Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

مسائل کی دھند اور قیادت کی ذمہ داریاں

  1.  

    فی الوقت وطن عزیز مسائل کی بے پناہ دھند میںلپٹا ہوا ہے۔ ان مسائل میں بعض ایسے ہیں جو سب کو نظر آ رہے ہیں ۔ مثلاً توانائی کا بحران ، صحت اور تعلیم کے مسائل ، مالی بد دیانتی اور کرپشن کے مسائل ، بے پناہ غیر ملکی قرضے اور سب سے بڑھ کر دہشت گردی اور امن و امان کا مسئلہ جس نے قوم کے اعصاب شل کر رکھے ہیں ۔ والدین اپنے بچوں کو خوف کے سائے میں تعلیمی اداروں میں بھیج رہے ہیں اور کم و بیش ہر شخص ذہنی سکون و اطمینان سے محروم ہو چکا ہے … جبکہ بعض مسائل زیر زمین ہونے کی وجہ سے نظر ہی نہیں آتے۔
    مسائل کی سنگینی اس و قت کئی گنا بڑھ جاتی ہے جب یہ احساس ہو کہ ہمارا کار فرما طبقہ مشکلات و مسائل کے حقیقی ادراک سے محروم رہے ۔ ہمارے سیاسی رہنما بالعموم مطالعہ کرنے کے عادی نہیں حالانکہ اس بات کی ناگزیر ضرورت ہوتی ہے کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں ہمارے حوالے سے جو کچھ لکھا جا رہا ہے اس سے با خبر رہا جائے۔ خاص طور پر اہل مغرب جنہوں نے گزشتہ کئی دہائیوں سے ہماری ریاست کو خصوصی ہدف بنا رکھا ہے۔ وہ کسی صورت یہ برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں کہ دنیا میں کوئی ملک عالمی قوت کے طور پر ابھر سکے ۔ امریکہ کی سٹریٹیجک پالیسیوں کا بنیادی مقصد یہ رہا ہے کہ پوری دنیا میں کہیں بھی احیائے اسلام کی کوئی تحریک نہ ابھر سکے اور کسی ملک میں اس طرح کا امکان ہو تو پوری قوت سے اسے کچل دیاجائے ۔ امریکی صدر جارج بش نے سوویت یونین کی شکست و ریخت کے بعد ’’ نیو ورلڈ آرڈر‘‘ کا جو خاکہ پیش کیا اس میں بڑے واضح الفاظ میں اس عزم کا اظہار کیاگیا کہ ’’ تیسری دنیا کا کوئی ملک جب بھی جوہری توانائی کے میدان میں اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کی کوشش کرے تو اس کا یہ اقدام گردن زدنی ہوگا۔ ‘‘ ملاحظہ ہو( Samuel P Hungtinton , American changing Strategic interests, Survival London, Jan Feb 1991)
    اسی طرح امریکہ کے رسالے ’’ The National Interest‘‘ 1989ء میں صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیاگیا ہے کہ پوری دنیا سے اسلامی تحریکوں کے احیاء کی بھرپور مخالفت کی جائے گی ۔ حوالے دیے جائیں تو بات بہت طویل ہو سکتی ہے اور یہ سطور ان تفاصیل کی متحمل نہیں ہوسکتیں۔ پروفیسر خورشید احمد کی کتاب ’’ امریکہ … مسلم دنیا کی بے اطمینانی‘‘ جسے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد نے شائع کیا ہے اس موضوع پر نہایت جامع کتاب ہے جس میں امریکہ کے پالیسی ساز اداروں اور تھینک ٹینکس کے افکار کو پورے حوالوں سے بے نقاب کیاگیا ہے کہ پوری مسلم دنیا اور بالخصوص پاکستان کے بارے میں ان کے عزائم کیا ہیں اور وہ کس طرح کا طریق واردات اپناتے ہیں ۔ ہمارے ہاں ایک طبقہ ان خیالات کو ’’ سازشی تھیوریاں ‘‘ کہہ کر مسترد کر دیتا ہے ۔ ان لوگوں کے لیے اس کتاب کا مطالعہ چشم کشاثابت ہو سکتا ہے ۔
    بد قسمتی سے پاکستان جنرل ایوب خان مرحوم کے دور میں امریکہ کی زلف گرہ گیر کا اسیر ہوا اور آج تک اس دوستی کی قیمت چکاتا آیا ہے۔ امریکہ نے ہر کڑے وقت میں پاکستان کے مفادات سے رو گردانی کی اور اب وہ بھارت کا ’’ اسٹریٹیجک پارٹنر ‘‘ ہے لیکن پاکستان ہر مرتبہ دھوکا کھانے کے باوجود اسی کو ئے ملامت کا طواف کرتا رہا ہے بقول غالب ؎
    کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب
    گالیاں کھا کے بے مزہ نہ ہوا
    نائن الیون کے سانحہ کے بعد امریکہ نے گن پوائنٹ پر پاکستان کے ہوائی اڈے حاصل کیے جن سے کم وبیش ستاسی ہزار اڑانوں کے ذریعے برادر ملک افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی ۔ فضا سے بارود برسانے کے یہ ہولناک مناظر تھے جن کے نتیجے میں لاکھوں بے گناہ مردو زن اور بچے مارے گئے ۔ پاکستان کے عوام کی ہمدردیاں اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ تھیں لیکن ہمارا حکمران طبقہ ’’ سب سے پہلے پاکستان ‘‘ کے ایک نئے بیانیہ کے ساتھ افغانستان پر حملہ آور گروہ کے ساتھ کھڑا تھا۔فضائی حملوں کے علاوہ امریکی ذرائع ابلاغ نے ’’ دہشت گردی ‘‘ کے عنوان کے ساتھ جو ڈھول پیٹا وہ ان کے مکرو فریب اور عیاری کی کھلی شہادت ہے ۔ وہی لوگ جو دنیا بھر سے مجاہدین کے روپ میں افغانستان لائے گئے وہ سوویت یونین کی شکست و ریخت کے ساتھ ہی ’’ دہشت گرد ‘‘ قرار پائے اور امریکہ ایک نئے ’’ ورلڈ آرڈر ‘‘ کے ساتھ نئے استعمار کی شکل میں سامنے آ گیا ۔ اس نے عراق اور لیبیا کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا اور اب مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک میں ’’ فرقہ واریت ‘‘ کے نام پر آپس میں لڑا کر سب کو عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے۔
    مرحوم جنرل حمید گل فرمایا کرتے تھے کہ استعمار کا ٹھکانہ تو افغانستان ہے لیکن اس کا اصل نشانہ پاکستان ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ نائن الیون کے بعد جس ملک کو سب سے زیادہ نقصان ہوا وہ پاکستان ہے۔کم و بیش ایک سو ارب ڈالر کا نقصان ہوا اور کم ا زکم ستر اسی ہزار کے لگ بھگ افراد اب تک اس جنگ میںجام شہادت نوش کر چکے ہیں۔درحقیقت پاکستان کے ایٹمی قوت بن جانے کے بعد پاکستان پر مسلط طریق جنگ میں تبدیلیاں کی گئیں ۔اب انٹیلی جنس ایجنسیاں اس جنگ کا مرکزی کردار ہیں ۔ ’ ’سی ۔ آئی ۔ اے ‘‘ … ’’ موساد ‘‘ اور ’’ را‘‘ اشتراک عمل سے پاکستان کو تحلیل کرنے کے ناپاک منصوبوں پر عمل پیرا ہیں ۔ ہمارے ہاں ایک طبقہ ایسا ہے جو ان حقائق کو مان کر نہیں دیتا۔ یہ بھی بد قسمتی ہے کہ ان ایجنسیوں کو ہمارے ہاں سے افرادی قوت میسر آ رہی ہے اور ہمارے ہاں کے جملہ سیکولر عناصر اور زر خرید دانشور حملہ آور قوت کے ساتھ ہیں۔ زندگی کے ہر شعبہ میں انہوں نے اپنے افراد کو پلانٹ کر دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ ہمارے اتحادکی دیوار میں نقب لگانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں ۔ پاکستان کے خلاف ایک ہمہ جہتی جنگ مسلط کر دی گئی ہے جس میں دہشت گردانہ کارروائیوں کے ساتھ ذرائع ابلاغ کے محاذ پر ذہن سازی کا عمل بھی پوری قوت سے کار فرماہے۔ علی ہذا القیاس فرقہ واریت ، لسانی اور علاقائی تعصبات کو ایکسپلائٹ کر کے پاکستان کو افراتفری اور انتشار کے حوالے کر دیاگیا ہے۔ بڑی ہوشیاری اور پرکاری سے اسلامی فلاحی اداروں اور دینی مدارس کو انتہا پسندی اور دہشت گردی کے مراکز قرار دے کر ان کی بیخ کنی کی تدابیر سوچی جا رہی ہیں۔ ’’ اصلاح ‘‘ کے نام سے اسلام کے تعلیمی نظام کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا جاری ہے ۔ مسلمانوں کو ساری دنیا میں فاشسٹ کے روپ میں پیش کر کے ان کے خلاف نفرت کے جذبات پیدا کیے جا رہے ہیں ۔
    ان حالات میں ہماری ذمہ داریوں میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے ۔ سب سے اولین ضرورت تو یہ ہے کہ ہم اﷲ تعالیٰ کی طرف خلوص دل سے رجوع کریں ۔ اپنی انفرادی اور اجتماعی خامیوں کے حوالے سے توبہ کریں ۔ اس کے بعد پاکستانی دستور کے مطابق اسلام ،جمہوریت اور وفاقی طرز حکومت کے متفق علیہ اصولوں پر جم کر قوم کی اجتماعی دانش پر بھروسہ کریں ۔ قومی زندگی کے مختلف گوشوں کو مربوط حکمت عملی سے آگے بڑھائیں اور اﷲ رب العزت سے جنگ کرنے سے باز آ جائیں ۔ سودی نظام کو قرآن کریم نے اﷲ کے خلاف اعلان جنگ قرار دے رکھا ہے… ہمارے لیے ضروری ہے کہ مختلف فرقوں اور طبقات کے درمیان مکالمہ کو رواج دیں۔
    صورت حال غیر معمولی تدبر اور دانش کا تقاضا کرتی ہے ۔ اگر پاکستانی قوم نے حالات کا سنجیدگی سے ادراک نہ کیا تو خاکم بدہن معاملات ہمارے ہاتھ سے نکل جائی گے پھر ہے کوئی سوچنے والا؟

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس