Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

مجاہدملت قاضی حسین احمد

  1.  قاضی حسین احمد سابق امیرجماعت اسلامی پاکستان ہر دلعزیز مجاہد ملت،کروڑوں مسلمانوں کے محبوب قائد اور پوری ملت اسلامیہ کے عظیم المرتبت رہنماتھے۔ ان کی پوری زندگی اعلائے کلمة اللہ ، اقامت دین کی بھرپور جدوجہد ، اتحاد امت ، وطن عزیز میں قانون کی بالادستی و حکمرانی اور دنیا بھر میں جہاد کی پشتیبانی کے لیے وقف تھی ۔ وہ ہر وقت مستعد اور متحرک رہتے تھے ۔ اپنی صحت اور آرام کا بھی خیال نہیں رکھتے تھے ۔ مختلف عوارض اور امراض میں مبتلا ہونے کے باوجود وہ دعوتِ حق پیش کرنے کے کسی موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ بائیس سال تک جماعت اسلامی پاکستان کی امارت کی ذمہ داری بحسن و خوبی ادا کرنے کے بعد جب وہ اپنے گھٹنوں کی بیماری کی وجہ سے چلنے پھرنے میں دقت محسوس کرنے لگے تو انہوںنے 2009ءمیں منصب امارت کے نئے انتخاب کے موقع پر ملک بھر کے ارکان جماعت سے امارت کی ذمہ داریوں سے معذرت کرلی اور امارت کے منصب سے ریٹائرہوگئے تھے تو یہ کہاکرتے تھے کہ میں منصب امارت سے تو ریٹائرہوگیاہوں لیکن دعوت الی اللہ کے کام سے فارغ نہیں ہوا۔ یہ کام تومیں آخری سانس تک کرتارہوں گا۔ اُن کی یہ بات بالکل سچ ثابت ہوئی اور اپنی زندگی کے آخری ہفتے میں سانس کی بیماری میں چند روز مبتلا رہنے کے بعد جب انہیں قدرے افاقہ ہوا تو پشاور سے اسلام آباد آنے سے پہلے انہوںنے محترم امیرجماعت سیدمنورحسن صاحب سے لاہور فون پر بات کی کہ میں اب ٹھیک ہوگیاہوں اور اسلام آباد روانہ ہورہاہوںتو محترم امیرجماعت نے انہیں کچھ دن آرام کرنے کامشورہ دیا لیکن آرام کا لفظ قاضی حسین احمد کی لغت میں موجودہی نہیں تھا۔

    میرا قاضی حسین احمد سے تعلق ستّر کی دہائی میں قائم ہوگیاتھا جب میں مرکز جماعت میں ذمہ داری ادا کررہاتھااور وہ پہلے پشاور شہر کے امیرمنتخب ہوئے پھر کچھ عرصے بعد وہ قیم صوبہ کی ذمہ داری پر فائز ہوئے اور پھر امیرصوبہ منتخب ہوئے ۔ میاں طفیل محمد مرحوم کے ساتھ مجھے صوبہ سرحد کے دورے پر جانے کے موقع پر پشاور سے جنوبی اضلاع بنوں ، کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان تک قاضی صاحب کی گاڑی میں جسے وہ خود ڈرائیور کررہے تھے ،سفر کرنے کاموقع ملاتھا۔

    1978ءمیں جب وہ جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل کی ذمہ داری اداکرنے کے لیے پشاور سے منصورہ لاہور میں منتقل ہوئے تو مجھے نو سال تک اُن کے ساتھ ڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت کی حیثیت سے کام کرنے کا موقع ملا۔ 1987ءمیں وہ امیرجماعت اسلامی پاکستان منتخب ہوئے تو انہوںنے مرکزی مجلس شوریٰ کے مشورے سے مجھے جماعت کا سیکرٹری جنرل مقرر کردیا۔ اس کے بعد 1992ءسے لے کر 2009ءتک سترہ سال میں اُن کے ساتھ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان کی حیثیت سے کام کرتارہا۔ 2010ءمیں محترم امیرجماعت نے انہیں جامعہ مرکز علوم اسلامیہ منصورہ کی منتظمہ کمیٹی کا صدر مقرر کیا اور مجھے منتظمہ کمیٹی کے سیکرٹری اور جامعہ کے مہتمم کی ذمہ داری دی تو میں تین سال تک اُن کے ساتھ اس حیثیت میں کام کرتا رہا۔قاضی صاحب کی خواہش اور کوشش رہی کہ یہ جامعہ ایک معیاری اور مثالی درس گاہ بن جائے۔ چالیس سالہ تعلقات کے دوران میں نے انہیں ان تھک ، سراپا حرکت اور جرات مند، ہردلعزیز قائد ،ایک نہایت شفیق اور مہربان بھائی، اُمت مسلمہ کا مخلص ہمدرداور دنیا بھر میں جہاد کا پشتیبان پایا۔

    جہاد افغانستان:

    افغانستان کے نوجوانانِ اسلام کے ساتھ اُن کے روابط اور ذاتی تعلقات سن ستر کی دہائی کے آغاز ہی میں قائم ہوگئے تھے۔ وہ پشاور کے ایک کامیاب تاجر کی حیثیت سے کاروباری سلسلے میں کابل جاتے رہتے تھے ۔ افغان صدر داﺅدکے زمانے میں نوجوانانِ اسلام کے قائد جناب منہاج الدین گہیزؒکی خواہش پر مولانا مودودیؒ سے ملاقات کرانے کی غرض سے قاضی صاحب انہیں لاہور لے کر آئے ۔ میں ان دنوں مرکز جماعت اچھرہ میں کام کرتاتھا۔ مولانا مودودی ؒ سے ہدایات اور رہنمائی لے کر منہاج الدین گہیز واپس کابل پہنچے تو تھوڑے

    عرصے بعد افغان خفیہ ایجنسی نے اُن پر حملہ کرکے انہیں شہید کردیا۔ اس کے بعد اُن کے جانشین نوجوان انجینئر حبیب الرحمن نے بھی قاضی صاحب سے رابطہ قائم کرکے مولانا مودودی ؒ سے ملاقات کرانے کے لیے کہا تو قاضی صاحب اُن کو بھی لے کر اچھرہ پہنچے۔ مولانا مودودیؒ سے رہنمائی حاصل کرکے انہوںنے نوجوانان اسلام کی تنظیم وتربیت کا کام شروع کیا تو ان کو بھی افغان خفیہ ایجنسی جو کمیونسٹوں کے زیر اثر کام کرتی تھی ، شہید کردیا۔ اسلامی ذہن کے نوجوانوں کے لیے کابل میں دعوت و تنظیم کا کام کرنا جان جوکھوں میں ڈالنے کے مترادف بنادیاگیا۔ اس لیے ان میں سے جو لوگ ہجرت کرسکتے تھے وہ ہجرت پر مجبور ہوگئے۔ کچھ عرصے بعد کابل یونیورسٹی کے استاد برہان الدین ربانی افغانستان سے ہجرت کرکے پشاور میں قاضی حسین احمد صاحب سے ملے ۔ قاضی صاحب نے کچھ دنوں تک انہیں اپنا مہمان بنائے رکھا۔ پھر مستقل قیام کے لیے پشاور کے قریب موضع سعید آباد کے زمیندار ارباب محمد سعید خاں جو اُن دنوں امیرصوبہ سرحد کی حیثیت سے ذمہ داری نبھا رہے تھے کے حجرے کی مسجد کے امام کے طور پر ٹھہرادیا۔ انجینئر گلبدین حکمت یار بھی ہجرت کرکے پاکستان آگئے اور قاضی حسین احمد کے تعاون کے ساتھ پاکستان میں مقیم رہے۔

    1979ءمیں افغانستان جہاد کے آغاز سے لے کر روسی فوجوں کے انخلاءتک قاضی حسین احمد صاحب جہاد افغانستان کے مکمل پشتیبان رہے ۔ اور مختلف جہادی تنظیموں کے سربراہوں کے درمیان باہمی اختلافات کو دور کرانے کی کوشش بھی کرتے رہے۔ جہاد کی کامیابی کے بعد دوبڑی تنظیموں جمعیة اسلامی اور حزب اسلامی کے درمیان اختلافات کو ختم کرانے کی کوشش بھی کرتے رہے اور 1993ءسے شروع کی جانے والی اُن کی کوششیں بالآخر 1996ءمیں کامیاب ہوئیں اور استاد برہان الدین ربانی کی صدارت میں انجینئر گلبدین حکمت یار کو وزیراعظم بنانے میں قاضی صاحب کی مسلسل محنت اور کوششوں کا بڑا حصہ ہے۔

    جہاد کشمیر:

    1989ءکے اواخر میں بھارتی قابض فوج کے مقبوضہ جموںوکشمیر کے مسلمانوں پر بے پناہ مظالم ڈھانے اور انتہائی جبر وتشدد کے خلاف جموںوکشمیرکے مسلمان نوجوانوں نے بھرپور جرات مندانہ مزاحمت کرنے کے لیے اُٹھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کرلیاتو لاکھوں بھارتی فوجیوں نے مزاحمت کو کچل دینے کے لیے اور زیادہ ظلم و تشدد اور عفت مآب خواتین کی عصمت دری کے شرمناک واقعات کا اضافہ کردیا تو سینکڑوں کشمیری خاندان ہجرت کرکے آزاد کشمیر میں داخل ہونے لگے تو قاضی حسین احمد نے آگے بڑھ کر آزاد کشمیر کی حکومت اور وفاقی حکومت کو جھنجھوڑ ا کہ وہ مظلوم کشمیری مہاجرین کی مدد کرے ۔ان کی عدم توجہی کی بناءپر قاضی صاحب نے جماعت اسلامی پاکستان اور اس کی برادر تنظیموں کے کارکنوں کو مہاجرین کی امداد اور ریلیف کے کاموں پر لگادیا۔ 5جنوری 1990ءکو انہوںنے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کی تمام سیاسی و دینی جماعتوں اور زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے دردمندانہ اپیل کی کہ وہ کشمیری مہاجرین کی مدد کے لیے دامے، درمے ،سخنے تعاون کریں اور اس کے ساتھ مقبوضہ جموںوکشمیرمیں تحریک مزاحمت سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے پانچ فروری کو پورے ملک میں سارے کام کاج چھوڑ کر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائیں، جلسے منعقد کریں ، جلوس نکالیں اور مقبوضہ جموںوکشمیر کے مظلوم مسلمانوں کو حوصلہ دیں کہ پوری پاکستانی قوم اُن کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتی ہے اور آزادی کے لیے ان کی جدوجہد کی تائید کرتی ہے اور مسئلہ کشمیر کے مستقل حل کے لیے ان کی بھرپور اخلاقی ، مالی اور ہر طرح کی مدد کرنے کا عزم کرتی ہے۔ قاضی صاحب کی مخلصانہ اور درد مندانہ اپیل کو بے پناہ پذیرائی حاصل ہوئی ہے ۔ پہلے پنجاب کی صوبائی حکومت نے اور پھر وفاقی حکومت نے بھی 5فروری کی ملک گیرتعطیل کا فیصلہ کیا۔ دینی و سیاسی جماعتوں نے بھرپور تعاون کیا ۔ تاجروں نے ملک بھر

    میں مکمل ہڑتال کی اور ملک بھر کے بڑے بڑے شہروں کے علاوہ آزاد کشمیر کی سرحد پر انسانی ہاتھوں کی میلوں لمبی زنجیر بنا کر اقوام متحدہ اور دنیابھر کی حکومتوں کو باور کرادیا کہ پوری پاکستانی قوم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتی ہے اور بھارت سے آزادی کے لیے اُن کی جدوجہد کی پوری حمایت کرتی ہے۔ 1990ءسے لے کر اب تک 5فروری کا دن کشمیریوں سے یکجہتی کے اظہار کے لیے نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اور کشمیری یہ دن پورے جو ش و خروش سے مناتے ہیںاور یہ قاضی حسین احمد ؒ کا صدقہ جاریہ ہے جو کشمیر کی آزادی تک جاری ہے گا،ان شاءاللہ۔

    جہادبوسنیا:

    1992میں یورپ کے قلب میں واقع ایک مسلمان ملک بوسنیا ہرزوگونیا کے آزاد ہونے کے بعد سرب مسلح درندوں کے حملوں اور بے پناہ تشدد کے نتیجے میں سینکڑوں بوسنی مسلمان شہید کردیئے گئے اور ہزاروں کو زخمی کرکے اپنے گھروں اور جائیدادوں سے زبردستی بے دخل کردیا گیا ۔ ان کی املاک کو جلادیا گیا۔ مساجد تک کو شہید کردیا گیا۔ قاضی حسین احمدان بے پناہ مظالم پر تڑپ اٹھے ، انہوںنے یورپ میں قائم مسلمان فلاحی تنظیموں سے بوسنیا کے مسلمانوں کی مدد کرنے کی اپیل کی۔ برطانیہ میں قائم فلاحی تنظیم ”مسلم ایڈ“ نے خصوصی مہم چلائی اور بوسنیا کے مظلوم مسلمانوں کے ریلیف کے لیے گرم کپڑوں ،خوراک کے سامان اور نقد امداد بڑے پیمانے پر جمع کرکے قاضی حسین احمد کو دعوت دی کہ وہ ان کے ساتھ بوسنیا جا کر ریلیف کے سامان کی تقسیم اور نقد امداد پہنچانے کے کام کاآغاز اپنے ہاتھوں سے کریں ۔ قاضی صاحب کی صحت اُن دنوں خراب تھی مگر وہ فوراً بوسنیا جانے کے لیے تیار ہوگئے اور پاکستان کے کچھ نوجوان رضا کاروں اور یورپ میں مقیم مسلمان رضا کاروں کے ساتھ بوسنیا کا دشوارگزار سفر اختیار کیا اور مظلوم مسلمانوں اور ان کے رہنماﺅں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے نقد رقوم اور ریلیف کا بہت سامان تقسیم کرایا۔قاضی صاحب نے پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کے ڈاکٹروں سے بھی اپیل کی کہ وہ بوسنیا جا کر زخمیو ں اور بیماروں کا علاج کریں۔ چنانچہ کئی ڈاکٹر قاضی حسین احمد کی اپیل پر بوسنیا جا کر اپنی خدمات انجام دیتے رہے اور ہزاروں لوگوں کا علاج کیا۔

    جہاد فلسطین:

    جہاد فلسطین کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کے لیے انہوںنے پاکستان کے علاوہ ترکی،سعودی عرب،اُردن،قطر اور متحدہ عرب امارات اور بعض دوسرے اسلامی ممالک کے دورے کیے اور فلسطینی مہاجرین اور مجاہدین کی امداد کے لیے بھرپور جدوجہد کی۔

    دنیا بھر میں جہاں بھی مسلمانوں پر ظلم ہوتا، قاضی صاحب تڑپ اُٹھتے اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس قول پر عمل کرتے کہ مسلمان ایک جسد کی طرح ہیں ۔ جب ایک عضو تکلیف میں ہوتاہے تو پورا جسم بخار اور درد میں مبتلا ہوجاتاہے ۔

     پاکستان میں مختلف مسالک کے درمیان یکجہتی پیدا کرنے اور مشترکات پر سب کوجمع کرنے کے لیے قاضی صاحب کی جہود قابل ستائش ہیں۔ انہوںنے ملی یکجہتی کونسل کے قیام کے لیے بھرپور جدوجہد کی اور مختلف مسالک کے جید علمائے کرام ، مشائخ عظام اور دینی تنظیموں کے سربراہوں سے کئی کئی مرتبہ ملاقاتیں کیں ۔ ان کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے سیکولر عناصر کا مقابلہ کرنے اور ملک میں شریعت اسلامی کے نفاذ کے لیے مشترکہ جدوجہد کرنے کی کامیاب کوشش کی ۔ ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم سے ایک متفقہ ضابطہ اخلاق طے کروایا اور اس پر تمام مسالک کے جید علمائے کرام کے دستخط کروانے میں کامیاب ہوئے ۔ اس کے نتیجے میں اغیار کی ساز ش ناکام ہوئیں اور پاکستان میں یکجہتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضا پیدا ہوئی۔اپنی وفات سے چند ماہ قبل انہوںنے اسلام آباد میں کامیاب انٹرنیشنل کانفرنس منعقد کرائی۔

    ایران میں آیت اللہ تسخیری کی قیادت میں ایک اہم تنظیم دنیا بھر کے مسلمانوں کے تمام مسالک کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے اور ان کے درمیان قربت پیدا کرنے کے لیے ماہ ربیع الاول میں ہفتہ وحدت منانے کا اہتمام کرتی ہے۔ ایسے ایک موقع پر مجھے قاضی حسین احمد صاحب کے ساتھ تہران جانے کا موقع ملا تھا ۔ وہاں دنیا بھر کے علماءو مشائخ اور دینی و اسلامی جماعتوں کے ذمہ دار جمع تھے۔ ایران کے صدر نے کانفرنس کا افتتاح کیا تھا۔ اس کانفرنس کے ایک سیشن کی صدارت قاضی حسین احمد سے کرائی گئی ۔ انہوںنے قریباً آدھ گھنٹے تک فارسی زبان میں صدارتی خطبہ ارشاد فرمایا۔جس میں علامہ اقبال کے فارسی اشعار برجستہ پڑھے۔ اس کے بعد نماز ظہربا جماعت ادائیگی کے لیے آیت اللہ تسخیری نے اعلان کیا کہ قاضی حسین احمد امامت کرائیں گے اور ہم سب ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے ۔ تہران میں شاید پہلی مرتبہ دنیا بھر کے مسلمان رہنماﺅںسے جو مختلف مسالک سے تعلق رکھتے تھے ، اکٹھے قاضی حسین احمد صاحب کی امامت میں نماز ظہر ادا کی اور دنیا بھر کو یہ پیغام دیا کہ دنیا بھر کے مسلمان اکٹھے ہوسکتے ہیں اوربلالحاظ مسلک ایک امام کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں۔

    قاضی حسین احمد میرے انتہائی شفیق بھائی تھے ،ہمارے دونوں خاندانوں کے درمیان محبت والفت کے تعلقات قائم رہے۔ ان کی بیٹیاںمیری بیٹیوں کی بہنوں کی طرح ہیں اور میرا ایک بیٹاقاضی صاحب کے بیٹے ڈاکٹر انس فرحان قاضی کا گہرا دوست ہے۔ میرے دوبیٹوں اور ایک بیٹی کا نکاح انہوںنے پڑھایاتھا۔ مجھے تین جنوری کو معلوم ہواکہ ان کی طبیعت ناساز ہے ۔ میں نے 4 جنوری کو فون کرکے عیادت کی تو معلوم ہواکہ انہیں سانس کی تکلیف سے افاقہ ہے۔ میں ان کی مکمل صحت یابی کے لیے پانچ جنوری کی نماز عشاءتک دعائیں کرتارہا۔ اُسی رات نصف شب کے بعد یہ افسوسناک اطلاع مل گئی کہ وہ خالق حقیقی سے جا ملے ہیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیہِ رَاجِعُونَ۔

    6جنوری کو صبح آٹھ بجے پشاور کے لیے روانہ ہوا۔ ان کی نماز جنازہ سے پہلے میں محترم امیرجماعت اور قیم جماعت کے ساتھ اُن کے جسد خاکی کے ساتھ کھڑا تھاتو سوچ رہاتھاکہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد برحق ہے کہ ”کُلُّ مَن عَلَیہَا فَانٍ o وَّیَبقٰی وَجہُ رَبِّکَ ذُو الجَلاَلِ الاِِکرَامِ (الرحمن۵۵:۶۲۔۷۲)۔میرے دل میں یہ خیال آرہاتھاکہ اللہ کا یہ بندہ اپنی زندگی کی آخری سانس تک اقامتِ دین کی جدوجہد میں مصروف رہا ۔ دعوت الی اللہ کے کام سے کبھی فارغ نہ ہوا ۔ اب اللہ تعالیٰ کے حکم سے ابدی نیند سوگیا اور اب قیامت تک آرام کرتارہے گا۔

    اللہ تعالیٰ قاضی صاحب کی عمر بھر کی خدمات جلیلہ کو شرف قبولیت بخشے ،ان کی خطاﺅں سے درگزر فرمائے ،انہیں جنت الفردوس میں بلند مقام عطا فرمائے اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلائے ،آمین۔

    ان کا پورا خاندان ان کے دنیابھر میں پھیلے ہوئے احباب اور پوری جماعت اسلامی بلکہ پوری ملت اسلامیہ ایسے مردحق سے محروم ہوگئی ہے جس کی مثال مشکل سے ملے گی لیکن اللہ تعالیٰ اپنے دین کی خدمت کے لیے جس بندے سے جتنا کام لینا چاہے ، لیتا رہے گا اور قاضی صاحب نے جس مشن کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کررکھی تھی وہ مشن ان شاءاللہ پورا ہوگا اور اس کا ثواب قاضی صاحب کو بھی ملتا رہے گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں اُن کے نقشِ قدم پر چلائے اور انہوںنے جس ہمت،حوصلے ، ولولے اور محنت کے ساتھ دین کی خدمت کی ، ہمیں بھی اُسی طرح دین کا کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، آمین۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس