Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

کھلے سمندرمیں حق زندگی کی تلاش

  1. بُدھ مت کے بانی مہاتما بُدھ کو امن و سلامتی کا ایک علَم بردار قرار دیا جاتا ہے، تاہم بُدھ مت کے موجودہ پیروکاراس کی ضد نظر آتے ہیں۔ بنگلہ دیش، تھائی لینڈ، چین، لاؤس، بھارت اور خلیج بنگال کے درمیان گھرا ہوا میانمار (سابق نام برما) مسلم اقلیت کے ساتھ جو ظالمانہ و وحشیانہ سلوک روا رکھے ہوئے ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔
    اِسی برس مئی اور جون کے مہینے میں تقریباً آٹھ ہزار افراد میانمار کے راکھن صوبہ (اراکان ریاست) سے نکلنے پر مجبور ہوگئے۔ بُدھ دہشت گردوں نے مسلم رُوہنگیا آبادی کو دو ہی راستے فراہم کیے۔ یہاں سے فرار ہوجاؤ یا مرنے کے لیے تیار ہوجاؤ ورنہ پوری آبادی کو جلاکر راکھ کردیا جائے گا۔ ۱۰۰، ۱۰۰؍ افراد پر مشتمل رُوہنگیا مسلمانوں کے قافلے چھوٹی کشتیوں پر بٹھا کر کھلے پانیوں میں نامعلوم منزل کی طرف دھکیل دیے گئے کہ کہیں اور پناہ تلاش کرلیں یا سمندر میں ڈوب مریں۔ زمین تو اُن کے لیے تنگ ہوچکی تھی۔ اس اکیسویں صدی میں بُدھ حکومت رُوہنگیا کا لفظ تسلیم کرنے کو بھی تیار نہیں ہے۔ بنیادی انسانی حقوق اور شہریت کا تو سوال ہی نہیں۔
    ۱۳ سے ۱۵ لاکھ رُوہنگیا آبادی کے بارے میں اُن کا ایک ہی فیصلہ ہے کہ یہ مسلم لوگ بنگلہ دیش سے ترکِ وطن کرکے برما میں زبردستی آبیٹھے ہیں۔ یہ بنگالی ہیں، غیرملکی ہیں، اجنبی ہیں، انھیں واپس جانا چاہیے، ان کی موجودگی غیرقانونی ہے۔ ان کا مذہب کا تو کیا ذکر ہمارے لیے ناقابلِ برداشت ہے اور ان کا وجود آبادی کے توازن کو خراب کر رہا ہے۔
    سابقہ فوجی بُدھ حکومت موجودہ جمہوری حکومت بھی اراکانی رُوہنگیا مسلمانوں کو کسی قسم کے حقوق دینے کے لیے تیار نہیں۔ باعزت ، باوقار شہری حقوق تو بہت دُور کی بات ہے وہ تو یہ تسلیم کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہے کہ برما میں رُوہنگیا نامی کوئی نسلی و مذہبی و لسانی گروپ نسل در نسل موجود چلا آرہا ہے۔ سرکاری طور پر تیارکردہ فہرست کے ۱۳۵، نسلی و مذہبی اقلیتوں میں رُوہنگیا کا لفظ شامل نہیں ہے۔ اگرچہ رُوہنگیا مسلمان یہاں ۵۰۰سال سے بھی زائد عرصے سے رہ رہے ہیں۔ اراکان کے نام سے اُن کی ریاست تھی، اور یہ نسل عربوں اور برصغیر کے مسلمانوں کا ورثہ ہے۔ اراکنی ریاست کا نام بھی پانچ اراکینِ اسلام کی وجہ سے اراکان رکھا گیا تھا۔
    مئی کے تیسرے ہفتے میں ملائیشیا کے ساحلی علاقوں سے کم و بیش ۱۳۵؍افراد کی لاشیں ملیں۔ اُنھیں بے سروسامانی ، بیماری اور غذائی قلت سے ہلاک ہونے والے رُوہنگیا شناخت کیا گیا۔ چند عالمی خبر رساں ادارے متحرک ہوئے اور تب یہ حقیقت بھی سامنے آئی کہ لاتعداد افراد بھی سمندر میں موجود ہیں اور خدشہ ظاہر کیا گیا کہ ان کشتیوں کا پٹرول ختم ہوتے ہی یہ افراد غرق ہوجائیں گے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے حوالے سے رسائل و جرائد میں تصاویر بھی شائع ہوئیں۔ سیکڑوں رُوہنگیا مسلمان نوجوانوں کے کھلے سمندروں میں موجودگی کا پتا لگا۔ انسانی اسمگلر انھیں جنگلوں اور ساحلوں پر بے یارومددگار اُتارنا چاہتے تھے، جب کہ انڈونیشیا، ملایشیا، تھائی لینڈ، آسٹریلیا، کمبوڈیا اور بنگلہ دیش کی سیکورٹی افواج ان کشتیوں کو ساحل تک پہنچنے ہی نہیں دیتیں، جو اُن کے شہری نہیں، اُس کی جان کیوں بچائیں آج کا اخلاق یہی ہے۔
    بعدازاں یہ اطلاعات ملیں کہ خوراک کی عدم دستیابی، کشتیوں میں مسلسل موجودگی اور بدترین حالات کی وجہ سے ۱۰۰ سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ یہی صورت حال رہی تو خلیج بنگال اور خلیج انڈمان میں بہت بڑا انسانی سانحہ رُونما ہوسکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک اہل کار نے خلیج بنگال سے ملحقہ ممالک سے اپیل کی کہ وہ سمندری قوانین کی پاس داری کرتے ہوئے کم از کم ان کی زندگی کو بچانے کی کوشش کریں اور ان کو عارضی قیام گاہیں فراہم کریں یا انسانی ہمدردی کی بنا پر جو کرسکتے ہوں کریں لیکن اس کا خاطرخواہ اثر نہ ہوا۔ تاہم تھائی لینڈکی حکومت نے فضائی ذرائع سے خوراک کی تقسیم کا معمول سا سلسلہ شروع کیا جس کی تصاویر میڈیا پر آچکی ہیں اور خوراک کے حصول کے لیے چھیناجھپٹی سمندر میں چھلانگ لگانے والوں کی تصاویر دنیابھر کے لوگوں نے دیکھیں۔ اس بارے میں غور کرنے کے لیے انڈونیشیا، ملایشیا، تھائی لینڈ اور میانمار کے وزراے خارجہ کی میٹنگ ۲۱مئی کو طے کی گئی۔ اس میں میانمار کا وزیرخارجہ شریک نہ ہوا۔میانمار کے صدارتی محل کے ترجمان Zaw Ittay نے ایک بیان میں کہا کہ میانمار کی اس میں شرکت ممکن نہیں ہے کیونکہ اس کانفرنس میں رُوہنگیا کا لفظ استعمال کیا جا رہا ہے۔ میانمار کے اندر بھی سالہا سال سے یہ سلسلہ جاری ہے کہ جس جلسے، میٹنگ یا اکٹھ میں رُوہنگیا کا لفظ آتا ہے۔ انتہاپسند بُدھ شہری اور سرکاری افراد اُس میں شرکت ہی نہیں کرتے۔ انسانی حقوق کے لیے سرگرم عالم گیر شہرت یافتہ، نوبل انعام یافتہ آن سان سوچی کی خاموشی بھی ناقابلِ فہم ہے۔
    رُوہنگیا اپنے علاقے میں محدود رہتے ہیں۔ اُن کے علاقوں کے اردگرد بھاری فوج تعینات رہتی ہے۔ اپنے علاقے سے باہر نکلنا اُن کے لیے ممکن نہیں۔ کسی بھی وقت اُن پر مسلح دہشت گرد حملہ آور ہوجاتے ہیں۔ پولیس اور فوج اُن کی مددگار ہوتی ہے۔ قانون کا کوئی ادارہ اُن کی آہ و بکا پر رپورٹ درج کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ جبری مشقت کے ذریعے بھی وہ اراکانی مسلمانوں کو ختم کرنے یا سزا دینے پر عمل پیرا ہیں۔ ۲۰۱۲ء یں بُدھ دہشت گردوں کے حملوں سے ڈیڑھ لاکھ افراد اپنے گھربار سے محروم کر دیے گئے تھے۔ ۸۰۰ ؍افراد ظالمانہ طریقے سے ہلاک کردیے گئے تھے۔ اُس وقت سے اب تک تناؤ اور خوف کی کیفیت طاری ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ رُوہنگیا یہاں رہنے سے نکلنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ۲۰۱۲ء کے افسوس ناک واقعات کے بعد سے کشتیوں کے ذریعے جبری انخلا کہیے، فرار کہیے، یا انسانی اسمگلروں کا جال___ ایک لاکھ افراد میانمار چھوڑنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ اس سرگرمی میں بُدھ دہشت گرد بھی شامل ہیں جنھوں نے انسانی اسمگلروں کو قانونی تحفظ اور ایسی سہولتیں فراہم کر رکھی ہیں کہ وہ رُوہنگیا لوگوں کو اغوا کریں، قید کریں یا لالچ دیں اور انھیں کشتیوں میں بھر کر سمندر میں لے جائیں۔ اغوا کیے جانے والے افراد کے اہلِ خاندان سے تاوان کا مطالبہ بھی کیا جاتا ہے۔ معلومات کی اہم ویب سائٹ ’وکی پیڈیا‘ میں رُوہنگیا قوم کو ’دُنیا کی انتہائی بے سہارا قوم‘ اور ’دُنیا کی انتہائی بے یارومددگار قوم‘ قرار دیا گیا ہے۔ اُن کے پاس رقوم کہاں سے آئیں کہ وہ اپنے بچوں کو رہا کرا سکیں۔ کشتیوں میں عموماً نوجوان ہوتے ہیں تاکہ مزاحمت کرسکنے والے باقی نہ رہیں اور بعد میں میانمار کی سرزمین پر بوڑھے لوگوں، عورتوں اور بچوں کا بآسانی صفایا کیا جاسکے۔ نوجوان مسلم لڑکیوں کی عصمت دری کی داستانیں اس کے علاوہ ہیں۔ برطانیہ اور امریکا کی چند تنظیموں نے اس حوالے سے رپورٹ تیار کی ہے۔
    کشتی والوں کی بے بسی اور مرنے والوں کی خبریں تیزی سے شائع ہوئیں تو انڈونیشیا اور ملایشیا نے چند سو لوگوں کو اس شرط پر ساحلی علاقوں میں اُترنے کی اجازت دی کہ وہ ایک سال کے اندر اندر واپس چلے جائیں گے، نیز یہ کہ عالمی برادری ان کے متعلقہ اخراجات برداشت کرے۔ حکومت سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے رقوم کا اعلان کیا، تاہم بڑی تعداد ابھی تک کشتیوں میں خلیج انڈمان میں موجود ہے۔ برما کی سیکورٹی فورسز اُنھیں ہلاک کرنے کے لیے تیار ہیں اور حکومت بنگلہ دیش اُنھیں کسی قیمت پر ساحل پر اُترنے نہیں دیتی۔
    نقشے پر دیکھا جائے تو میانمار راکھن صوبہ ( سابقہ اراکان ریاست) بھی بنگلہ دیش کے ساتھ جغرافیائی طور پر ملحق ہے۔ اس کی برما سے قربت سمندر کے ذریعے ہے۔ کئی ہزار اراکانی برس ہا برس سے بنگلہ دیش میں قیام پذیر ہیں۔ اُن کی داستانِ غم علیحدہ ہے۔ موجودہ المیے کے آغاز میں یہ خبریں بھی آئیں کہ کشتیوں میں سوار ہونے والے لوگوں میں بنگلہ دیش میں قیام پذیر رُوہنگیا بھی ہیں، تاہم بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے استقبال میں مصروف بنگلہ دیش کی وزیراعظم حسینہ واجد نے ساحلی پٹی پر تعینات سیکورٹی گارڈز کو یہ پیغام دینے کا موقع ضائع نہ کیا کہ ان کشتی سواروں میں سے کوئی بھی بنگلہ دیش میں داخل نہ ہو۔ عوامی لیگ کی حکومت اپنے ملک کی اسلامی تحریک کی قیادت کو پھانسیاں دینے میں مصروف ہے۔ اُسے اِس سے کیا غرض کہ ہزاروں رُوہنگیا کلمہ گو دربدر پھر رہے ہیں اور موت کا شکار ہوا چاہتے ہیں اور بنگلہ دیش کم از کم اُنھیں موت کے منہ میں جانے سے بچاسکتا ہے لیکن یہ کون سوچتا ہے۔ ۲۰۱۲ء میں بھی پناہ کے طلب گاروں کو بنگلہ دیشی حکومت نے ساحلی علاقوں پر اُترنے نہ دیا تھا۔ طوفانی لہروں کا مقابلہ کرنے والے کشتی والے دربدر انسانوں کا معاملہ بین الاقوامی برادری کے سامنے آیا تو امریکی صدر باراک اوباما نے صرف یہ بیان دینے پر اکتفا کیا کہ ’’برما کی حکومت کو چاہیے کہ وہ نسلی و لسانی بنیاد پر امتیاز ختم کرے‘‘۔ امریکا نے حسب معمول مسلمانوں کے قتلِ عام، بے دخلی ، نسلی تطہیر اور جلاوطنی کو برداشت کرلیا۔ افغانستان اور عراق میں نام نہاد دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ۱۱؍لاکھ افراد ناٹو کے ذریعے موت کے گھاٹ اُتار دیے گئے ہیں۔ لیکن گذشتہ ۵۰، ۶۰برس سے جو دہشت گردی میانمار کی حکومت مسلمانوں کے خلاف کر رہی ہے اُس کے خلاف امریکا نے کارروائی کا اعلان کیا، نہ روس نے، نہ چین نے۔ شاید مسلمانوں کے خلاف کی گئی زیادتی، زیادتی نہیں ہوتی۔ دہشت گردی، دہشت گردی نہیں ہوتی اور مسلمان کی ہلاکت ہلاکت نہیں ہوتی۔
    مادرِ وطن چھوڑ کر سمندروں میں زندگی اور ٹھکانے کی تلاش کرنے والے دربدر رُوہنگیا مسلمانوں کے حق میں جماعت اسلامی نے آگے بڑھ کر مظاہرے کیے۔ امیرجماعت جناب سراج الحق نے اسلام آباد میں اقوامِ متحدہ کے نمایندے کو یادداشت پیش کی اور اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو اپنے خط کے ذریعے اس کا فریضہ یاد دلایا کہ برما کی حکومت پر دباؤ ڈال کر ان مسلمانوں کو اپنے وطن بھیجا جائے۔ اُنھوں نے اقوامِ عالم کی توجہ اس طرف بھی مبذول کرائی کہ جنوبی سوڈان، مشرقی تیمور کی طرح اراکانی مسلمان بھی انسان ہیں، ان کے بھی حقوق ہیں اور ان کو کم از کم زندہ رہنے اور اپنی ہی سرزمین پر سانس لینے کی اجازت تو دی جائے۔ کراچی و اسلام آباد میں بھی اس سلسلے میں بڑے مظاہرے ہوئے اور متعدد دینی و سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کے مظاہروں میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اراکان مسلمانوں کو اپنی ہی سرزمین پر رہنے کا حق دیا جائے۔ وگرنہ میانمار پر اقتصادی پابندیاں لگائی جائیں۔ حکومت پاکستان اسلامی ممالک کی تنظیم سے بھی رابطہ کیا، اقوامِ متحدہ میں اس مسئلے کو اُٹھانے کا جائزہ لیا اور ۵۰لاکھ ڈالر کی امداد بھی مختص کی تاکہ اقوامِ متحدہ کے اداروں کے ذریعے اِن درماندہ لوگوں کی خوراک کا بندوبست کیا جاسکے۔
    میانمار کے اندر ایسے بُدھ بھکشو منظر پر آچکے ہیں کہ جو اسلام کو دہشت گرد مذہب اور مسلمانوں کو دہشت گرد قوم سمجھتے ہیں اور اسی فہم میں دن رات مصروف ہیں۔ چند بُدھ عبادت گاہوں سے باقاعدہ یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ اس سرزمین کو بنگالی غیرملکیوں سے پاک کردو۔ ان کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ ان کو زندگی سے محروم کردیا جائے۔ پیدایش کا اندراج، موت کا اندراج، پاسپورٹ ، تعلیم، علاج، سفر، رہایش ایسے معاملات ہیں کہ ان کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ملازمت اور سرکاری اداروں میں عمل دخل کا سوال ہی نہیں۔ ان کے لیے زندہ رہنے کے لیے یہی راستہ چھوڑا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے باپ دادا کے نام بدھوں جیسے ظاہر کرکے بُدھ تہذیب و کلچر کو اختیار کرلیں۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، نکاح، ختنہ چھوڑ دیں۔ میانمارمیں رہنے کی شاید یہ قیمت بہت زیادہ ہے۔
    پاکستان، بنگلہ دیش، سعودی عرب، انڈونیشیا، ملایشیا، برطانیہ سمیت دیگر ممالک میں اراکانی مسلمان موجود ہیں لیکن اُن کا مستقبل بھی محفوظ نہیں ہے۔ حالیہ مہم کے دوران بھی جب ہزاروں مسلمانوں کو کشتیوں میں سوار ہونے پر مجبور کیا گیا تو ایسی تمام علامتیں اور ثبوت ان سے لے لیے گئے جس سے ثابت ہوسکے کہ یہ اراکان کے رہنے والے ہیں اور ان کے باپ دادا ۵۰۰ برس سے یہاں اللہ اور اُس کے رسولؐ کے نام لیوا بن کر رہ رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ ، او آئی سی اور مسلم ممالک ایک طویل مدت سے یہ تشدد دیکھ رہے ہیں۔
    ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ کے علاوہ ہفت روزہ اکانومسٹ، لندن اور گارجین، پروفیسر یینی گرین وغیرہ نے میانمار حکومت کی شدید تنقید کی پرواہ نہ کرتے ہوئے مسئلے اقوامِ متحدہ انسانی حقوق کمیشن، اراکان پراجیکٹ کو شدت سے اُٹھایا اور عالمی برادری کے سامنے اسے سمندروں میں تیرتے تابوت کی صورت میں پیش کیا۔ان تنظیموں کے نمایندوں نے جن الم ناک حالات کی نشان دہی کی وہ بیان سے باہر ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان آج ریت کے ذرے بنے ہوئے ہیں۔ اُن کی ریاستوں کا بھرم ہے، نہ ان کے ایٹم بم کا خوف، جو چاہتا ہے اُن کو بھیڑبکریوں کی طرح کاٹ کر رکھ دیتا ہے۔ اسلام کی تعلیمات اور مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں کے فرمان پر عمل درآمد ہوتا تو ۱۵لاکھ رُوہنگیا مسلمان ذلّت و رُسوائی، تشدد و پسپائی کی زندگی بسر نہ کر رہا ہو۔ ایک نقطۂ نظر یہ بھی سامنے آیا کہ پاکستان نے جس طرح کلمے کے اشتراک کی بنا پر افغان مہاجرین کے لیے اپنے گھر کھول دیے تھے، چند ہزار اراکانیوں کے لیے قیام گاہ فراہم کرکے مثالی کردار ادا کرسکتا ہے۔
     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس