Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

سود سے پاک مالیاتی نظام اور عدالتی فیصلے

  1. پروفیسرمحمد ابراہیم خان

     

     معاشی آزادی کے بغیر سیاسی آزادی ممکن نہیں ہے ۔اور سود ہر دور میں استعمار کی زنجیر رہی ہے ۔جس کے ذریعے سے اُس نے بنی نوع انسان کو معاشی اور سیاسی غلامی میں جکڑ ے رکھا ہے ۔علامہ اقبال ؒ فلسطینی عرب سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں ۔
    ترای دوا نہ جینوا میں ہے نہ لندن میں فرنگ کی رگِ جاں پنجہءِ یہود میں ہے
    دو عالمی جنگوں کے بعد اگر چہ طاقت و قوت کے عالمی مراکز جینوا اور لندن سے واشنگٹن اور ماسکو بن گئے انسانیت نے اپنا مداوا انہی کے پاس ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن عالمی صہیونیت نے سودی نظام کی صورت میں ان کو کنٹرول کئے رکھا اور طاقت کے ان مراکز سے انسانیت کے مسائل حل ہونے کی بجائے مزید بڑھ گئے ۔آزادی کے حصول کے بعد پاکستان کا نظام مملکت مکمل طور پر انگریز سے مستعار لیا گیا ۔معیشت اورمالیات کا نظام بھی اسی کا لازمی حصہ تھا اور اس کی بنیاد سود پر تھی اور اس سے متعلقہ قوانین میں سود جزو لازم کی حیثیت سے شامل تھا ۔ملک کے پورے نظام کو قرآن و سنت سے ہم آہنگ کر نے کی جد وجہد روز اول سے شروع ہوئی ۔دستور ساز اسمبلی سے قرارداد مقاصد کا پاس ہونا اسی جدوجہد کی کامیابی کا پہلا قدم تھا اسی بنیاد پر 1956 ءمیں پاس ہونے والے پہلے دستور میں اسلامی دفعات کو شامل کیا گیا ۔1962ءکے دستور میں قرارداد مقاصد ابتدائی طور پر شامل نہیں تھی، لیکن بھر پور عوامی مطالبے کے نتیجے میں ایوب خان اس پر مجبور ہوئے کہ قرارداد مقاصد کو دیباچہ میں رکھا گیا ۔1973ءمیںنافذ ہونے والے دستور میںملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان قرار پایا ۔اس کا سرکاری مذہب دستور کی رو سے اسلام ٹھہرا،دستور کی دفعات 227 تا 231 میں طے کر دےا گیا کہ قرآن وسنت کے منافی کوئی بھی قانون نافذ نہیں ہوگا ،رائج الوقت قوانین کو قرآ ن وسنت کے مطابق بنانے کے لئے طریقہ کاربھی طے کر دیا گیا۔
    1978ءمیں اعلیٰ عدالتوں (عدالت عظمیٰ ، عدالت ہائے عالیہ ) کے اندر شریعت بینچ قائم کر کے ان کو اختیار دےا گیا کہ رائج الوقت قوانےن کو قرآن و سنت کے مطابق بنائیں ۔1980ءمیں عدالت ہائے عالیہ میں یہ بنچ ختم کر دیئے گئے اور وفاقی شرعی عدالت کے نام سے اس مقصد کے لئے ایک الگ عدالت قائم کر دی گئی ۔کئی قوانین (بشمول مالیاتی قوانین) وفاقی شر عی عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر رکھے گئے ۔یہ پابندی 1990ءمیں ختم ہوئی اور وفاقی شر عی عدالت نے سود سے متعلق قوانین پر اکتوبر 1991ءمیں ایک بے مثال فیصلہ دیا ۔یہ فیصلہ 115 شرعی درخواستوں اور تین از خود نوٹس ہا پر دیا گیا ۔ اس فیصلے کی رو سے درجہ ذیل قوانین قرآن وسنت کے منافی قرار دیے گئے ۔
    ٭ قانون سود 1839 ( 1839 کا قانون نمبر 42 )
    ٭ گورنمنٹ سیونگ بنک قانون 1873 (ایکٹ نمبر 5 ، 1873 ) دفعہ 10
    ٭ قانون دستاویزات قابل بیع و شراد 1881 ، دفعات 177, 114 , 79
    ٭ قانون حصول اراضی 1894 ، دفعات 28 ، 32 ، 33 اور 34
    ٭ ضابطہ دیوانی 1908 ( ایکٹ نمبر 5 ، 1908 ) دفعات 34 الف ، 34 ب ۔ آرڈر 37 رول 2 ، دفعات 2 (12) ، 35 (3) ، 144 (1 ) ، آرڈر 21 رول 11 (2 ) ، 38 ، 79 (3 ) ، 80 (3) ، 93 ، آرڈر 34 رول 2 ، 4 ، 7 (1 ) ، 1 (13 ) ، آرڈر 39 رول 9
    ٭ قانون انجمن ہائے امداد باہمی 1925 ء دفعہ 0 5
    ٭ قواعد انجمن ہائے امداد باہمی 1927 ء قواعد نمبر 41 , 22
    ٭ قانون بیمہ 1938 ء دفعات 3 ب ب(1 ) (ب) ، 27 (3) ، 29 (8) (ب) (ج) (3) ، 47 ب ، 81 (2)(د)
    ٭ قانون سٹیٹ بنک پا کستان 1956ء دفعہ 22 (۱۱)
    ٭ مغربی پاکستان آرڈیننس سا ھو کاران 1960 ء
    ٭ مغربی پاکستان قواعد ساھوکاران 1965 ء
    ٭ پنجاب آرڈیننس ساھوکاران 1960 ء
    ٭ سندھ آرڈیننس ساھوکاران 1960 ء
    ٭ شمالی مغربی سرحدی صوبہ آرڈیننس ساھوکاران 1960ء
    ٭ بلوچستان آرڈیننس ساھوکاران 1960 ء
    ٭ قواعد زرعی ترقیاتی بنک 1961 ء قاعدہ نمبر17 ذیلی قاعدہ (2) , (1)
    ٭ بنکنگ کمپنیز آرڈیننس 1962ء دفعہ 25 (2) (الف) ، (ب)
    ٭ بنکنگ کمپنیز قواعد 1963ءقاعدہ نمبر9 ذیلی قاعدہ (3) , (2)
    ٭ قواعد ادائیگی واجبات قومیانے بنک 1974 ء قاعدہ نمبر 9
    ٭ آرڈیننس وصول قرضہ جا ت بنکنگ کمپنیز 1979 ء دفعہ 8 (2 ) (الف) (ب)
    وفاقی شرعی عدالت نے اکتوبر 1991 ءمیں درجہ بالا قوانین کے متعلقہ دفعات کو قرآن و سنت کے منافی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیا اس فیصلے تک پہنجنے کے لئے فاضل عدالت نے تمام فریق ہا کو بنفسِ نفیس یا اپنے وکلاءکے ذرےعے تفصیل سے سماعت فرمایا ۔ان کے دلائل کا اثبات یا نفی میں تفصیلی جواب دیا اور وفاقی حکومت اور چاروں صوبائی حکومتوں کو موقع دےتے ہوئے 30 جون 1992ءتک متعلقہ قوانین کو قرآن وسنت کے مطابق بنانے کا حکم جاری فرمایا اور فیصلے کے نفاذ کے لئے یکم جولائی 1992ءکی تاریخ مقرر فرمائی ۔
    وفاقی شرعی عدالت نے عدالتی کاروائی کے آغاز سے قبل ایک سوال نامہ جاری کیا ملک کے جیّد علماءکرام ،ماہرین قانون ،معاشی ماہرین اور بنک ماہرین نے اس سوال نامے کا تحریری جواب بھی دیا اور فاضل عدالت کے سامنے زبانی بیان بھی دیا سوال نامہ کے جوابات پر مشتمل ضمیمہ بھی اسی فےصلے کا حصہ ہے جو الگ سے کتابی شکل میں بھی شائع ہو چکا ہے ۔
    لیکن نہایت افسوس کا مقام ہے کہ ہماری وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتیں اخلاص کے ساتھ ملکی معیشت کو سود کی لعنت سے پاک کرنے کی بجائے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے راستے میں رکاوٹ بن گئیں ۔وفاق پاکستان حکومت پنجاب اور مختلف بنکوں نے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف 1992 ءمیں سپریم کورٹ شرےعت اپیلیٹ بینچ میں اپیلیں دائر کر دیں اس طرح ملکی معیشت کو سود کی لعنت سے پاک کر نے کا معاملہ ایک بار پھر کھٹائی میں پڑ گیا ۔
    شریعت اپیلیٹ بنچ سپریم کورٹ نے 1999 ءمیں ان اپیلوں پر ایک تفصیلی فیصلہ دیا، چار فاضل جج صاحبان کے مشترکہ فیصلے کے علاوہ تین جج صاحبان نے الگ سے بھی تفصیلی دلائل کے ساتھ فیصلے تحریر فرمائے۔ ان فیصلوں میںوفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کو بحال رکھا گیا۔ اور سود کے مسئلے کے ساتھ ساتھ حکومت کے معاشی نظام اور بنک کے نظام کا ہر لحاظ سے احاطہ کیا گیا۔ نظام کی مرحلہ وار تبدیلی کے لیے مختلف تاریخیں۵۴۴ مقرر کیںاور اس ضمن میں درج ذیل ھدایات دیں:
    ٭ وفاقی حکومت اس فیصلے کو ایک مہینے کے اندر اندر مو جودہ دہ مالیاتی نظام کو شریعت کے مطابق بنانے کے انتظام اور طریقہ کار کی نگرانی کے لیے سٹیٹ بنک کے اندر ایک با اختیار کمیشن تشکیل دے۔ جوشرعی ماھرین ،ماھر معیشت دانوں ، بنکرز اور چارٹرڈ اکاو ¿نٹینٹس پر مشتمل ہو ۔
    ٭ کمیشن اپنی تشکیل کی تاریخ سے دو مہینوں کے اندر معیشت کو اسلامی بنانے اپنی رپورٹوں اورراجہ ظفر الحق کمیشن کے رپورٹ کو بڑے بنکوں ،مذہبی ماہرین ،معیشت دانوں اور سٹیٹ بنک اور فائنا نس ڈویژن کے پاس بھیجنے اور ان کی رائے اور تجاوز وصول کرنے کے بعد ، ان کی جانچ پڑتال اور تنفیذ کیلئے حکمت عملی مرتب کرے گا حکمت عملی کا حتمی منصوبہ بن جانے کے بعد اس کو وزارت قانون ، خزانہ اور کامرس اور تمام بنکوں کے پاس ضروری اقدامات اٹھانے اور اس کی تنفیذ کی خاطر بھیجے گا۔
    ٭ اس فےصلے کے اعلان کے اےک مہےنے کے اندر وزارت قانون اور پارلیما نی امور اپنے افسران اور اسلامی نظریاتی کونسل یا معیشت کو اسلامی بنانے کے کمیشن کے دو شرعی ماھرین پرمشتمل ایک ٹاسک فورس بنائے گا ۔
    (الف) جو رباءکی ممانعت کا نیا قانون اور ہدایتی خطوط میں مجوزہ قوانین مدوّن کرے ۔
    (ب ) موجود مالیاتی و دیگر قوانین کا جائزہ لے تا کہ ان کو نئے مالیاتی نظام کی ضروریات کے مطابق بنائے ۔
    (ج) نئی مالیاتی دستاویز کو قانونی تحفظ فراہم کر نے کےلئے نئے قوانین مرتب کرے ۔سٹیٹ بنک کے اند ر بنایا جانے والا مجوّزہ کمیشن برائے اصلاحات ٹاسک فورس کی سفارشات کا جائزہ لے گا اور اس کو حتمی شکل دے گا اس کے بعد وفاقی حکومت مجوزہ قوانین جاری کرے گا ۔
    ٭ اس فےصلے کے اعلان کے چھ ماہ کے اندر تمام بنک اور مالیاتی ادارے اپنے مثالی معاہدے اور بڑی کاروائےوں کے دستاوےزات تےا ر کریں گی اور معائنے اور منظوری کے لیے سٹیٹ بنک کے کمیشن کو پیش کریں گے ۔
    ٭ تمام جائنٹ سٹاک کمپنی ، با ہمی فنڈز اور پچاس لاکھ سے زیادہ کل مالیت کی فرم(firm ) قانون کے تحت غیر جانبدار ریٹنگ، ایجنسی سے آزاد ریٹنگ کے پابند بنائے جائیں گے۔
    ٭ تمام بنک اور مالیاتی ادارے اس کے بعد اپنے عملے اور گا ھکوں کو نئے مالیاتی انتظامات ،اس کے ضروری تقاضوں اور اثرات سے متعلق تعلیم و تربیت کے لیے سیمینار اور پراگرامات کا انعقاد کریں گے۔
    ٭ وزارت خزانہ اس فیصلے کے اعلان کے ایک ماہ کے اندر اپنے ما ھرین پر مشتمل ایک ٹاسک فورس قائم کرے گا ۔جو اندرونی قر ضوں کو منصوبوں کے مالیات میں بدلے اور باہمی فنڈ بنا کر حکومت اس بنیاد پر مالیات فراہم کرے ۔ باہمی فنڈ کے یونٹ عوام خرید سکیں گے ۔اور ثانوی مارکیٹ میں خالص اثاثی قیمت کی بنیاد پر قابل فروخت ہوں گے ۔حکومت کی مو جودہ سیونگز سکیمز کے موجودہ بانڈ جن کی بنیاد سود پر ہے ،مجوزہ باہمی فنڈ کے یو نٹ میں تبدیل کیے جا سکیں گے۔
    ٭ حکومتوں کے باہمی اندرونی قرضے اور سٹیٹ بنک سے وفاقی حکومت کے قرضے غیر سودی بنیاد پر بنائے جا ئیں گے ۔
    ٭ وفاقی حکومت قوم کو بیرونی قرضوں کے بوجھ سے نجات دلانے کے لیے جتنا جلد ممکن ہو کو شش شروع کرے گی اور موجودہ قرضوں پر دوبارہ مذاکرات کرے گی ۔ مستقبل میں ضروری قرضوں کے لیے اسلامی مالیاتی ذرائع اختیار کیے جائیں گے ۔
    ٭ درج ذ یل قوانین اسلام کے احکام کے خلاف ہیں۔ 31 مارچ2000 سے غیر موثر ہوں گے ۔
    1۔ سود کا قانون 1839 ء
    2 ۔ مغربی پا کستان آرڈیننس سا ھوکاران 1960 ء
    3۔ مغربی پاکستان قواعد سا ھوکاران 1965 ء
    4۔ پنجاب آرڈیننس سا ھوکاران 1960 ء
    5۔ سندھ آرڈننس سا ھوکاران 1960 ء
    6۔ شمال مغربی سرحد صوبہ آرڈیننس سا ھوکاران 1960ء
    7۔ بلوچستان آرڈیننس سا ھوکاران 1960 ء
    8 ۔ بنکنگ کمپنیز آرڈیننس سا ھوکاران 1962 ء دفعہ 9
    ٭ دیگر قوانین یا قوانین کے مندرجات جس حد تک احکامات اسلام سے متصادم ہیں ۔30 جون 2001 ءسے غیر موثر ہوں گے ۔
    شریعت اپیلیٹ بنچ سپریم کورٹ کا فےصلہ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے سے بڑھ کر حکومت کو اسلام کی روشنی میں سود کے نظام سے ملک کو نجات دلانے کے لئے رہنمائی فراہم کرنے والا تھا ۔ عدالت عظمیٰ کے اس فےصلے پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا تھا ۔سٹیٹ بنک ،وزارت قانون اور وزارت خزانہ میں ٹاسک فورس قائم کر دی گئی تھیں، کہ حکومت پاکستان نے یونائیٹڈبنک کے ذریعے دستور پاکستان کے آرٹیکل 188 کے تحت سپریم کورٹ میں،2000 ءمیں نظر ثانی کی درخواست دائر کر دی ۔نظر ثانی کے اس درخواست کے تحت 2001 ءمیں دو درخواستیں سپریم کورٹ شریعت اپیلیٹ بنچ کے فیصلے کومعطل کرنے اور اس پر عمل درآمد میں توسیع کےلئے دائر کر دیں گئیں جس پر مذکورہ فیصلے پر عمل درآمد میں 30 جون 2002 ءتک توسیع کر دی گئی محمد اقبال زاہد صاحب نے 2001ءمیں نظر ثانی کی درخواست دے دی جس میں استدعا کی گئی تھی کہ 14 جون 2001 ءکے حکم پر نظر ثانی کی جائے ۔اس کو واپس لے کر حکومت کو ہدایت جاری کر دی جائے کہ وہ ربا ءکے امتناع کا قانون جاری کر کے تمام قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق بنا ڈالے ۔
    سپریم کورٹ نے نظر ثانی کے اختیارات کے تحت 24 جون 2002ءیونائٹڈ بنک کی درخواست منظور کر تے ہوئے سپریم کورٹ شریعت اپیلیٹ بنچ کے فیصلے مورخہ 23 دسمبر 1999 ءاور وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے مورخہ 14 نومبر 1991ءکو منسوخ کیا اور اسی مقدمے کو وفاقی شرعی عدالت کے پا س اس ہدایت کے ساتھ بیج دیا کہ فریق ہاکے بحث اور دیئے گئے مشاہدات کی روشنی میں از سر نو فیصلہ کرے اس حکم میں سپریم کورٹ نے یہ بھی طے کیا ہے کہ ان نکات کے علاوہ بھی فریق ہا آذاد ہیں کہ ان مقدمات سے متعلقہ کوئی بھی بات اٹھا سکتے ہیں اور وفاقی شرعی عدالت بھی تنازعہ سے متعلق کسی پہلو کو بھی زیر بحث لا سکتا ہے جو سامنے آئے یا جو امور تنقیح طلب سے متعلق پائے جائیں ۔
    14 نومبر 1991 ءکو جب وفاقی شرعی عدالت سود اور ملیاتی نظام کی با رے میں فیصلہ جاری کر رہا تھا ۔جناب میاں محمد نواز شریف پاکستان کےوزیراعظم تھے اور 23 دسمبر 1999 ءکو جب سپریم کورٹ شریعت ایپیلیٹ بینچ کا فیصلہ جاری ہو رہا پاکستان کی با گ ڈور جنرل پرویز مشرف کے ہا تھ میں تھی۔ آپس میں بے شمار اختلا فات کے با وجود دونوں کا اس بات پر اتفاق رہا کہ پاکستان کا پاکستان کا مالیاتی نظام سود سے پاک نہ ہو ،اور استعماری شکنجوں سے قوم کو نجات نہ ملے دونوں نے اپنے اپنے دور میں عدالتوں کے فیصلوں اور تفصیلی رہنمائی سے استفادہ کرنے کے بجائے اس بات کو ترجیح دی کہ عدالتوں کے راستے میں ر کاوٹیں کھڑی کر دیں اور روڑے اٹکائے سپرےم کورٹ نے 24 جون 2002 ءکو جو آخری حکم جاری کر دیا اور وفاقی شرعی عدالت کو از سر نو فےصلہ دینے کا پابند بنایا اس پر وفاقی شر عی عدالت میں 13 سال بعد 2015ءمیں کاروائی شروع ہوئی ہے ۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس