Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

کشمیرکی مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدنے کابی جے پی کا منصوبہ!

  1. مسئلہ کشمیر کوئی سرحدی تنازعہ نہیں یہ محض انسانی حقوق کی پامالی کا معاملہ بھی نہیں بلکہ یہ ڈیڑھ کروڑ سے زائد زندہ انسانوں کی آزادی ، زندگی اور مستقبل کا معاملہ ہے ۔ مسئلہ کشمیر تقسیم برصغیر کے فارمولے اور نامکمل ایجنڈا کی تکمیل کا نام ہے ۔ جموں و کشمیر میں مسلمان سب سے بڑی اکثریت ہیں ۔ اسے ہر صورت پاکستان کا حصہ بننا چاہیے تھا لیکن ایک جعلی دستاویز کے ذریعے ریاست کے ڈوگرہ حکمران کی طرف سے ہندوستان کے ساتھ الحاق کا ڈرامہ کیا گیاجسے کشمیریوں نے مسترد کردیا ۔ معروف برطانوی محقق و مو ¿رخ اور برصغیر کی تاریخ پر عبور رکھنے والے ایسٹر لیمب نے ثبوت و شواہد اور حقائق کی بنیاد پر الحاق کی دستاویز کو جعلی قرار دے کر اسے مسترد کر دیا ہے ۔ کشمیر کے عوام نے بھارتی جارحیت کے خلاف علم جہاد بلند کیا اور بالآخر اپنے ملک کے ایک بڑے حصے کو آزاد کروا لیا جو آزاد جموں و کشمیر کہلاتاہے اور جب مجاہدین سری نگر کے دروازے پر دستک دے رہے تھے ، تو اسی وقت عالمی سازشیں بھی عروج پر تھیں ۔ اقوام متحدہ میں بھارت خود گیا ۔ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے اور اقوام متحدہ کی نگرانی میں رائے شماری کرانے کی بھارتی پیش کش کے بعد ہی پاکستان نے کشمیر میں جنگ بندی تسلیم کر لی لیکن اس وقت سے لے کر آج تک جموں و کشمیر میں رائے شماری نہیں ہوئی ۔
    یہ کوئی رازکی بات نہیں کہ انڈین حکام اور بھارت کے نامور سیاستدان مسلم آبادی کو دباکر رکھنے اور انہیں ہندوﺅں کادست نگر بنانے کے دیرینہ منصوبے پر کارفرماہیں۔مقبوضہ جموں کشمیر کی مسلمان اکثریت کو اقلیت اور ریاست کے مسلم تشخص کو بدلنے کے عزائم نئے نہیں ہیں۔ کشمیر کے کئی عشرو ںکے اعداد و شمار اس کی مذہبی اور قبائلی شناخت کوطاقت کے ظالمانہ استعمال سے دبانے کی ہوشربا داستان ہے جس کا مقصد بڑا واضح ہے کہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی کوکچل دیا جائے ، انڈین حکمران طاقت کے ظالمانہ استعمال کو مسئلہ کشمیر کا آخر ی حل سمجھتے ہیں!ا نڈیا میںبی جے پی کی حکومت کے برسراقتدار آنے سے خفیہ منصوبے عیاں ہو گئے ہیں،بی جے پی کی مسلم دشمنی ڈھکی چھپی نہیں ،بی جے پی کے ارادوں کی ایک جھلک اس کے منشور میں نظر آتی ہے، ہندوستانی دستو ر کے آرٹیکل 370کو ختم کرنے کے علاوہ بی جے پی نے وعدہ کیا ہے کہ وادی میں کشمیری پنڈتوں کی جلد واپسی ہوگی اور پاکستانی مقبوضہ کشمیر سے آنے والے ہندو مہاجرین کے دیرینہ مسائل اور مطالبات کو حل کیا جائے گا۔
    کشمیری پنڈت اور پاکستانی کشمیر سے جا نے والے مہاجرین یہ دونوں گروپ جموں کشمیر سے تعلق رکھتے ہیںاورا ن کو ان کے جائز حقوق دینے کی بات قابل اعتراض نہیں ہے لیکن بی جے پی کے بظاہر بے ضر ر نظر آنے والے منشور کے پیچھے انتہائی خطرناک چال تھی کہ کشمیری عوام جو کہ خودکو بھارتی شکنجے سے آزاد کرانے کی جدوجہد کر رہے ہیںان کی اس جدوجہد آزادی کو عیاری اورمکاری سے ختم کر دیا جائے ۔
    گزشتہ سال نومبر ،دسمبر میںہونے والے ریاستی اسمبلی کے الیکشن میںپارٹی کی الیکشن مہم سے بی جے پی کے ارادے مزید واضح ہوگئے اور الیکشن سے پہلے جاری کئے گئے (ویژن ڈاکو منٹس) سے کھل کر سامنے آگیا ہے ۔بی جے پی نے جموںو کشمیرکی علاقائی ریاستی سیاست میںعدم توازن ختم کرنے کے وعدے پر زور دیا ہے جسے ریاستی سیاست کے غلبے کے لیے ایک ضابطہ قرار دیا جارہا ہے۔بی جے پی نے پی ڈی پی سے مخلوط حکومت بنانے کے لیے جاری مذاکرات میںواضح کیا ہے کہ وہ علاقائی توازن کے مطالبے پر مضبوطی سے قائم رہے گی۔ریاستی انتخابا ت کے لیے بی جے پی کا منشور 3وعدوں پر مشتمل ہے جو کہ شماریاتی اور سیاسی توازن جموں کشمیر کی ہندو آبادی کے حق میں کرنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں ۔پہلا وعدہ یہ لیاگیا ہے کہ 87ارکا ن پر مشتمل ریاستی اسمبلی میں سے وادی کے لیے مختص کی گئی 46نشستوں میں سے 3نشستیں کشمیری پنڈتوں کودی جائیں گی ۔اس تجویز میں کوئی وزن ہوتا اگر جموں کے علاقے کے مسلمانوں کے لیے آبادی کے تناسب سے اتنا ہی حصہ ہو تا۔لیکن سیکولر انڈیا میں یہ سوال یقینا نا مناسب ہے۔بی جے پی کے منشور میں دوسراوعدہ یہ کیا گیا ہے کہ24میں سے 5نشستیں پاکستانی مقبوضہ کشمیر سے آنے والے ہندو مہاجرین کودی جائیں گی ۔اس سے ہندوﺅں کے لیے مختص نشستوں کی تعداد آٹھ ہو جائے گی جس سے ریاستی اسمبلی کے مسلمان ارکان کی تعداد مزید کم ہوجائے گی اگر مسلمانوں کی اکثریت اس کے باوجود ختم نہیںہوگی توبی جے پی نے اپنے منشور میں مغربی پاکستان سے آنے والے مہاجرین کو شہری حقوق دینے، علاقائی الیکشن میں ووٹ ڈالنے اور منقولہ جائیداد اور حکومتی نوکری کابھی لالچ دیا ہے۔
    مغربی پاکستان کے مہاجرین کی اصطلاح انڈیا میں غیر مسلم اور خاص طور پر ہندوﺅں کے لیے استعمال کی گئی ہے۔جو کہ تقسیم کے وقت 1947ءمیں پاکستان سے ہجرت کرکے آئے تھے ،اُن مہاجرین میں سے زیادہ تر اور بعض اندازوں کے مطابق 90%لوگ ”دلت “ہیںوہ انڈین قانون کے تحت انڈیا کے شہری ہیں اور انڈین پارلیمنٹ کے انتخابات میں ووٹ دے سکتے ہیں ،لیکن ریاست کے 1927ءکے قانون کے تحت وہ لوگوںکو تحفظ دینے کے لیے بنایا گیا تھا تاکہ وہ حکومتی ملازمتوں اور زمین کی ملکیت سے بے دخل نہ کیے جا سکیںیہ قانو ن ریاست میں مذہبی اور علاقائی توازن برقرار رکھنے کیلئے لمبے عرصے تک بہت اہم سمجھا جا تا رہا ۔ اس قانون کی وجہ سے مغربی پاکستان کے مہاجرین ریاستی اسمبلی میں ووٹ نہیں دے سکتے،اس کے علاوہ وہ ریاست میں زمین کے مالک بھی نہیں بن سکتے ہیں اورنہ حکومتی ملازمت حاصل کر سکتے ہیں۔مغربی پاکستان کے ہندو مہاجرین کی آبادی کے بار ے میں کوئی قابل بھروسہ اعداوشمار موجود نہیں ہیں مقامی تنظیم جو کہ ان مہاجرین کی نمائندگی کرتی ہے اس کے مطابق یہ تعداد 250,000ہے ۔جبکہ آزادی گرو پ کے مطابق یہ تعداد5لاکھ ہے اگر ان کو رہائشی شہری کے حقوق دیئے جائیں تو مقبوضہ کشمیر کا نا صرف قبائلی اور مذہبی کردار بلکہ سیاسی توازن مزید ختم ہوجائے گااور ریاست کی مسلم آبادی کو نقصان ہوگا۔ کشمیری اس خدشے کا اظہار بھی کرر ہے ہیں کہ اگر ان لوگوں کو رہائشی شہری یا مستقل رہائشی کا درجہ دے دیا جائے جو کہ مغربی پاکستان کے مہاجرین ہندو کے برابر ہے تو ان لوگو ں کے لیے بھی دروازہ کھل جائے گا جو انڈین ریاستوں بہار،راجستھان ۔پنجاب،گجرات،بنگال،اور کیرالہ سے کشمیر لائے گئے ہیں اور سوچے سمجھے منصوبے کے تحت جموں کے علاقے میںبسائے گئے ہیں تاکہ جموںو کشمیر میں شماریاتی تبدیلی لائی جائے اور کشمیریوںکو بے دخل اور کمزور کیا جا سکے۔مغربی پاکستان کے مہاجرین (ہندوﺅں)کے لیے بی جے پی کامطالبہ ہے کہ انہیں رہائشی شہری کا درجہ دیا جائے اسے انڈین پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی سے مزید پذیر ائی ملی ہے 22دسمبر کو پیش کی گئی ایک رپوٹ میں داخلہ امور کی پارلیمانی سٹینڈنگ کمیٹی نے پر زور سفارش کی ہے کہ مغربی پاکستان کے مہاجرین کو ریاست کے مستقل شہریوں کا درجہ دیا جائے اور انہیں ریاست کشمیر کا شہر ی سمجھا جائے ۔کمیٹی نے ریاستی اسمبلی کی 8سیٹوں کو آزاد کشمیر سے آنے والے ہندو مہاجر ین کے لیے مختص کرنے کی سفارش بھی کی ہے۔
    پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات اگر مقبوضہ کشمیر کی ریاستی اسمبلی سے منظور ہو جائیں تو مزید موثر ہوسکتی ہیں لیکن اس منظوری کو ابھی التواءمیں رکھتے ہوئے ہندوستانی حکومت نے اس مہینے کے آغاز میں ایگزیکٹیو احکامات جاری کیے ہیں تاکہ مغربی پاکستان کے مہاجرین کی پیرا ملٹری فورسز میں بھرتی ہو سکے اور مسلح افواج میں اورتعلیمی اداروں میں ان کے بچوں کے لیے نشستوں کا کوٹہ مہیا کیا جا سکے۔
    مقبوضہ کشمیر میں ان تحریکوں پر رد عمل مذہبی اور علاقائی بنیادوں پر بہت زیادہ مختلف ہے ۔وادی میں جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں وہان اسکے خلاف اجتجاج کی ایک لہر اٹھی ہے ۔مسلمان بجاطور سمجھتے ہیںکہ جموں و کشمیر کی اسلامی شناخت و شماریاتی شناخت اور کردار کو بدلنے کی ایک کوشش ہے ۔اس سے بالکل مختلف طور پر جموں کی غالب ہندوسیاسی جماعتوں نے پارلیمانی کمیٹی کی ان سفارشات کا خیر مقدم کیا ہے۔علاقے کی ہندو تنظیموں نے اپنے مطالبات منوانے کے لیے عوامی احتجاج کی دھمکی بھی دی ہے۔وادی میں بھی پاکستان سے آنے والے مہاجرین کے ووٹ اور دوسرے حقوق دینے کے خلاف عوامی احتجاج متحر ک کرنے لیے دباﺅ بڑھ رہا ہے۔سید علی شاہ گیلانی سمیت آل پارٹیز حریت کانفرنس اوربڑی تعداد میں سیاسی جماعتوں ،سول سوسائٹی کی تنظیموں اور اسلامی مذہبی سربراہوں نے اس تحریک کو مسترد کردیا ہے اور اسے ریاست کے مسلمانوں کو اقلیت میں بدلنے کی سازش قرار دیا ہے۔حتی کہ نیشنل کانفرنس اورپی ڈی پی جو کہ کشمیر میں انڈیا کے وفادار کارکن ہیں،انھوں نے بھی ان تحاریک سے دوری اختیار کی ہے ۔
    میرواعظ نے اپنے ایک خطاب جمعہ میں کہا ہے کہ کشمیر کے اعداد وشمار تبدیل کرکے انڈیا زمین پر نئے حقائق پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے تاکہ بذریعہ طاقت ریاست کے متحد ہونے کا مقصد پورا ہو سکے۔انڈین تحریکیں کشمیر کے متنازعہ علاقہ ہونے اور سیکورٹی کونسل کی قراردادوں کے تحت انڈیا کے فرائض کی حیثیت سے بین الاقوامی سٹیٹس کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔انڈیا کے منصوبے قابل نفرت ہیں ،لیکن اُس سے بھی زیادہ حیران کن بات نواز شریف حکومت کی انڈیا کی ان حرکتوں کے سامنے مکمل خاموشی ہے۔تقریباً ایک مہینہ پہلے انڈیا کی پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات منظرعام پر آئی ہیں اور اب تک تقریباً ہر روز وادی کے لوگ انڈین منصوبوں پر غصے سے ابل رہے ہیں۔لیکن ابھی تک پاکستان میں مکمل خاموشی ہے جیسے یہ واقعات کسی اور سیارے پر وقوع پذیر ہو رہے ہوں،یا پاکستان کو اس سے کوئی غرض نہ ہو،معلوم ہوتا ہے کہ حکومت بھول چکی ہے کہ کشمیریوں کی حق خودارادیت کی جدوجہد میں وہ ان کی اخلاقی ،سیاسی اور سفارتی حمایت کی پابند ہے۔علاوہ ازیں یہ بھی دکھائی نہیں دیتا کہ پاکستان اس تنازعہ میں ایک فریق کی حیثیت رکھتا ہے۔مقبوضہ ریاست میں جو حالیہ واقعات ہو رہے ہیں پاکستان کو سیکورٹی کونسل کی قرارداوں کی روشنی میں ان پر واضح پوزیشن لینی چاہیے ۔حکومت یا کشمیر کمیٹی کی طرف سے محض ایک بیان کافی نہیں ہوگا ۔حکومت کو یہ معاملہ انڈیا کے ساتھ دو طرفہ طور پر اٹھانا ہوگا اوراس معاملے کو اقوام متحدہ اور دوسرے بین الاقوامی فورمز پر بھرپور انداز میں پیش کرنا ہوگا۔
    ٭٭٭٭٭٭
     

     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس