Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

میرا حجاب! میرا انتخاب، میری تہذیب

  1. حجاب محض ایک گز کپڑے کے ٹکڑے کانام نہیں بلکہ یہ ٹکڑا ایک پورے نظام اور تہذیب کی علامت ہے۔ عربی کاایک مقولہ ہے :
    النساءعماد البلاد
    عورتیں تہذیبوں کی عمارت کاستون ہوتی ہیں۔ مایوسیوں میں اُمید کے چراغوں کو روشن کرتی ہیں۔ اپنے خون جگر سے بے جان لوتھڑے کو انسان بناتی ہیں۔ عورت کے کردار سے قومیں سربلند ہوتی ہیں۔ وہ ایک روشن مشعل کی مانند اندھیروں سے لڑ بھڑ جانے کاحوصلہ رکھتی ہے۔ کبھی نہ بجھنے والے چراغ کی طرح ہماری راہنمائی کرتی ہے۔ اس کی صدا زندگی کاپیام بن کر صدیوں ہماری راہیں منور کرتی ہے۔
    علامہ اقبال جاوید نامہ میں محکمات عالم قرآنی میں خلافت آدم کے عنوان کے تحت حجاب کی حقیقت پر بات کرتے ہیں:
    کہ اے کہ دور حاضر نے تیرے دینی جذبوں کو سرد کردیاہے۔ آﺅ میں تمہیں حجاب کی مصلحتوں کو کھول کر بتاتاہوں۔
    آفاق کے سارے ہنگامے پر نظر ڈالو ۔ تخلیق کرنے والی ہستی کو جلوت کے ہنگاموں کی زحمت میں مبتلا نہ کرو، اس لیے کہ ہر تخلیق کرنے والے کو اپنی تخلیق کی حفاظت کے لیے خلوت کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے صدف کاموتی خلوت میں جنم لیتاہے۔
    اقبال یہاں حجاب کی مصلحت یہ بتاتے ہیں کہ اللہ خود خالق ہے اور اس نے اپنی یہ صفت تخلیق پوری کائنات میں صرف عورت کو عطا کی ہے اور وہ خالق خود بھی حجابوں میں ہے اور عورت سے بھی کہتاہے کہ اپنی تخلیق کی حفاظت کے لیے دنیا کی نظروں سے پوشیدہ رہے تاکہ صدف کی طرح خلوت میںاپنے موتی اور اپنی نسل کی حفاظت کرسکے۔ایک اور جگہ کہتے ہیں!
    اے میری پیاری بٹیا !یہ آرائش وزیبائش اور دلبرانہ ادائیں ترک کردے۔ مسلمانوں کو یہ کافرانہ روش زیب نہیں دیتی ، اس مصنوعی غازہ اور آرائش کو چھوڑ کر کردار کی طاقت سے دلوں کو مسخر کرنا سیکھو۔
    اور پھر فرماتے ہیں کہ بتول ؓ بن جاﺅ اور اس زمانے کی نظروں سے چھپ جاﺅ تاکہ تمہاری گود میں پھر سے ایک حسین ؑ پرورش پاسکے۔ ایک صدی پہلے کااقبال کا یہ پیغام آج بھی اُتناہی اہم ہے۔ اُن کی چشم بینا نے آنے والے دور کے چیلنجز کو سمجھاتھا اور ہمارے لیے زریں ہدایات پر مبنی شاعری کاخزانہ ورثہ میں چھوڑ گئے ہیں۔
    اس ایک گز کے ٹکڑے نے تاریخ میں اتنا اہم مقام حاصل کرلیا ہے کہ اس کی نظیر نہیں ملتی ،پہلے اسے مسلم خواتین کی ذہنی پسماندگی کی علامت قرا ر دیاجاتا رہاکہ اس بیچاری کو نہ عصر کا شعور ہے نہ جدید تقاضوں کااتہ پتہ ،نہ تعلیم ہے اور نہ سماجی مرتبہ ، تو پردہ نہ کریں تو کیاکریں ؟؟ گھروں میں بند ہو کر نہ بیٹھیں تو کہاں جائیں ؟؟ پھر حجاب کو مسلمان مردوں کے جبر کی علامت بن کر پیش کیاگیاکہ وہ بڑے تنگ نظیر اور دقیانوسی سوچ کے لوگ ہیں، انہیں عورت کو قید کرکے لطف آتاہے۔ پھر حجاب کو ایک سیاسی بیانیہ (Political Narrative) کے طور پر لیا گیا اور کہاگیاکہ حجاب کامعاملہ در اصل سیاسی اسلام کے پیروکاروں کا ابھارا ہوا شوشہ ہے ، وہ خود انتہاپسندی کی علامت ہیں اور انہیںحجاب جیسی انتہا پسندی اچھی لگتی ہے۔ پھر اسے سیاسی بیانیہ سے تہذیبی بیانیہ میں تبدیل کردیاگیا کہ دنیا کے تیزی سے بدلتے ہوئے حالات نے حجاب کو تہذیبی اور ثقافتی بیانیہ میں ڈھال دیا ہے۔
    لیکن اب یہ حجاب کاٹکڑاآزادی ، اختیار اور مسلمان عورت کے اعتماد سے بھر پور تفاخر اور مسلم شناخت کااحساس بن کر اُبھر رہاہے۔ پس ماندگی سے عزت وافتخار تک کا یہ سفر اور ارتقاءبڑاحیرت انگیز ہے۔ طالبان کی قید میں رہ کر بعد میں مسلمان ہونے والی برطانوی صحافی ایوان رڈلی مجھے ایک کانفرنس میں اپنے تاثرات بتا رہی تھی کہ کیا آپ تصور کرسکتے ہیںکہ کوئی شخص وال اسٹریٹ کے ایگزیکٹو یا واشنگٹن کے کسی بینک کے اعلیٰ عہدیدار کو کہے کہ وہ ٹی شرٹ اور جینز میں دفتر آئے۔ وہ آپ کو بتائے گاکہ اس کا بزنس سوٹ کام کے دوران اس کی شخصیت کاعکاس ہے اور یہ ظاہر کرتاہے کہ اس کے ساتھ سنجیدگی کے ساتھ معاملات طے کیے جائیں ۔ حجاب بھی مسلمان عورت کابزنس سوٹ ہے اور یہ لباس اعلان کرتاہے کہ میرے ساتھ عزت واحترام سے پیش آیاجائے۔
    انہوںنے کہاکہ عورتوں کے اختیار اور آزادی کے ماپنے کاپیمانہ کیاہے ؟؟ اپنی سکرٹ کی چھوٹائی اور اپنے جسم کو کتنی مقدار میں نمائش کے لیے عریاں کرنا معیار آزادی ہے یا عورتوں کو اُن کے کردار ، علم اور ذہانت کی بناءپر پرکھاجائے۔
    میڈیا کی ثقافتی یلغار میں جب ہماری تہذیب کی علامت دوپٹہ لباس سے غائب کردیاگیا ہے اور اسے ماڈرن ازم اور جدیدیت کی علامت بنا کر پیش کیاجارہاہے ۔ ایسے عالم میں جبکہ حجاب کو خوف اور دہشت کی علامت بنا کر پیش کیاجارہاہے۔ شرق وغرب کی نوجوان نسل بڑے افتخار کے ساتھ اس حجاب کو اپنا رہی ہے ۔ ہماراحجاب محض ہمارا سر ہی نہیں ڈھانپتا بلکہ اپنے رب سے وفا کا علمبردار بھی ہے۔ یہ میرا سر فخر سے بلند رکھتاہے کہ میں اپنے رب اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کااعلان کرتی ہوں۔
    عالمی یوم حجاب ایک پیغام ہے جوکہ 4ستمبر 2004ءسے عالم اسلام کے مایہ ناز سپوت علامہ یوسف القرضاوی کی قیادت میں جاری و ساری ہے۔ جب فرانس میں حجاب پر پابندی کااعلان ہواتو علماءکی قیادت میں اس دن کو بطور عالمی یوم حجاب منانے کااعلان کیاگیا۔ پاکستان میں میرے آغاجان قاضی حسین احمد ؒ اس تحریک کے علمبردار ہیںاور آج ہمیں ہر طرف حجاب کی ایک بہار نظر آتی ہے۔ آئیے آپ بھی اپنے حصے کی شمع جلاتے جائیں تاکہ پھر کوئی قندیل بجھنے نہ پائے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس