Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

مسئلہ کشمیر ....عالمی سطح پر پیش رفت

  1. رابطہ عالم اسلامی کے زیر اہتمام مکة المکرمہ سعودی عرب، اسلامی پارٹی آف ملائیشیا اور ایشین فورم فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ ملائیشیا کے زیر اہتمام تری نگانو اور رابطہ عالم اسلامی اور وزارت خارجہ تائیوان کے زیر اہتمام Taipiمیں بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کا موقع ملا ۔ مکة المکرمہ میں منعقدہ کانفرنس ”دہشت گردی اور اس کے سدباب کے لیے لائحہ عمل “کے عنوان پر منعقد ہوئی جس میں دنیاکے ڈیڑھ سو سے زائد ممالک کی نمائندگی تھی ۔ دینی سکالرز‘ حکومتی وزراء‘ ماہرین اور خارجہ اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں نے اپنے اپنے موضوعات پر اظہار خیال کیا اور جامع اعلامیہ بھی منظور ہوا ۔ پاکستان سے وفاقی وزیر سردار یوسف کے علاوہ سینیٹر سراج الحق امیر جماعت اسلامی پاکستان ، عبدالغفار عزیز ، ڈایکٹر امور خارجہ اور کشمیر سے راقم کے ہمراہ راجہ خالد محمود خان شریک ہوئے ۔ ہمارے وفود نے دنیا بھر سے آئے ہوئے مندوبین سے ملاقاتوں کے ذریعے کشمیر پاکستان اور مسلم دنیا کے حوالے سے بھارتی عزائم کے بارے میں آگاہ کیا ۔ کشمیرکی تازہ ترین صورت حال ان کے سامنے رکھی اور کانفرنس کے شرکاءپر واضح کیا کہ دہشت گردی کے اسباب کا ازالہ کیے بغیر محض مذمت کرنے سے یہ مسئلہ حل نہ ہوگا اور کشمیر و فلسطین میں بھارتی اور اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کا بھی نوٹس لیا جانا چاہیے ۔ نیز دہشت گردی کی ایک جامع تعریف بھی کی جانی چاہیے اس لیے کہ معروضی حالات میں آزادی اور حق خود ارادیت کی معروف تحریکوں کو بھی استعماری قوتیں دہشت گردی سے منسلک کرنے کی کوشش کر رہی ہیں ۔ نیز مسلم ممالک کے اندر بنیادی انسانی اور جمہوری حقوق کی پامالی بھی شدید اضطراب کا باعث ہے۔ نظام حکومت کے حوالے سے امت کی غالب اکثریت قرآن و سنت کی روشنی میں جمہور کے تعاون سے اسلام کے عادلانہ نظام کے قیام کو زندگی کا نصب العین سمجھتی ہے جبکہ حکمران اور مغرب کی پروردہ اشرافیہ من مانے نظام مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔جس کے نتیجے میں ایک کشمکش اور محاذ آرائی کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے ۔ مغربی طاقتیں اس خلیج کو اور بھی وسیع کرنا چاہتی ہیں ۔ کانفرنس کے حتمی اعلامیہ میں اس نکتہ کا بالخصوص احاطہ کرتے ہوئے مسلم قیادتوں سے اپیل کی گئی کہ وہ انفرادی اور اجتماعی زندگی میں قرآن و سنت کے نظام کے نفاذ کا اہتمام کریں ۔
    ملائیشیا میں منعقدہ تین الگ الگ کانفرنسوں میں شرکت کا موقع ملا ۔ ایک کانفرنس اسلامی پارٹی ملائیشیا کے اجتماع عام کی شکل میں تھی جس میں کشمیر کی نمائندگی کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کا پس منظر ، علاقائی اور بین الاقوامی امن کے لیے اس کے حل کی اہمیت اور تازہ ترین صورت حال بیان اور بھارتی مظالم اور ریاستی دہشت گردی بے نقاب کی گئی ۔اس کے ساتھ ہی ایشیا فورم فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ کے زیر اہتمام ایک بین الاقوامی کانفرنس میں بھی شرکت کی جس میں بر اعظم ایشیا کے تقریباً تمام ممالک اور اہم اداروں کی نمائندگی تھی ۔ کانفرنس کا مرکزی نکتہ یہی تھا کہ کس طرح ایشیا کے ممالک اور عوام کے درمیان ہم آہنگی ہو تا کہ آپس میں امن اور بھائی چارے کی فضا قائم ہو ۔ راقم نے اس کانفرنس میں بھی واضح کیا کہ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا بر صغیر میں تناﺅ ختم نہیں ہو سکتا۔بھارتی بالا دستی کے خمار کے نتیجے میں اس کے تمام پڑوسی ممالک (بالخصوص سارک ممالک ) اس سے نالاں ہیں ۔ کشمیر پر بین الاقوامی قراردادوں اور بھارتی قیادت کے اپنے وعدوں کے باوجود ریاستی دہشت گردی کا عمل جاری ہے۔ چھوٹے سے خطے میں آٹھ لاکھ سے زائد فوج کی تعیناتی دنیا میں فوجی ارتکاز کی ایک نئی مثال ہے ۔ نریندر مودی کی انتہا پسندانہ حکمت عملی سے خطہ مزید عدم استحکام کا شکار ہو رہا ہے۔ایشیا میں قیام امن کے لیے ضروری ہے کہ بر صغیر میں امن ہو جو صرف مسئلہ کشمیر کے حل کے نتیجے میں ہی ہو سکتا ہے ۔اس موقع پر اسلامی تحریکوں کی قیادت اور نمائندگان پر مشتمل ایک الگ سے کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں تفصیل سے کشمیرکی صورت حال رکھی گئی اور اسلامی تحریکوں سے اپیل کی گئی کہ وہ ہر سطح پر کشمیریوں کے حق خود رادیت کی حمایت کریں اور بھارتی مظالم کے خلاف آوازاٹھائیں ۔ ہماری تجویز پر تینوں کانفرنسوں میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت میں بھر پور قراردادیں بھی منظور کی گئیں۔
    کولالمپور میں پاکستان کمیونٹی کے رہنماﺅں اور پاکستانی سفیر سے بھی ملاقات ہوئی جنہوں نے بتایا کہ ایجنٹس سادہ لوح لوگوں کو سہانے خواب دکھا کر کثیر رقم کے عوض محض وزٹ ویزے پر ملائیشیا بھیج دیتے ہیں ، ویزہ کی مدت کے خاتمہ پر لوگ گرفتار ہو جاتے ہیں یا غیر قانونی طور پر روپوش ہو جاتے ہیں جس کے نتیجے میں افراد الگ پریشانی کا شکار ہوتے ہیں اور ملک کی الگ سے بدنامی ہوتی ہے ۔ ان کی رائے تھی کہ اس حوالے سے وسیع پیمانے پر ابلاغی مہم کے ذریعے لوگوں کو حقائق سے آگاہ کیا جانا چاہیے ۔ جنوب مشرقی ایشیا میں کولالمپور اس وقت ایک سیاسی معاشی اور سٹریٹیجک مرکزیت کا درجہ حاصل کر چکا ہے ۔ملائیشیا میں ویسے بھی 8%کے قریب ہندو اور سکھ کمیونٹی موجود ہے جن کا وہاں کے
    سیاسی اور معاشی نظام میں خاصا اثر و رسوخ ہے ۔ علاوہ ازیں بھارت بھی اس کی اہمیت کے پیش نظر خصوصی اہمیت دے رہا ہے اس لیے حکومت پاکستان اور وزارت خارجہ کی سطح پر کولالمپور کو خصوصی توجہ میں رکھا جائے ۔ ہماری ترجیحات کا اندازا اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستانی سفارت خانے میں پریس اتاشی تک نہیں ہے (جوکسی دور میں ہوتا تھا)جبکہ بھارتی سفارت خانے میں ایک پورا لاﺅ لشکر میڈیا موجود ہے ۔
    ملائیشیا نے گزشتہ عرصے میں تعلیم اور آئی ٹی کے شعبے میں بالخصوص بین الاقوامی سطح پر نام پیدا کیا ہے ۔ ملکی سطح پر معیاری جامعات قائم کرنے کے ساتھ ساتھ بہترین یورپی اور امریکی یونیورسٹیز کے کیمپس بھی قائم کر لیے ہیں جہاں ساری دنیا سے لاکھوں کی تعداد میں طلبہ کھنچے چلے آ رہے ہیں۔ پاکستانی طلبہ بھی ہزاروں کی تعداد میں زیر تعلیم ہیں ۔ ان جامعات میں وظائف کا بھی بڑے پیمانے پر اہتمام ہے لیکن پاکستانی بیورو کریٹس کی روایتی لاپرواہی کی وجہ سے وظائف اور مواقع سے کماحقہ استفادہ نہیں کیا جا رہا ۔ یونیورسٹی کے طلبہ نے یہ شکایت بھی کہ بھارتی سفارت کار اپنے طلبہ کی وساطت سے جامعات میں مسلسل رابطہ رکھتے ہیں اور ان کی وساطت سے مختلف سرگرمیوں کے ذریعے ہندوستان کے امیج کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ لیکن پاکستان کی سطح پر اس کی کمی محسوس ہو رہی ہے ۔ اسلامی پارٹی ملائیشیا کے سربراہ استاد عبدالہادی اوانگ ہمارے میزبان تھے ۔ انہوں نے ہرسطح پر ہماری ملاقاتوں کا اہتمام کیا ‘ ملائیشیا کے مرد آہن ڈاکٹر مہاتیر سے بھی ان کی وساطت سے رابطہ ہوا جو ان دنوں بیرون ملک تھے ۔ البتہ یہ کہاکہ ملائیشیا آپ کا اپنا ملک ہے آئندہ جب بھی آئیں پیشگی اطلاع کر دیں میں ملاقات کے لیے منتظر رہوں گا۔
    تیسری کانفرنس تائیوان کے دارالحکومت ٹاپئی میں منعقد ہوئی ۔ یہ کانفرنس رابطہ عالم اسلامی اور تائیوان کی وزارت خارجہ کے زیر اہتمام تھی ۔ یہ کانفرنس ”مسلم اقلیات اور درپیش مسائل “کے موضوع پر تھی اس پر بھی دنیاکے ساٹھ سے زائد ممالک بالخصوص وہ ممالک جہاں مسلم اقلیات مسائل کا شکار ہیں نے شرکت کی ۔ راقم کو اس کانفرنس میں عنوان کے تحت ایک ذیلی عنوان پر مکالمہ پیش کرنے کی دعوت دی گئی تھی کہ مسلم اقلیات میں بین الاقوامی معاہدات اور ملکی دساتیر کی روشنی میں جو بنیادی حقوق طے کیے گئے ہیں ان کی خلاف ورزی کہاں کہاں ہو رہی ہے ؟ دنیا میں تقریباً ایک تہائی مسلمان ایسے ممالک میں آباد ہیں جہاں وہ بطور اقلیت زندگی بسر کر نے پر مجبور ہیں ۔ ان میں سے بھی غالب اکثریت براعظم ایشیا بالخصوص بھارت میں مقیم ہے ۔ راقم نے یوں تو اپنے مکالمے میں سارے براعظموں میں مقیم مسلم اقلیات کے مسائل کا تذکرہ کیا لیکن بھارت کا مسلم اقلیات کے ساتھ سلوک آزادی سے لے کر آج تک ہندو فسادات آئینی حقوق حاصل ہونے کے باوجود ان کے ساتھ امتیازی سلوک نیز کشمیر پر بین الاقوامی قراردادوں اور معاہدات کی خلاف ورزی ، نریندر مودی حکومت کے حالیہ جارحانہ عزائم پر تفصیل سے روشنی ڈالی ۔ اس کانفرنس میں بھارت سے بھی سکالرز کا ایک بڑا وفد شریک تھا ۔ انہوں نے بھی فرداً فرداً شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہم اپنے مخصوص حالات کی وجہ سے اس انداز سے بات نہیں کر سکتے۔ جس طرح آپ نے ہمارے مسائل کو واضح کیا۔ بین الاقوامی کانفرنسوں اور سیمینارز میں بھارتی مسلم دانشور عموماً اپنی حکومت کا دفاع ہی کرتے پائے گئے حالات کے جبر کی وجہ سے شاید وہ ایسا کرنے پر مجبور ہیں ۔ کانفرنس کے شرکاءکے اعزاز میں مقامی مسلم ایسوسی ایشن اور تائیوان کے وزیر خارجہ نے استقبالیوں کا اہتمام کیا ۔ تائیوانی وزیر خارجہ اور ان کی وزارت کے سینئر حکام سے بھی مسئلہ کشمیر کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ تائیوان اڑھائی کروڑ آبادی کا ایک جزیرہ ہے جس پر چین کا اپنا دعویٰ ہے جس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر ایک آزاد ملک کے درجے پر نہیں ہے لیکن اس کے باوجود چین سمیت دنیا کے مختلف ممالک اور عوامی سطح پر رابطے رکھے ہوئے ہے۔
    تائیوانی حکام نے بتایا کہ زر مبادلہ اور معاشی ترقی کے لحاظ سے تائیوان دنیا کی پانچویں بڑی معیشت ہے ۔ بالخصوص شعبہ آئی ٹی میں اس نے کمال حاصل کیا ہے۔ دنیا کی پچاس بہترین یونیورسٹیز قائم ہو چکی ہیں جن میں لاکھوں کی تعداد میں طلبہ بیرون ملک سے زیر تعلیم ہیں ۔ پاکستانی طلبہ بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں لیکن داخلوں کے حوالے سے انہوں نے شکایت کی ۔ تائیوان کی یونیورسٹیز میں پاکستانی طلبہ کے لیے سینکڑوں وظائف سالانہ عدم دلچسپی کی وجہ سے ضائع ہو جاتے ہیں ، تائیوان کے داخلے کے لیے پاکستانی سفارتخانہ ریاض سے کاغذات پراسیس کرتا ہے جو بعض اوقات اس قدر تاخیر کر دیتا ہے کہ داخلوں کا وقت ہی گزر جاتا ہے ۔ اس حوالے سے حکومت اور وزارت خارجہ کو اصلاح احوال پر توجہ دینی چاہیے ۔ تائیوان میں پاکستانی کمیونٹی بھی مستحکم ہو رہی ہے۔ ٹریڈرز کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے جنہوں نے اپنی کاروباری مشکلات کا ذکر کیا ۔ بالخصوص پاکستان کے سفارتی تعلقات نہ ہونے کی وجہ سے بھارتی لابی نفوذ کر رہی ہے ۔ عوامی جمہوریہ چین کو اعتماد میں لے کر اس کے تدارک کی حکمت عملی طے کی جانی چاہیے تاکہ طلبہ اور ٹریڈرز کے لیے آسانی پیدا ہو۔
     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس