Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

کرپشن فری پاکستان

  1.  مل میں معاشی ،سیاسی ، انتخابی اور اکلاقی کرپشن کا ناسور قومی سلامتی کے لیے خطرناک شکل اختیار کرگیا ہے۔ بے انتہا غربت ، مہنگائی ، بے روزگاری اور بدامنی کی جڑ موجودہ کرپٹ سسٹم ہے جس کی وجہ سے بے انتہا معدنیات، بے پناہ صلاحیتوں سے مالا مل جفاکش اورمحنتی قوم کے باوجودغریب غریب تر اور امیر امیر تر ہورہاہے۔ آئین پاکستان میں میں عام شہری کوعزت کی روٹی، تعلیم،علاج اوررہائش دینے کی ضمانت دی ہے مگرکرپٹ حکومتوں نے ان بنیادی حقوق سے شہریوں کو محروم رکھا ہواہے۔ پاکستان میں12ارب روپے روزانہ کرپشن ہورہی ہے۔ گویا 4380ارب روپے سالانہ کی کرپشن ہورہی ہے۔ کرپشن کا یہ حجم ناقابل یقین ہے لیکن کیاکیاجائے کہ خود سرکاریادارے اس کی توثیق کرتے ہیں ۔پاکستان میں توانائی کے میگاپروجیکٹ مثلا بھاشا دیم1335ارب، داسو دیم795ارب،بُنا ڈیم827ارب،کالاباغ ڈیم1060ارب، پتن ڈیم636ارب ،تھاکوٹ636ارب ۔اس طرح توانائی کے یہ سارے پروجیکٹ 15289ارب سے مکمل ہوتے ہیں گویااگر ہم کرپشن پر قابو پالیں تو سوا ڈیڑھ سالمیں توانائی کے ان پروجیکٹ کے لئے رقم جمع ہوسکتی ہے۔ اسی طرح پاکستان پر قرضوں کا بوجھ7266ارب ہے۔گویا ہم ڈیڑھ برس میں یہ بوجھ ختم ہوسکتا ہے ۔ کرپشن اورکرپٹ نظام کوزندگیاوربقا کرپٹ سیاستدانوں اورنوکرشاہی نے دی ہے۔کرپشن کے خلاف بنائے گئے اداروں نے بھی ہمیشہ انکوچھتری فراہم کی ہے۔ کرپٹ نظام کیوجہ سے جان بچانے والی ادریاتتک میں ملاوٹ ہورہی ہے۔لوگوں کو گدھے کاگوشت کھلایاجارہاہے ۔پہلے ہم دودھ میں پانی ملاتے تھے اوراب پانی سے دودھ بنانے کے گھٹیاترین موجدبن گئے ہیں۔ یہاں کالے دھن کوسفید کرنے کاکام بھی سرکاری سرپرستی میں ہوتا ہے۔ کرپشن فری پاکستان قومی تحریک کاہدف کرپٹ نظام اورکرپٹ اشرافیہ ہے۔ یہ ایک آئینی اوراخلاقی ذمہ داری ہے کہ نیک نام اور باضمیر شخصیات اور جماعتیں اس تحریک کاحصہ بنیں اوریہ قومی تحریک اسوقت تک جاری رہے جب تکپاک سرزمین کرپشن اوراس کے پروردہ عوام کاکون چوسنے والوں سے پاک نہیں ہوجاتی ۔ انتخابات کودولت کا کھیل بنانے والے اربوں روپے خرچکرکے اقتدار کے ایوانوں میں پہنچتے ہیں اور پھر کھربوں روپے کیکرپشن کرتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں پیسہ لگانے والے کرپٹ لوگوں کوٹکٹیں بانٹتی ہیں۔آئین کی دفعہ62-63کی سیاہی الیکشن کمیشن کا منہ چڑارہی ہے۔اخلاقی کرپشن کاحل یہ ہے کہ ہمارے بڑے بڑے ادارے فحاشی روکنے کے بجائے فحاشی کی تعریف کی بحث میں الجھے ہوئے ہیں جوظاہر ہے کہ اللہ رب العزتکے غضب کو بھڑکانے والی بات ہے ۔ جوقوم ناموس رسالت ﷺ پرلڑنے مرنے کوتیارہوجاتی ہے وہی قوم نبی اکرم ﷺ کی اس تعلیم کو خود پامال کررہی ہے۔’’جو خون اورگوشت حرام رزق پر پرورش پائے گاوہ جنت میں نہ جائے گا ’’رشوت دینے والا اوررشوت لینے والا دونوں جہنمی ہیں۔ کرپشن ختم کرنے کے لیے حکمرانوں کواعلیٰکردارکا نمونہ بننا پڑے گا۔اگر حکومتی اہلکاراورکرتا دھرتا حج اور عمرے پر پیسے بنائیں گے تو بازار میں پکوڑے بیچنے والے سے خیر کی امیدنہیں رکھی جاسکتی ۔ بے حسی اوراللہ سے بغاوت کا یہ عالم ہے کہ زکوٰۃ وعشر فنڈ سے اربوں روپے خرد برد ہوتے ہیں۔ماضی کی حکومت کے ایک وزیر نے ٹی وی ٹاک شومیں بری ڈھٹائی کے ساتھ اظہارکیا کہ ‘‘کرپشن پر ہماری پارٹی کا بھی حق ہے’’پیلی ٹیکسیاں،روزگارسکیم،پڑھا لکھا پنجاب، تیل،گیس اورمعدنی ذخائر جیسے منصو بوں پر سوسوارب روپے ڈکار لئے جاتے ہیں۔پاکستان کے قومی اثاثے مثلا پی ٹی سی ایل اور بنکوں کوجس طرح فروخت کیاگیا ہے کہ کوئی کمہار بھی اپنے گدھے کوایسے نہیں بیچتا ۔ان اداروں پر پہلے غیر ترقیاتی اخراجات کا بوجھ ڈال کرانہیں ناکام بنایاجاتا ہے اوربیلنس شیٹ میں اثاثوں کی قیمت کم کی جاتی ہے۔ایوب خان سے لے کرمیاں نوازشریف تک اقتدار میں آنے کے لئے اعلان کرتے ہیں کہ سب کا احتساب ہوگا اور سر عام ہوگا۔ یہی حکمران اقتدار میں آنے کے بعد انسداد کرپشن کے لئے نت نئے ادارے بھی بناتے ہیں۔ پولیس کے بعد اینٹی کرپشن ، ایف آئی اے،پروڈا(Proda)پوڈو،ایبڈو،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ،احتساب کمیشن اورنیب جیسے درجن بھر ادارے جن پر کثیر سرمایہ قوم کاخرچ ہوتا ہے مگر ان اداروں کوحکمران مخالفین کوڈرا ،دھمکا اوردبا کراپنے ساتھ ملانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔منظورنظرلوگوں کے کیس کھولنے پر حکومت تلملا اٹھی ہے۔ نیب کے پاس 150میگا کرپشن کیس فائلوں می بند پڑے ہیں۔ ہرکرپٹ چاہتا ہے کہ اس کے بجائے دوسرے کااحتساب ہو۔آڈیٹرجنرل نے 4.2ٹریلین روپے کے حسابات پر اعتراضات لگائے ہیں ۔ جو کئی سالوں سےغیر حلشدہ ہیں۔ قومی وسائل کیکرپشن کو قانونی طور پر دہشت گردی اورغداری قراردیاجائے۔ جنگ اور دہشتگردی کسی بھی ملک کے انفراسٹرکچر کوتباہ کردیتی ہے۔ جبکہ کرپشن تو انفراسٹرکچر اورسماجی ترقی کوشروع ہی نہیں ہونے دیتی ۔قومی خزانہ لوٹے جانے کے سبب تعلیم، صحت،خواتین اور دیگر میدانوں میں ہماری سماجی ترقی شروع ہی نہیں ہوسکی اور نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ پاکستان اس وقت 70ارب ڈالر کا مقروض ہے۔اب تو قرضہ بھی اس لئے لیاجاتا ہے کہ سابقہ قرضوں کی قسط ادا ہوسکے اس اذیت ناک صورتحال کو بدلنے کے لیے متواتر جدوجہد کی ضرورت ہے ۔ عوام کوشعوری طور پر اس تحریک کا حصہ بنناچاہیے کہ یہ ملک وملت کی زندگی اور بقا کی تحریک ہے۔ ہم اس تحریک کے دوران کرپشن کے خلاف گلوبل آپریشن بھی شروع کریں گے۔ قومی خزانے سے لوٹی ہوئی دولت کا بڑا حصہ سوئٹزرلینڈ ،برطانیہ اور امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں موجودہے۔ اس لوٹی ہوئی دولت کو واپس لانے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس دولت کا مکمل سراغ لگانے اور اسے ملک میں واپس لانے کے لیے جماعت اسلامی ممتاز اور باکردار لوگوں پر مشتمل ایک قومی جرگہ بنائے گی جو بیرونی ممالک میں پوشیدہ لوٹی ہوئی دولت کا پتہ لگائے گا اور اس کی واپسی کے لیے کوششیں کرے گا۔ قوم کو تحریک پاکستان والےجذبے سے پاکستان کو بچانے کی تحریک کے لیے متحد ہونا پڑے گا کیونکہ اب پاکستان اور کرپشن ایک ساتھ نہیں چل سکتے !!
    اس میں شک نہیں ہے کہ حکومت ہی قومی خرابیوں کی اصل جڑ ہوتی ہے لیکن روز قیامت ہم سب کو اپنا اپنا حساب دینا پڑے گا۔اس روزدوسروں کی خرابیاں ہمارے لئے ڈھال نہ بن سکیں گی بلکہ خراب لوگوں کو نہ ٹوکنے اور نہ روکنے کا وبال ہم پر بھی ہوگا۔ لہٰذا ہم سب کو اپنی اصلاح کرنی چاہئے۔اپنی سابقہ کوتاہیوں پر اپنے رب سے گڑگڑا کر معافی مانگنی چاہئے۔سچے دل سے وعدہ کیاجائے کہ آئندہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی والے کام نہیں کریں گے ۔ اجتماعی معاملات سے لاتعلق رہنے کے بجائے یہ معاملات ان لوگوں کے سپرد کریں جو باضمیر اور باکردار ہوں۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس