Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

استنبول۔ترکی۔مکتوب خاص

  1.             تر کی میں ےکم نو مبر کے انتخا با ت ،نتاج کے بعد پورے تر کی میں عوام نے سکھ کا سا نس لےا ہے ۔ہر فرد کے چہرہ پر خوشی اور سکون ہے ۔کئی دفاتر ، اداروں کے ہیڈ کواٹرز جانے کا موقعہ ملا ہے۔ہر جگہ خوشی مبارک باد اورمستقبل کے عزائم کا اظہا ر پایا گیا ہے۔ صدر ترکی طیب اردگان نے استنبول کی جامع مسجد میں شکرانے کے نوافل ادا کیے ۔ نماز پڑھی ، دعا کی اور بعد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ترک عوام نے ملکی استحکام کے لیے ووٹ دیاہے ۔ جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کو تقریباً (49.5 ) فیصد ووٹ ملے ہیں ۔ جون کے انتخابات کے بعد حکومت سازی کے لیے مذاکرات ہوئے لیکن بے نتیجہ رہے ۔ ترکی میں ترقی کا سفر جاری رہے گا ، عوامی خواہشات پر پارٹی پورا اترے گی ۔ ایک رپورٹر نے صدر ترکی کو متوجہ کیا کہ عالمی میڈیا ان کی قیادت پر تنقید کر رہاہے تو طیب اردگان نے جواب دیا کہ عالمی میڈیا عوام کے مینڈیٹ کا کیوں احترام نہیں کرتا ؟ عالمی میڈیا نے اس وقت بھی تنقید نہیں چھوڑی تھی جب ترکی کے عوام نے پچاس فیصد اکثریت کے ساتھ مجھے صدر منتخب کیا تھا اب کوئی تو عالمی میڈیا سے پوچھے کہ کیا یہ آپ کی جمہوریت کا وژن ہے ، کیا یہ جمہوری رویہ ہے ؟ ۔ طیب اردگان نے ترک عوام کی جمہوری بالغ نظری کو سلام پیش کرتے ہو ئے کہاکہ اب پوری دنیا ترک عوام کے جمہوری فیصلے کا احترام کرے ، لیکن ابھی تک عالمی رویے نے مثبت اظہار نہیں کیا ؟ ایک پرچم ، ایک پارٹی ترکی کی ترقی کے لیے سنگ میل ہے ۔ ترک پارلیمنٹ میں حتمی نتائج کے بعد پارٹی پوزیشن یہ ہو گئی ہے۔ جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی ( اے کے پی )49.5 فیصد 317 ممبران پارلیمنٹ ، اپوزیشن پارٹی ایچ پی 25.3 فیصد ، ممبران پارلیمنٹ 134 ،کرد پارٹی ایچ ڈی پی 10.8 فیصد 59ممبران پارلیمنٹ اور نیشنلسٹ پارٹی ایم ایچ پی 11.9 فیصد ممبران پارلیمنٹ 40 ہیں ۔ یورپی یونین اور یورپین پارلیمنٹ نے ترکی میں رائے دہندگان میں اضافے کی تعریف کی گئی اور ترکی کے ساتھ یورپ کے تعلقات میں نئے دور کا اظہار کیا گیاہے ۔ یورپی یونین کی نائب صد ر نے ویانا میں پریس کانفرنس میں تحریری بیان میں کہاکہ ترکی میں ووٹ ڈالنے کی شرح 85 فیصد تھی ۔ یہ ترک عوام کا جمہوری عمل پر مضبوط ترین اعتماد ہے ۔ اسی طرح یورپی یونین اور یورپی پارلیمنٹ نے مشترکہ تحریر ی خط میں ترک وزیراعظم احمد داﺅد اوغلو کو پارٹی کا میابی پر مبارکباد دی ہے ۔ وزیراعظم احمد داﺅد اوغلو نے انقرہ میں کامیابی کے بعد اظہار شکر کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ترک عوام نے استحکام اور جمہوریت کے حق میں ووٹ دیا ہے ۔آج ملک کے عوام او ر جمہوریت کی فتح ہے ۔ہم انشاءاللہ آئندہ چار سال عوام کی بہتر خدمت کریں گے اور 2019 میں ایک مرتبہ آپ کی عدالت میں پیش ہوں گے ۔ اے ایچ پی کے ہیڈ کوارٹر کی بالکونی سے وزیراعظم کا خطاب سننے کے لیے ہزاروں سپورٹرز گھنٹوں شدید سردی میں انتظار کر رہے تھے ۔ وزیراعظم نے کہاکہ ترکی کے خلاف سازشیں ہوتی رہی ہیں لیکن ہم 78 ملین عوام کا ہر قیمت پر تحفظ کریں گے ۔ عوام نے اپنے اعتماد کے ساتھ یہ بھی اظہار کر دیاہے کہ وہ اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں ۔ انتخابات ختم ہو گئے ، انتخابی مہم کی تلخیاں ختم کر دینی چاہئیں اور متحدہو کر سب آگے بڑھیں ۔ انتخابات کے بعد یہ سوال گردش کر رہاہے کہ گزشتہ تیرہ سال سے ترکی کی معاشی پالیسی پر حاوی سابق ڈپٹی وزیراعظم علی بابا جان کو کیا دوبارہ کردار دیا جائے گا ۔ یہ امکان بھی ظاہر کیاجارہاہے کہ سابقہ وزیر خارجہ میولٹ ہی برقرار رہیں گے جبکہ یہ امر یقینی ہے کہ سابقہ وزیراعظم نعمان کرتلموس اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے ۔ترک انتخابات کے بعد کئی عجیب امور سامنے آئے ہیں جن میں یہ کہ ترک پارلیمنٹ میں خواتین کی تعداد ماضی کے تناسب سے کم ہو گئی ہے ۔ یہ تعداد 95 کی بجائے 81 ہو گئی ہے ۔ یہ غیر حتمی نتائج ہیں ۔ اسی طرح اقلیتوں کی نشستوں پر وہ سب ممبران دوبارہ منتخب ہو گئے ہیںجو جون 2015 ءکے انتخابات میں کامیاب ہوئے تھے ۔ یکم نومبر 2015 ءکے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا تناسب 85 فیصد رہا جو ترکی کی تاریخ میںسب سے زیادہ ٹرن آﺅٹ ہے ۔جبکہ جون 2015 ءمیں 1346340 ووٹ غلط انداز میں ڈالے گئے جبکہ مسترد شدہ تعداد یکم نومبر 2015 ءکو کم ہو کر 698352 رہ گئی جس سے ظاہر ہوتاہے کہ ووٹر ز میں جوش و خروش کے ساتھ ہوش بھی غالب تھا ۔عدالت میں ترکی کے سفارت کار یرغمال بنا لیے گئے تھے ان انتخابات میں سفارتکار اور ترک یلماز سی ایچ پی کی جانب سے ممبر پارلیمنٹ منتخب ہو گئے ہیں۔ انتخابات کے لیے آبزرورز ٹیم نے مجموعی طور پر انتخابات کو شفاف اور غیر جانبدارانہ قرا ر دیاہے لیکن یہ بھی کہاہے کہ سیکورٹی بہت سخت تھی جس سے مشکلات میں اضافہ ہوا اور میڈیا پر سختی بھی قابل توجہ امر تھا ۔

                ترکی کے یکم نومبر کے انتخابات کے ساتھ ہی تبصروں اور تجزیوں کے سلسلے جاری ہیں ۔ مبارکباد کے پیغامات بھی صدر اور وزیراعظم کو موصول ہو رہے ہیں۔ حماس کے سربراہ خالد مشعل نے ترک صدر اور وزیراعظم کو مبارکباد دی ہے انہوں نے کہاکہ ترکی میں اے کے پی کی کامیابی پر فلسطینی عوام کو بے پناہ خوشی ہوئی ہے ۔ترکی کا جمہوری استحکام خوشی کا باعث ہے ۔ سینئر کالم نگار مراد تبکن جو انتخابات میں اے کے پی کے سخت ناقد تھے اب اپوزیشن پر برسے ہیں کہ عوام کے ووٹرز نے اپوزیشن پر کامل عدم اعتماد کیا ہے ، اپوزیشن اپنا کردار واضح کرے ۔ ایم ایچ پی میں انتخابی شکست کے بعد کافی بھونچال ہے لیکن پارٹی لیڈر نے کہاہے کہ ہم اس بحران پر قابو پا لیں گے ۔

                انتخابات کے نتائج کے بعد انگریزی روزنامہ کے سینئر کالم نگار احمدحقان نے خوبصورت تحریر میں کہاہے کہ سیاست سماجی ، سیاسی اور مضبوط رابطوں کا نام ہے جبکہ اپوزیشن جماعتیں اس میں ناکام رہیں اور اے کے پی کے کارکنان نے دن رات محنت کی او ریہ تبصرہ بھی بڑا معنی خیز ہے کہ طیب اردگان او ر احمد داﺅد اوغلو زیادہ دیر اکٹھے چل سکیں گے؟ میں نہیں چاہتاکہ دونوں قائدین کے درمیان اختلاف پیدا ہو ۔ اگر یہ دونوں قائدین اکٹھے چلتے ہیں اور پاور کشمکش کا شکار نہیں ہوتے تو یہ ترکی میں جمہوریت ، عوام کی ترقی اور یک جماعتی مستحکم اقتدار کے لیے بہت مفید ہوگا اگر یہ اقتدار میں حصہ داری کرتے ہیں اور ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں تو یہ ترکی کے تمام جمہوریت پسند عوام کے لیے انمول تحفہ ہو گا ۔ اس کالم نویس نے اپوزیشن جماعتوں سے بھی کہاہے کہ اپنی شکست تسلیم کرو ۔ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرو، اب آپس میں جھگڑے کی بجائے متحدہ اپوزیشن بناﺅ او ر حکمرانوں کو راہ راست پر رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کرو ۔

                خاتون کالم نگار گلہ بنمیر نے لکھاہے کہ یکم نومبر کے انتخابات میں خواتین کے لیے افسوسناک منظر ہے کہ اس انتخاب میں خواتین سراسر خسارے میں رہیں ، جون 2015 ءانتخابات میں 95 خواتین ممبر پارلیمنٹ تھیں جبکہ اس انتخاب میں اے کے پی 34 ممبران پارلیمنٹ ، سی ایچ

    پی 21 ممبران پارلیمنٹ ، ایچ ڈی پی 23ممبران پارلیمنٹ اور نیشنلسٹ سیکولر پارٹی ایم اےچ پی کے صرف تین ممبران پارلیمنٹ ہیں اس طرح 550 کے اےوان میں 81 خواتین ممبران پارلیمنٹ ہیں ، بزنس پرسن نورجہ نے خواتین کی پارلیمنٹ میں کم نمائندگی پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ ترک معاشرے میں مر دو خواتین کی برابری ناگزیر ہے ، یہ آزادی اور بنیادی حقوق کا معاملہ ہے ، ہماری سیاسی جماعتوں میں سماجی اقدار اور ضرورت کی اہمیت نہیں یہ صورتحال افسوسناک ہے ، مرد و خواتین کی برابری کے حقوق ترقی کے لیے ناگزیر ہیں ۔#

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس