرتی ہے تو اس کی تحریک اسلامی تحریک کے سواکچھ نہیں ہے مگر زمانہ نبوت کے بعد جب کبھی اچھی کوئی تحریک دنیا میں اُٹھتی ہے اسے دو زبردست اندرونی خطرے پیش آئے ہیں۔
    دو غلطیاں ،جن سے پارٹیوں کو لازماًبچنا چاہیے:
    ایک یہ کہ ایسی جماعت بننے اور ایسی تحریک لے کر اُٹھنے کے بعد بہت جلد ی لوگ اس غلط فہمی میں پڑ گیے ہیں کہ ان کی جماعت کی حیثیت وہی ہے جو انبیاءعلیہم السلام کے زمانے میں اسلامی جماعت کی تھی بالفاظ دیگر یہ کہ جو اس جماعت میں نہیں ہے اور ”من
    شذشذ فی النار “یہ چیز بہت جلد اس جماعت کو مسلمانوں کاایک فرقہ بناکر رکھ دیتی ہے اور پھر اس کا ساراوقت اصل کام کے بجائے
    دوسرے مسلمانوں کے الجھنے اورمناظرے کرنے میں کھپ جاتاہے۔
    دوسری یہ کہ ایسی جماعتیں جسے اپنا امیر یا امام تسلیم کرناہیں اس کے متعلق انہیں یہ غلط فہمی ہوجاتی ہے کہ اس کی وہی حیثیت ہے جو نبی ﷺ کے بعد خلفائے راشدین کی تھی یعنی جس کے گردن میں امام کی بیعت کا قلاوہ نہیں وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے اور اس غلط فہمی کا نتیجہ یہی ہوتاہے کہ آخر کار ان کی ساری تگ ودوبس اپنے امیریاامام امارت وامامت منوانے پر مرکوز ہو جاتی ہے ۔
    مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ مرحوم ومغفورنے جماعت اسلامی کے قیام کے پہلے دن یعنی 26اگست 1941ءمیں خبردارکرتے ہوئے فرمایاتھا کہ ”ہمیں ان دونوں خطرات سے بچ کر چلنا ہے خوب سوچھ سمجھ لیجیے کے ہماری حیثیت بعینہ اس جماعت کی سی نہیں ہے جو ابتداً نبی کی قیادت میں بنتی ہے بلکہ ہماری صحیح حیثیت اس جماعت کی ہے جو اصل نظام جماعت کے درہم برہم ہوجانے کے بعداسے تازہ کرنے کی کوشش کرتی ہے نبی کی قیادت میں جو جماعت بنتی ہے وہ تمام دنیا میں ایک اسلامی جماعت ہوتی ہے اور اس کے دائرے سے باہر صرف کفر ہی ہوتاہے مگر بعدمیں اس نظام اور کام کو تازہ کرنے کیلئے جو لوگ اُٹھیں ضروری نہیں کہ ان کی بھی ایک ہی جماعت ہو ۔ایسی جماعتیں بیک وقت بہت سی ہوسکتیں ہیں اور ان میں کسی کو بھی یہ کہنے کا حق نہیں ہے کہ بس ہم ہی اسلامی جماعت ہیں اورہماراامیر ہی امیر المومنین ہے اس معاملے میں تمام ان لوگوں کو جوجماعت میں شامل ہو غلو(مبالغہ) سے سخت پرہیز کرنا چاہیے بہر حال ہمیں کو مسلمانوں میں ایک ”فرقہ“نہیں بننا ہے اللہ ہمیں اس سے بچائے کہ ہم اس کے دین کیلئے کچھ کام کرنے کے بجائے مزیدخرابیاں پیداکرنے کے موجب (باعث)بن جائیں ۔
    جماعت اسلامی کا دائرہ عمل :۔
    مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ مرحوم ومغفور نے اجتماعی کام کی وسعت اور گراں باری کا تجزیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جماعت اسلامی کے لیے دنیا میں کرنے کے جو کام ہیں اس کاکوئی محدود تصوراپنے ذہن میں قائم نہ کیجیے دراصل اس کیلئے کام کاکوئی ایک ہی میدان نہیں ہے بلکہ پوری انسانی زندگی میں اپنی تمام وسعتوں کے ساتھ ان کے دائرہ عمل میں آتی ہے اسلام تمام انسانوں کیلئے ہے اورہر چیز جس کا انسان سے کوئی تعلق ہے اس کا اسلام سے بھی تعلق ہے لہٰذاسلامی تحریک ایک ہمہ گیر نوعیت کی پارٹی ہے اوریہ خیال کرناغلط ہے کہ اس تحریک (پارٹی ) میں کام کرنے کیلئے صرف خاص قابلیتوں اور صرف خاص علمی معیار کے آدمیوں ہی کی ضرورت ہے نہیں یہاں ہر انسان کیلئے کام موجودہے کوئی انسان بے کار نہیں ہے جوشخص جو قابلیت بھی رکھتاہواس کے لحاظ سے وہ اسلام کی خدمت میں اپنا حصہ ادا کرسکتاہے عورت مرد،بوڑھا جوان ،دیہاتی ،شہری ،کسان ،مزدور،تاجر ،ملازم ،محررادیب ان پڑھ اورفاضل اجل سب یکساں کار آمد
    اوریکساں مفیدہوسکتے ہیں بشرطیکہ وہ جان بوجھ کر اسلام کے عقیدے کو اختیارکرے اس کے مطابق عمل کرنے کا فیصلہ کرلیں اوراس مقصدجس اسلام نے مسلمان کا نصب العین قراردیا ہے اپنی پوری زندگی مقصدبناکر کام کرنے پر تیارہوجائیں البتہ یہ بات ہر اس شخص کو جو جماعت اسلامی میں آئے اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ جو کام اس جماعت کے پیش نظر ہے وہ ہلکا اور آسان کام نہیں ہے اسے دنیا سے پورے نظام زندگی کوبدلنا ہے اسے دنیا کے اخلاق ،سیاست،تمدن ،معیشت
    ،معاشرت ہرچیزکو بدل ڈالنا ہے دنیا میں جو نظام حیات اللہ سے بغاوت پر قائم ہے اسے بدل کر اللہ کی اطاعت پرقائم کرنا ہے اور اس کام میں تمام شیطانی طاقتوں سے اس کی جنگ ہے اسے اگرہلکا کام سمجھ کر آئے گاتوبہت جلدی مشکلات کے پہاڑاپنے سامنے دیکھ کراس کی
    ہمت ٹوٹ جائیگی اس لیے ہرشخص کو قدم آگے بڑھانے سے پہلے خوب سمجھ لینا چاہیے کہ کس خارزارمیں قدم ر کھ رہا ہے یہ وہ راستہ نہیں ہے
    جس میں آگے بڑھنا اور پیچھے ہٹ جانا دونوں یکساں ہوں ۔نہیں یہاں پیچھے ہٹنے کے معنی ارتدادکے ہیں اس کایہ مطلب نہیں کہ اس جماعت سے نکلنا ارتدادکے ہم معنی ہے بلکہ اصل مطلب یہ ہے کہ اللہ کے راستے میں پیش قدمی کرنے کے بعدمشکلات ،مصائب
    ،نقصانات اور خطرات کو سامنے دیکھ کر پیچھے ہٹ جانااپنی روح اوراپنی حقیقت کے اعتبارسے ارتدادہے (سورة انفال آیت
    نمبر16)ترجمہ ۔جس نے ایسے موقعہ پر پیٹھ پھیری، الا یہ کہ جنگی چال کے طورپرایساکریںیا کسی دوسری فوج سے جاملنے کیلئے تووہ اللہ کے غضب میں گِھرجائیگااس کا ٹھکانہ جہنم ہوگااوروہ بہت بُرا ٹھکانہ ہے۔
    یہ وہ پس منظرومقاصدہیں جن کیلئے مولانا مرحوم نے جماعت اسلامی قائم کی تھی ۔
    الحمداللہ! ان بنیادی مقاصدوروح کیلئے آج بھی توانا وتازہ دم ہیں سیاسی کارکنان معاشرے کا ہرفرداورپڑھا لکھاطبقہ سمجھتے ہیں کہ جماعت اسلامی نے سترسالوں میں اصولوں کی سیاست کی ہیں ۔جماعت اسلامی آج طبقہ مسلک ،فرقہ بندی ،تعصبات وشخصیات سے بالاتر ہوکر اچھے پاک دامن ،درمیانہ کلاس کے اصول پسند ہزاروں نہیں لاکھوں انسانوں کی جمہوری وآئینی پارٹی ہیں آج میڈیا آزاداوراوپن ہونے کے باعث روزمرہ ہفتہ وار بنیادوں پر قائدین وپارٹیوں کے داستانیںوقصے نشروشائع ہوتے ہیں کرپشن اقرباءپروری ،میرٹ کی پامالی،اوراصولوں کامزاق اُڑانالیڈروں وپارٹیوں کا معمول بن چکا ہے اس المناک منظر میں جماعت اسلامی مشاورت پر مشتمل جمہوری وآئینی فیصلے کرتے ہیں قیادت سے لیکر کارکنان تک شریعت قانون کی پاسداری کی کوشش ہوتی ہیںعوا م سے وفاو محبت اورخدمت ِانسانیت ترجیح اول ہے۔
    بلاشبہ آج 20کروڑ عوام کی دکھوں وزخموںکا سہاراجمہوری ودیانت دار قیادت وکارکنان کے ذریعے ممکن ہے ۔مصر میں محمد مرسی ،ترکی میں رجب طیب اردگان ز ندہ مثالیں ہیں ۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس