Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

سیدعلی گیلانی اور تحریک آزادی

  1.  

    کل جماعت حریت کانفرنس میں شامل تمام جماعتوں نے متفقہ طور پر بزرگ راہنما سید علی گیلانی کو تاحیات حریت کانفرنس کا چیئرمین اور شبیر شاہ کو سیکرٹری جنرل منتخب کیا ہے۔ بلاشبہ کشمیر جماعتوں اور اُن کی لیڈر شپ کا یہ فیصلہ قابل تحسین فیصلہ ہے۔ اس فیصلے سے تحریک آزاد کشمیر کو مزید تقویت ملے گی۔ سید علی گیلانی کی ساری زندگی جدوجہد سے تعبیر ہے۔ آزادی اور حق خود ارادیت کی جدوجہد میں عمر کا زیادہ حصہ بھارتی جیلوں میں گزارا ہے۔ بھارت نے حریت قائد کی آزادی کی آواز دبانے کے لیے ظلم و جبر کے تمام ہتھکنڈے آزمائے لیکن وہ حریت قائدین کے عزم و حوصلے کو توڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ ماضی میں پاکستان کے حکمرانوں نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مختلف آپشنز پیش کیے۔ اگر ان آپشنز اور فارمولوں کے سامنے کوئی ڈٹا رہا تو وہ سید علی گیلانی تھے جنہوں نے جنرل مشرف کو دو ٹوک جواب دیا تھا کہ کشمیر کے لاکھوں شہداءنے اپنا خون بھارت کے غاصبانہ قبضہ سے آزادی کے لیے پیش کیا ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو نظر انداز کر کے کوئی دوسرا فارمولہ تحریک آزادی کشمیر کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں سید علی گیلانی کے اس موقف کو بعض دانشوروں نے ہٹ دھرمی قرارد یا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ثابت ہوا کہ سید علی گیلانی کا موقف بالکل درست تھا آج حکومت پاکستان اسی موقف کو لے کر چل رہی ہے جو سید علی گیلانی کا موقف تھا۔ سید علی گیلانی ہمیشہ سے یہ کہتے چلے آ رہے ہیں کہ بھارت مکر و فریب کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے اور اول روز سے بھارت مسئلہ کشمیر کے حوالے سے تضادات اور دو عملی کی پالیسی پر چل رہا ہے۔ سید علی گیلانی کا موقف تھا کہ جب تک بھارت کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم نہیں کرتا اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے آمادہ نہیں ہوتا اس وقت تک بھارت سے کسی طرح کے مذاکرات کا ر لاحاصل مشق ہے۔ محض پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارتی و ثقافتی وفود کے تبادلے آلو ،پیاز کی تجارت اور امن کی آشا سے کشمیریوں کے دکھوں کا مداوا نہیں ہو سکتا۔ تاریخ نے سید علی گیلانی کے موقف کو درست ثابت کر دیا ہے۔ بھارتی حکمران ابھی تک کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم پاکستان سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن یہ مذاکرات آزاد کشمیر ہوں گے کبھی بھارت کہتا ہے کہ ہم تجارت کے لیے مذاکرات کر سکتے ہیں۔ تجارتی و ثقافتی وفود کے تبادلے ہو سکتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ بھارتی حکمران اصل تنازعہ کے حل کے بجائے دیگر امور کو درمیان میں لے آتے ہیں اور بھارت غیر ضروری امور پر بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کر دیتا ہے جبکہ کشمیریوں نے یہ ساری قربانیاں نہ تو تجارتی و ثقافتی وفود کے تبادلے کے لیے پیش کی ہیں نہ ہی امن کی آشا کے لیے دی گئی ہیں۔ بلکہ کشمیری بھارت کے غاصبانہ قبضہ سے آزادی چاہتے ہیں جب تک اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں کشمیریوں کو ان کا پیدائشی حق حق خودارادیت نہیں دیا جاتا اس وقت تک کشمیریوں کی آزادی کی تحریک جاری رہے گی۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کی حیرت قیادت نے سید علی گیلانی کی قیادت میں متحدہ ہو کر انتہائی مثبت اور تعمیری قدم اٹھایا ہے اور پوری دنیا کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے سید علی گیلانی کا موقف ہی پوری کشمیری قوم کا مو

     

    ¿ہے۔ تحریکیں اپنے نظریے اور مو

    ¿قف کی بنیاد پر کامیاب ہوتی ہیں جن تحریکوں کے پیچھے کوئی نظریہ نہیں ہوتا وہ تحریکیں کامیاب نہیں ہوتی ہیں۔ کشمیر کی آزادی کی تحریک ایک نظریے کے تحت برپا کی گئی ہے یہ نظریہ اسلام، آزادی اور تکمیل پاکستان ہے۔ اسی نظرئیے کو بنیاد بنا کر مقبوضہ جموں و کشمیر میں تاریخ کا عظیم جہاد برپا ہے آج تک لاکھوں شہداءنے اپنا گرم گرم لہو آزادی کے لیے پیش کیا ہے۔ ہزاروں اپنے گھروں سے بے گھر ہوئے ہیں۔ ہزاروں زخمی اور معذوری کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ہزاروں پس دیوار زنداں ہیں۔ جس تحریک کی قیادت سید علی گیلانی جیسا پرعزم راہنما کر رہا ہو اس تحریک کو دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ اس لیے کہ سید علی گیلانی کا ماضی اس بات کا گواہ ہے کہ کوئی دبا کوئی لالچ ان کے عزم و حوصلے کو نہیں توڑ سکا جب کبھی بھی حکمرانوں نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنی مرضی کے حل کشمیریوں پر مسلط کرنے کی کوشش کی سید علی گیلانی ان حکمرانوں کے آگے راستے کا پتھر بن گئے۔ سید علی گیلانی کسی دبا کو خاطر میں لائے بغیر اپنے اصولی موقف پر ڈٹے رہنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ اس کے نتیجے میں متعدد بار انہیں انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔ ان سے حریت کی چیئرمین شپ چھین لی گئی۔ ذرائع ابلاغ میں نظر انداز کرنے کی کوششیںکی گئی ایک طرف بھارتی حکمران سید علی گیلانی کے جذبہ حریت کو سرد کرنے کے لے مذموم ہتھکنڈے آزما رہے تھے۔ تو دوسری جانب ماضی میں پاکستان کے حکمرانوں نے بھی اپنی مرضی کے حل سید علی گیلانی پر مسلط کرنے کی کوشش کی اور انہیں آمادہ کرنے کے لیے ہر قسم کے طریقے آزمائے لیکن وہ ان کے موقف میں کس طرح کی لچک پیدا نہ کر سکے۔ مشرف کے فارمولے اور سید علی گیلانی کا ان فارمولوں کے آگے دیوار بن جانا تاریخ کا ایک اہم باب ہے اب جبکہ ایک مرتبہ پھر کشمیری قیادت نے ذمہ دارانہ طرز عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے سید علی گیلانی کو حریت کا چیئرمین اور معروف حریت رہنما شبیر احمد شاہ کو سیکرٹری جنرل منتخب کیا ہے اس فیصلے سے آرپار کشمیریوں کو ایک نیا جذبہ و ولولہ ملا ہے۔ شبیر احمد شاہ کی بھی تحریک آزادی کشمیر کے لیے قربانیاں اور خدمات تاریخ کا اہم باب ہیں۔ وقت اور حالات کا تقاصا ہے کہ تحریک آزادی کشمیر کے اس نازک موڑ پر کشمیری قیادت اتحاد و یکجہتی کے ساتھ آگے بڑھے اور ون پوائنٹ ایجنڈے کے تحت کہ کشمیریوں کو حق خودارادیت دیا جائے ہر سطح پر جدوجہد کو تیز تر کیا جائے متحد و منظم ہو کر ہی اس تحریک کو کامیابی کی منزل تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان جو کشمیریوں کا حقیقی وکیل ہے اسے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی۔ سفارتی سطح پر اپنے سفارت خانوں کو متحرک کرنا ہو گا۔ بھارت کے تحریک آزادا کشمیر کے خلاف منفی پروپیگنڈے کے توڑ کے لیے اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ بھارت بین الاقوامی برادری کو گمراہ کرنے کے لیے تحریک آزادی کشمیر کو دہشت گردی سے تعبیر کرتا ہے۔ اور بین الاقوامی دنیا آنکھیں بند کر کے بھارت کے اس منفی پروپیگنڈے سے متاثر ہو رہی ہے دنیا کو معلوم ہونا چاہے کہ کشمیریوں کی تحریک آزادی اور حق خودارادیت کی تحریک ہے۔ کشمیری اپنے پیدائشی حق کے لیے آواز اٹھاتے رہے ہیں کشمیریوں کو آزادی کی تحریک کو دہشت گردی سے جوڑنا سراسر ناانصافی اور ظلم ہے امریکہ سمیت عالمی طاقتوں کو اپنے دوہرے معیارات ختم کر کے کشمیریوں کو ان کا حق آزادی دلانے کے لیے بھارت پر دبا بڑھانا چاہیے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس