Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

عالمی دہشت گردی اور پاکستان

  1. دہشت گردی اور تخریب کاری نے پوری دنیا میں ،خاص طور پر عالم ِاسلام میںاستحکام،ترقی اور امن کی راہ میں بے شمار رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں۔مذہب کے نام پر اور علاقوں کی بنیاد پر تقسیم درتقسیم نے انسانیت کو غیر محفوظ بنادیا ہے۔اس عدم تحفظ کے روزبروز گہرے ہوتے ہوئے ا حساس نے پوری امتِ مسلمہ کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔عالمی استعمار ایک منظم منصوبے کے تحت فلسطین،عراق، مصر،شام ، یمن،افغانستان ،بنگلہ دیش، مقبوضہ کشمیراور اراکان برما سمیت اہم مسلم ممالک کو تباہ وبرباد کر رہا ہے۔پاکستان،ترکی، ایران اور سعودی عرب،اس کا اگلا ہدف ہیں۔عالمی قوتیںان ممالک کے باہمی تعلقات میں کشیدگی پیدا کرکے ،اپنی سازشوں کی راہ ہموار کر رہی ہیںتاکہ ان کے مابین فساد برپا کیا جا سکے۔
    اکثرمسلم ممالک میں خون ریزی ابھی جاری ہے۔ادھرمدینہ منورہ میںمسجدِ نبوی کے قریب دہشت گردی کا رونما ہونے والا سانحہ،اہلِ ایمان کے لئے شدید صدمے کا باعث ثابت ہوا ہے۔اس دکھ سے جسم اور روح دونوں لرز ہ براندام ہیں۔دہشت گردی کے ایسے واقعات انتہائی مذمت کے قابل ہیں۔عالمِ اسلام پر مسلط کردہ یہ دہشت گردی،عسکری جارحیت اور تہذیبی یلغار ،صہیونیت، برہمنیت، مغربیت اور امریکی سامراجیت کی مشترکہ سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ ہے۔
    مسجدِ نبوی پر حملہ کی ناکام کوشش سے پوری امتِ مسلمہ لرز اٹھی ہے۔عالمی استعمار اسقدر جری ہوگیا ہے کہ اس نے مسلمانوں کے مقدس مقامات کو بھی نشانے پر رکھ لیا ہے۔یہ مذموم حرکت پوری دنیا خصوصاً اہلِ ایمان کے لئے ایک تازیانہ ہے کہ ہماری نفسانفسی،دین سے غفلت، آپس کی لاتعلقی اور باہمی فروعی معاملات میں اختلافات کے نتیجے میں باہم دست وگریباں ہونے سے ،امن اور اسلام کے دشمن ، ہمارے حساس دینی مقامات تک رسائی پا رہے ہیں۔
    پاکستان خود طویل مدت سے بیرونی مداخلت اورخطہ میں باربار استعماری قوتوں کی بالادستی کے لئے چیرہ دستی اور مداخلت کا شکار ہے۔افغانستان میں روسی فوجی مداخلت اور نائن الیون کے بعد امریکہ اور نیٹو فوجی مداخلت کی وجہ سے پاکستان کی داخلی اور خارجی سلامتی کے امور مسلسل خطرات سے دوچار ہیں۔دہشت گردی کی وجہ سے70 ہزارفوجی اور عام شہری ہلاکتوں کا شکار ہوگئے ۔نائن الیون کی آڑ میں پاکستان کے اندر امریکہ نے اپنی مداخلت اور اثرورسوخ کو بڑھایا۔پاکستان میں نظریاتی محاذ پر انتشارپیداکرنے کے لئے نظریاتی،مالی اور اخلاقی دہشت گردی مسلط کردی گئی ۔پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمہ اور سہولت کاری کی بیخ کنی کے لئے ضربِ عضب اور قومی ایکشن پلان پر دینی،سیاسی،سماجی اور عسکری قیادت نے اتفاق کیا ہے اوراس سے حالات میں بہتری آئی ہے۔لیکن پاکستان میںدشمن قوتوں کی چیرہ دستیاں جاری ہیں۔اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لئے ازسرِ نو قومی ترجیحات کا تعین اوران پرقومی اتفاقِ رائے ناگزیر ہے۔
    افغانستان طویل عرصہ سے،دنیا کی تین سپر طاقتوں کے ظلم،مداخلت اور انسانیت سوز اقدامات کا شکار ہے۔افغانستان میں حالات اپنے کنٹرول میں لانے کے لئے برطانیہ نے طویل مدت تک ہر حربہ استعمال کیاتاہم ناکام رہا۔سابق یو ایس ایس آر(موجودہ روس) توسیع پسندی اور گرم پانیوں تک پہنچنے کے لئے، اپنے اشتراکی نظریات پر مبنی عالمی ایجنڈ ے کے ساتھ،اپنی فوجی طاقت کے بل بوتے پر افغانستان میں دخیل ہوا۔لیکن افغانیوں اور دنیابھر کے مسلمانوں کی متحدہ مزاحمت اور جہاد کے سامنے ڈھیر ہوگیا۔بدقسمتی سے اس کامیابی کے بعد افغان راہنما اور عالمِ اسلام کی قیادت حالات کو کنٹرول کرنے میںناکام رہی اور اس طرح عالمی،امریکی اور یورپین سازشوں کو افغانستان میں مداخلت کرکے ، اپنے خود ساختہ ایجنڈے پر عمل کے لئے کھلی مشترکہ فوجی کاروائی کا موقع مل گیا۔جس کی وجہ سے یہ پورا خطہ بدامنی اوردہشت گردی سے پیدا ہونے والے عدم استحکام کا شکار ہو گیاہے۔اب یہ راز عیاں ہو رہے ہیں کہ دہشت گردتنظیموں کی تشکیل،ان کی مالی مدد اور ان کو اسلحہ کی فراہمی کے اقدامات کے پیچھے یہی مقصد کارفرماتھا۔گو کہ آلہ کار مقامی افراد ہی بنے ہیں ۔جس سے لاکھوں انسان لقمہ اجل بن گئے ۔تباہی کا یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔عالمی ادارے اورعالمی قوتیںخود عالمِ اسلام میں امن کے لئے کردار ادا کرنے کو تیار نہیں۔حد یہ ہے کہ امن قائم کرنے کے نام پر ،نئی نئی طرز کی ریاستی دہشت گردی مسلط کردی گئی ہے۔
    اس صورتِ حال کے تناظر میں ’’ملی یکجہتی کونسل پاکستان ‘‘ اور ’’مرکزی جمعیتِ اہل حدیث‘‘ کے زیرِ اہتمام اسلام آباد میں قومی کانفرنسیں منعقد ہوئیں۔جن میں عالمِ اسلام کی معتبر شخصیات،علمائے کرام،دانشورحضرات،اساتذہ کرام ، سیاسی ودفاعی تجزیہ نگاروںاوردینی وسیاسی جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی اور شرکاء ان کے گرانقدر خیالات سے مستفید ہوئے۔ان کا مشترکہ مؤقف تھا کہ عالمی دہشت گردی کے خاتمہ،حرمین شریفین کے تحفظ اور اتحادِ امت کے لئے ہمیں آپس میں مل بیٹھ کر ،مسلمانوں کودرپیش ان چیلنجز سے نپٹنے کا متفقہ لائحہ عمل تشکیل دینا چاہیے۔
    کانفرنس میںمقبوضہ کشمیر میں 70 سال سے جاری حصولِ آزادی کے لئے مطالبہ حقِ خود ارادیت کی بے مثال جدوجہد سے اظہارِ یکجہتی کیا گیاروزبروز بگڑتے ہوئے حالات پر اپنی تشویش ظاہر کی۔8۔جولائی2016ء کو بھارتی فوجیوںکے ہاتھوں نوجوان برہان مظفر وانی کی المناک شہادت کے بعد ،مقبوضہ کشمیر کے عوام مشتعل ہو کر گھروں سے نکل کھڑے ہوئے ہیںاور وقفے وقفے سے نافذ کرفیو کی سختیاں جھیلتے ہوئے، کوئی پچاس دنوں سے مسلسل سڑکوں پر ہیں۔بھارت کی سات لاکھ فوج کی سفاکیت اور بربریت کا ظالمانہ کھیل بھی جاری ہے۔سیاسی جدوجہد کرنے والے کشمیری نوجوانوں،بوڑھوں،بچوں اور خواتین پر ظلم وتشددکے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔دھڑلے سے ممنوعہ ’’پیلٹ گنز‘‘ کا استعمال کیا جا رہا ہے اور معصوم بچے بھی شہید اور نابینا ہو رہے ہیں۔
    بھارت نے مقبوضہ کشمیر میںعالمی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا داخلہ بند کر رکھا ہے ۔موبائل فون اور انٹر نیٹ سروسز بھی بند کردی گئی ہیں۔اس پر بڑی عالمی طاقتوں کی جانبدارانہ پالیسی ،غیر انسانی رویے اور ان کے دوہرے معیارات نے مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حالات کو مزید سنگین اور گھمبیر بنادیا ہے۔ان حالات میں حکومتِ پاکستان کا فرض بنتا ہے کہ وہ بھارتی جارحیت اور مظالم کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرے اور سفارتی محاذ پر کشمیرکا مقدمہ لڑے۔اس غرض سے تمام جماعتوں کے مشترکہ پارلیمانی وفود ،بڑے بڑے ممالک میں بھیجے جائیں۔مسلم ممالک کو خاص طور پر متوجہ کیا جائے تاکہ اقوامِ متحدہ کی منظور کردہ قراردادوں کے تحت کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دلایا جاسکے۔بہرحال حکومت پاکستان کوجلدازجلد مسئلہ کشمیر پر ایک ’’قومی ایکشن پلان‘‘بنانا چاہیے۔
    کانفرنس نے حرمین شریفین کے حوالے سے واضح کیا کہ ان مقدس مقامات کا تحفظ ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔تمام مسلمان ہر قسم کی گروہ بندیوں ،مختلف مسالک اور سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کرحرمین شریفین کے تحفظ کے لئے کسی طرح کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ہم تمام مسلمان متحد ہوکر ،امت کو گروہوں میں تقسیم کرنے کی عالمی صیہونی سازشوں کا مقابلہ کریں گے اور ان کو ہر قیمت پر ناکام بنائیں گے۔خاص طور پر فرقہ وارانہ کشیدگی کے خاتمے اور ان میں ہم آہنگی کے فروغ کے لئے علماء کرام،مشائخ عظام اوردانشورحضرات انسانی قدروں کے علمبردار بن کر آگے بڑھیں گے۔اس طرح ہم اپنا تاریخی کردار ادا کریں گے۔
    کانفرنس میں اس پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ برادر ملک بنگلہ دیش گزشتہ 8 سالوں سے اپوزیشن اور اسلام پسندوں کے لئے مقتل گاہ بنا ہوا ہے۔بھارت کی سرپرستی میں بنگلہ دیش کی ڈکٹیٹر حسینہ واجد اپنے مخالفین بالخصوص جماعت اسلامی کے راہنماؤں کو ہولناک سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے۔ان کا اس کے سواکوئی اور جرم نہیں ہے کہ انہوں نے کلمہ کے نام پر بننے والے ملک پاکستان کو متحد رکھنے کے لئے 1971ء میں اپنی حب الوطنی کا کردار ادا کیا۔آج یہ ’’بنگلہ دیش ‘‘کے غدار ٹھہرائے جارہے ہیں جو اس وقت تک معرضِ وجود میں بھی نہیں آیا تھا۔پھر یہ کہ ان پر اس وقت کے سہ فریقی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بنگلہ دیش کی موجودہ حکومت نام نہادمقدمات بنا رہی ہے۔حالانکہ پاکستان اور بھارت کے مابین مذکورہ سہ فریقی معاہدے کی تیسری فریق اس وقت کی بنگلہ دیشی حکومت(موجودہ حکمران حسینہ واجد کے والد شیخ مجیب الرحمان کی حکومت)تھی۔
    کانفرنس میںفلسطین، کشمیر،افغانستان،شام، ترکی، بنگلہ دیش، برما(اراکان) کے ابتر حالات پر بھی غور کیا گیا اور قرار دیا گیا کہ عالمِ اسلام کو سیاسی عدم استحکام سے دوچار کرنے کا یہ عالمی استعماری ایجنڈے کا حصہ ہے۔تاہم حکوتِ پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں، اس عالمی استعمار کا ’’حلیف‘‘بننے کی بجائے امتِ مسلمہ کے وکیل کا کردار ادا کرے۔البتہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کے خلاف افواجِ پاکستان کے ’’ضربِ عضب آپریشن‘‘ کو سراہا گیااور ان کی کامیابیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔اسلامی ممالک کو مجموعی طور پر متوجہ کیا گیا کہ وہ ’’او۔آئی ۔سی‘‘ کو مسلم عوام کی امنگوںکے مطابق فعال بنائیں۔کانفرنس میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ اسلامی ممالک میں موجود غیر ملکی افواج نکل جائیںاور وہاںکے عوام کو موقع دیں کہ وہ اپنی آزادانہ رائے سے اپنے حکمرانوں کا انتخاب کرسکیں۔ دوسری طرف موجودہ مسلم حکومتوں سے بھی یہ اپیل کی گئی کہ وہ آپس کے مسائل ،باہمی مشاورت اور بات چیت سے حل کرنے کو یقینی بنائیں۔#

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس