Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

مجاہدِ ملت قاضی حسین احمد

  1. حافظ محمد ادریس


    کل من علیھا فان
    ۵ اور۶ ؍جنوری۲۰۱۳ء کی درمیانی شب ڈیڑھ بجے کے قریب ٹیلیفون کی گھنٹی بجی۔ ٹیلیفون ذرا فاصلے پر لائونج میں پڑا تھا۔ میں نے سوچا کہ اس وقت جو فون آیا ہے وہ معمول کا فون نہیں ہے، معلوم نہیں کیا خبر لایا ہے، اللہ خیر کرے۔ میں جلدی سے بستر سے نکلا، ریسیور اٹھایا۔ منصورہ ایکسچینج آپریٹر برادرم عبدالودود خان نے نہایت غمگین اور گلوگیر لہجے میں انتہائی اندوہناک خبر سنائی۔ دل یقین نہیں کررہا تھا مگر ایسی خبر مرکزی ایکسچینج سے جھوٹی نہیںہوسکتی تھی۔ عبدالودود کو قاضی صاحب کے ساتھ جماعت کے ہر کارکن کی طرح بے پناہ محبت ہے مگر اس کا ایک اور تعلق بھی کئی سال تک قاضی صاحب سے بہت قریبی رہا۔ اس نے قاضی صاحب کے گارڈ کی حیثیت سے ان کے سفر و حضر میں ان کا ساتھ دیا۔ اس کا تعلق بھی صوبہ خیبر پختونخواہ سے ہے۔ میری زبان پہ بے ساختہ آگیا۔ یہ خبر کس نے دی ہے اور کب؟ اس نے کہا اسلام آباد سے قاضی صاحب کے بچوں نے ابھی اطلاع دی ہے۔ ترآنکھوں کے ساتھ میری زبان پر انّا للّٰہ وانّا الیہ راجعون جاری ہوگیا۔ پھر میں نے اپنے اہلِ خانہ کو اطلاع دی۔ ہر شخص غمزدہ اور دم بخود تھا۔ تحریکِ اسلامی، ملتِ اسلامیہ پاکستان، پورے عالم اسلام اور دنیا بھر کی جہادی تحریکوں کے لیے یہ ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ یہ خبر ظاہر ہے پورے ملک بلکہ پوری دنیا میں لمحات میں پھیل گئی۔ بس پھر کیا تھا، اطلاع دینے کے لیے اور اس اطلاع کی تصدیق و تفصیل جاننے کے لیے ٹیلیفون کالوں اور موبائل پر ایس ایم ایس پیغامات کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا۔ ہر جنازے پر کل من علیھا فانکی تلاوت کرکے پر تاثیر تذکیر کرنے والا عظیم مربیّ و مزکّی آج خود اس آیت کے مطابق دنیائے فانی سے کوچ کر گیا تھا۔ دل کہتا تھا کہ کاش آج موت کو موت آجاتی مگر نہیں، بے چاری موت اور فرشتۂ اجل سب اللہ کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیتے ہیں!
    چیتے کا جگر اور شاہین کا تجسّس قاضی صاحب کی پہچان تھی، ہر لمحے اپنی منزل کی جانب بڑھتے رہنے کی آرزو اور سنگلاخ وادیوں میں جرأت مندانہ پیش قدمی!
    چیتے کا جگر چاہیے شاہیں کا تجسس
    جی سکتے ہیں بے روشنیِ دانش و فرہنگ
    نگاہ پاک ہے تیری تو پاک ہے دل بھی
    کہ دل کو حق نے کیا ہے نگاہ کا پیرو!
    حقیقتِ ابدی ہے مقامِ شبیری
    بدلتے رہتے ہیں اندازِ کوفی و شامی
    تیرے نفس سے ہوئی آتشِ گل تیز تر
    مرغِ چمن! ہے یہی تیری نوا کا صلہ !
    آسماں سجدہ کند برسرِ خاکے کہ براَو
    یک دَو تن، یک دو نفس، بہرِ خدامی نشینند
    پہلی ملاقات اور مابعد
    پہلی بار قاضی صاحب سے پشاور میں ان کے کاروباری دفتر میں ملاقات ہوئی تھی۔ بڑے تپاک سے ملے۔ پشاوری چائے اور بسکٹوں سے تواضع کی۔ ان کی شخصیت ظاہری طور پر بھی بہت پرکشش تھی اور ان کے چہرے سے احساس ہوتا تھا کہ وہ اپنے اندر انقلابی روح لیے بیٹھے ہیں۔ بعد کے ادوار میں قاضی صاحب پشاور شہر کے امیر جماعت، پھر صوبہ سرحد کے صوبائی امیر بنے۔ میں اس دور میں بیرون ملک تھا۔ جماعت کے مرکزی و صوبائی قائدین کے بارے میں دوست احباب کے خطوط سے معلومات ملتی رہتی تھیں۔ پھر معلوم ہوا کہ ضیا الحق کے مارشل لا میں پاکستان قومی اتحاد (پی این اے) کی جماعتوں نے انتخابات کے لیے بنیادی انتظامات اور دیگر امور نپٹانے کی خاطر جنرل ضیا الحق کی درخواست پر عبوری حکومت میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے۔ مجھے یہ خبر اچھی تو نہ لگی مگر چونکہ یہ اجتماعی فیصلہ تھا اس لیے بیرون ملک بیٹھے ہوئے ہم لوگوں نے بھی اسے قبول کرلیا۔ اسی دور میں معلوم ہوا کہ جماعت اسلامی کے قیم چودھری رحمت الٰہی صاحب، پروفیسر غفور احمد صاحب اور محمود اعظم فاروقی صاحب کے ساتھ جماعت کی تین رکنی ٹیم میں کابینہ میں چلے گئے ہیں۔ صوبہ سرحد کے امیر قاضی حسین احمد صاحب کو مرکز جماعت میں میاں صاحب کے ساتھ قیم کی ذمہ داری پر فائز کر دیا گیا ہے۔ کینیا میں ہمارے ساتھی قاضی صاحب کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں جانتے تھے۔ مجھ سے انھوںنے تبصرہ مانگا تو میں نے مختصر طور پر کہا: ’’امیر و قیم دونوں اپنی اپنی ذات میں خوب ہیں، بزرگی کا ہوش اور جوانی کا جوش مل کر حسین امتزاج قائم کریں گے۔‘‘
    کینیا آنے کی دعوت
    اس دوران جب پہلی مرتبہ پاکستان آیا تو منصورہ میں قائدین سے ملاقات کے دوران قاضی صاحب سے بھی تفصیلی تبادلۂ خیالات ہوا۔ وہ اس زمانے میں زیادہ تر تنظیمی دورے اور جماعتی امور نپٹا رہے تھے۔ مجھ سے کینیا کے حالات پوچھتے رہے اور پھر فرمایا: ’’اس ملک کو دیکھنے کا شوق ہے، کبھی موقع ملا تو ان شاء اللہ ضرور وزٹ ہوگی۔‘‘ میں نے عرض کیا کہ ہمیں آپ کی آمد کی بڑی خوشی ہوگی۔ چنانچہ اس کے جلد ہی بعد ڈاکٹر سید مراد علی شاہ صاحب کے ہمراہ سوڈان میں ایک کانفرنس میں شرکت کے بعد کینیا تشریف لائے۔ ان کی آمد کی اطلاع ہمیں پہلے سے مل چکی تھی۔ ہم نے ان کے لیے کئی پبلک خطابات اور اپنے تمام مراکز کے دوروں کا پروگرام ترتیب دیا۔ یہ پروگرام خاصے ٹائٹ تھے اور بعض مقامات کا سفر بھی طویل مگر قاضی صاحب ہمارے اس شیڈول کے مطابق پوری مستعدی اور مسرت کے ساتھ ہر پروگرام میں شریک ہوئے۔ جناب قاضی صاحب کا وہ دورہ یادگار تھا۔ اس سے قبل امیر جماعت محترم میاں طفیل محمد صاحب اور مولانا خلیل حامدی صاحب بھی کینیا کا دورہ کرچکے تھے۔ ان کے علاوہ پروفیسر خورشید احمد صاحب اور خرم مراد صاحب بھی اپنی شفقتوں سے نواز چکے تھے۔
    فرمودۂ قلندر
    نیروبی کی مرکزی جامع مسجد ایک تاریخی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں قاضی صاحب کا خطاب ’’جہادِ افغانستان‘‘ کے موضوع پر تھا۔ اس زمانے میں جہاد اپنے جوبن پر تھا اور پوری دنیا کی نظریں اس جہاد کے نتائج کی تلاش میں تھیں۔ ابھی کافی سفر باقی تھا مگر قاضی صاحب نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ میں اپنے بھائیوں کی خدمت میں یہ بشارت اور پیشگی مبارکباد پیش کرنا چاہتا ہوں کہ ان شاء اللہ سوویت یونین کا قبرستان سرزمینِ افغانستان ہوگی۔ پھر انھوں نے فرمایا ’’ہمارے دانش ور یہ بات کہتے نہیں تھکتے کہ روس جہاں بھی جاتا ہے کبھی واپس نہیں پلٹتا اور یہ بائیں بازو کے دانش ور اپنے اس دعوے کو تاریخی حقیقت قرار دیتے ہیں۔ میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ روس کے بارے میں یہ خود ساختہ حقیقت محض پروپیگنڈا ہے جبکہ اس سے بڑی، پائیدار اور ثابت شدہ حقیقت یہ ہے کہ غیرت مند افغانوں نے تاریخ کے کسی دور میں غلامی قبول نہیں کی۔ وہ آزادی کے متوالے اور اس کے لیے سب کچھ قربان کر دینے کے جذبے سے سرشار ہیں۔ برطانیہ عظمیٰ کی فوج کا جو انجام افغانستان میں ہوا تھا اسے انگریز فوج اور ان کے مورخین آج تک نہیں بھولے۔ روس کا انجام ان سے بھی زیادہ عبرت ناک ہوگا۔‘‘ کینیا کے بہت سے احباب روس کی شکست اور اس کی فوجوں کی پسپائی کے بعد قاضی صاحب کے ان الفاظ کو یاد کرتے تھے اور اہلِ دانش پکار اٹھتے تھے: ’’قلندر ہر چہ گوید دیدہ گوید‘‘۔
    رازدانِ افغانان
    قاضی صاحب افغانوں کی تاریخ، افتادِ طبع، نسلی و ملّی روایات ہر چیز سے بخوبی واقف تھے اور پھر روس کے مقابلے پر جہادِ افغانستان میں تو وہ اگلے مورچوں پر جا کر خود، سر بکف افغان و دیگر نسلوں کے مسلمان مجاہدین کے ساتھ جنگ میں شریک بھی ہوئے تھے۔ ان کی بات محض علمی تجزیے کی حیثیت نہیں رکھتی تھی بلکہ عملی طور پر وہ اس کے جملہ رموز و اسرار اور نشیب و فراز کو جانتے تھے۔ اس جہاد کے دوران وہ جب بھی افغانوں کی فتح اور روس کی شکست کا تذکرہ کرتے، پورے ایمان و یقین کے ساتھ کرتے۔ افغانوں کی تعریف سے اقبال کا کلام بھرا پڑا ہے۔ قاضی صاحب اس معاملے میں علامہ کے اشعار اپنی تقاریر و خطابات اور مضامین و مقالات میں یوں پیش کرتے تھے کہ وہ نگینوں کی طرح چمکتے اور پھولوں کی طرح مہکتے تھے
    آسیا یک پیکرِ آب و گلِ است
    مِلّتِ افغاں در آں پیکر دل است
    از فسادِ او ، فسادِ آسیا
    درکشادِ او ، کشادِ آسیا!
    اسی طرح اردو میں علامہ کی ہر کتابِ شعر و سخن میں بھی جگہ جگہ غیور افغانوں کا ایمان افروز تذکرہ ملتا ہے
    ہو تیرے بیاباں کی ہوا تجھ کو گوارا
    اس دشت سے بہتر ہے نہ دلی نہ بخارا
    جس سمت میں چاہے صفت سیلِ رواں چل
    وادی یہ ہماری ہے ، وہ صحرا بھی ہمارا
    غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں
    پہناتی ہے درویش کو تاجِ سرِ دارا
    دنیا کو ہے پھر معرکۂ روح و بدن پیش
    تہذیب نے پھر اپنے درندوں کو ابھارا
    اللہ کو پامردیٔ مومن پہ بھروسہ
    ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا
    اخلاصِ عمل مانگ نیا گانِ کہن سے
    شاہاں چہ عجب گر بنوازند گدارا!
    سفر و حضر
    ۱۹۸۵ء میں مرکز جماعت کے حکم پر میں کینیا سے واپس پاکستان آیا۔ مرکز جماعت میں رپورٹ کی تو محترم میاں طفیل محمد صاحب نے مجھے حکم دیا کہ میں مرکزی نظم میں بطور نائب قیم ذمہ داری ادا کروں۔ میں نے امیر جماعت کے حکم پر سر تسلیم خم کر دیا۔ اس وقت قاضی صاحب قیم جماعت تھے اور محترم چودھری محمد اسلم سلیمی صاحب ان کے ساتھ نائب قیم کے طور پر کام کر رہے تھے۔ اس عرصے میں میری ذمہ داری فیلڈ میں تنظیمی و تربیتی امور سے متعلق اور ملک بھر میں مسلسل دورے اور پروگراموں میں شرکت تھی۔ اکثر قیم جماعت کے ساتھ اکٹھے سفر کرنے کا موقع ملا۔ کئی پروگراموں میں ان کے ساتھ شرکت کیا کرتا تھا۔ سفر میں ان کی نفاستِ طبع اور بھی کھل کر سامنے آئی۔ ڈرائیور اگر بلاوجہ ہارن بجاتا تو سرزنش فرماتے کہ ہارن ناگزیر ضرورت کے بغیر بجانا تہذیب و ثقافت کے خلاف ہے۔ ان کے ساتھ چلنے والے ڈرائیور بہت محتاط ہوا کرتے تھے۔ غلط اوورٹیکنگ یا پیدل چلنے والوں کا خیال نہ رکھنے پر قاضی صاحب ناراض ہوا کرتے تھے۔ خوش خوراک تھے مگر میں نے بارہا دیکھا کہ نہایت سادہ اور روکھا سوکھا کھانا بھی ملا تو اسی طرح شوق سے کھایا جس طرح اپنے مرغوباتِ اکل و شرب شوق سے کھاتے پیتے تھے۔ کبھی کسی چیز کو ناپسند نہیں کیا۔
    منصبِ امارت
    قاضی صاحب اور راقم مغربی اور جنوبی اضلاع کے طویل تنظیمی دورے پر تھے جب ۱۹۸۷ء میں امارتِ جماعت کے لیے انتخاب ہو رہا تھا۔ مظفر گڑھ میں رات کے وقت ہمیں ٹیلیفون سے اطلاع ملی کہ امیر جماعت کے انتخاب کا نتیجہ آگیا ہے اور ناظمِ انتخاب نے امیر جماعت میاں طفیل محمد صاحب کی خدمت میں یہ پیش کر دیا ہے۔ اس کے مطابق قاضی حسین احمد صاحب کو امیر منتخب کیا گیا تھا۔ یہ خبر سن کر قاضی صاحب گہری سوچ میں پڑ گئے اور پھر اللہ سے اپنے لیے خودبھی استقامت کی دعا کی اور تمام دوستوں سے بھی یہی درخواست کی۔ جماعت کے حلقوں میں بحیثیتِ مجموعی اس نتیجے سے خوشی کی لہر دوڑ گئی کیونکہ فیلڈ میں کام کرنے والے کارکنان و ذمہ داران بالخصوص نوجوان چاہتے تھے کہ جماعت اسلامی کو زیادہ زور و شور سے میدان میں نکلنا چاہیے۔ قاضی صاحب نے اپنے بائیس سالہ دورِ امارت (۱۹۸۷ء تا ۲۰۰۹ء) میںجماعت کو عوامی اور پاپولر سیاسی جماعت بنانے کے لیے مختلف منصوبے شوریٰ کے سامنے پیش کیے۔ یہ تمام منصوبے مشاورت میں کثرتِ رائے یا اتفاقِ رائے سے طے کیے جاتے رہے۔ ان میں پاسبان اور شباب ملی کا قیام، پاکستان اسلامک فرنٹ کا قیام، ملی یکجہتی کونسل، شریعت محاذ، ممبر سازی مہم اور مختلف دیگر پلیٹ فارم انھی کی کاوشوں کا نتیجہ تھے۔ ملک بھر میں کاروانِ دعوت و محبت اور مختلف مواقع پر دیگر عوامی کارواں اور ریلیاں قاضی صاحب کے ذہنِ رسا اور متحرک قیادت کے نتیجے میں وجود میں آئیں۔ قاضی صاحب کے دورِ امارت میں کافی عرصے کے بعد جماعت اسلامی کے کل پاکستان اجتماعاتِ عام مسلسل منعقد ہوئے۔ پہلا نومبر۱۹۸۹ء میں مینار پاکستان پر ہوا۔ دوسرا نومبر۱۹۹۵ء میں پھر مینار پاکستان پر ۔ تیسرا اکتوبر۱۹۹۸ء میں فیصل مسجد اسلام آباد میں۔ چوتھا اکتوبر۲۰۰۰ء میں قرطبہ نزد چکری میں۔ پانچواں اکتوبر۲۰۰۴ء میں اضاخیل، نوشہرہ میں۔ چھٹا نومبر۲۰۰۷ء شامکے بھٹیاں میں ارکان و امیدواران۔ ساتواں اجتماعِ عام اکتوبر۲۰۰۸ء میں مینار پاکستان میں ہوا۔ ان اجتماعات پر کافی اخراجات ہوئے اور مشاورتوں میں کئی احباب ان کے انعقاد کے خلاف بھی آرا دیتے رہے مگر کثرتِ رائے سے فیصلے ہوئے اور سچی بات یہ ہے کہ ان اجتماعاتِ عام نے جماعت کے کام میں خاصی وسعت پیدا کی اور جمود ٹوٹا، تحرّک پیدا ہوا۔
    رضا بھی اللہ کے لیے، ناراضی بھی اسی کے لیے    
    ۲۰۰۲ء کے انتخابات سے قبل قاضی صاحب کی کاوشوں سے دینی جماعتوں کا سیاسی اتحاد، متحدہ مجلس عمل وجود پذیر ہوا جس نے انتخابی میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ ہم ان تمام امور کی تفصیل کسی اور مضمون میں بیان کریں گے۔ قاضی صاحب کے ساتھ بطور امیر صوبہ بارہ سال اور بطور نائب امیر جماعت چھ سال کام کرنے کا موقع ملا۔ قاضی صاحب سے کئی امور میں اختلاف بھی ہوتا تھا۔ جماعت میں اختلافِ رائے کی روایت موجود ہے اور ہر دور میں ہرامیر کے ساتھ حکمتِ عملی کے معاملات میں رفقا نے اختلافِ رائے کیا ہے۔ ایسے کئی مواقع آئے کہ اس اختلاف کی وجہ سے قاضی صاحب نے قدرے ناراضی کا اظہار بھی کیا۔ ان کی ناراضی وقتی ہوتی تھی، میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ وہ اپنے دل میں گرہ لگالیں کہ فلاں شخص میرا مخالف ہے۔ جو لوگ ہر معاملے اور فیصلے پر قاضی صاحب کی مخالفت پر ادھار کھائے بیٹھے تھے ان احباب اور ارکان جماعت کے خلاف بھی قاضی صاحب نے کبھی کوئی تادیبی کارروائی نہیں کی۔ اپنا معاملہ تو یہ تھا کہ جن باتوں سے اتفاق ہوتا تھا اس کی کھل کر حمایت اور جن سے اختلاف ہو ان کی مناسب فورم کے اوپر مخالفت میں رائے کا اظہار کیا جاتا تھا۔ جب فیصلہ اس رائے کے برعکس ہوجاتا تو راقم نے ہمیشہ اس فیصلے کو اجتماعی فیصلہ سمجھتے ہوئے خوش دلی سے قبول کیا۔ مجھے دو تین مواقع یاد ہیں کہ جب قاضی صاحب نے مجلس میں سخت ردعمل کا اظہار کیا مگر بعد میں اس پر معذرت بھی کی اور محبت ودل جوئی کے ساتھ تحسین بھی فرمائی۔ مجھے مکمل یقین ہے کہ ان کی ناراضی بھی لوجہ اللہ ہوتی تھی اور رضا بھی لوجہ اللہ۔ ناراضی کے بعد جب وہ اعتذار کرتے تو بہت پیارے لگتے تھے!!
    حق رائے
    ۹-۱۰؍جون ۲۰۰۱ء میں منعقدہ مرکزی مجلس شوریٰ کے ایک فیصلے میں طے کیا گیا کہ ہر سطح کے امرا دو میقات پوری کرنے کے بعد تیسری میقات کے لیے ذمہ داری پر مقرر نہیں کیے جائیں گے۔ البتہ امیر جماعت اور صوبائی امرا اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔ میں نے اس فیصلے سے قبل یہ رائے دی کہ امرائے صوبہ کو بھی دیگر ذیلی امرا کی طرح استصواب کے ذریعے امیر جماعت مقرر کرتے ہیں، اس لیے ان کی بھی دو میقات کی ذمہ داری کے بعد سبک دوشی ضروری قرار دی جائے۔ ہاں امیر جماعت کا تو انتخاب ارکانِ جماعت کی حتمی رائے کے عین مطابق ہوتا ہے، اس لیے اس میں دستوری لحاظ سے ردو بدل نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا استثنا صرف امیر جماعت کو ہونا چاہیے۔ راقم اس وقت پنجاب کا صوبائی امیر تھا۔ میری رائے کے برعکس چونکہ قرار داد منظور ہوچکی تھی، اس لیے میں نے خاموشی اختیار کرلی۔ تاہم جماعتی دستور کے مطابق اپنا حق استعمال کرتے ہوئے مجلس عاملہ اور مجلس شوریٰ کے اگلے اجلاسوں میں پھر یہ مسئلہ پیش کیا۔ قصہ مختصر اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ منعقدہ ۷تا ۹ جنوری ۲۰۰۲ء میں بحث و دلائل کے بعد میری یہ تجویز منظور ہوگئی۔ اب اگلے صوبائی استصواب میں مولانا عبدالحق صاحب (امیر صوبہ بلوچستان)، پروفیسر محمد ابراہیم صاحب (امیر صوبہ سرحد)، اسد اللہ بھٹو صاحب (امیر صوبہ سندھ) اور راقم الحروف (امیر صوبہ پنجاب) اپنی ذمہ داریوں سے سبک دوش ہوگئے۔ قاضی صاحب نے مجلس شوریٰ میں فرمایا کہ چاروں سابق امرائے صوبہ کو مرکز میں نائب امیر جماعت کے طور پر شامل کرلیا جائے۔ میں نے اصولی طور پر اس رائے کی مخالفت کی۔ میرا نقطۂ نظریہ تھا کہ ضرورت کے تحت کسی ساتھی کا تقرر بطور نائب جماعت کرنے میں کوئی ہرج نہیں مگر یہ روایت کہ جو لوگ امارتِ صوبہ سے فارغ ہوئے ہیں، انھیں یہ ذمہ داری سونپی جائے، درست نہیں ہے۔
    اطاعت امیر
    محترم قاضی صاحب نے باقی تین حضرات کا تقرر فرما دیا اور مجھ سے [ایک مجلس میں بھی] اور انفرادی طور پر بھی پیار بھرا شکوہ کیا کہ میں نے ان کے ساتھ ان کی ٹیم میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ جب مجھے یہ معلوم ہوا تو میں نے عرض کیا ’’حاشاو کلّا میرے ذہن کے کسی گوشے میں بھی یہ خیال نہیں کہ میں آپ کی ٹیم کا حصہ نہیں ہوں۔ میں نے آپ کے ساتھ آپ کے نائب قیم کے طور پر کئی سال پوری دلجمعی کے ساتھ کام کیا۔ پھر بارہ سال بطور امیر صوبہ بھی آپ کے زیر قیادت اپنی صلاحیت و اوقات کے مطابق مسلسل کام کیا۔ میں کیسے آپ کی قیادت پر عدمِ اطمینان کا اظہار کرسکتا ہوں؟ آپ میرے قائد ہیں اور بطورِ امیر جماعت میں آپ کے حکم فی المعروف کا مکمل پابند ہوں۔ میں نے تو ایک اصولی بات کی تھی مگر آپ نے مشاورت سے اس کے خلاف فیصلہ فرما دیا۔ میں اپنی اس رائے کے باوجود آپ کے فیصلے کا دل و جان سے احترام کرتا ہوں۔‘‘ فرمانے لگے ’’آپ احترام کرتے ہیں تو نائب امیر کی ذمہ داری سے کیوں بھاگتے ہیں؟‘‘ میں نے عرض کیا ’’بھاگ کے کہاں جانا ہے، جینا اور مرنا ان شاء اللہ اسی قافلے کے ساتھ ہے۔‘‘ فرمایا ’’تو ٹھیک ہے تمھارا تقرر بھی میں نے کر دیا ہے، حلف اٹھائو اور کام کرو۔‘‘ میں نے سر تسلیم خم کر دیا۔
    فقہی امور
    مجالس کی گفتگو اور بحث کے علاوہ دو تین اور امور پر بھی قاضی صاحب کو مجھ سے اور مجھے ان سے اختلاف ہوتا تھا مگر اپنے اختلاف کے اظہار کے باوجود ہماری باہمی عقیدت و محبت اور احترام میں کبھی ذرّہ برابر بھی رخنہ نہ پیدا ہوا۔ میرے کسی فقہی عمل پر انھوں نے مجھے کبھی برا بھلا نہیں کہا۔ البتہ ان معاملات میں وہ اپنی رائے پر اصرار ضرور کرتے تھے۔ بطور چیئرمین شہدائے اسلام فاؤنڈیشن، میں ان شہدا کے غائبانہ نماز جنازہ کا اہتمام کیا کرتا تھا جن کے جسد خاکی افغانستان میں یا وادیٔ کشمیر میں شہادت کے بعد وہیں دفن کردیے جاتے تھے۔ محترم قاضی صاحب غائبانہ نماز جنازہ کے حق میں نہیں تھے اور وہی کیا تمام حنفی علما اس بارے میں اختلاف رکھتے ہیں۔ میں نے ہمیشہ یہ رائے دی کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مرتبہ غائبانہ نماز جنازہ ادا کرنے کا عمل ثابت ہے تو میرے نزدیک فقہا کی رائے کے مقابلے میں وہ زیادہ ارجح واولیٰ ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمل کے بعد کبھی اس کی ممانعت نہیں فرمائی۔ دوسرے یہ بات بھی اپنی جگہ بڑی اہم ہے کہ اگر کوئی عمل مباح ہو اور اس کے ساتھ مصالح عامہ کے تحت کوئی فائدہ حاصل ہوتا ہو تو اس پر عمل کرنے میں ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔ ہاں البتہ اگر کوئی شخص وہ عمل نہ کرنا چاہتا ہو تو اسے مجبور بھی نہیں کرنا چاہیے۔ جن خاندانوں کے نوجوان شہادت پاجاتے ہیں ان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے لخت جگر کا جنازہ پڑھ سکیں۔ پھر اس جنازے کے ذریعے ایک بڑی تعداد جمع ہوجاتی ہے۔ موقع محل اور شہادت کے واقعات ایسے ایمان افروز ہوتے ہیں کہ مجمع کے سامنے اسلامی دعوت اور جہاد کو اجاگر کرنے کا موثر ذریعہ بن جاتے ہیں۔ مرحوم کی وسعتِ قلبی کا اس سے پتا چلتا ہے کہ بعد میں چند مواقع پر خود قاضی صاحب نے غائبانہ نماز جنازہ میں شرکت فرمائی،اور اللہ نے ان کی رحلت کے بعد پانچ براعظموں میں ان کی غائبانہ نماز جنازہ کا بھی اہتمام فرمایا۔ اللہ یہ سب دعائیں اپنے مجاہد بندے کے حق میں قبول ومنظور فرمائے اور ان کے درجات بلند سے بلند تر ہوتے چلے جائیں۔ 
    مسنون نمازِ جنازہ اور سفری نمازیں
    دوسری بات نماز جنازہ میں دعا بالجہر کا معاملہ تھا۔ میں جنازے میں سِرّی اور جہری دونوں طریقوں پر موقع محل کی مناسبت سے عمل کرتا ہوں کیونکہ یہ دونوں طریقے سنّت سے ثابت ہیں، اس لیے مسنون ہیں۔ قاضی صاحب بھی ایسے مواقع پر جنازے میں شرکت فرماتے تھے مگر خود جہری دعا کے ساتھ جنازہ پڑھانے کے قائل نہ تھے۔ تیسرا معاملہ سفر کے دوران جمع بین الصلوٰتین کا تھا۔ وہ اس کے قائل نہیں تھے۔ بہرحال کبھی کبھار سفر کی نوعیت وکیفیت ایسی ہوتی کہ وہ بھی اس پر عمل فرمالیتے۔ مگر ایسے مواقع بہت شاذ دیکھنے میں آئے۔ قاضی صاحب کے پیش رو میاں طفیل محمد ؒ بھی جمع بین الصلوٰتین نہیں کرتے تھے۔ اس کے علاوہ بھی کئی امور میں اختلاف رائے ہوتا تھا مگر ان کی محبت اور میری عقیدت میں کبھی کوئی رخنہ پیدا نہ ہوا۔ وہ بہت عظیم انسان تھے۔ ان کا دل سمندر کی طرح وسیع و عمیق تھا اور ان کا حوصلہ ہمالیہ سے بلند تر تھا۔ وہ محبت فاتح عالم کی تفسیر تھے۔ اقبال کا یہ شعر ان کی زبان پر بھی ہوتا تھا، ان کے دل میں بھی اور ان کے طرزِ عمل بھی
    یقیں محکم، عمل پیہم ، محبت فاتح عالم
    جہاد زندگانی میں یہ ہیں مردوں کی شمشیریں!
    دیدہ ور
    قاضی صاحب نے امت کی راہنمائی میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔ افغانستان ہو یا کشمیر، عراق ہو یا فلسطین، چیچنیا ہو یا برما، بوسنیا وہرزیگووینا ہو یا فلپائن وہ ہر جہاد کے روح رواں تھے۔ انھوں نے ہر ایک جہادی تحریک میں کلیدی کردار ادا کیا اور اس کا اعتراف ان تمام مقامات کے مجاہدین وقائدین کھلے دل سے کرتے ہیں۔سچی بات یہ ہے کہ اس وقت پورے عالمِ اسلام میں ان جیسی ہمہ پہلو اور پرکشش شخصیت کہیں نظر نہیں آتی۔ وہ دیدہ ور تھے اور اس وقت تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ شاعر نے انھی کے لیے کہا تھا
    ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
    بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
    غیور راہ نما
    ظالم اور ظلم کو للکارنا قاضی صاحب کے خون میں شامل تھا۔ ان کی غیرت گوارا نہیں کرتی تھی کہ مظلوم کو بے یارومددگار چھوڑا جائے۔ لاہور کے قریب بھارت کی سرحد سے ملحق علاقوں میں قبضہ گروپوں اور غنڈہ گرد مافیا کے خلاف ان کی جدوجہد بھی لوگوں کو یاد ہے۔ کشمیری مسلمانوں کے لیے مسلسل جدوجہد اور ان کی مکمل حمایت قاضی صاحب کی پہچان تھی۔ انھوں نے ۱۹۹۰ء میں کشمیری عوام کے ساتھ یوم یک جہتی کے لیے 5 فروری کو ملی و بین الاقوامی دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس فکر کو شرفِ قبولیت بخشا اور وہ دن اور آج کا دن یہ تاریخ یوم ِیک جہتیٔ کشمیر کی علامت بن گئی ہے۔ حکومتِ پاکستان نے بھی اسے قومی تعطیل اور یوم احتجاج کے طور پر تسلیم کر رکھا ہے اور پوری دنیا میں مسلمان اس روز جہاد و حریتِ کشمیر کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔ یہ عظیم صدقۂ جاریہ بھی ہے اور مرحوم کی قبولیتِ دعا کی علامت بھی! بقول اقبال:
    ہر لحظہ ہے مومن کی نئی آن ، نئی شان
    گفتار میں ، کردار میں اللہ کی برہان!
    یہ راز کسی کو نہیں معلوم ، کہ مومن
    قاری نظر آتا ہے ، حقیقت میں ہے قرآن!
    فطرت کا سرودِ ازلی ، اس کے شب وروز
    آہنگ میں یکتا ، صفت سورتِ رحمان!
    جفاکشی و ہمت مردانہ
    قاضی صاحب نے اپنے دورِ امارت میں جو کاروانِ دعوت ومحبت چلایا تھا اس نے ملک بھر میں لسانی ونسلی اور سیاسی ومذہبی نفرتوں کے مقابلے میں اسلامی اخوت ومحبت کا پرچار کیا۔ مہینے بھر کی یہ کٹھن مہم بہت مشکل اور تھکا دینے والی تھی۔ ہر روز نیا سفر اور نئی منزلیں، قیام وطعام کے مسائل ومشکلات، سفر کی تھکاوٹ اور بے آرامی، کوئی چیز قاضی صاحب اور ان کے کاروان کے لیے سدِّراہ نہ بن سکی۔ مذہبی ودینی جماعتوں کے درمیان روایتی وتاریخی دوریاں، نفرتوں کے الاؤ بھڑکانے کا سبب بن رہی تھیں۔ اس آگ کو بجھانا ملک و ملت کے مفاد و سلامتی کا تقاضا تھا مگر یہ کام کوئی آسان نہ تھا۔ قدم قدم پر مشکلات اور رکاوٹیں، راستے تنگ اور گلیاں بند، کئی لوگ اس بھاری پتھر کو چوم کر رکھ دیتے۔ قاضی صاحب نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور بڑے عزم اور قوت ارادی سے کام لیتے ہوئے، اپنی مضبوط شخصیت کے ساتھ میدان میں اترے اور نفرتوں کی آگ کو ٹھنڈا کرنے میں بڑی حد تک کامیابی حاصل کی۔ شیعہ سنی مسئلہ اگرچہ ابھی تک مکمل اور حتمی طور پر تو حل نہیں ہوسکا مگر قاضی صاحب نے ملی یکجہتی کونسل کے تحت دونوں متحارب گروہوں کو ایک میز پر اکٹھا کیا، ان کے درمیان مذاکرات ہوئے اور کئی موضوعات پر باہمی رواداری کی فضا بھی پیدا ہوئی۔
    اتحادِ امت کا داعی
    جماعت اسلامی کے ساتھ سیاسی میدان میں جن مذہبی جماعتوں کا ٹکرائو ہوتا تھا ان میں جمعیت علمائے پاکستان اور جمعیت علمائے اسلام خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ آپس میں افہام و تفہیم کے فقدان نے بلاوجہ ان پارٹیوں کے لوگوں کو ایک دوسرے سے متنفر کر دیا تھا۔ قاضی صاحب کی کوششوں سے متحدہ مجلس عمل وجود میں آئی تو مولانا شاہ احمد نورانی اور قاضی صاحب کے درمیان اتنا قرب پیدا ہوا کہ دونوں ایک دوسرے سے بے پناہ محبت اور احترام کے رشتوں میں جڑ گئے۔ قاضی صاحب کسی بھی مسلک کے دینی ادارے اور مدرسے میں چلے جاتے، ہر مسلک کے اساتذہ و طلباوالہانہ ان کا استقبال کرتے۔ یہی کیفیت عالمی اسلامی تحریکوں کے کارکنان و قیادت کی تھی۔ قاضی صاحب کو دیکھتے ہی وہ ان کی طرف لپکتے، ان کی پیشانی، چہرہ اور ہاتھ چومنے لگتے۔ قاضی صاحب کی شخصیت ایک عالمی راہ نما کے طور پر مسلمہ تھی۔ ترکی، ایران، افغانستان، عالمِ عرب، یورپ ، امریکہ، افریقہ، جنوبی ایشیا اور مشرقِ بعید کے تمام ممالک میں اسلامی اور جہادی تحریکیں دینی اور تبلیغی مراکز، علمی اور تحقیقی ادارے، ہر ایک میں قاضی صاحب کا تعارف بھی موجود تھا اور لوگ دل سے ان کی قدر بھی کرتے تھے۔ جس طرح اپنے ملک کے اندر انھوں نے مختلف گروہوں کو مختلف اوقات میں مشترکہ و متفقہ اصولوں پر جمع کرنے کا کارنامہ سرانجام دیا اسی طرح عالمی سطح پر بھی مختلف ملکوں کے اندرونی اور بین الملکی اتحادوں کے لیے بھی انھوں نے بیش بہا خدمات سرانجام دیں۔
    ہے وہی تیرے زمانے کا امامِ برحق
    جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے!
    غم سے نڈھال عقیدت مندان
    قاضی صاحب کو اللہ کی طرف سے اچانک بلاوا آگیا اور وہ اپنے رب کے حضور حاضر ہوگئے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ آخری دم تک میدانِ جہاد میں سرگرم عمل رہے۔ ۲۶دسمبر ۲۰۱۲ء کو جماعت اسلامی کے عظیم راہنما پروفیسر غفور احمد صاحب کا انتقال ہوا۔ قاضی صاحب ان کے جنازے کے لیے کراچی تشریف لے گئے۔ انھوں نے جنازے کے موقع پر مجمع عام کے سامنے بھی اپنے ساتھی اور دوست کی جدائی پر اپنے غم کا اظہار کیا اور پھر اپنے مضمون میں بھی ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ کون جانتا تھا کہ جس قریبی ساتھی کے غم میں قاضی صاحب پر بار بار رقت طاری ہوتی تھی، قاضی صاحب اتنی جلد اس سے جا ملنے والے تھے۔ قاضی صاحب کا جنازہ موٹروے چوک پشاور کے وسیع و عریض میدان میں پہنچا تو ہزاروں کی تعداد میں ان کے عشاق و مداحین، دست و بازو اور بیٹے، ساتھ جینے اور ساتھ مرنے کا عہد کرنے والے، پیرو جوان، سسکیوں اور آہوں، آنسوئوں اور نعروں کے ساتھ اس سانحۂ ارتحال پر غم زدہ و نڈھال نظر آرہے تھے۔ جنازہ ٹھیک تین بجے ہونا تھا۔ ہر جانب سے لوگوں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ چلے آرہے تھے اور تین بجے سے پہلے ہی کھلا میدان اپنی تنگ دامنی کا شکوہ کرتا نظر آیا۔جنازے میں موجود لوگ جب مرحوم کا آخری دیدار کرنے ان کی چارپائی کے پاس آتے تو یوں محسوس ہوتا جیسے اشک آلود آنکھیں اور غمزدہ چہرے کہہ رہے ہوں
    جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے
    کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور!
    مجھے شیخ سعدیؒ یاد آئے اور میں بس ایک شعر پڑھ کے رہ گیا
    بگذار تابہ گِریم چوں ابر در بہاراں
    کز سنگ نالہ خیزد وقتِ وداعِ یاراں!
    آخری آرام گاہ
    جنازے سے قبل پروفیسر محمد ابراہیم، سراج الحق، لیاقت بلوچ، مولانا طیب طاہری، جاوید ہاشمی، جنرل حمید گل، مولانا سمیع الحق، مولانا فضل الرحمن، آصف لقمان قاضی اور امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن نے مختصر خطاب کیے اور ہر ایک نے کہا کہ آج کا غم اس کا ذاتی غم بھی ہے اور یہ پوری امت کا دردِ مشترک بھی ہے۔ ٹھیک تین بجے منور حسن صاحب نے جنازہ پڑھایا۔ بے پناہ ہجوم میں ہر جانب سے نماز کے دوران آہوں اور سسکیوں کی آوازیں آتی رہیں۔ جنازے کے بعد میت مرحوم کے آبائی گائوں زیارت کاکا صاحب میں ان کے آبائی قبرستان میںدفن کر دی گئی۔ جہاں وہ اپنے خاندان کے دیگر مرحومین کے ساتھ محوِ استراحت ہیں۔ پوری دنیا میں مسلسل تعزیتی ریفرنس منعقد ہورہے ہیں۔ حرم مکی و مدنی میں، نیز مشرق و مغرب کے ہر ملک میں غائبانہ نماز ہائے جنازہ پڑھی گئیں۔ ہر شخص مرحوم کی خوبیوں اور عظمتوں کو سلامِ عقیدت پیش کر رہاہے۔ اپنے ہی نہیں بیگانے بھی، ہم خیال و ہم مشرب ہی نہیں، نظریاتی اختلاف رکھنے والے بھی اعتراف کر رہے ہیں کہ جانے والا عظیم تھا! وہ دلوں میں آج بھی بستا ہے اور پورا ماحول زبانِ حال سے کہے جارہا ہے،
    ؎ مت سہل ہمیں جانو، پھرتا ہے فلک برسوں
    تب خاک کے پردے سے انسان نکلتا ہے
    میرا جی چاہتا ہے کہ لکھتا ہی چلا جائوں۔ اتنی حسین یادیں، اتنا شیریں دورِ رفاقت اور ایسا پیار بھرا تعلق، مگر کیا کروں کہ مرحوم کی وفات نے نڈھال و مضمحل کر دیا ہے۔ زندگی رہی تو مزید یادیں بھی ان شاء اللہ قلم بند کروں گا۔ آج تو قلبِ حزیں اور قلمِ شکستہ کے ساتھ لکھی گئی اس تحریر کو یہیں ختم کرتا ہوں۔ پر امید دل کے ساتھ اللہ کے حضور یہ آرزو پیش کرتا ہوں کہ اس مردِ مجاہد کو زمرہ شہدا میں شامل فرما کر اپنے بے پایاں انعامات سے مالا مال کردے۔
    آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے
    سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے!



 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس