Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

چراغ آخرشب

  1. مجاہد ِملت قاضی حسین احمدؒ ایک تاریخ ساز شخصیت تھے جو تاریخ کی کتابوں سے نکل کر ہمارے پاس آئے اور پھر ایک تاریخ بنا کر ہمیشہ کے لیے تاریخ کی کتابوں میں چلے گئے ۔ وہ جادہ حق پر چلنے والے ایسے مسافر تھے کہ کانٹوں بھری راہوں کی صعوبتیں اور طویل مسافتیں بھی ان کے عزم سفر کو شکست نہ دے سکیں ۔ وہ ایک ہدی خوان تھے جو بھٹکتے قافلوں کو ہمیشہ نشان منزل دکھاتے رہے ۔ وہ ایک ایسے سالار کارواں تھے کہ جن کے نفس گرم کی تاثیرسے قافلہ ہمیشہ تیز قدم رہا ۔ وہ ایسے چراغ آخر شب تھے کہ جن کے بعد اندھیرا نہیں اجالا ہے ۔ بلاشبہ وہ ہمارے درمیان سعادت کی ایسی زندگی گزار کر گئے ہیں کہ جو حیات جاوداں کا عنوان بن جاتی ہے ۔

                            قاضی صاحب ، جراتوں کے پیکر اور عزیمتوں کے کوہ گراں تھے ۔ وہ مینارہ نور تھے ۔ وہ اتحاد امت کے نقیب تھے ۔ وہ داعی انقلاب تھے ۔ وہ حاضرو موجود سے بیزار کرنے والے امام برحق تھے اور وہ راہ جہاد پر گامزن ایک مجاہد کبیر تھے ۔ وہ محبت کرنے والی ایسی شخصیت تھے کہ جن کاپیغام محبت دور دور تک پہنچا ۔ آج جب کہ وہ ہم میں نہیں رہے تو ہر لکھنے والا قلم یہ لکھ رہاہے کہ ان کا سب سے زیادہ تعلق میرے ساتھ تھا۔ دوست تو لکھتے ہی ہیں ان کے تو نظریاتی مخالف بھی ان کے لیے رطب اللسان ہیں ۔ رفقاءتو ہدیہ تبریک پیش کرتے ہی ہیں ان کے لیے محبتوں کے پھول تو اغیار بھی نچھاور کررہے ہیں ۔ جنہوں نے ان کے پیغام انقلاب کو قبول نہیں بھی کیا ان تک بھی ان کی محبتوں کی خوشبو ضرور پہنچی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ الیکٹرانک میڈیا ہو یا پرنٹ ، اخبارات کے رنگین صفحات ہو ںیا اداریے ، کالم نگارہوں یا دانشور ، اینکر پرسنز ہوں یا نامو ر قلم کار ، سب ان کے لیے کلمات خیر کہہ اور لکھ رہے ہیں اور ہر ایک ان سے ذاتی تعلق کی گواہی دے رہاہے ۔ایسا ہی ایک تعلق ان کا میرے ساتھ بھی تھا لیکن یہ رفاقت کا نہیں تابعداری و اطاعت کا تعلق تھا اس لیے کہ میں ایک کارکن ہوں اور وہ ہمارے امیر اور اب سابق امیر تھے ۔ ہم ان کے خوشہ چیں تھے اور وہ ہمارے مربی و محسن تھے۔ اس دوران ان سے سینکڑوں ملاقاتیں ہوئیں۔ ان کے بے شمار خطابات سنے ، ان کے ساتھ متعدد بار سفر کا موقع ملا ۔ تربیت گاہوں میں ان کے انداز تربیت کا مشاہدہ کیا ان کے ہمراہ کئی تقاریب ، مجلسوں ، محفلوں ، کانفرنسوں میں شرکت کی ۔ ان کی قیادت میں جلسوں جلوسوں دھرنوں اور ریلیوں میں حصہ لیا ان کے پاس کئی مرتبہ ایسے وقت میں بھی حاضری دی کہ جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا ۔ ان سے حکایت غم آرزو اور حدیث ماتم دلبری کے قصے بھی سنے ۔وہ ایک سچے کھرے اور منافقت سے پاک انسان تھے ۔ یعنی ظاہر و باطن ایک ہے جو دل میں ہے وہ زبان پر ہے اور جو قول ہے وہی عمل بھی ہے۔

                            ابا جی ( مولانا گلزار احمد مظاہری مرحوم ) کی وجہ سے وہ ہم بہن بھائیوں کے ساتھ خصوصی شفقت و محبت کا تعلق رکھتے تھے ۔ ہمارے خاندان کی شادیوں میں شرکت فرمائی ، ہمارے اکثر بچوں بچیوں کے نکاح بھی انہوں نے پڑھائے ۔ ابا جی کے ساتھ اپنے خصوصی تعلق کا یہ کہہ کر اکثر اظہار کرتے کہ میں ان سے اپنے زمانہ طالبعلمی سے آشنا تھا ۔ ایک بلند پایہ خطیب ، ایک نامور عالم دین ، اتحاد امت کے ایک داعی اور نقیب اور اس وقت بھی ان کی اور جماعت اسلامی کے ایک انتھک محنتی ذمہ دار کی

    حیثیت سے جو شہرت تھی وہ مجھے ان کے جلسوں میں کشاں کشاں لے جاتی تھی ۔ متعدد بار محترم قاضی صاحب نے اظہار فرمایا کہ مولانا گلزار احمد مظاہری ایک زرخیز ذہن کے مالک تھے ۔ مرکزی مجلس شورٰی میں جب بات کرتے تو معاملات کی ان گہرائیوں کی نشاندھی کردیتے تھے جن تک عام ذہن نہیں پہنچ پاتے تھے ۔ وہ معاملہ فہم عالم دین تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں خطابت کے ساتھ حکمت ، معاملہ فہمی اور سیاسی بصیرت کی دولت سے بھی نوازا تھا۔

                            ابا جی کی نماز جنازہ بھی انہوں نے پڑھائی ۔ وہ تدفین تک موجود رہے ۔ قبر پر بھی دعا انہوں نے ہی کرائی ۔ اس موقع پر میں نے ان سے دریافت کیا کہ لوگ دوسرے دن کی اجتماعی دعا کے بارے میں پوچھ رہے ہیں تو انہوں نے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں ۔ آپ درس قرآن اور اجتماعی دعا کا اعلان کر دیں ۔ اس موقع پر تعزیت کے لیے آنے والے اہم مہمانوں کا وہ خود خیر مقدم کرتے رہے ۔ جنرل ضیاءالحق دعا کے لیے منصورہ آئے تو محترم قاضی صاحب نے نہایت اچھے انداز میں ان سے ابا جی مرحوم کی علماکے اتحاد کے لیے کوششوں کا تذکرہ فرمایا ۔ ہماری اماں جی کا انتقال ہوا تو محترم قاضی صاحب کو اسی دن ایران جانا تھا ، اتنی مصروفیت کے باوجود وہ ہمارے گھر تشریف لائے ۔ ہم سب کو پرسا دیا اور ایئر پورٹ جانے سے پہلے کافی دیر تک تشریف فرما رہے ۔

    بڑے لوگوں کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ اپنے سے چھوٹوں پر ہمیشہ شفیق و مہربان ہوتے ہیں اور ان کی کھل کر حوصلہ افزائی اور تعریف کرتے ہیں ۔ قاضی صاحب دوسروں کی تعریف کرنے میں بڑے فراخ دل تھے ۔ 2003 ءمیں میرا پی ایچ ڈی مکمل ہوا میں اس وقت ممبر قومی اسمبلی تھا اور جامعہ پنجاب کے کانوووکیشن میں اس وقت کے وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی کے ہاتھوں میں نے یہ سند وصول کی تھی ۔محترم قاضی صاحب میری اس کامیابی پر بے پناہ خوش تھے انہوں نے مبارکباد دی ، دعاﺅں سے نوازا اور پھر اسمبلی کے ایوان میں متعدد ممبران اسمبلی کو بڑی محبت سے یہ خبر دیتے رہے کہ اب انہیں ڈاکٹر صاحب کہیں ، انہوں نے پی ایچ ڈی کر لی ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ کسی دوسرے بالخصوص اپنے کسی عزیز کی عزت افزائی انسان کی اپنی عظمت کی دلیل ہے ۔ میرا سفر نامہ ترکی شائع ہوا تو میں کتاب لے کر ان کے پاس حاضر ہوا اور ان سے عرض کیا کہ اس کی تقریب رونمائی کی صدارت آپ نے کرناہے ۔ انھوں نے اس دعوت کو قبول فرمالیا اور پھر صرف اس تقریب میں شرکت کے لیے پشاور سے تشریف لائے ۔ پروگرام الحمراءہال نمبر ۳ میں تھا جس میں پہنچنے کے لیے کم و بیش تیس سیڑھیاں چڑھنا پڑتی ہیں میں نے ان کے معاون عزیزم یاسر سے پوچھا کہ کیا قاضی صاحب کے لیے سیڑھیاں چڑھنا ممکن ہوگا اس نے بتایا کہ ان دنوں گھٹنوں کی تکلیف کی وجہ سے وہ سیڑھیاں چڑھنے سے اجتناب کرتے ہیں لیکن پھر قاضی صاحب تشریف لائے ۔ تقریب کی صدارت کی اور میری کتاب اور طرز تحریر کی کھل کر تعریف کی اور ترکی سے اپنے خاص تعلق کا اظہار فرمایا اور یہ نوید سنائی کہ انشاءاللہ سیکولر ترکی ایک مرتبہ پھر امت مسلمہ کے دلوں کی دھڑکن بنے گا اور خون صد ہزا ر انجم سے انشاءاللہ سخر ضرور طلوع ہو گی ۔

    قاضی صاحب متعد دمرتبہ علما اکیڈمی تشریف لائے تربیتی کلاسوں کے شرکاءسے خطاب کیا ان میں اسناد تقسیم کیں اور ایسے ہر موقع پر اپنی تقریر میں ابا جی مرحوم کا تذکرہ خصوصی محبت سے کرتے رہے ۔ تعمیر سیرت کالج کے سالانہ جلسہ ہائے تقسیم انعامات میں بھی شریف لاتے رہے اور جب علما اکیڈمی کے زیراہتمام دار ارقم سکول منصورہ کا آغاز ہوا تو انہوں نے افتتاحی تقریب کو بھی اپنی خصوصی دعاﺅں سے نوازا ۔وہ یہ خواہش رکھتے تھے اور اس کے لیے انہوں نے بھر پور کوشش بھی کی کہ جماعت اسلامی کی دعوت اور پیغام معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچے ، بالخصوص معاشرے کے پسے ہوئے اور محروم طبقات یہ سمجھنے لگیں کہ ان کے مسائل کا حل جاگیرداروں ، وڈیروں اور روایتی سیاستدانوں کے پاس نہیں بلکہ صرف اسلام اور دیانتدار قیادت کے پاس ہے ۔اس مقصد کے لیے انہو ں نے اپنے امیر بننے کے بعد 1988 ءمیں ”کاروانِ دعوت و محبت “کا اہتمام کیا ۔ یہ کارواں جس میں سینکڑوں گاڑیاں اور ہزاروں کارکن شامل تھے ، ملک کے ایک سرے سے دوسرے تک پہنچا ۔ یہ سینکڑوں میل کی مسافت تھی تھکا دینے والا سفر تھا مسلسل بے آرامی تھی دن کو جلسے رات کو مساجد میں ڈیرے کم و بیش ایک ماہ تک کارواں رواں دواں رہا ۔ پاکستانی سیاست میں یہ منفرد تجربہ تھا ۔ کارواں کا نعرہ تھا ” دور ہٹو سرمایہ دارو پاکستان ہمارا ہے “۔ دو ر ہٹو جاگیردارو پاکستان ہمارا ہے ۔“ سرمایہ داری و جاگیردار ی کے خلاف یہ ایک واضح احتجاج تھا ۔ ایک تواناآواز تھی چنانچہ پنجاب اور سندھ کے دیہاتوں میں ننگے پاﺅں چلنے والے کتنے ہی کسان اور ہاری کارواں کے ہم رکاب رہے ۔ جماعت اسلامی کے کلچر میں ترانے اگرچہ پہلے بھی شامل تھے لیکن اس کارواں کے دوران افضال احمد اور سلیم ناز بریلوی مرحوم کے ترانوں نے ایک خاص فضا بنادی

    یہ دیس جگمائے گا نورِ لا الہ سے

    کفر تھر تھرائے گا نورِ لا الہ سے

                قاضی صاحب پاکستان کی قومی سیاست میں کئی نئے تجربات کے بانی ہیں ۔ دھرنا ، ملین مارچ ، روڈ کارواں ۔ یہ سب اصطلاحیں ان کی دی ہوئی ہیں ۔ انہوں نے اپنی انتہائی متحرک زندگی میں کئی ریلیاں نکالیں ۔سینکڑوں جلسے کیے ۔ بےشمار جلوسوں کی قیادت کی ۔ ان گنت مظاہروں میں شریک ہوئے ۔ لاتعداد تربیت گاہوں ، شب بیداریوں ، افطار پارٹیوں اور فہم قرآن و سنت کلاسوں سے خطاب کیا ۔ شاید ہی پاکستان میں کوئی سیاسی لیڈر اتنا متحرک ہو کہ صبح کہیں شام کہیں دم بھر میں یہاں پل بھر میں وہاں ۔

    جہاں میں اہل ایمان صورت خورشید جیتے ہیں

    ادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلے

    5فروری کا یوم یکجہتی کشمیر محترم قاضی صاحب کا ایک ایسا صدقہ جاریہ ہے کہ جس نے مظلوم کشمیریوں کے حق میں پوری قوم کو کھڑا کردیا۔ اس دن کو منانے کی اپیل انہوں نے ہی سب سے پہلے 1990 ءمیں کی تھی ۔ حکومت نے بھی اس اپیل کا ساتھ دیا اور اس وقت سے لے کر آج تک (5فروری 2013ءآنے والا ہے ) قریباً 23سال ہو چکے ہیں ہر سال 5فروری کو پاکستان آزاد و مقبوضہ کشمیر سمیت دنیا بھر میں لاکھوں فرزندان توحید مردو زن اپنے مظلوم کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے جلسوں ، جلوسوں ، ریلیوں اور انسانی ہاتھوں کی زنجیروں کا اہتمام کرتے ہیں ۔ قاضی صاحب علمائے کرام کادل کی گہرائیوں سے احترام اور ان کی تکریم کرتے تھے ۔ مولانا شاہ احمد نورانی مرحوم کے ساتھ تو ان کے خصوصی قلبی تعلقات اس طرح بنے کہ پھر دونوں شخصیات یک جان دو قالب کی مصداق بن گئیں ۔ بے نظیر حکومت کے خلاف دھرنے کے موقع پر محترم شاہ احمد نورانی صاحب بھی قاضی صاحب کے ساتھ ٹرک پر شانہ بشانہ موجود تھے ۔ محترم قاضی صاحب ان کی اس عظمت کا اکثر ذکر فرماتے تھے کہ جب آنسو گیس کی اندھا دھند شیلنگ کے سبب سانس لینا دوبھر ہو گیا تو میں نے کہا شاہ صاحب آپ بزرگ اور مریض ہیں آپ ٹرک سے نیچے تشریف لے جائیں اور آرام کر لیں تو انہوں نے میرا ہاتھ دباتے ہوئے کہاکہ قاضی صاحب میں نے آپ کا ساتھ دیاہے تو آخر تک آپ کا ساتھ نبھاﺅں گا۔ اس روز دونوں بڑی شخصیات کی استقامت اور جرات و ہمت نوجوانوں کے حوصلے بڑھا رہی تھی ۔ قائدین مظاہروں کی اپیل کرتے او راپنے پیروکاروں اور کارکنوں کو میدان میں نکال کر خود کو بلٹ پروف گاڑیوں اور حفاظتی حصاروں میں محفوظ کرلیتے ہیں لیکن محترم قاضی صاحب ہمیشہ کارکنوں سے آگے رہے ان پر لاٹھیاں بھی برسیں لیکن ان کے قدم میدان سے پیچھے نہیں ہٹے ۔

    سچ تو یہ ہے کہ جس طرح ان پر ایک خود کش حملہ ہواتھا اگر کسی دوسرے پر ہوتا تو اس کی سرگرمیاںرک جاتیں ۔ اس کے دورے ختم ہو جاتے ۔ اس کی آمد و رفت محدود ہو جاتی اور وہ ڈھیر ہو کر گر جاتا لیکن محترم قاضی صاحب کا سفر اس حملے کے بعد بھی ذرا نہ رکا ، ذرا نہ تھما۔وہ اس حالت میں جلسہ گاہ تک پہنچے کہ ان کے محافظ زخمی تھے او ران کی اپنی گاڑی کے شیشے ٹوٹ چکے تھے اس حالت میں انہوں نے کسی معمولی سے بھی خوف کے بغیر جلسے میں اپنا خطاب کیا اور پھر ان کی دعوتی و دینی سرگرمیاں اسی طرح جاری رہیں اور بے گناہوںکے قتل کو خلاف اسلام، خلاف انسانیت قرار دینے کے ان کے موقف میں بھی ذرا برابر فرق نہ آیا۔

                            اس حملے کے بعد ایک روز مجھے ان سے کھل کر بات کرنے کا موقع میسر آیا ۔ وہ جہاں عالمی سازشوں بالخصوص امریکہ بھارت اور اسرائیل کی طرف سے ہونے والے خونی کھیل کی گرہیں کھول رہے تھے وہیں وہ ان مہم جوﺅں کا ذکر بھی کرتے تھے کہ جو اسلامی تعلیمات سے قطعاً نابلد ہیں اور جن میں سے اکثریت دینی تعلیم سے بھی آشنا نہیں اسی لیے وہ سمجھتے تھے کہ دینی جماعتوں کو اکٹھا ہوناچاہیے اور اگر وہ اکٹھے نہ ہوئے تو فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے ، پاکستان میں اسلامی نظام اور جہاد کو متنازعہ بنانے ، پاکستان کو ناکام ریاست اور غیر محفوظ ملک ثابت کر کے ہمارے ایٹمی اثاثوں کو عالمی اداروں کی تحویل میں دینے اور آئین پاکستان کی اسلامی حیثیت کو ختم کرانے کے عالمی ایجنڈے کو تقویت ملے گی ۔اسی کے پیش نظر انہوں نے اسلام آباد میں اتحاد امت کی عالمی کانفرنس کا کامیاب انعقاد کیا۔

    قاضی صاحب عالم اسلام کے رہنما تھے ۔ شرق و غرب اور عرب و عجم میں ان کی آواز گونجتی تھی ۔ وہ اخوان المسلمون کے لیے بھی ان کے مرشد عام تھے اور کشمیر و فلسطین ، بوسنیا ، شیشان اور عراق و افغانستان کے مجاہدوں کے لیے بھی ایک مینارہ نور تھے ۔ سوڈان کی اسلامی تحریک ہو یا ترکی میں اسلام کے نام لیوا ، ان سب کے لیے قاضی صاحب مرکز وحدت تھے ۔ انہوں نے سوڈان کے جنرل عمر البشیر اور ڈاکٹر حسن ترابی اور ترکی کے نجم الدین اربکان ؒ اور ان کے شاگرد طیب اردگان اور عبداللہ گل کے درمیان پیدا اختلافی معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کرنے اور خلیجیں ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ یقیناً وہ سب کے لیے مرکز وحدت تھے ۔قرآن پاک میں قاضی حسین صاحب جیسی پاکیزہ روحوں کے لیے ہی نفس مطمئنہ کی اصطلاحیں استعمال کی گئی ہیں ۔ ایسے پاکیزہ سیرت اہل ایمان جو جادہ حق پر گامزن رہے ، عزیمت و استقامت کا مظاہرہ کیا ، مشکلات و تکالیف برداشت کیں ، لمحہ لمحہ اطاعت ربانی میں گزارا اور پھر دنیا سے ایسے عالم میں رخصت ہوئے کہ وہ بھی اپنے خالق سے راضی اور ان کا خالق بھی ان سے راضی ۔۔۔ ایسے ہی اہل ایمان کا استقبال اللہ کریم کی رحمت یہ کہہ کر خود کرتی ہے ” یا یتھا النفس المطمئنة ارجعی الی ربک راضیة مرضیہ “ اے نفس مطمئنہ لوٹ آﺅ اپنے رب کی طرف وہ بھی تم سے راضی اور تم بھی اس سے راضی ۔۔ ۔

                یقیناً قاضی صاحب نفس مطمئنہ تھے ۔ کوہ گراں تھے ، سالار کارواں تھے ۔

    جو رکے تو کوہ گراں تھے ہم جو چلے تو جاں سے گزر گئے

    راہ یار ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنادیا

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس