Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

5فروری،یوم یکجہتی کشمیر

  1. 1990ءمیں جب مقبوضہ کشمیر کے عوام نے کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف مزاحمتی تحریک کا آغاز کیا تو جنوری 1990ء میں سری نگر میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور بھارت کی درندہ صفت فوج نے نہتے عوام کو گولیوں کا نشانہ بنایا اور تقریباً ستر کے قریب کشمیری شہید ہو گئے ۔ یہ ایک ایسا موقع تھا کہ کشمیریوں کے حق میں دنیا کی آزاد اقوام کی طرف سے ان کے حق میں آواز اور یکجہتی کا مظاہرہ کی اجائے اس موقع پر محترم قاضی حسین احمد جو جماعت اسلامی پاکستان کے امیر تھے ۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے مظلوم اور محکو م عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے پانچ فروری کے دن کا انتخاب کیا اوریوم یکجہتی کشمیر منانے کا اعلان کیا ۔ اس دوران مرکز میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اور محترمہ بے نظیر بھٹو ملک کی وزیر اعظم تھیں اور پاکستان کے بڑے صوبے پنجاب میں میاں نواز شریف کی حکومت تھی ۔ دونوں رہنماﺅں نے پانچ فروری کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے یہ دن سرکاری سطح پر منانے کا اعلان کی ااور گزشتہ پچیس برس سے یہ دن پاکستان اور دنیا بھر میں جہاں کہیں پاکستانی اور کشمیری آباد ہیں مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ یوم یکجہتی مناتے آ رہے ہیں ۔
    پانچ فروری کو پاکستان میں تمام کاروبارزندگی بند ہو جاتا ہے ۔ پوری پاکستانی قوم کو کشمیریوں کی پشت پر لا کھڑا کیا جاتا ہے کہ اہل کشمیر بھارت کے فوجی تسلط کے خلاف اپنی جدوجہد میں تنہا نہیں ہیں ۔ مسئلہ کشمیر ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے جسے دنیا کی بڑی عدالت اقوام متحدہ نے متنازعہ تسلیم کر رکھا ہے۔ کشمیر سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے اوراپنے موقف حق خود ارادیت کے حصول کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں اور 1947ءسے پانچ لاکھ کشمیریوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے اور گزشتہ تیس سال کے عرصے میں ایک لاکھ قربانیاں اور لٹی ہوئی عصمتوں کی داستانیں پوری دنیا میں سنائی دی گئی ہیں۔ پانچ فروری 1990ءکو جس یکجہتی کا اظہار کیاگیا تھا اس وقت حکمرانوں اور قوم کے اندر برابر کا جوش و خروش تھا مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں وہ جذبہ موجود نہ رہا ۔ عوام کے اندر تو کوئی کمی نہیں آئی البتہ حکمرانوں کی پالیسیوں میں وقتاً فوقتاً کمزوریاں سامنے آتی رہی ہیں پھر ایک وقت یہ بھی آ یا کہ پہلے پاکستان کا نعرہ لگا کر مقبوضہ کشمیر کے عوام کو یہ پیغام دیاگیا کہ اب بھارت کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں گے ۔ چار نکاتی فارمولے کو متعارف کروایا گیا جس کے لیے کچھ لوگوں کو کشمیر دونوں اطراف سے تیار کیاگیا ۔ مگر سید علی گیلانی اور مجاہدین کی قیادت نے اسے مسترد کر دیا ۔عمر عبداﷲ جیسے کٹھ پتلی لوگوں کو بھی کشمیریوں پر مسلط کرنے کی کوشش کی گئی ۔ حریت کانفرنس کے اندر بھی توڑ پھوڑ شروع ہو گئی ۔ بس سروس شروع کی اور اعتماد سازی کے مختلف اقدامات کیے گئے ۔ بھارت کے ساتھ بھی کچھ لوگوں نے مذاکرات کیے مگر کچھ حاصل نہ ہوا ۔
    پاکستان میں بھی سیاسی سطح پر رونما ہونے والی تبدیلیوں کے نتیجے میں بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے کے لیے کوششیں ہوئیں اور آخر کار اس کا اعلان بھی ہوا جو حکومت آزاد کشمیر سے کرایاگیا۔ اس طرح پالیسیوں کے اندر آنے والی تبدیلیوں کے نتیجے میں سیاسی اور سفارتی جس کا بار بار اعلان ہوتا رہا ۔ سفارتی محاذ بھی خاموش ہو گیا البتہ سفارتی محاذ پر کشمیریوں نے اپنے طور پر مسئلہ کشمیر پر اپنی جدوجہد جاری رکھی اور دنیا کو توجہ دلائی جاتی رہی کہ جب تک مسئلہ کشمیر پر امن طور پر حل نہیں ہو جاتا خطے کے امن کو شدید خطرہ ہے ۔اس سال بھی پانچ فروری کا دن پاکستان میں سرکاری سطح پر منانے کا اعلان ہوا مگر کشمیری یہ محسوس کر رہے ہیں کہ یہ دن محض ایک دن کی چھٹی اور رسمی طور پر منایا جاتا ہے حکومتی سطح پر عوام کے دباﺅ کی وجہ سے منایا جاتا ہے ورنہ حکومتوں کی کشمیر پر کوئی واضح پالیسی نہیںہے ۔بھارت کے ساتھ جس طرح تجارت کی جا رہی ہے اس سے بیرون ملک کشمیریوں کے لیے بے شمار مشکلات پید اہو گئی ہیں ۔ برطانیہ اور یورپ میں بھارتی مصنوعات کے بائیکاٹ کے لیے جو مہم شروع ہو ئی تھی اس سے بھی شدید نقصان ہوا اور سفارتی محاذ پرجہاں ایک سو ممبران پارلیمنٹ کی برطانیہ میںکشمیر کمیٹی تھی اس میں بھی اب چند رہ گئے ہیں ۔ یہی صورت حال باقی یورپ میں بھی ہے ۔ پانچ فروری کا دن برطانیہ اور یورپ کے سفارت خانوں میں بھی منایا جاتا ہے مگر اس کے بعد پھر سفارت خانوں کی کوئی کارکردگی نظر نہیں آتی ۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی پاکستان سے بڑی امیدیں وابستہ ہین ۔ کشمیر پاکستان کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔ بھارت نے ایک منصوبہ بندی کے تحت پاکستان میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے تاکہ اہل پاکستان کی توجہ مقبوضہ کشمیر کے حالات سے ہٹا سکے ۔
    ان حالات میں جہاں عوام اہل کشمیر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کریں گے پاکستان کے حکمرانوں اور سیاست دانوں کو بھی اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی ۔ کشمیری عوام پاکستان سے جس طرح امداد اور تعاون چاہتے ہیں حکومت پاکستان اس پر پورا اترنا چاہیے ۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی آبادی کو کم کرنے کے لیے جس طرح انتہا پسند ہندوﺅں کو آباد کرنے کے لیے سازشیں کر رہا ہے اس پر حکومت پاکستان کو خصوصی طور پر توجہ دینی چاہیے ۔ ورنہ خدشہ ہے بھارت کہیں اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب نہ ہوجائے اور آئندہ چند سالوں میں رائے شماری کرانے کے لیے تیار ہو جائے ۔ یہ صورت حال پاکستان اور کشمیریوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔ خدا نخواستہ یہ وقت آنے سے پہلے پاکستان کو کشمیر پر ٹھوس پالیسی اپنانے کے لیے توجہ مرکوز کرنا ہوگی ۔ تاکہ لاکھوں کشمیریوں کی قربانیوں کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔

     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس