Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

حج،عید قربان۔۔اتحاد امت کا پیغام

  1. حج اتحاد امت اور انسانوں کے درمیان ہر طرح کے تفرقہ کے خاتمہ اور مساوات انسانی کا عظیم پیغام اور اعلان عام ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے ذریعے حج کا اعلان عام یوں فرمایا :۔

    ’’ یاد کرووہ وقت جب کہ ابراہیم علیہ السلام کے لیے اس گھر خانہ کعبہ کی جگہ تجویز کی تھی اس ہدایت کے ساتھ کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو اور میرے گھر کا طواف کرنے والوں اور قیام و رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک رکھو اور لوگوں کو حج کے لیے اذن عام دے دو کہ وہ تمہارے پاس ہر دور دراز مقام سے پیدل اور اونٹوں پر سوار آئیں تاکہ وہ فائدے دیکھیں جو یہاں ان کے لیے رکھے گئے ہیں اور چند مقرر دنوں میں ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انہیں بخشے ہیں خود بھی کھائیں اور تنگ دست محتاج کو بھی دیں پھر اپنی میل کچیل دور کریں اور اور اپنی قدریں پوری کریں اور اس قدیم گھر کا طواف کریں یہ تھا تعمیر کعبہ کا مقصد جو کوئی اللہ کی قائم کردہ حرمتوں کا احترام کرے تو یہ اس کے رب کے نزدیک خود اسی کے لیے بہتر ہے ۔‘‘ الحج: آیات ٢٢۔ ٢٦ تا ٢٨)
    یہ ایسا پیغام ہے کہ اہل ایمان مسلمان حج کا موسم آتے ہی ارادہ کر کے گھروں سے نکلتے ہیں ۔ سفر ی اخراجات ، مناسک حج کی مشقت اور مشکلات کو برداشت کرتے ہیںاس لیے کہ صاحبان استطاعت ، اہل ایمان پر حج فرض ہے اسی لیے ہر سال ایام حج میں لاکھوں اہل ایمان دنیا کے ہر گوشے سے فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ پہنچتے ہیں ۔ اس موقع پر حجاج کرام دو سفید چادروں کے ایک لباس کے ساتھ اخوت ، اجتماعیت اور انسانوں کے درمیان تفریق کے خاتمہ کا وہ عملی منظر سامنے آتاہے جس کی مثال دنیا کی کوئی اور تہذیب اور مذاہب عالم پیش نہیں کر سکتے یہ وہ منظر ہے جس سے انسانی مساوات کا تحفظ اور نسلی فخر و کبر کی طبقاتی تعلیم کے خاتمہ کا عملی مظاہرہ ہوتاہے ۔ انسانی جان و مال ، عزت و آبرو کے تحفظ اور ایک اللہ کے احکامات کی پابندی کا دو ٹوک اعلان ہوتاہے گویا اہل ایمان حجاج کرام اعلان کر دیتے ہیں کہ ’’ میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے جو تمام دنیا کا پروردگار ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ ہی حکم مجھے ہوا ہے اور میں سب سے پہلے فرمانبردار ی کا اقرار کرتاہوں ‘‘ ۔ سورہ انعام آیت162-163
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ’’ جو شخص حج صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے کرتاہے اس میں بری باتیں اور برے کام نہ کرے تو وہ حج کر کے اسی طرح لوٹتا ہے گویا کہ آج اس کی ماں نے اسے جنا ۔‘‘ متفق علیہ ۔ حج کی حقیقت یہ ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں سے فیض یاب ہو ا جائے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح اللہ کی دعوت اور احکامات پر لبیک کہا جائے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام و اسماعیل علیہ السلام جیسے برگزیدہ بندوں کی پیروی کرتے ہوئے اللہ کے سامنے ہر طرح تسلیم و رضا کے ساتھ اپنی گردن جھکا دی جائے ۔ اہل ایمان دیوانہ وار اللہ کے گھر کا طواف کرتے ہیں ۔ اپنے گناہوں کی بخشش کے لیے گڑ گڑا کر دعائیں کرتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق تمام مناسک حج کی ادائیگی کے لیے ہر احتیاط کو پیش نظر رکھتے ہیں اور جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیت اللہ میں حاضر ہو کر پکارا اسی طرح اللہ کے مہمان حجاج کرام بیت اللہ میں حاضر ہو کر پکارتے ہیں کہ ’’ میں حاضر ہوں ، اے اللہ میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں ۔ تیرا کوئی شریک نہیں ، سب خوبیاں اور سب نعمتیں تیری ہیں اور سلطنت تیری ہے تیرا کوئی شریک نہیں ۔‘‘
    عید قربان مسلمانوں کی سماجی زندگی کا بابرکت تہوار ہے ۔ تہوار ، خوشیاں سماجی زندگی میں بے پناہ اہمیت رکھتی ہیں ۔ تہوار بنانا سماجی زندگی کی جان ہیں ۔ لوگوںکا خوشیوں کے اظہار کے لیے جمع ہونا ، میلے ٹھیلے کرنا ، رسومات کی ادائیگی کرنا ، اپنی اہمیت اور موجودگی کا اظہار انسانی فطرت ہے ۔ انسانوں کے درمیان تہوار کسی تاریخی واقعہ کی یاد گار کے طور پر منائے جاتے ہیں اسی لیے ہر قوم کے تہوار اپنی روایات رکھتے ہیں ۔ دوسری اقوام کے لیے دوسری قوم کے جذبات و احساسات میں شریک نہیں ہوپاتے کہ اس سے جذبات و احساسات نہیں پیدا ہوتے جو خود اس قوم کی رسومات سے پیدا ہوتے ہیں ۔ اسی لیے دنیا بھر کی اقوام میں تہوار منانے اور خوشیوں کے اظہار کے لیے کھیل کود ، راگ و رنگ ، لطف اندوزی ، تفریحات، تہذیب کی حد سے گزر، فسق و فجور اور ناشائستگی کی حد تک پہنچ جاتی ہیں ۔اسی لیے اسلام کے پیروکاروں کے لیے جو تہوار مقرر کیے گئے ہیں وہ عید الفطر اور عید قربان دو تہوار ہیں ۔ اسلام چونکہ عالمگیر اور اصلاحی تحریک ہے جو کسی خاص ملک اور قوم تک محدود نہیں بلکہ تمام انسانوں کو ایک اللہ کی خدا پرستانہ تہذیب کا پیروکار بنانا چاہتا ہے اسی لیے ان دونوں تہواروں کے لیے طریقہ کار ، ضابطہ کار مقرر کر دیا گیاہے ۔ ماہ رمضان میں تیس روزے اور تقویٰ کی صفت اختیار کرنے کے لیے قرآن کی تلاوت ، شب قدر کی تلاش اور رمضان کے احکامات کی تعمیل پر اپنے مالک کا شکر بجا لانا اور عید قربان بے نظیر قربانی کی یاد گار ہے جو آج سے چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم کی بجا آور ی میں ہو سر تسلیم خم کرتے ہوئے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کے حضور پیش کر دیا ۔ یہی سنت عید قربانی کی صورت میں ہے کہ مرد و خواتین ، نوجوانوں ، بچوں میں اسی قربانی اور اللہ کی محبت و فرماںبرداری کے جذبات تازہ ہو جائیں ۔ اللہ کے ہاں جانور ، اس کا خون نہیں بندہ مومن کی نیک نیتی ہی قبول ہوتی ہے اس لیے عید قربان کے تہوار کو اللہ کی رضا ، اللہ کے مستحق بندوں کی مدد قربانی کے جانوروں کے گوشت کو مستحق لوگوں میں تقسیم کے ذریعے حقیقی خوشیاں حاصل کی جائیں ، اللہ کا دیا ہوا مال اللہ کے لیے ہی حاضر کر دیا جائے اور مستحق لوگوں کو خوشیاں دے کر اللہ کی مدد کی جائے اس عظیم تہوار کی روح اور مقصد یہی ہے ۔
    آج کا دور فتنوں ، فساد ، اسلام کے خلاف منظم سازشوں کا دور ًہے اسلامی تہذیب ،اسلامی اقدار ، بے مقصد تعلیم اور ضد ، انا پرستی اور فرقہ پرستی عالم اسلام کو پارہ پارہ کر رہاہے لیکن اس سب کچھ کے باوجود حج کا عظیم موقع اور عیدقربان کے موقع پر گھر گھر قربانیوں کی تیاری ، جانوروں کی خریداری کا ذوق شوق امت میں زندگی کے آثار نمایاں کر رہے ہیں ۔ ماہ رمضان میں مساجد کی آبادی ، سحر و افطار کے موقع پر اہل ایمان میں زندگی اور حرارت ظاہر ہوتی ہے ۔ اصل حاصل یہ ہے کہ عالم اسلام میں قرآن و سنت کی بنیاد پر حرکت پیدا ہو ، اہل ایمان میں ایسا احساس بیدار ہو جس کی بنیاد پرہیزگاری اور تقویٰ ہی ہو ۔ عید الفطر اور عید الاضحی کے تہوار پورے عالم اسلام میں اسلامی بیداری ، تقویٰ کا موسم ہے ۔خصوصاً حج کا زمانہ تمام روئے زمین پر اسلام کی زندگی اور بیداری کا زمانہ ہے ۔ حج اور عید قربان کا پورا عمل وحدت ملت کا بڑا ہی پر کیف نظارہ ہے ۔ ایک ہی لباس میں ایک ہی مرکز کی طرف فرزاندان توحید رواں دواں ہوتے ہیں ۔ مولاناسیدابوالاعلیٰ مودودی ؒ نے اس منظر کو اس طرح بیان کیا ہے کہ مرکز اسلام کعبۃ اللہ ( میقات ) کے قریب پہنچ کر سارے کے سارے ایک ہی طرز کا یونیفارم پہن لیتے ہیں ۔ احرام کا یونیفارم پہننے کے بعد اعلانیہ یہ معلوم ہونے لگتاہے کہ سلطان عالم ، بادشاہ زمین و آسمان کی یہ فوج جو دنیا کی ہزاروں قوموں سے بھرتی ہو کر آرہی ہے ایک ہی بادشاہ کی فوج ہے اور ایک ہی اطاعت و بندگی کا نشان ان پر لگاہواہے ایک ہی وفاداری کے رشتے میں یہ سب بندھے ہوئے ہیں اور ایک ہی دارالسلطنت کی طرف اپنے بادشاہ کے ملاحظے میں ہونے کے لیے جارہے ہیں ۔ اللہ کی فوج کا ہر سپاہی پکار رہاہے حاضر ہیں ، پروردگار حاضر ہیں تیرا کوئی شریک نہیں ہم حاضر ہیں ۔
    عالم اسلام آج جس گرداب میں الجھ گیاہے یہ کسی اور کی مسلط کردہ نہیں امت کے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے ۔ قرآن و سنت ، اتحاد امت کے اصولوں سے روگردانی کے نتائج میں حج کے موقع پر کعبۃ اللہ کے گر د اکٹھے ہونے والے سنت ابراہیمیؑ کی ادائیگی کے لیے قربانی کرنے والے متوالے فرزندان توحید اپنی انا ، ضد ، نفرتوں ، تعصبات کے بتوں کو توڑ دیں ، قربان کر دیں تو عالم اسلام بحرانوں سے نجات پا لے گا ۔ اسلام کی تعلیمات ، حج کا پیغام امن ہے ، برداشت ہے ، بھائی چارہ ہے اور اللہ سے دوستی کا ذریعہ ہے ۔ اسلام دنیا میں ہمیشہ کا امن قائم کرنے کی بڑی تحریک ہے ۔ اگر دنیا میں اقتداراور سیاست کی لگا م اسلام کے ہاتھوں میں ہو تو مسلمان انسانوں کو امن و اتحاد دینے والے بن جائیں گے ۔ ۔ اہل ایمان خبردار ہو جائیں ، بہت خون بہہ گیا، بہت خاندان اجڑ گئے ، دنیا میں بہت بدنامی ہوگئی ۔ نہ جانے امت بھٹک کر کس کس کی آلہ کار بنی رہی اب ضرورت ہے کہ حج اور عید قربان کے پیغام کی بنیاد پر اتحاد امت کا جذبہ بیدار ہو جائے ۔ #

     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس