Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

شرقی ہے نہ غربی (بیاد قاضی حسین احمدمرحوم)

  1. اگرچہ سٹیڈیم کی وسعتوں میں ہزاروں انسان سما سکتے تھے، لیکن آج کے دن سیڑھیاں ہی نہیں میدان بھی تنگی داماں پر شکایت کناں تھا۔ یہ تذکرہ ہے ترکی کے جشن فتح استنبول کا جس کا اہتمام ترکی کی سعادت پارٹی کی طرف سے کیا گیاتھا ۔ کئی سال پہلے فتح استنبول کی یادگار کے طور پر 29 مئی کے دن جشن فتح استنبول منانے کی اس مضبوط ترین روایت کا اہتمام ترکی بلکہ عالم اسلام کے معروف رہنما اور ترکی کے سابق وزیراعظم نجم الدین اربکان نے کیا تھا ۔ سلطان محمد فاتح کی فوجوں نے کئی برس کی تیاری کے بعد استنبول کی فتح کے لیے ۵۱جمادی الاول ۷۵۸ھ کو محاصرہ کیاتھا اور بازنطینی بادشاہ قسطنطین کو ہتھیار ڈال کر شہر سپرد کرنے کا پیغام بھیجا تھا ، جسے قسطنطین نے مسترد کردیا۔ بالآخر ۰۲ جماد ی الاول ۷۵۸ھ بمطابق ۹۲مئی ۳۵۴۱ءکو عثمانی افواج نے تمام رات ذکر و تسبیح میں گزارنے کے بعد نماز فجر کے بعد حملہ کیا اور اللہ کے فضل و کرم سے نماز ظہر تک قسطنطنیہ فتح ہوگیا اور سلطان محمد فاتح نے اپنے اعلان کے مطابق نماز ظہر آیا صوفیہ کے کلیسا میں ادا کی ، یعنی

              دیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساﺅں میں

                اسی عظیم الشان اور تاریخی فتح کی یاد کے طور پر منایا جانےوالا جشن فتح استنبول ترکی کی بہت بڑی بلکہ سب سے بڑی تہذیبی روایت بن چکاہے ۔ محترم قاضی حسین احمد ؒ اس عظیم الشان عوامی جشن کے ہر سال مہمان خصوصی ہوتے تھے ۔ ترکی کے مرد مجاہد نجم الدین اربکان مرحوم ان کے ذاتی دوست تھے ۔ دونوں رہنماﺅں کے درمیان اخوت و محبت کا لازوال اور مثالی تعلق تھا ۔ نجم الدین اربکان IJI کی حکومت کے دوران پاکستان آئے تو وہ سرکاری مہمان کم اور قاضی صاحب کے ذاتی مہمان زیادہ تھے ۔ جماعت اسلامی کے قائدین کے ساتھ ان کی یادگار ملاقاتیں ہوئیں ۔ وہ اپنے بھائیوں کے درمیان زیادہ خوش تھے ۔ جشن فتح استنبول میں مجھے بھی شرکت کا موقع ملا ۔

                یہ جوش و جذبہ اور عزم و یقین کا ایک ناقابل فراموش منظر تھا ۔ نجم الدین اربکان کی دعوت پر دنیا بھر سے اسلامی تحریکوں کے عظیم رہنما اس جشن میں شرکت کرتے ، اربکان شرق و غرب اور عرب و عجم سے آنے والے ان تمام رہنماﺅں کا والہانہ خیر مقدم کرتے ۔ ان کے لیے دیدہ و دل فرش راہ کرتے ۔ ان کی خصوصی تکریم و تعظیم کرتے لیکن ا ن کے مہمان خصوصی بلکہ مہمان خاص ہمیشہ صرف قاضی حسین احمدٹھہرتے کہ وہ جب کھلی جیپ میں پورے اسٹیڈیم کا چکرلگاتے اور لوگوں کی سلامی لیا کرتے تھے تو ان کے ساتھ صرف ایک رہنما پہلو بہ پہلو کھڑے ہوتے اور وہ تھے محترم قاضی حسین احمد ۔ آخری بار 29 مئی 2010 ءکو جب وہ کھلی جیپ میں سٹیڈیم کا چکر لگارہے تھے تو اپنی صحت کے لحاظ سے ان کے لیے کھڑا ہونا مشکل تھا تو انہوں نے خود بیٹھ کر سلامی لی اور قاضی صاحب کھڑے ہو کر لاکھوں افراد کے پرجوش نعروں کا ہاتھ ہلا کر جواب دے رہے تھے ۔لاکھو ں افرادہاتھ لہرا کر مجاہد اربکان ، مجاہد قاضی کے نعرے لگا رہے تھے ۔ یقینا یہ ایسا ایمان افروز منظر تھا کہ جس کو دیکھ کر دلوں کو پھر پیغام سجود یاد آرہاتھا ،جبینیں خاک حرم سے آشنا ہونے کو بے تاب تھیں اور ہر دل میں ولولہ انقلاب تازہ ہورہا تھا۔

    چونکہ سیکولر ترکی میں اسلام کا نام لینا غیر آئینی ، غیر قانونی اور قابل گردن زدنی تھا اس لیے اربکان اسلام کا پیغام پہنچانے کاکام محترم قاضی صاحب سے لیتے ۔ اس مقصد کے لیے انہو ں نے محترم قاضی صاحب سے فرمائش کر رکھی تھی کہ آپ کھل کر تقریر کریں اور قرآن

    و سنت کی تعلیمات کو ترک عوام کے دلوں میں اتاریں ۔ چنانچہ قاضی صاحب اسلام کی پوری دعوت کو نہایت موثر انداز میں بیا ن کرتے ۔ قانونی گرفت سے بچنے کے لیے وہ قاضی صاحب کو سعادت پارٹی کی بجائے اپنے اخبار ”ملی گزٹ“کی طرف سے دعوت نامہ بھیجتے ۔مجھے محترم قاضی صاحب کے ہمراہ نجم الدین اربکان سے کئی بار ملنے کا موقع ملا وہ ایک وجیہہ و شکیل رہنما تھے ۔ ان کے لہجے میں گلوں کی بہار تھی وہ نرم دم گفتگو گرم دم جستجو تھے اور عالم اسلام کے اتحاد اور امت مسلمہ کی ترقی و استحکام کے لیے ان کا وژن بہت بلند تھا۔

                قاضی حسین احمد 1987 ءمیں جماعت اسلامی کے امیر منتخب ہوئے اور مسلسل 22 سال جماعت کے امیر رہے اس سے پہلے وہ جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل تھے اس سے پہلے وہ جماعت اسلامی صوبہ سرحد کے امیر ، قیم اور امیر ضلع پشاور تھے ۔ اس دوران افغانستان پر سوویت فوجیں حملہ آور ہوئیں اور ان کے خلاف افغان قوم سینہ سپر ہو گئی ۔ قاضی صاحب کا افغان رہنماﺅں اور وہاں کی تحریک اسلامی سے رابطہ جہاد افغانستان سے بھی پہلے سے تھا ۔ وہ ان رہنماﺅں کو ان کے دور طالبعلمی کے زمانہ سے جانتے تھے ۔ وہ متعدد مرتبہ افغانستان گئے اور افغانستان اور وہاں کے سیاسی و سماجی حالات کو ان سے بہتر کوئی نہیں جانتا تھا ۔ جہاد افغانستان کے دوران ہی جہادی تنظیموں کے درمیان حکمت عملی اور قیادت کے حوالہ سے کئی اختلافات پیدا ہوئے ۔ انہیں ایک دوسرے سے دو ر کرنے کی کئی سازشی کوششیں بھی ہوئیں اور ایک وقت آیا کہ ان کے آپس میں معاشرتی تعلقات بھی متاثر ہونے لگے ۔ ایسے وقت میں یہ قاضی صاحب ہی تھے کہ جو سب کے درمیان مرکز وحدت تھے ۔ گلبدین حکمت یار ، پروفیسر برہان الدین ربانی ، عبدالرب رسول سیاف ، جلال الدین حقانی ، احمد شاہ مسعود اور دیگر تمام افغان رہنماﺅں سے قاضی صاحب کے قریبی اور قلبی تعلقات تھے ، وہ ان کو متحدکرنے کی متعدد کوششیں کرتے رہے ۔ سوویت افواج کے نکل جانے کے بعد جب جہادی تنظیموں کے درمیان لڑائیوں کے سلسلے جاری تھے تو محترم قاضی صاحب پروفیسر خورشید

    سمیت کئی رہنماﺅں سمیت افغانستان جا بیٹھے ۔ انہوں نے ان کے درمیان معاہدے کرائے ۔ میاں نوازشریف کی حکومت کے دوران جب یہ کوشش کی گئی کہ متفقہ حکومت قائم کی جائے اور مجددی کی سربراہی میں ایک حکومت بن بھی گئی تو قاضی صاحب نے حکومت کو سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ حکومت زمینی حقائق کے برعکس ہے اس لیے یہ حالات پر قابو نہیں پاسکے گی ۔ایک مرحلہ پر وہ میاں نوازشریف کو قائل کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ جہاد افغانستان کے دو بڑے شریک گلبدین حکمت یار اور برہان الدین ربانی ہیں ۔ جہاد میں ان دونوں رہنماﺅں اور ان کی جماعتوں کا حصہ 80 فیصد سے زیادہ ہے ۔ یہ پختون او ر تاجک یعنی پشتو اور فارسی بولنے والوں کی نمائندگی کرتے ہیں ۔پہلے مرحلہ پر ان دونوں کے درمیان اتحاد اور ان کی مشترکہ حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے پھر ان کے ساتھ تمام جہادی گروپوں کو جوڑا جائے ۔ چونکہ یہ دونوں رہنما صرف قاضی صاحب پر اعتماد کرتے تھے اور دونوں کے دل میں قاضی صاحب کا یکساں احترام تھا اس لیے وہ صرف قاضی صاحب کی دعوت پر اکٹھے ہوسکتے تھے اس سلسلہ میں قاضی صاحب کی تجویز تھی کہ میاں محمدنوازشریف کے ساتھ ان کی مشترکہ ملاقات میں قاضی صاحب کے علاوہ کوئی اور موجود نہ ہو تاکہ یہ رہنما کھل کر اپنے اختلافات کا اظہار کر سکیںاور ان کی شکایات و تحفظات کا ازالہ ہوسکے ۔ میاں صاحب نے یہ وعدہ کر لیا لیکن جب اس ملاقات کا وقت آیا تو قاضی صاحب یہ دیکھ کر حیران اور دونوں افغان رہنما پریشان ہو گئے کہ وہاں ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی سمیت کئی جرنیل اور وزارت خارجہ کے کئی افسران موجود تھے ۔ ایسے عالم میں ان رہنماﺅں کی باہمی ملاقات کیسے ہوتی ۔ اعتماد سازی کی فضا کیسے بنتی اور افغانستان میں ایک خالص پروپاکستان حکومت کیسے قائم ہوتی ۔ چنانچہ وہی ہوا کہ آئی ایس آئی چیف کے غیر دانشمندانہ اور کسی حد تک تحکمانہ انداز کی وجہ سے میٹنگ ناکام ہو گئی اور یوں افغانستان میں امن اور پاکستان دوست حکومت قائم کرنے کی محترم قاضی صاحب کی ایک مضبوط ترین کوشش پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکی ۔

                محترم قاضی صاحب کی طرف سے ناراض بھائیوں کو آپس میں ملانے کا سلسلہ پورے عالم اسلام پر محیط ہے ۔ سوڈان کی اسلامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر حسن ترابی اور ان کے ہی شاگرد جنرل عمر البشیر کے درمیان اختلافات کی فصیلیں جب زیادہ وسیع ہو گئیں تو دونوں کی خواہش و دعوت پر قاضی صاحب سوڈان جا پہنچے ۔ اختلافی فضا کو دور کرنا کوئی آسان کام نہیں جب ہر کوئی اخلاص اور دلیل کی بنیاد پر اپنے آپ کو حق بجانب سمجھتا ہو تو آپ درمیانی راہ کیسے نکال سکتے ہیں لیکن یہ قاضی صاحب کی فراست اور خوئے دلنوازی تھی کہ جس نے شدتوں کو زائل اور فاصلوں کو کم کیا۔اس وقت سوڈان کی حکومت نے ڈاکٹر حسن ترابی کو نظر بند کر رکھا تھا ، قاضی صاحب نے عمر البشیر کو سمجھایا کہ حسن ترابی تمہارے باپ کا مقام رکھتے ہیں ، باپ سے اختلاف تو ہوسکتے ہیں لیکن باپ کو پابند سلاسل نہیں کیاجاسکتا ۔ قاضی صاحب نے نجم الدین اربکان اور ان کے شاگرد اور اس وقت ترکی کے وزیراعظم طیب اردگان کے درمیان بھی صلح کروانے کی کوششیں کیں اور دونوں کو پورے اخلاص کے ساتھ اختلافات دور کرنے پر قائل کیا۔ ان کے دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کے ساتھ قلبی رشتے اور ان کے سربراہوں کے ساتھ ذاتی تعلقات تھے ۔ اخوان المسلمون کے ہر مرشد عام کے ساتھ ان کی ذاتی دوستی تھی ۔ تیونس کے رہنما راشد الغنوشی سمیت دنیا کی ہر اسلامی تحریک کے صف اول کے رہنماﺅں کی ان سے ذاتی ملاقاتیں اور عقیدت و احترام کے رشتے تھے ۔ سعودی عرب کے خادم الحرمین شریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے محترم قاضی صاحب کی ذاتی دوستی اور برادرانہ محبت کاسلسلہ اس وقت سے تھاکہ جب وہ سعودی عرب میں خارجہ امور کے نگران تھے ۔ انہوں نے سعودی عرب میں متعدد مرتبہ شاہ عبداللہ کے ذاتی مہمان کے طور پر قیام کیا۔ ایک کانفرنس کے موقع پر الوداعی ملاقات میں خادم حرمین شریفین شاہ عبداللہ نے رخصت کرتے ہوئے قاضی صاحب کا ہاتھ پکڑا اور بڑی عقیدت سے کہا ” پاکستان اسلام کا قلعہ ہے اور ہم نے یہ امانت آپ کے حوالے کررکھی ہے ۔“ متعدد مرتبہ میں سعودی عرب کے سفر میں ان کے ہمراہ تھاان کے ساتھ پاکستانی بھائیوں کی محبت کا عالم دیدنی تھا ۔ حرمین شریفین میں انہیں پاکستانی ہی نہیں دنیا بھر کے اہل ایمان آ آکر ملتے تھے اور ان

    سے اپنی دلی محبت و عقیدت کا اظہار کرتے تھے ۔ کشمیر ، فلسطین ، بوسنیا ، شیشان ، افغانستان ، عراق ...... عالم اسلام کے ان بڑے بڑے مسائل پر قاضی حسین احمد نے تاریخی جدوجہد کی ۔ ان مسائل سے متعلقہ قیادت کے ساتھ بھی محترم قاضی صاحب کے قریبی ذاتی تعلقات تھے ۔ مقبوضہ کشمیر کے قائد حریت سید علی گیلانی ، حزب المجاہدین کے قائدین ،سید صلاح الدین ، فلسطینی رہنماﺅں استاد احمد یاسین مرحوم ، اسماعیل ہانیہ ، خالد مشعل وغیرہ کے ساتھ ان کے ذاتی مراسم اور قلبی نیازمندی کے لازوال رشتے تھے ۔ کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے 5 فروری کا یوم یکجہتی کشمیر اور فلسطینی بھائیوں کے حوالے سے یوم مسجد اقصیٰ محترم قاضی صاحب کے ہی صدقات جاریہ ہیں ۔ بوسنیا کے مسلمانوں کے کرب و الم کے ایام میں قاضی صاحب مسلسل سرگرم عمل رہے ۔ اہل بوسنیا کی دامے درمے سخنے مدد کی ، عین حالت جنگ میں قاضی صاحب اپنے مظلوم بھائیوں کے درمیان تھے ۔ 5 گھنٹے کا سفر 28 گھنٹے میں طے کر کے جب وہ بوسنیا پہنچے تو زخموں سے چور چور اہل بوسنیا کے چہرے کھل اٹھے ۔ کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھاکہ اندھا دھند بمباری گولہ باری اور برستی گولیوں کے درمیان عالم اسلام کا کوئی رہنما یہاں پہنچ پائے گالیکن اللہ کریم کی خصوصی حفاظت کے سائے میں قاضی صاحب اپنے بوسنیائی بھائیوں کے درمیان تھے ۔شیشان کے مسلمانوں کے ساتھ بھی ان کی خصوصی محبت تھی ۔ان پر جب قیامت ٹوٹی تویہ قاضی صاحب ہی تھے کہ جو ان کے حق میں جلوسوں ریلیوں کی قیادت کر رہے تھے ان کے رہنماﺅں کے ساتھ ان کے خصوصی روابط تھے ۔ ایران عراق اور پھر کویت عراق جنگوں کے دوران بھی قاضی صاحب صلح اور امن کا پیغام لےے سرگرم عمل تھے ۔ وہ دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کا وفد لے کر صدام حسین کو بھی جا ملے ۔ ایران کے قومی رہنماﺅں اور علمائے کرام سے ان کے خصوصی ذاتی مراسم تھے ۔ انقلاب ایران کی سالگرہ اور دیگر اہم کانفرنسوں میں شرکت کے لیے وہ متعدد مرتبہ ایران گئے ۔ آیت اللہ خمینی ، آیت اللہ خامنہ ای ، احمدی نژاد اور دیگر رہنماﺅں کے ساتھ ان کی ملاقاتیں ہی نہیں محبت و احترام کے رشتے تھے ،یہی وجہ ہے کہ قاضی صاحب مرحوم کی تعزیت کے لیے ایران سے ایک بڑا وفد سابق وزیر خارجہ علی اکبر ولایتی کی سربراہی میں لاہور آیا۔

                قاضی حسین احمد ہفت زبان رہنما تھے ۔ اردو ، پشتو، پنجابی ان کی اپنی زبانیں فارسی ، ، عربی ، انگریزی میں وہ رواں اور ترکی زبان کے بھی چند جملوں سے آگاہی ۔ گویا کہ ان کا معاملہ ”زبان من ترکی “ والا نہیں تھا ۔ ایران میں وہ فارسی زبان میں خطاب کرتے تو یوں لگتا گویا دبستان کھل گیاہے ۔ اقبال کا فارسی کلام انہیں ازبر تھا ۔ اس لحاظ سے ایران کے اہل فکر و دانش اور صاحبان علم و فضل ہمیشہ ان کے خطاب کے منتظر رہتے ۔ قاضی صاحب کو اللہ تعالیٰ نے جو حق گوئی و بے باکی عطا کر رکھی تھی، اس کی بدولت وہ ایران کے علمائے کرام کو مسلسل توجہ دلاتے رہتے تھے کہ وہ ایران کے عالم اسلام سے تعلقات کو شیعہ سنی تناظر سے بالاتر رکھنے کی شعوری کوشش کرتے رہیں کہ اختلاف

    امت دشمن کی خواہش اور استعمار کا ایجنڈاہے ۔

                قاضی صاحب نے کوشش کی کہ اسلامی تحریکیں مشترکہ جدوجہد کریں ۔ ابھی ترکی میں کامیابیوں کے سلسلے شروع نہیں ہوئے تھے ، عالمی اسلامی تحریکوں نے طے کیا کہ عالمی نشریاتی اداروں کے مدمقابل اسلامی تحریکوں کا بھی کوئی ایسا عالمی سطح کا ٹی وی چینل ہو جو کومعیار کے لحاظ سے عالمی نشریاتی اداروں کا مقابلہ کرے جبکہ مقاصد کے لحاظ سے وہ ایک خالص دعوتی چینل ہو۔اس پراجیکٹ کی پیش رفت ترکی کی اسلامی تحریک کے ذمہ لگائی گئی جبکہ عالم اسلام کے ممالک بالخصوص اسلامی تحریکوں کے تاجر و صنعت کارو برآمد و درآمد کنندگان کے درمیان تجارتی رابطوں کے لیے تنظیم سازی کی ذمہ داری جماعت اسلامی پاکستان کو سونپی گئی ۔ چنانچہ قاضی صاحب کی تحریک پر پاکستان بزنس فورم قائم ہوا۔

                قاضی حسین احمد ایک روشن خیال اسلامی مفکر اور مصلح تھے ۔ انہوں نے کئی بند دروازوں کو کھولا ۔ چین کی حکومت اور چین کی کیمونسٹ پارٹی کے ساتھ روابط بھی ایک ایسا ہی بند دروازہ تھا ۔ 1970 ءکی دہائی کی نظریاتی کشمکش کے پس منظر میں یہ روابط یقیناً ایک بریک تھرو تھا ۔ جاپان کے ساتھ بھی ان کے تعلقات کی نوعیت دوستی اور قربت کی تھی ۔ نائن الیون کے بعد تو عالمی حالات یکسر تبدیل ہو گئے لیکن اس سے دو سال قبل محترم قاضی صاحب نے اپنے دورہ امریکہ کے دوران امریکہ کے تھنک ٹینکس کے ساتھ بھی ڈائیلاگ کی نشستیں کیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ قاضی صاحب کے عالم اسلام کے ہر رہنما سے ذاتی تعلقات تھے ۔ وہ تعلقات بنانا ،نبھانا ،بڑھانا اور انہیں مقصدیت سے ہمکنار کرنا جانتے تھے ۔انہوں نے اپنے عمل سے یہ بتایا کہ :۔

     درویش خدامست نہ شرقی ہے نہ غربی

    گھر میرا نہ دلی نہ صفاہاں نہ سمر قند !

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس