Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

ترکی انتخابات کا تجزیہ

  1.   یکم نومبر 2015 ءکو ترکی میں حکومت سازی کے لیے پارلیمنٹ کے انتخابات کا ددسرا راﺅنڈ ہونے جارہاہے ۔ جون 2015 ءکے انتخابات میں منقسم مینڈیٹ کی وجہ سے حکومت سازی نہ ہوسکی اور نامزدگی کی گئی۔ جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی حکومت کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل نہ کر سکی جبکہ پارلیمنٹ میں نمائندہ پارٹیوں میں بھی حکومت سازی کے لیے اتفاق نہ ہوسکا ۔ AKP حکمران جماعت نے بھی حکومت میں شمولیت کے لیے ایچ ڈی پی ۔ سی ایچ پی کڑی شرائط قبول کرنے سے انکار کر دیا اب دوسرے راﺅنڈ کے انتخابات کا میدان تیا ر ہے ۔ اگرچہ انتخابی مہم سرد ہے ۔ عوام کی دلچسپی بھی کم ہے اور پارٹیوں کے لیے بھی انتخابی اخراجات از سر نو مہیا کرنا مشکل ہو گیاہے ۔ عوام میں دلچسپی اس لیے کم ہے کہ انہیں ناراضگی ہے کہ پارٹیوں نے حکومت سازی میں دانشمندی کاثبوت نہیںد یا ۔ اس وجہ سے سیکورٹی مسائل بڑھ گئے ۔ عوام اور ملک کی معاشی صورتحال خراب ہوئی ہے ۔

                یکم نومبر 2015 ءکے انتخابات میں بظاہر جون 2015 ءکے انتخابات کے نتائج میں کوئی بڑی تبدیلی متوقع نہیں ۔ آئندہ بھی حکومت سازی کے لیے جماعتوں کو اتفاق کرنا ہوگا اور اپنی اپنی انا اور پارٹی پوزیشن سے ہٹنا ناگزیر ہوجائے گا ۔ آج کے تازہ ترین عوامی سروے کے مطابق پارٹی پوزیشن اس طرح بیان ہورہی ہے ۔ AKP 41.3 فیصد ۔ سی ایچ پی 26.5 فیصد اےچ ڈی پی 13 فیصد ،ایم ایچ پی 13.2 فیصد اور دیگر جماعتیں 3.6 فیصد ۔ اگریہ صورتحال رہی تو ترک پارلیمنٹ پھر معلق رہے گی ۔

                سوال یہ موجود ہے کہ طیب اردگان کی سربراہی میں حکمران جماعت AKP کیوں سادہ اکثریت حاصل نہیں کر سکی اور یکم نومبر کو ہونے والے انتخابات میں بھی حکومت سازی کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل کرنا مشکل نظر آرہاہے ۔ دانش ور ، تجزیہ نگار ، سینئر صحافی اور سیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں کا تجزیہ ہے کہ اے کے پی نے حکومت میں بڑے بڑے پراجیکٹ اور نظر آنے والے منصوبوں پر توجہ رکھی جبکہ عام آدمی کی ضروریات نظر انداز ہو گئیں ۔ یوتھ اس پارٹی کا اصل سرمایہ تھا اس کے جو ش میں کمی آگئی ۔ شام ، ایران و عراق کے حالات کے بھی گہرے اثرات ہیں۔ خصوصاً حکومتی پالیسی کو زیادہ پذیرائی نہیں ملی ۔ کرد ووٹرز اے کے پی ساتھ تھے لیکن اب صورتحال تبدیل ہوئی جس سے ایچ ڈی پی نے دس فیصد سے زیادہ ووٹ لے کر سب سے زیادہ نقصان اے کے پی کو پہنچایا ۔اے کے پی اور سعادت پارٹی میں بھی اتحاد نہ ہوسکا جس سے نظریاتی ووٹ بکھر گیا ۔ یہ رائے بھی پوری شدت سے پائی جارہی ہے کہ اے کے پی نے دیگر جماعتوں کی اہمیت کو نظر انداز کیا اور پاپولر جماعت ہونے کی بنیاد پر اختیارات زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی خواہش نے حکمران جماعت کے مقابلہ میں دیگر جماعتوں کو متحرک کر دیا ۔

                 یکم نومبر 2015 ءکے انتخابات میں نتائج حکمران جماعت اے کے پی کے حق میں اسی صورت تبدیل ہوسکتے ہیں کہ ووٹ دینے کی شرح میں کمی ہو ، ایچ ڈی پی دس فیصد یا ۱۱ فیصد تک محدود رہے نیز عوام میں یہ ردعمل پیدا ہو کہ اپنے مسائل حل کرنے کے لیے مستحکم حکومت بننی چاہیے کیونکہ اس صورتحال میں اپوزیشن جماعت سی ایچ پی کا اکثریت حاصل کرنا ممکن نہیں اس لیے اس صورتحال کا فائدہ حکمران جماعت کو ہی ہوگا۔ عمومی طور پرکاروبار ی طبقہ اور سیاسی کارکنان اے کے پی کی جیت کے لیے ہمدردیاں بھی رکھتے ہیں لیکن فی الحال ناراضگی غالب ہے ۔ آئندہ 24 گھنٹے ترکی کے انتخابات کے لیے بہت اہم ہیں ۔

                کل ہی ترکی کے اہم موثر نظریاتی سماجی گروپ ختم گولن کے میڈیا اداروں اور کئی ہولڈنگ کمپنیوں دولت اسٹیبلشمنٹ نے کاروائی کی ہے ۔ میڈیا ادارے بند کر دیے گئے اور ہولڈنگ کمپنیوں کو بھی کام سے روک دیاگیاہے ۔ اس صورتحال پر بھی ملا جار ردعمل پایا جارہاہے ۔ بعض سینئر صحافیوں اور تجزیہ نگار حضرات کا کہناتھاکہ ایسا اقدام ناگزیر تھا تاکہ ترکی کے حالات پر یکطرفہ منفی پروپیگنڈا کا باب بند ہوناچاہیے ۔ یہ تجزیہ بھی اہم ہے کہ ترکی میں ایسے اقدام سوچے سمجھے منصوبہ کے ساتھ حکومتوں سے بھی بالابالا ہو جاتے ہیں اور حالات پر منفی یا مثبت اثرات کے حامل ہوتے ہیں ۔ غیر جانبدار اور حکومت کے حامی افراد بھی اس موقع پر ایسے اقدامات سے خوش نہیں ہیں ۔ 29 اکتوبر ترکی کا 92 واں یوم جمہوریہ کا دن تھا۔ انتخابی سرگرمیوں کی وجہ سے سرکاری تقاریب کے علاوہ عوامی سطح پر کوئی گہما گہمی نظر نہیں آئی ۔ پارٹیاں انتخابات کے آخری مرحلہ میں مصروف ہیں ۔

     

     

     

     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس