Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

قرآن و سنت کی بالا دستی کے منشور سے سیکولرازم /نیو لبرل ازم تک

  1.  اکتوبر 1988ء میں اسلام آباد میں منعقدہ 9جماعتوں کے اجلاس میں اسلامی جمہوری اتحاد’’المعروف آئی جے آئی‘‘ تشکیل پایا۔ ان جماعتوں میں پاکستان مسلم لیگ ، نیشنل پیپلز پارٹی ،جماعت اسلامی پاکستان ،جمعیت علمائے اسلام ،مرکزی جمعیت اہل حدیث ،نظام مصطفی گروپ ،آزاد پارلیمانی گرو پ ، جمعیت مشائخ اور حزب جہاد شامل تھے۔ 28اکتوبر 1988ء کو مذکورہ جماعتوں کے اکابرین نے بلاتفاق جس قرار داد کو منظور کیا اس میں باقی مقاصد کے علاوہ ’’اسلامی قانون کی بالادستی ‘‘کے لیے جدوجہد کرنا شامل تھا۔ نومبر 1988ء میں منعقد ہونے والے انتخابات کے لیے آئی جے آئی کا جو منشور عوام کے سامنے پیش کیاگیا اس کے مطابق ’’ہم خدا اور خلق کو گواہ بنا کے عہد کرتے ہیںکہ !ہم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مکمل وفاداری کے ساتھ قرآن و سنت کی بالادستی کے قیام کے لیے جدوجہد کریں گے ، عوام کے حقوق کی حفاظت کریں گے اور عدل وانصاف کے قیام کے لیے کوئی دقیقہ نہ اٹھا رکھیں گے۔ ‘‘
    یہ بھی اعلان کیا گیا کہ اسلامی جمہوری اتحاد کے قیام کامقصد ملک میں ’’قرآن وسنت کی بالادستی ‘‘ قائم کرناہے۔ 1988ء کے انتخابات کے نتیجے میں میاں محمدنواز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے اور مرکز میں پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت قائم ہوئی جس کی سربراہ محترمہ بے نظیر بھٹو (مرحومہ) تھیں۔ 1990ء میں منعقد ہونے والے انتخابات میں آئی جے آئی قومی اسمبلی میں اکثریتی جماعت کے طورپر اُبھری اور میاں محمد نواز شریف وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان منتخب ہوئے۔ ان انتخابات میں بھی آئی جے آئی کے منشور میں قرآن وسنت کی بالا دستی قائم کرنے کا عہد موجود تھا۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ 1990ء میں منتخب ہونے والی قومی اسمبلی میں اکثریتی جماعت کے سربراہ یعنی وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے پارلیمانی پارٹی کے ایک اجلاس ، جس میں جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے آئی جے آئی کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے ممبران قومی اسمبلی نے منشور میں کیے گئے قرآن و سنت کی بالادستی قائم کرنے کے وعدے پر عمل درآمد کروانے کا مطالبہ کیا تو میاں محمد نواز شریف صاحب نے کاغذ پر کچھ لکھ کر قریب موجود اہل کار کو دیا تاکہ وہ اُسے مسلم لیگی ممبر قومی اسمبلی رانا نذیر احمد کو تھما دیں۔ اس اہل کار کا پائوں پھسلنے کی وجہ سے وہ پرچی گر کر جماعت اسلامی کے ممبر قومی اسمبلی محترم لیاقت بلوچ صاحب کے قدموں میں آگری ۔ جس پر لکھا ہواتھا کہ ’’مولویوں کو لگام دیں ‘‘اور لیاقت بلوچ صاحب نے وہ پرچی قریبی نشست پر بیٹھے رانا نذیر احمد کو تھما دی۔ سوال یہ اٹھتاہے کہ 1988ء اور 1990ء کے انتخابات کے دوران عوامی جلسوں میں کی گئی تقاریرمیں اور اعلان کردہ انتخابی منشورمیں قرآن و سنت کی بالادستی قائم کرنے کا وعدہ جو’’خدا اور خلق خدا ‘‘ کو گواہ بنا کر کیاگیا، اگر درست تھا تو پھر نفاذ شریعت کے وعدے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مطالبات کرنے والوں کو ’’لگام دینے کی ‘‘ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس ضمن میں انتخابات میں کامیابی کے بعد تینوں باپ بیٹوں (میاں محمد شریف مرحوم ومغفور ،میاں محمد نواز شریف اور میاں محمد شہباز شریف )نے ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم ومغفور سے قرآن و سنت کی بالادستی کے حوالے سے راہنمائی حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیا جس کے بہت سارے چشم دید گواہ اب بھی بقیدِ حیات ہیں۔
    2013ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد مسلم لیگ (ن) ایک بار پھرمرکزاور پنجاب میں واضح برتری کے ساتھ کامیاب ہوئی ۔میاں محمد نواز شریف صاحب تیسری بار پاکستان کے وزیراعظم منتخب ہوئے اور میاں محمد شہباز شریف پانچویں بار پنجاب کے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے ۔ 2013ء کے انتخابا ت تک سفر کرتے ہوئے میاں برادران اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ اب آئی جے آئی کے منشور ’’قرآن و سنت کی بالادستی ‘‘کی بظاہر چھتری کی کوئی خاص ضرورت نہیں ۔ اقتدار میں رہنے کے لیے امریکہ اور مغرب کی تہذیب یعنی سیکولرازم /نیولبرل ازم برملا اپنانا ضروری ہے۔ اس ضمن میں نواز لیگ کی موجودہ حکومت کے چند ایک اقدامات بطور شہادت پیش خدمت ہیں :۔
    l نصاب تعلیم کو مغربی ماہرین کی راہنمائی میں اس انداز سے ترتیب دیاگیاہے کہ وہ امریکہ اور مغرب کے سیکولرازم کے معیار پر پورا اُتریں ۔
    l دیہاتی علاقوں میں بالخصوص قائم گرلز پرائمری سکولز جن کے کچھ فاصلے پر بوائز سکولز بھی قائم تھے ان کو ختم کرکے بوائز سکولز میں ضم کردیاگیا ہے اور خواتین اساتذہ اور مرد اساتذہ کو اکٹھے ایک ہی سکول میں اپنے فرائض انجام دینے کے لیے کہاگیاہے۔
    l بوائز کے ہائی سکولز تک خواتین اساتذہ کو بھی انہی اداروں میں تعینات کیاگیاہے۔
    l پنجاب کی صوبائی اسمبلی سے حال ہی میں منظور کیاجانے والا’’ تحفظ حقوق نسواں بل2016ء ‘‘تو اس ضمن میں ایک شاہکار ہے۔ بل کے آغاز میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے تحت اسلامی نظام حیات اور خاندان کی حفاظت کے حوالے دے کر قانون کی شقوں میں قرآن وسنت کے تحت قائم خاندان کے نظام کی دھجیاں اڑا ئی گئی ہیں۔ واضح طورپر یہ قانون مغرب سے مستعار لیاگیاہے۔ خدانخواستہ اس کے کامیاب نفاذ کے نتیجے میں ہمارے معاشرے میں قائم خاندانی نظام کی بنیادیں ہل جائیں گی۔
    l مغرب کی تقلید میں نجکاری کے تحت سرمایہ دارانہ نظام کی تکمیل کی سرتوڑ کوشش کی جارہی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے لیے سیکولرازم بطور عقیدہ کے شرط لازم ہے ۔ ریاست کی بجائے اہم پیداواری قومی اداروں کا سرمایہ داروں کے ہاتھ میں جانے کو ہی نیو لبرل ازم کہتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں سیکولرازم بطور عقیدہ ،نیولبرل ازم بطور معاشی نظام اور اس کے تحت اشرافیہ کے ہاتھوں میں بذریعہ انتخابات
    اقتدار کی منتقلی والی جمہوریت کاقیام ہی مقصود ہے۔
    قارئین قطعاً حیران نہ ہوں کہ 1988ء اور 1990ء کے انتخابات میں آئی جے آئی کے منشور یعنی قرآن وسنت کی بالادستی کے تحت ظہور پذیر ہونے والے قائد (میاں محمدنواز شریف )نے کس طرح سے یہ سفر طے کرلیا کہ وہ اب سیکولرازم /نیو لبرل ازم کی راہ پر گامزن ہیں ۔ 1990ء میں بھی آئی جے آئی کی چھتری تلے منتخب ہونے والے وزیراعظم نے اس وقت بھی ’’مولویوں کو لگام ‘‘دینے کا ہی کہاتھا۔ اس لیے 2016ء میں تحفظ حقوق نسواں ایکٹ اور دیگر سیکولرازم کی جانب اقدامات حیران کن نہیںہیں ۔بعض تجزیہ نگار کا کہناہے کہ محترمہ مریم نواز صاحبہ شاید اس مشن کی وارث ہوں گی ۔ ان کی رونمائی باقاعدہ سے وائٹ ہائوس میں امریکہ کی خاتون اول مشعل اوباما کے ہمراہ پہلے سے ہوچکی ہے۔ دیکھئے آنے والا وقت کیا رنگ دکھاتاہے۔
    l…l…l

     

     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس