Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

جماعت اسلامی کا عالمی کردار

  1. دنیا کے تمام ممالک ،تبدیلی کے عمل سے مسلسل گزر رہے ہیں۔ جماعت اسلامی کی ہر دور میں یہ پالیسی رہی ہے کہ قومی ،علاقائی اور عالمی پیمانے پر جو تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اُن سے باخبر رہاجائے،اُن کے گہرے اثرات کاجائزہ لیاجائے اور ملک و قوم پر مرتب ہونے والے نقوش کو باریک بینی سے سمجھا جائے ، جماعت کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگاکہ عالمی امور خصوصاً اُمت مسلمہ کے مسائل کے بارے میں بطور سیاسی جماعت ہر دور میں ٹھوس موقف اختیار کیاگیاہے اور ملک وملت کی راہنمائی کی گئی ہے۔ آج جماعت کے کارکنان کی کل عالمی اُمور پر گہری اور ٹھوس رائے پائی جاتی ہے۔
    آغاز سے جماعت اسلامی ریاست فلسطین 1948ءپر ہی ناجائز یہودی تسلط اور اسرائیل کے قیام کی جماعت اسلامی نے بھرپور مذمت کی ہے۔ گزشتہ اڑسٹھ برس میں جماعت اسلامی فلسطین کی مکمل آزادی کی ترجمان رہی ہے ، اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کی جدوجہد کے نتیجے میں غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینی مقتدرہ کے قیام کے بعد بھی جماعت سرزمین انبیاءکے ایک ایک انچ کو ریاست فلسطین کا حصہ سمجھتی ہے۔ فلسطینیوں نے اسرائیلی شکنجے سے آزادی کے لیے جس قدر جدوجہد کی ہے اور قربانیاں پیش کی ہیں ، اُس کو جماعت نے خراج تحسین بھی پیش کیاہے اور اس کے لیے عملی جدوجہد بھی کی ہے۔
    جماعت اسلامی کسی بھی زیر زمین سرگرمی میں حصہ نہیں لیتی اور نہ اس پر یقین رکھتی ہے۔ نظریاتی طور پر امریکہ و یورپ کے نظام سرمایہ داری اور روس کے سوشلزم و کمیونزم کو مسترد کرتی ہے۔ عالم عرب میں جب بادشاہی نظام کاخاتمہ ہوا اور جمہوری حکومتیں وجودمیں آئیں تو جماعت نے اس کا خیرمقدم کیا اور اُمید ظاہر کی کہ قدیم استعماری نظام کی جگہ جمہوری نظام عوام الناس کے لیے بہتری کاپیغام لے کر آئے گا۔
    مصرمیں ڈاکٹر محمدمرسی کی منتخب حکومت ختم ہوئی اور جنرل سیسی نے اقتدار پر قبضہ کیا تو جماعت اسلامی نے اس فوجی شب خون پر شدید احتجاج کیا ، آج بھی پینتالیس ہزار سے زائد مصری شہری جرم بے گناہی میں قید خانوں میں ہیں اور جماعت اُن کے جمہوری حقوق کی بحالی اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے جدوجہد کررہی ہے۔
    سعودی عرب اور یمن کے درمیان لڑائی کے دوران ، جماعت نے حوثی باغیوں اور اُن کے جارحانہ اقدامات کی مذمت کی ، 15جولائی 2016ءکو فوجیوں کے ایک گروپ نے ترکی کی منتخب حکومت کاتختہ اُلٹنے کی کوشش کی تو جماعت اسلامی کی قیادت نے اس بغاوت کی بھرپور مذمت کی اور منتخب حکومت کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اسلام ہی کو دنیا کے مسائل کا حل قرار دیتی رہی ہے۔
    1979ءمیں روسی افواج ، افغانستان میں داخل ہوئیں اور دس برس بعد 1988ءمیں ان کاانخلاءشروع ہوا، جماعت نے روسی غیر ملکی قبضے اور مداخلت کی بھرپور مذمت کی اور افغانوں کی تمام جماعتوں کو غیر ملکی استعمار سے نجات کے لیے اخلاقی ، سیاسی امداد فراہم کی، چند برس بعد طالبان کی حکومت کے زوال کے بعد جب امریکہ و ناٹو کی افواج افغانستان میں داخل ہوئیں تو جماعت اسلامی نے 44ممالک کی غیر ملکی افواج کی موجودگی کی بھرپور مذمت کی اور مطالبہ کیاکہ افغانستان کو آراد ، خود مختار مملکت کے طورپر کام کرنے کا موقع فراہم کرنا چاہیے۔ دس برس تک جاری رہنے والی عراق ، ایران جنگ کی جماعت نے مسلسل مذمت کی اور حکومتوں پر دباﺅ ڈالا کہ یہ جنگ ختم ہونا چاہیے ۔ 1991ء میں کویت میں عراقی افواج داخل ہوئیں تو خلیجی ممالک میں بحران پیداہوگیا۔ جماعت اسلامی نے مطالبہ کیاکہ باہر سے آنے والی افواج کویت خالی کردیں ۔ گیارہ ستمبر 2003 ءکو امریکہ کے دو شہروں میں طیاروں کے حملے سے جو تباہی و بربادی ہوئی اس دور کے اس اثرات مرتب ہوئے ۔ جماعت نے اس دہشت گردی کی بھرپور مذمت کی ۔ اسو قت سے لے کر آ ج تک دہشت گردی کے تدارک اور سدباب کے نام پر جو غیر قانونی اقدامات پاکستان سمیت دیگر ممالک میں کیے گئے ، جماعت نے اُن کے خلاف آواز بھی بلند کی اور عوام الناس میں اس بارے میں آگہی بھی پیدا کی۔
    بنگلہ دیش میں حسینہ واجد حکومت نے بھارتی حکومت کے ایماءپر آزادی کے موقع پر متحدہ پاکستان کی حمایت کرنے والے سیاست دانوں کو نام نہاد انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل کے ذریعے سزائیں سنانے اور پھانسیاں دینے کا سلسلہ شروع کیا تو جماعت اسلامی نے نام نہاد وعدالت کے وجود کی بھرپور مذمت کی ، اس کے خاتمے کامطالبہ کیا اور سیاسی قیدیوں کے عام عدالتوں میں مقدمات چلانے کامطالبہ کیا، حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ ان پھانسیوں کو رکوانے کے لیے اقدامات کرے۔ دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی مسلم اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک رکھاجاتاہے ، جماعت اسلامی اُن کے بارے میں حقائق اکٹھے کرتی ہے۔ مسلم اقلیتوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتی ہے اور ان کے مسائل سے حکومتوں اور اداروں کو آگاہ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ بھارت میں مسلم اقلیت کے ساتھ ناروا کاروائی کے واقعات بارہا سامنے آتے ہیں اور جماعت اپنے مسلمان بھائیوں کے مسائل کے حل کے لیے پیش پیش رہتی ہے۔ شام کے بارہ لاکھ مہاجرین کی اپنے واپسی کی جماعت اسلامی بھرپور تائید کرتی ہے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس