Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

جموں و کشمیرتنازعہ اور اقوام عالم

  1. جموںوکشمیر برصغیر میں ایسا خطہ ہے جس نے پاکستان اور بھارت کو عرصہ دراز سے کم و بیش حالت جنگ میں رکھاہوا ہے۔ تیسری عالمگیر جنگ کا ایک سبب یہ متنازعہ علاقہ بھی ہوسکتاہے۔ پاکستان دو قومی نظریے پر یقین رکھتا ہے لیکن بھارت ہندو ریاست ہونے کے باوجود سیکولرازم کادعویدار ہے ۔ 27اکتوبر 1947ء سے ان سطور کی اشاعت تک شاید کوئی بھی دن ایسا نہیں گزرا کہ جب جموںوکشمیر کے لوگوں نے اپنے آپ کو سیکولر بھارت کاحصہ سمجھا ہو اور بھارت کی وفاقی حکومت کی سرپرستی و بالادستی کے لیے تیار ہوں۔
    تیز رفتار دنیا نے متعدد متحارب گروہوں کو مذاکرات کی میز پر بٹھا دیا ہے ، آئرش قوم اور آئرش ریپبلکن آرمی ، عرصہ دراز سے برطانیہ عظمیٰ سے علیحدگی کی عسکری و سفارتی جنگ لڑ رہی ہے ، یہاں تک کہ سابق سپر پاور اس پر مجبور ہوئی کہ آئیر لینڈ میں ریفرنڈم کرائے اور جب علیحدگی پسند عناصر ریفرنڈم میں کامیابی حاصل نہ کرسکے تو انہوںنے اکثریت کے فیصلے کو قبول کرلیا ۔
    مشرقی تیمور انڈونیشیا سے جدا ہوا ، جنوبی سوڈان ، سوڈان سے الگ ہو کر خود مختار ملک بن گیا، ساٹھ پینسٹھ برس برسر پیکار رہنے کے بعد اسرائیلی اور فلسطینی ایک فلسطینی عبوری حکومت پر رضا مند ہوگئے۔ دنیا کا ہر شہری امن چاہتاہے اور امن کا قیام اُسی وقت ممکن ہے کہ جب آپ بالادستی اور طاقت کے …سے باہر نکلیں ، اپنے مفاد سے ہٹ کر عالمی برادری اور امن عالم کا خیال رکھیں، انتہائی افسوس کے ساتھ کہناپڑتاہے کہ تمام تر دعوئوں اور اعلانات کے باوجود بھارت نے جموںوکشمیر کے مسئلے کے حل میں کبھی دلچسپی نہیں لی ، بھارت نے ہمیشہ پاکستان پر دہشت گرد بھیجنے کاالزام عائد کیا ہے اور اس سب کانتیجہ یہ نکلا ہے کہ پاکستان اور بھارت کشمیر کو ’’اٹوٹ انگ ‘‘ بھی کہتے ہیں جبکہ 15مرتبہ وزرائے اعظم اور 35مرتبہ وزرائے خارجہ اور لا تعداد مرتبہ سیکرٹری خارجہ لیول پر دونوں ممالک مذاکرات کرچکے ہیں لیکن عملی طور پر بھارت اپنے موقف پر نظر ثانی کے لیے تیار نہیں ہے۔ پاکستان کا 1947ئء ہی سے یہ موقف چلا آ رہاہے کہ جموںوکشمیر کے تمام باشندوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے ایڈمنسٹریٹر کے زیر انتظام استصواب رائے (Plebiscite)میں شرکت کریں ۔ نیز بھارت اور پاکستان میں سے کسی ایک ملک سے الحاق کا فیصلہ کریں،بھارتی عناد اور ضد اس قدر بڑھ چکی ہے کہ وہ پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیںکہ وہ آزاد کشمیر کے علاقے ان کے حوالے کردے۔
    بھارت ایک مصنوعی ملک ہے جسے وفاق کی قوت اور فوج نے یکجا رکھاہوا ہے۔ بھارت کے زیر تسلط کشمیری علاقوں کو جوڑ ے رکھنے کے لیے بھارت اربوں روپیہ فوج کو وہاں متعین رکھنے پر خرچ کررہاہے ، پر امن مظاہرین پر تشدد کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہاہے ، کشمیریوں کو ڈرانے دھمکانے اور اُن کو استصواب کے مطالبے سے دور رکھنے کے لیے عورتوں کی عصمت دری اور املاک کی تباہی کوٹیکنیک کے طور پر1989ء سے مسلسل استعمال کیاجارہاہے لیکن اس سب کے باوجود جموںوکشمیر کی تمام جماعتیں اس پر متفق ہیںکہ ایک کروڑ بیس لاکھ انسانوں کو اس لیے بھارت کی غلامی میں نہیں دیا جاسکتاکہ وہاں سیکولر ازم نظام حکومت ہے۔ مہاتما گاندھی ، جو اہر لال نہرو ، سردار پٹیل ، ابوالکلام آزاد قبل تقسیم کے لیڈروں نے جس طرح کثرت آبادی کی بنا ء پر مشرقی بنگال ، مغربی پنجاب ، سندھ ، قبائلی و سرحدی علاقہ جات میں پاکستان کے قیام کو قبول کرلیاتھا ، ضرورت ہے کہ اسی اصول اور فارمولے کو تسلیم کرتے ہوئے بھارتی حکومت استصواب رائے کے ذریعے کشمیریوں کو ووٹ کا حق دے اور اُن کی رائے کااحترام کرے۔ ۱۹۴۸ء ،۱۹۶۵ء اور ۱۹۷۱ء کی جنگوں کے بعد کسی اور جنگ کا یقیناً برصغیر کے تمام شہریوں کو نقصان ہوگا، جنگ عظیم اول جس میں پچھتر لاکھ لوگ ہلاک ہوئے تھے اور جنگ عظیم دو م ، جس میں سوا کروڑ لوگ حق زندگی سے محروم ہوئے تھے ، کا یہی پیغام ہے کہ ہائیڈروجن بم اور دیگر تباہ کن بموں کے استعمال کی دھمکیاں دینے کی بجائے عالمی برادری آگے بڑھے اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مثبت کردار ادا کرے ۔
    1789ء کے انقلاب فرانس ،1917ء کے انقلاب روس اور1989ء میں کمیونزم کی شکست وریخت کے بعد یہ بات حقیقت بن چکی ہے کہ مصنوعی طور پر کوئی بھی ملک دوسرے ملک کو اپنی جکڑ بندی اور غلامی میں نہیں رکھ سکتا ۔ یہی اصول جموں وکشمیر پر لاگو ہو کر رہے گا ۔ بھارت 2016ء میں جس قدر تنازعات اور خلفشار کاشکار ہے اس سے پہلے کبھی بھی نہیں رہا ، ہندو انتہا پسندی اس قدر عروج پر ہے کہ پچیس تیس کروڑ بھارتی مسلمان ، چند سو ایکڑ کی ایک مسجد کاتحفظ بھی نہ کرسکے ،گائے کاذبیحہ ،میزائل چلانے سے بھی زیادہ خطرناک ہے، نصف سے زائد بھارتی آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزاررہی ہے ، بچوں کی مہلک بیماریوں سے ہلاکتوں کی تعداد ہر سال لاکھوں سے متجاوز ہے۔ بھارت کی کم ازکم سات ریاستوں میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں اور اس کے باوجود وہ ایٹمی تجربات اور فضائی ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک قوت بننے پر مجبور ہے ۔
    امریکہ ،برطانیہ ، فرانس اور جرمنی جیسے ترقی یافتہ ممالک جاپان، کوریا جیسے صنعتی ممالک اور چین جیسی عالمی طاقت اس حقیقت سے خوب آگاہ ہے کہ برصغیر میں قیام امن کی واحد صورت کشمیری علاقوں میں استصواب ہے ۔ عالمی برادری اس کردار کو ادا کرنے کے لیے تیار ہے اور پاکستان میں یوم کشمیر منا کر دنیا کو یہی پیغام دیا جاتاہے۔
     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس