Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

تکمیل پاکستان کا ایجنڈا

  1. اس فانی دنیا میں باعزت اور باوقار زندگی گزارنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ طریقہ بتایا ہے کہ نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو۔نبی کریمؐ نیکی کا بہترین نمونہ ہیں۔ اس لیے ہمیں ان کے اُمتی ہونے کی حیثیت سے ہر لمحے نہ صرف خود نیکی اختیار کرنی ہے بلکہ نیکی کا حکم بھی دینا ہے۔ برائی سے خود بھی رُکنا ہے اور دوسروں کوبھی روکنا ہے۔ جس کلمۂ توحید لَااِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ مُحَمَدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہکی بنیاد پر یہ ملک بنا تھااس کا مقصد بھی نیکی عام کرنا اور بدی کی روک تھام کرناہے۔ آئیے ہم سب مل کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر دل کی گہرائیوں سے درود و سلام پیش کریں جنھوں نے انسانوں کو اللہ کی بندگی میں زندگی گزارنے کا طریقہ سکھایا۔

    اللہ تعالیٰ نے ہمیں اُمتِ وسط، یعنی اعتدال والی امت کا درجہ دیا ہے۔ ایک ایسی امت جو انصاف پسند ہو ، جو حق کی نصیحت کرنے والی ہو اور ظلم کے خلاف ایک مضبوط قوت ہو۔ ظلم کو روکنا اور ظلم کو ہونے سے بچانا دونوں اس امت کے فرائض میں شامل ہیں۔
    کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْ مِنُوْنَ بِاللّٰہِ ط (اٰل عمران ۳:۱۱۰) اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہواور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔
    اس کا تقاضا ہے کہ ہم اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جائیں۔ ہماری انفرادی زندگی اور اجتماعی زندگی میں کوئی تضاد نہیں ہونا چاہیے۔ ظاہر اور باطن ایک ہونا چاہیے۔ہمارا گھر اسلام کامرکز اور جنت کا نمونہ ہونا چاہیے۔ جہاں والدین کواحترام ملے، بڑوں کو عزت ملے، بچوں کو شفقت ملے اور جہاں میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس بنیں۔ ایک گھر ہمار ا یہ ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان بھی ہے۔ہمیں اس کی عافیت اور بہتری بھی مطلوب ہے۔ ہمیں اس گھر میں بھی اللہ اور اس کے رسول کا حکم نافذ کرنا ہے۔

    ہماری دعوت
    ہماری دعوت کا مرکز و محور نہ کوئی فرد ہے، نہ خاندان ، نہ کوئی قبیلہ ہے، نہ کوئی قوم۔ ہماری دعوت ہے کہ فَفِرُّوْٓا اِِلَی اللّٰہِ ، ’’اللہ کی طرف دوڑو‘‘۔ آج سے ۷۳سال قبل سیدمودودیؒ نے اسی شہر لاہور میں جماعت اسلامی قائم کی تو انھوں نے ملت اسلامیہ کو بندگیِ رب اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی طرف بلایا تھا۔ انھوں نے اُمت کو پیغام دیا کہ اپنی زندگی سے دو رنگی اور منافقت خارج کرو__ جس دین کو قبول کیا ہے اس میں مکمل داخل ہوجاؤ__ انفرادی اور اجتماعی زندگی اس کے مطابق بناؤ۔ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃً (البقرہ ۲:۲۰۸)۔ گویا اے لوگو جو ایمان لائے ہو اس دین میں مکمل داخل ہوجاؤ اور دنیا کی قیادت سے اللہ کے باغیوں کو ہٹا کر صالح لوگوں کے ہاتھ میں دے دو تاکہ دنیا میں صاف ستھرا، انسان دوست، فلاحی اور اسلامی معاشرہ وجود میں آسکے۔
    جس اللہ نے ایک نطفے سے انسان بنایا اور انسان کے لیے سارا نظام بنایا اسی اللہ نے ہمیں زندگی گزارنے کے لیے ایک لائحہ عمل دیا ہے جو دین اسلام ہے۔ ہماری دعوت یہی ہے اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ ط ’’یقیناًحکم تو بس اللہ ہی کا ہے‘‘(انعام ۶:۵۷) __اَلَا لَہُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ ط (اعراف ۷:۵۴) ’’جان لو جس کی مخلوق ہے اس کا حکم چلے گا‘‘۔
    ہماری دعوت ہے کہ اللہ کی طرف بڑھو__ اللہ نے حکم دیا ہے: وَ جَاھِدُوْا فِی اللّٰہِ حَقَّ جِھَادِہٖ ط (الحج ۲۲:۷۸) ’’اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیساکہ جہاد کرنے کا حق ہے‘‘۔ یہ پیغام ہے ہرمسلم اور غیرمسلم کے لیے۔ اس لیے کہ یہ صرف قرآن کا نہیں بلکہ تمام آسمانی کتابوں کا بھی پیغام ہے۔
    آج یہ تاریخی شہر لاہور آپ کا استقبال کر رہا ہے۔ یہ پاکستان کا دل ہے۔ آج سے ۷۴سال قبل اسی شہر میں اور اسی جگہ پر قراردادِ پاکستان منظور ہوئی تھی۔ یہ آزادی اور امن پسندوں کا شہر ہے۔ یہ غلامان مصطفیؐ کا شہر ہے۔ یہ سیّد علی ہجویریؒ ، سیّد مودودیؒ اور علامہ اقبالؒ کی جاے سکون ہے۔
    یہ بلندوبالا مینارِ پاکستان ہماری آزادی اور جدوجہد کی علامت ہے۔ یہاں عظیم بادشاہی مسجد کے سایے میں ہم ایک بار پھر اس بات کا اقرار اور اعلان کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں تیری ہی بادشاہی قبول ہے، ہم تیرے دین کی خدمت کے لیے حاضر ہیں، تیرے دین کی سربلندی، تیرے نام پر جینے اور مرمٹنے کے لیے حاضر ہیں۔
    ہم اعلان کرتے ہیں:
    اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنo(انعام ۶:۱۶۲) بے شک میری نماز میری قربانی، میرا جینا مرنا اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔

    پاکستان کا اسلامی تشخص
    ہم جس کلمۂ توحید لا الٰہ الا اللہ کے ماننے والے ہیں، پاکستان اسی کلمے کے نام پر بنا ہے۔ اس کی تقدیر بھی اسلام ہے اور اس کا مستقبل بھی اسلام ہے۔ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ دنیا کی کوئی طاقت اسلام اور پاکستان کو جدا کرسکتی ہے، یا پاکستان کا اسلامی تشخص مٹاسکتی ہے۔ کروڑوں عوام نے اس کے لیے قربانی دی اور آج کروڑوں اس کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ ہزاروں لاکھوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں اور آج بھی قربانی کے لیے تیار ہیں۔ آج بعض نادان لوگ کہتے ہیں کہ قائداعظمؒ سیکولر پاکستان بنانا چاہتے تھے۔ کوئی کہتا ہے کہ اس کو بہتر معاش کی خاطر بنایا تھا، تو کیا سیکولرازم کے لیے ہندو سے ملنا چاہیے تھا یا جدا ہونا چاہیے تھا؟ یا ایک کافرانہ نظام کے لیے کافروں سے لڑنا تھا؟
    برعظیم پاک و ہند کے مسلمانوں نے یہ خطہ اسلام کی سربلندی اور اللہ کے نظام کے قیام کے لیے حاصل کیا تھا __ایک اسلامی پاکستان کے لیے۔ ڈاکٹرصفدر محمود، زندہ مؤرخ ہیں، وہ گواہی دیتے ہیں کہ قائداعظم نے قیامِ پاکستان سے قبل ۱۰۱مرتبہ ، اور پاکستان بن جانے کے بعد ۱۴مرتبہ یہ اعلان کیا تھا کہ پاکستان کا قانون قرآنِ پاک ہوگا۔ انھوں نے امریکی عوام کے نام پیغام دیا تھاکہ پاکستان ایک خالص اسلامی ریاست ہوگی۔ آپ کو معلوم رہے کہ قائداعظم نے مولانا مودودیؒ کو پیغام بھیجا تھا کہ مَیں مسجد کے لیے ایک ٹکڑا حاصل کر رہا ہوں اور آپ اس کو چلانے کے لیے لوگوں کو تیار کریں۔
    قائداعظم نے پاکستان کو مسجد قرار دیا تھا۔ افسوس یہ ہے کہ قائداعظم کی رحلت کے بعد انگریز کے غلاموں نے اس مسجد پر قبضہ کرلیا۔ پہلے وہ مغلوں کے غلام تھے، پھر انگریزوں کے وفادار تھے، درحقیقت یہ ملت کے غدار تھے۔ انھوں نے عوام کو غلام بنایا، پاکستان کے اداروں کو یرغمال بنایا۔ انھوں نے پاکستان کو اپنی منزل سے محروم کیا، ترقی سے محروم کیا اور یوں پاکستان کو دنیا میں ایک ماڈل اسلامی ریاست بننے میں طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کیں۔
    پاکستان چند پہاڑوں اور دریاؤں کا نام نہیں__ یہ ایک نظریے، ایک فلسفے، ایک عقیدے، اور جاگتی آنکھوں سے دیکھے جانے والے ایک خواب اور منزل کا نام ہے۔ یہ منزل اسلامی پاکستان ہے۔ یہ خوش حال پاکستان ہے۔ یہ نورِ ایمان سے منور پاکستان ہے۔

    جماعت اسلامی کی جدوجہد
    جماعت اسلامی اُسی کاروان کا نام ہے جو اقبال اور قائداعظم کے مشن کی تکمیل کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ جماعت اسلامی عام آدمیوں کی وہ پارٹی ہے جو اللہ کی طرف دعوت اور مخلوقِ خدا کی خدمت کی علامت ہے۔ یہ شریعت کے لیے مخلصانہ کوششوں کا نام ہے۔ جماعت اسلامی اسوۂ رسولؐ پر مبنی ایک جہدمسلسل ہے۔ وہ جدوجہد جو کبھی مکہ کی گلیوں میں، طائف کی گھاٹیوں میں، دعوت الی اللہ کی صورت میں نظر آتی ہے، اور کبھی مقصد کی خاطر مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی صورت میں۔ یہی تحریک کبھی بدر، اُحد اور حنین کے معرکوں میں نظر آتی ہے۔ اس عظیم مقصد کی خاطر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عظیم جدوجہد کی ہے۔ انھوں نے پیٹ پر پتھر باندھے۔ ان کے دندانِ مبارک شہید ہوئے۔ اس اُمت کی خاطر نبی مہربانؐ نے ہرمصیبت اُٹھائی۔
    جماعت اسلامی اسی تحریک کا حصہ ہے۔ ہم تطہیر افکار چاہتے ہیں۔ ہم تعمیر افکار چاہتے ہیں۔ ہم معاشرے کی تنظیم اور تطہیر چاہتے ہیں۔ ہم ظلم سے پاک معاشرے کی تشکیل چاہتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس مقصد کی خاطر جماعت کے قائدین نے کوڑوں کے سامنے استقامت دکھائی اور مفادات کے سامنے بھی۔ مولانا مودودی کو جب پھانسی کی سزا سنائی گئی تو وہ مسکرائے۔ انھوں نے معافی مانگنے اور سر جھکانے سے انکار کیا۔ دنیا نے دیکھا__ ڈکٹیٹر چلے گئے اور ان کا نام و نشان مٹ گیا لیکن جماعت زندہ ہے۔
    جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جو عوامی بھی ہے، سیاسی بھی اور جمہوری بھی۔ ۱۹۴۱ء سے لے کر آج تک جماعت کا اندرونی نظام، شریعت کا پابند ہے،اور اسلامی اخلاق پر مبنی ہے۔ یہ وہ جماعت ہے جس کے اندر حقیقی اسلامی جمہوریت ہے۔ یہاں عام گھرانے کا ایک غریب کارکن ہرمنصب تک پہنچ سکتا ہے۔ ایک مزدور کا بیٹا بھی امیرجماعت بن سکتا ہے۔ یہ دوسری پارٹیوں کی طرح کسی خاندان یا برادری یا فردِ واحد کی پراپرٹی نہیں ہے۔ یہ کسی جاگیردار اور سرمایہ دار یا کسی خاندان کی خاطر نہیں بنی۔ یہ پاکستان کی واحد جمہوری اور نظریاتی جماعت ہے جس میں کوئی بھی احتساب سے بالاتر نہیں۔ جس میں کوئی فرد جماعت کے دستور سے بالاتر نہیں۔ جس میں ہم سب ایک جیسے کارکنان ہیں۔ ہم سب برابر ہیں۔ یہاں اسلامی مساوات ہے اور یہی رنگ ہم پورے پاکستان میں دیکھنا چاہتے ہیں۔
    قیامِ پاکستان کے روزِ اوّل سے ہم جدوجہد کر رہے ہیں۔ ہمارے لوگ بھی اسمبلیوں میں گئے، وزیربنے، ممبر بنے، سینیٹر بنے مگر اللہ کا شکر ہے کہ ہم پر کرپشن کا کوئی دھبا نہیں، نہ کبھی پرمٹ کی سیاست کی اور نہ کبھی پلاٹ کی، نہ کبھی اصولوں پر سودے بازی کی۔ لوٹ کھسوٹ کے ماحول میں ہمیشہ اپنے دامن کو بچایاہے۔ اس عظیم کردار کا بنیادی سبب یہ ہے کہ یہاں ہر کارکن صرف اللہ سے ڈرتا ہے اور خدا کے بندوں کی امانتوں کا خیال رکھتا ہے۔
    یہاں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اسلام کا سیاست سے کیا واسطہ؟ اور جو سیاست کرتے ہیں، وہ اسلام آباد چاہتے ہیں۔ ہماری عرض یہ ہے کہ اللہ ہی نے انسان کو خلیفہ بنایا۔ خلافت اور سیاست نبیوں کی سنت ہے۔ یہ انبیا ؑ انسان کی انفرادی اصلاح بھی فرماتے تھے اور اجتماعی اصلاح بھی فرماتے تھے۔ کیا حضرت سلیمان ؑ ،حضرت داؤد ؑ اور حضرت یوسف ؑ حکمران نہیں تھے؟
    سیاست اقتدار حاصل کرنے کا کھیل نہیں۔ یہ اصلاح کا نام ہے__ فرد اور معاشرے کی اصلاح، نظام اور حکومت کی اصلاح۔ اسی کے لیے تمام انبیا ؑ آئے تھے۔ اب تو سیاست نام ہے قوم کو دھوکا دینے کا، عوام کو بے وقوف بنانے کا، کروڑوں خرچ کرکے اربوں کمانے کا اور جھوٹے وعدے کرنے کا۔ یہ جو ضمیر فروشی کی سیاست ہے، یہ جو قوم فروشی کی سیاست ہے، خواہرفروشی اور دخترفروشی کی سیاست ہے__ یہ ابلیسی سیاست ہے۔ہم اس سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ سیاست فرعون اور ابوجہل کا کام نہیں، یہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر چلنے کا نام ہے۔
    ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں امامت فرماتے تھے اور میدانِ جہاد میں سالار بھی تھے۔ عدالت میں فیصلے بھی فرماتے تھے اور حکمران بھی تھے۔ غریبوں اور یتیموں کی کفالت بھی کرتے تھے اور اجتماعات بھی کرتے تھے۔
    ۶۷برس گزر گئے ، پاکستان بنا، انگریز چلا گیا مگر اس کا نظام اب بھی باقی ہے۔ اسی طرح سیاسی نظام، عدالتی نظام اور معاشی نظام جو انگریزوں نے چھوڑا ہے اب بھی باقی ہے۔ اس نظام کی وجہ سے ساری قوم پریشان ہے۔
    قائد اعظم ؒ نے فرمایا تھا کہ تحریک پاکستان اُس وقت شروع ہو گئی تھی جب ہندستان میں پہلا مسلمان داخل ہواتھا۔ تحریک پاکستان برسو ں سے جا ری تھی مگر قراردادِ پاکستان۱۹۴۰ء میں منظور ہوئی۔ اس قرارداد میں مملکت پاکستان کا واضح نقشہ پیش کیا گیا۔ تحریکِ پاکستان کے سات سال گواہ ہیں کہ قیامِ پاکستان کا مرکز اور محور قرآن و سنت کو قرار دیا گیا۔ مغرب زدہ لوگ آج بھی قائد اعظم پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ پاکستان کو سیکولر بنانا چاہتے تھے حالانکہ قائد اعظم، پاکستان کو اسلام اور جمہوریت کا مرکز بنانا چاہتے تھے اور کہتے تھے کہ ’’میرا ایمان ہے کہ ہماری نجات اُس اسوۂ حسنہ پر چلنے میں ہے جو قانون عطا کرنے والے پیغمبر ؐاسلام نے ہمارے لیے بنایا ہے‘‘۔ انھوں نے یہ بھی فرمایاتھا کہ: ’’مجھے یقین ہے کہ جوں جوں ہم آگے جائیں گے ہم میں زیادہ اتحاد پیدا ہوتا جائے گاکیونکہ ہم ایک خدا، ایک رسولؐ اور ایک امت کے پیروکار ہیں‘‘۔
    آج میں یہ بات واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ تحریکِ پاکستان میں اس وقت تیزی آئی تھی جب ۱۹۴۵ء میں ’’پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الٰہ الا اللہ‘‘ کا نعرہ تحریکِ پاکستان میں ایک برقی رو کی طرح داخل ہوا۔ پھر دنیا نے دیکھاکہ دو سال کی قربانیوں کے بعد پاکستان وجود میں آگیا۔ یہ تھی طاقت لا الٰہ الا اللہ کی۔ اور آج سب لوگ جان لیں کہ اس ملک کا مستقبل اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ ہی میں ہے۔ قائد اعظم کی اس مسجد میں کوئی دوسرا نظام نافذ نہیں ہو سکتا۔

    ظلم و استحصال اور درپیش مسائل
    قائد اعظم ؒ نے تو پاکستان اسلام اور جمہوریت کے لیے بنایا مگر یہاں نہ اسلام کو نافذ ہونے دیا گیا اور نہ جمہوریت کو۔ قائداعظم کی وفات کے بعد اس ملک پر مفاد پرستوں نے قبضہ کرلیا۔ جاگیرداروں ، سرمایہ داروں ، سول اور ملٹری ڈکٹیٹروں نے بار بار شب خون مارا۔اسلام اور جمہوریت کے خلاف سازشیں کیں۔شہری آزادیاں سلب کیں اور قومی خزانے کو لوٹنا شروع کیا۔ ۱۹۵۴ء میں غلام محمد نے اقتدار پر شب خون مارا۔ ۱۹۵۶ء میں پہلا آئین بنا لیکن اس کو چلنے نہیں دیا گیا اور جنرل ایوب خان کا مارشل لا آگیا۔ ۱۹۶۹ء میں جنرل یحییٰ خان کا مارشل لا آگیا۔ اس عرصے میں اس ملک میں نفرتوں کے بیج بوئے گئے اور سیاسی جماعتوں کو کام نہیں کرنے دیا گیا۔ اخبارات پر پابندی لگائی گئی۔ سیاسی لیڈروں اور صحافیوں کو جیلوں میں ڈالا گیا اور ظلم کی انتہا کر دی گئی۔ ۱۹۷۰ء میں پہلے عام انتخابات ہوئے۔ مشرقی پاکستان میں تو الیکشن نہیں ہوا بلکہ پولنگ اسٹیشنوں پر عوامی لیگی غنڈوں کا مکمل قبضہ رہا اور انھوں نے ۹۹فی صد نتیجہ اپنے نام کرلیا۔ پھر ان انتخابات کے نتائج کو اسٹیبلشمنٹ اور مفاد پرست جاگیرداروں نے قبول کرنے میں ٹال مٹول سے کام لیا۔ عوام کے فیصلے کو قبول نہیں کیا گیا اور اقتدار اکثریتی جماعت کے سپرد نہیں کیا گیا۔ پہلے بے اطمینانی اور پھر فساد کی اس فضا سے بھارت نے بھرپور فائدہ اُٹھایا اور اپنی فوجوں کو مشرقی پاکستان میں داخل کر دیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک کے دونوں حصے ایک دوسرے سے جدا کردیے گئے۔
    ۱۹۷۳ء میں بچے کھچے پاکستان میں متفقہ آئین بنا، جس میں چاروں صوبوں اور ملک کی تمام جماعتوں نے دستخط کیے۔ اس میں مقتدرِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کو تسلیم کیاگیا۔اس دستور میں قرار داد مقاصد شامل ہے۔ اس آئین میں وفاقی شرعی عدالت ہے۔ اس آئین کے مطابق کوئی قانون قرآن وسنت کے خلاف نہیں بنایا جا سکتا ۔ اس آئین کے مطابق قرآن و سنت کی تعلیمات کو عام کرنا ہے ، عربی زبان کو سکھانا ہے۔ اس آئین کے مطابق اسلام کے منافی کوئی قدم نہیں اٹھایا جا سکتا۔ اس آئین کے مطابق کوئی طالع آزماجمہوریت کو ختم نہیں کر سکتا، میرٹ کو ختم نہیں کر سکتا ، اظہارِ راے کے حق کو سلب نہیں کر سکتا۔ عورتوں پر تعلیم کے دروازے بند نہیں ہوسکتے۔ ریاست کے خلاف بغاوت نہیں کی جاسکتی۔ اس آئین میں صوبوں کے حقوق کو تسلیم کیا گیا ہے۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم کے فارمولے کو تسلیم کیا گیا ہے۔ اعلیٰ عدالتوں کو فیصلوں کا اختیار دیا گیاہے۔ پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کیا گیاہے۔ شفاف انتخابی نظام اور الیکشن کمیشن کی گارنٹی دی گئی ہے، مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ عملاً یہاں جمہوریت کو پنپنے نہیں دیا گیا۔
    ۱۹۷۷ء میں جنرل محمد ضیاء الحق نے اسی دستورکو لپیٹ کر الماری میں رکھ دیا اور من مانی ترامیم کر کے اپنے اقتدار کو طوالت بخشی۔ یہاں پر پیش نظر رہے کہ وہی بھٹوصاحب جنھوں نے اس دستور کو بنوایا تھاانھوں چند ہی ماہ بعد اس کا حلیہ تبدیل کر کے اپنی آمریت کو تقویت بخشی تھی۔ اس آئین شکنی نے ایک دوسرے آئین شکن کو دستور کی خلاف ورزی کا راستہ دکھایا۔
    بعد میں جمہوریت تو بحال ہوئی مگر سیاسی قوتوں اور مقتدر طاقتوں کی لڑائی اور بدترین لُوٹ کھسوٹ نے معاملات کو سلجھنے نہ دیا۔ اسی دوران میں ۱۹۹۹ء میں پرویز مشرف نے آئین کو توڑنے کا گناہ کیا۔ اور پھر دوسری مرتبہ ۲۰۰۷ء میں بندوق کے زو ر پر آئین کو پامال کیا۔ نیز ۲۰۰۱ء میں اس کمانڈو جرنیل نے ملک کی عزت کو ایک ٹیلی فون کال پر امریکا کے سپرد کیا۔اپنی بہنو ں اور بھائیوں کوڈالروں کے عوض بیچ ڈالا۔آج بھی پرویز مشرف کی وجہ سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور کئی پاکستانی امریکا کی جیلوں میں پڑے ہوئے ہیں۔سیکڑوں پاکستانی لاپتا ہو گئے ہیں۔ بلوچستان میں آپریشن کے ذریعے بلوچوں کو ملک چھوڑنے یا پہاڑوں پر چڑھ کر گوریلاجنگ پر مجبور کر دیا۔ مسئلہ کشمیر کو سردخانے میں ڈالا اور لاکھوں کشمیری شہدا کے خون سے بے وفائی کی۔ انجام کار ملک میں انتہاپسندی کو فروغ ملا۔ بے حیائی کا سیلاب لایا گیا اور ملک کے تعلیمی نصاب کو غیر اسلامی بنانے کی کوشش کی گئی۔ لیکن جب وہ اپنے اقتدار سے ہٹا تو اسے گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ وی آئی پی بنایا گیا۔ یہ دنیا کا واحدملک ہے کہ جہاں ملک اور آئین توڑنے والوں کو ، اپنی بہنوں کو بیچنے اور اپنی فضائیں دشمنوں کو دینے والوں کو وی آئی پی بنا کر رکھا گیا ہے۔
    آئین کی بار بار پامالی سے یہ ملک بھی ٹوٹا ، اس کے ادارے بھی تباہ ہوئے۔ یہ آئین کئی مرتبہ بے توقیر ہوا۔ اس ملک میں نہ اسلام کو آنے دیا گیا ، نہ جمہوریت کو جڑ پکڑنے دی گئی۔ جس کے پاس دولت تھی یا بندوق، اُس نے اس ملک کا ستیاناس کر دیا۔ اس ملک کی بنیادیں ہلادیں۔ اس ملک کے شہریوں کو بنیادی حقوق سے محروم کیا۔ اسلامی حقوق، معاشی حقوق اور معاشرتی حقوق سے محروم کیا۔ تعلیم اور صحت کی سہولت سے محروم کیا۔ اچھے ماحول سے محروم رکھا۔ معاشی ترقی کے امکانات ختم کر کے نوجوانوں پر ملازمتوں کے دروازے بند کیے گئے۔ ہسپتالوں اور سکولوں میں طبقاتی نظام لایا گیا۔ مزدوروں کو ان کا حق نہیں دیا گیا۔ اس ملک میں کرپٹ اشرافیہ نے آمروں اور مفاد پرستوں کے ساتھ مل کرپاکستان کے انتظامی ڈھانچے کو تباہ کیا، پولیس کو تباہ کیا، ٹیکسوں کے نظام کو تباہ کیا ، کرپشن کو عام کیا ، اقربا پروری کو عام کیا ، طبقاتی نظام کو دوام بخشااور سارے اداروں کو تباہ و برباد کیا۔
    آج ملک کا کوئی بھی ادارہ چوروں اور لٹیروں سے ، ظالموں اور استحصالیوں سے خالی نہیں۔ ہر طرف وی آئی پی کلچر کا راج ہے۔ تھانوں میں ، عدالتوں میں ، ہسپتالوں میں ، سکولوں میں ، دفتروں میں وی آئی پی کلچر ہے۔ ملک کو مٹھی بھر اشرافیہ نے اپنے مفادات کی خاطر تقسیم در تقسیم کیا۔ مذہبی منافرت پھیلائی ، مسلکی جھگڑے پیدا کیے ، فرقہ پرستوں کی حوصلہ افزائی کی اور سیاسی انتشار پیدا کیا۔ کسی کو اقتدار میں لائے اورکسی کو محروم کیا۔ انتخابات ، پارلیمنٹ اورقومی اداروں کو بے وقعت کیا۔ اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے امریکی دہشت گردی کا ساتھ دیا۔ معاشی نظام کو بر باد کرکے غریبوں سے دو وقت کی روٹی چھین لی۔ مہنگائی میں اضافہ کر دیا۔ سی این جی کو نایاب کردیا۔ گیس اور بجلی کے بلوں میں اضافہ کردیا۔ کرایے بڑھ گئے ، فیسیں بڑھ گئیں۔ہر طرف بھوک کے سایے نظر آرہے ہیں۔ ہر طرف غربت ناچ رہی ہے۔ ہر طرف لاقانونیت ہے ، بھتے ہیں ، کمیشن ہے اور ٹارگٹ کلنگ ہے۔ کیا یہ قائد اعظم ؒ کی خوابوں کی تعبیر ہے ؟ کیا اس کے لیے مسلمانوں نے قربانی دی تھی ؟ کیا اس کے لیے پاکستان حاصل کیا گیا تھا؟
    سوات آپریشن کے دوران لاکھوں لوگ اپنے ہی ملک میں مہاجر بنادیے گئے اور کیمپوں میں ان کی تذلیل ہوئی۔ اب فاٹا اور شمالی وزیرستان میں اسی طرح آپریشن کیاجارہا ہے۔ ۹لاکھ قبائلی پاکستانی اپنے ہی ملک میں ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ وہ خواتین جو حیا کی وجہ سے ڈاکٹروں کے پاس بھی نہیں جاتی تھیں ان کو کیمپوں میں رہنے پر مجبور کر دیا گیا۔ آج ان کا کوئی والی وارث نہیں۔ آج امریکا کو بتایا جا رہا ہے کہ: ’’ہندستان کی کاروائیوں کی وجہ سے ہمارے ہاتھوں اپنے ہی پاکستانیوں کے خلاف آپریشن متاثر ہو گیا ہے‘‘۔ میں واضح کرنا چاہتاہوں کہ قبائلی محب وطن پاکستانی ہیں۔ ان کی تذلیل بند کی جائے اور ان کے خلاف آپریشن بند کیا جائے۔ اور ان کو اپنے گھروں کو عزت کے ساتھ جانے دیا جائے۔ قبائلیوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کا ازالہ کیا جائے اور امریکا کی مسلط کردہ جنگ سے باہر نکلا جائے۔
    اس ملک میں کرپٹ اشرافیہ اور اقتدار پرستوں کی جائنٹ فیملی ہے جس میں میڈیا کا ایک حصہ بھی ان کے قدموں میں بیٹھا نظر آتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ دولت کی ریل پیل میں حق اور سچ سامنے نہیںآتا۔

    تحریک تکمیلِ پاکستان
    ایسے میں اس ملک کے اندر ہم نے امید کی کرن دکھانے کے لیے اجتماع عام منعقد کیا تاکہ قائد اعظم کے نامکمل مشن اور پاکستان کے نامکمل ایجنڈے کو تکمیل تک پہنچائیں۔ تحریک تکمیلِ پاکستان کا آغاز ہم اس لیے کر رہے ہیں کہ قائد اعظم کے مشن، اسلام، جمہوریت اور عوام کی فلاح کو پوراکریں۔ جس طرح اس ملک کا قیام اسلامی بنیادوں اور اسلامی جذبوں کے بغیر ممکن نہیں تھا، اسی طرح اس کا تحفظ ، اس کی سلامتی اور آزادی بھی اسلام کے سچے اور عادلانہ نظام کے بغیر ممکن نہیں۔ ہم اس ملک کو اسلامی اورخوش حال پاکستان اس لیے بنانا چاہتے ہیں کہ یہاں پر طبقاتی تقسیم ختم ہو، کرپشن ، ناانصافی ، ظلم و زیادتی ، جہالت اورغربت ختم ہو۔ تحریک تکمیلِ پاکستان کے ذریعے اختیارات اور اقتدار عوام کے حقیقی نمایندوں کو نچلی سطح تک منتقل کرنا چاہتے ہیں۔ ہم قومی زبان کو ترویج دیں گے اور مقابلہ کا امتحان بھی قومی زبان میں منعقد کرائیں گے۔ تکمیلِ پاکستان کی اس تحریک میں ہم جہاں ہر صوبے اور ہرعلاقے کے لوگوں کو ان کا حق دلائیں گے وہیں انصاف کی بالادستی اور حقیقی اسلامی اخوت کے فروغ کے ذریعے صوبائیت اور علاقائی تعصبات کو ختم کریں گے۔ ہم تکمیلِ پاکستان کی اس تحریک میں عوام کا سیاسی شعور بلند کر کے آمریت کی ہر شکل کو بے نقاب کریں گے۔ ہم دھاندلی سے بننے والی حکومتوں کو بے نقاب کریں گے۔ ہم سیاستدانوں کی خریدوفروخت کی گھناؤنی سازشوں کو طشت ازبام کریں گے۔ ہم عوام کو ظاہری اور باطنی حکومتوں کا فرق سمجھائیں گے۔ اس لیے ہم پاکستان کے ہر مرد اور عورت کو ، ہر نوجوان کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ تحریک تکمیلِ پاکستان کی اس جدوجہد کا حصہ بنیں۔ پاکستان کو ایک جدید اور اسلامی ریاست بنانے اور خوش حال پاکستان بنانے کے لیے کمر بستہ ہو جائیں۔
    اسلامی پاکستان اور خوش حال پاکستان کی خاطر تحریک پاکستان کا پیغام گھر گھر تک پہنچائیں۔ یہ ہماری تقدیر کا سوال ہے ،یہ ہمارے مستقبل کا سوال ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ہم نے جو عوامی ایجنڈا پیش کیا ہے، یہ پاکستان کو بچانے کا ایجنڈا ہے۔ ہم واضح طور پر کہتے ہیں کہ تحریک تکمیلِ پاکستان کو راستہ دے دو تاکہ یہ ملک ترقی کر سکے۔ہماری جدوجہد سیاسی ہے۔ قائد اعظم نے پاکستان لشکر کشی کے ذریعے سے حاصل کیا تھا اور نہ گوریلا جنگ کے ذریعے سے، بلکہ پاکستان عوامی اور جمہوری جدوجہدکے ذریعے حاصل کیا گیا تھا۔ ہم بھی عوامی اور جمہوری جدوجہد کے ذریعے سے قائد اعظم کے وژن کے مطابق پُرامن ذرائع سے پاکستان کو حقیقی اسلامی ، جمہوری ، سیاسی اور پروگریسو ریاست بنانا چاہتے ہیں۔
    ہمارے عالمی ایٹمی قوت ہونے کے باوجود امریکا اور ناٹو فورسز نے افغانستان پر قبضہ کرنے کے لیے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے۔ لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کیا۔ بچے یتیم اور عورتیں بیوہ ہوگئیں۔ جوان قتل ہو گئے۔ اس پر بس نہیں کیا گیا بلکہ امریکا نے پاکستان میں ایک خفیہ جنگ مسلط کی جس کی وجہ سے داخلی انتشار میں مزید اضافہ ہوا۔ ۵۵ہزار پاکستانی شہید ہوگئے مگر امریکا اب بھی قلعہ بند ہو کر افغانستان پر قابض ہے۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ ہم افغانستان کے عوام کے ساتھ ہیں اور ان کی آزادی ، سلامتی اور خودمختاری کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ افغان اتحاد اور اتفاق کا مظاہرہ کر کے اپنی آزادی کو امریکا سے واپس لیں گے۔
    تحریک پاکستان کے آغازِ نو پر میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ جماعت اسلامی دنیا کے کسی ملک کے خلاف نہیں۔ ہم سب کی آزادی اور خودمختاری کا احترام کرتے ہیں۔ ہم امریکا کے عوام کے خلاف نہیں بلکہ امریکی حکمرانوں کی ظالمانہ پالیسیوں کے خلاف ہیں جو وہ مسلمانوں اور مسلمان ممالک کے خلاف اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ہم یورپ و امریکا سے برابری کی بنیاد پر اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔ ہم تمام مذاہب کااحترام کرتے ہیں اور ہر قسم کے عالمی اور نسلی تعصب کے خلاف ہیں۔ ہم امریکا اور یورپ سے کہتے ہیں کہ اگر تم دنیا میں امن لانا چاہتے ہو تو مسلمانوں کے خلاف عالمی جنگ ختم کرو، اور اگر لڑنا چاہتے ہو تو غربت ،جہالت اور ناخواندگی کے خلا ف لڑو۔
    جماعت اسلامی پاکستان تمام اسلامی اور عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کو اولیت دیتی ہے۔ سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات، قطر ، کویت اور دوسرے عرب ممالک میں لاکھوں پاکستانی خدمات سرانجام دے رہے ہیں، اور یہاں زرمبادلہ بھیجتے ہیں۔ ہم ان کا احترام کرتے ہیں اور ان کے احسان مند ہیں۔ مسلم ممالک کے باہمی تنازعات کے بارے میں ہماری راے ہے کہ ان کو جذبۂ خیرسگالی سے حل کیا جائے۔ اخوان المسلمین اور حماس کے بارے میں بعض دوست ممالک کو غلط فہمی ہو گئی ہے۔ ہم اپیل کرتے ہیں کہ مسلم امت کی خاطر اپنے بھائیوں اور اپنی طاقت کو تقسیم نہ کریں، اور ایک دوسرے کے احترام کی بنیاد پر مثالی اتحاد کے قیام کی راہ اختیار کریں۔ہم فلسطین اور فلسطینی بچوں ، عورتوں اوربوڑھوں پر اور سکولوں اور ہسپتالوں پر اسرائیلی بمباری کی مذمت کرتے ہیں اور قبلۂ اول کی آزادی تک فلسطینی عوام کی حمایت کرتے رہیں گے۔
    ہم ہمسایہ ممالک ، چین ایران ، افغانستان کے ساتھ ترجیحی بنیادوں پر بہترین تعلقات کے خواہاں ہیں۔ ہم بھارت کے ساتھ بھی اچھے اور دوطرفہ تعلقات چاہتے ہیں مگر یہ تعلقات تاریخی تجربات اور زمینی حقائق کو نظرانداز کرکے استوار نہیں ہوسکتے۔ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کو کھلے دل سے تسلیم کرنا ہوگا اور ایک دوسرے کے مفادات کا لحاظ رکھنا ہوگا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک حقیقی تنازعات کو حق و انصاف اور عالمی معاہدات کے مطابق بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات کے ذریعے حل نہیں کرلیا جاتا۔ ہم صاف کہنا چاہتے ہیں کہ یہ تعلقات کشمیر کی قیمت پر نہیں ہوں گے۔ پاک بھارت تعلقات پیاز اور ٹماٹر ڈپلومیسی یا کرکٹ ڈپلومیسی سے بہتر نہیں ہوسکتے۔ جنوب مشرقی ایشیا میں امن قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کیا جائے۔ مقبوضہ کشمیر میں بچوں ، جوانوں اور بوڑھوں کا قتل عام بند کیا جائے۔ کشمیریوں کی نسل کشی بند کی جائے۔ ہم کشمیر کے مسلمانوں کو پیغام دیتے ہیں کہ آپ کی جدوجہد زمین کے ٹکڑے کے لیے نہیں بلکہ تخلیق پاکستان کے نامکمل ایجنڈے اور اسلامی پاکستان کی تکمیل کی جدوجہد ہے۔ آپ کے جذبۂ جہاد، شوق شہادت اور طویل جدوجہد پر پاکستان کے عوام آپ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔

    جماعت اسلامی نے ہمیشہ پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کی۔ ۱۹۷۱ء میں جب مشرقی پاکستان پر بھارت نے حملہ کیا تو جماعت اسلامی کے رضا کاروں نے بھارت کی تربیت یافتہ فورس کے خلاف مادروطن کی حفاظت کی۔ ہزاروں نوجوان بھارتی فوج اور ان کی تربیت یافتہ مکتی باہنی کے ہاتھوں شہید ہو گئے۔ فوج نے ہتھیار ڈال دیے مگر ایک طرف ہمارے ملک میں بعض لوگوں نے مادر وطن کی حفاظت پر جماعت اسلامی کو طعنے دئیے، تو دوسری طرف بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے کارکنوں کو آزادی دشمن اور پاکستان دوست قرار دیا۔ آج ۴۴سال گزرنے کے بعد جماعت اسلامی کے بزرگ رہنماؤں کو جھوٹے مقدمات میں سزاے موت اور عمر قید کی سزائیں دی جا رہی ہیں۔ ہم حسینہ واجد کے انتقام کی مذمت کرتے ہیں مگر ساتھ ہی پاکستانی حکومت سے پوچھتے ہیں کہ پاکستان کی حمایت اگر کل جرم تھا تو پھر آیندہ کون اس مادرِ وطن کے لیے قربانی دینے کے لیے تیار ہو گا؟
    یہ بنگلہ دیش کا داخلی معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک عالمی معاملہ ہے۔ عالمی معاہدوں کا تقدس ہوتا ہے۔ ایک طرف پاکستانی حکومت، مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر اور دوسری طرف بنگلہ دیش کے ساتھ عالمی معاہدوں پر عمل درآمد نہیں کروا سکی۔ کیا فروری ۱۹۷۴ء میں بنگلہ دیش کو اس لیے تسلیم کیا گیا تھا کہ وہ عالمی معاہدوں سے رُوگردانی کر ے اور ظلم اور فاشزم کا ثبوت دے۔

    جماعت اسلامی کا کردار
    سوال یہ ہے کہ نظام کیسے تبدیل ہوگا؟
    مولانا مودودی ؒ نے واضح الفاظ میں فرمایا تھا کہ پُرامن آئینی جدوجہد کرو، ذہنوں کو تبدیل کرو، انسان کو اندر سے تبدیل کرو، پھر عوام کو منظم کرو اور قیادت مہیا کرو۔ منتشر معاشرے کو ایک کرنا، عوام کو روشنی دینا، عوام کو منزل دینا یہ قیادت کا کام ہے۔ ہم زیرزمین سازشوں، گوریلا جنگ یا محض ڈنڈے کے زور پر اصلاح پر یقین نہیں رکھتے۔ دلوں کی دنیا کو تبدیل کریں تو معاشرہ تبدیل ہوتا ہے۔ ہم اس ملک میں یقیناًاسلامی نظام چاہتے ہیں تو دلوں کو فتح کرنا ہوگا۔ خیالات اور خواہشوں کو تبدیل کرنا ہوگا۔ اچھا اخلاق اور کردار ہماری قوت ہیں۔
    مَیں کارکنانِ جماعت سے اپیل کرتا ہوں کہ معاشرے کے خدمت گار بنیے۔ یتیموں، مسکینوں، بیواؤں اور بوڑھوں کا سہارا بنیے۔ مظلوموں کی آواز بنیے اور ان کی دُعا لیجیے۔ خالق کو راضی کرنا ہے تو مخلوقِ خدا کی خدمت کیجیے، ان شاء اللہ خلقِ خدا تمھارے گرد جمع ہوجائے گی۔
    ہم جانتے ہیں کہ اقتدار پر قابض اقلیت نے صرف پاکستان کو منزل سے ڈی ریل ہی نہیں کیا بلکہ انھوں نے بیوروکریسی کو بھی کرپٹ کیا، پولیس کا نظام بھی تباہ کیا۔ ٹیکس کا نظام عوام کو نچوڑنے اور حاکموں کی تجوریاں بھرنے کا ذریعہ بناڈالا۔ انھوں نے اس ملک میں کرپشن، اقرباپروری اور طبقاتی نظام کو دوام دیا۔ ریلوے غریبوں کی سواری ہے، اس کو تباہ کیا۔ کرپشن کی وجہ سے ہی پی آئی اے کو مفلوج کیا۔ پارلیمنٹ پر عوام کروڑوں روپے خرچ کر رہے ہیں لیکن وہ عوام کے حقوق کی حفاظت اور ملک کی قسمت کو سنوارنے سے بے پروا ہے۔ مظلوم کی فریاد سننے کے لیے کوئی ادارہ نہیں ہے۔
    پاکستان کے آئین میں اللہ کی بادشاہت اور انسانوں کی خلافت کو تسلیم کیا گیا ہے مگر یہاں منافقت اور کرپٹ اشرافیہ کا نظام ہے، جاگیرداروں اور امریکی وفاداروں کا نظام ہے۔ اللہ کا نظام کہیں نظر نہیں آتا اور نہ خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کا نظام نظر آتا ہے۔ آئینِ پاکستان قرآن و سنت کے خلاف قانون سازی کی اجازت نہیں دیتا، لیکن سارا معاشی نظام سود پر چلتا ہے، حالانکہ سود تو اللہ اور رسولؐ کے ساتھ جنگ ہے۔
    ہم آئینِ پاکستان کے وفادار اور اس کے محافظ ہیں اس لیے کہ اس آئین نے پاکستان کو متحد رکھا ہے۔ اس میں اللہ کی حاکمیت کو اقتدارِاعلیٰ تسلیم کیا گیا ہے۔ اگر پاکستان کا آئین ختم ہوا تو فساد کی قوتیں دوبارہ ایسا متفقہ دستور نہیں بننے دیں گی۔ پھر صوبوں کو اکٹھا کرنا مشکل ہوگا۔ یہاں سامراجی قوتیں ہمیشہ غیرجمہوری نظام کی حمایت کرتی ہیں تاکہ اس ملک کا تشخص بدل ڈالیں۔ ان کے لیے ایک آمر سے سودا کرنا آسان ہوتا ہے ۔
    پاکستان میں مسئلہ آئین کا نہیں، قیادت کا اور قیادت کی بے عملی کا ہے۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ انھی کے ظلم کے شکار عوام کو جب موقع ملتا ہے تو پھر اگلی بار انھی لوگوں کو جھولیاں بھربھر کر ووٹ دیتے ہیں، جنھیں بعد میں جھولیاں بھربھرکر بددعائیں دیتے ہیں۔ عوام کے دھوکا کھانے کے عمل کو درست سمت دینے کے لیے ضروری ہے کہ انھیں حقیقت بتائی جائے، تاکہ وہ ووٹ کو اپنی اور اپنے مستقبل کی امانت سمجھ کر استعمال کریں اور دیانت دار قیادت کو ملک کی باگ ڈور دیں۔
    ان مقتدر لٹیروں نے مقاصد پاکستان کو سبوتاژ کیا اور پاکستان کے جغرافیے کو بھی تبدیل کیا۔ یہاں کے اس استحصالی طبقے نے خود کو امیر اور ملک کے عوام کو غریب بنایا۔ انھوں نے صنعت کو تباہ کیا۔ انھوں نے زراعت کو تباہ کیا۔ ان کی وجہ سے غریب اور مزدور فاقوں کا شکار ہیں۔ یہ ووٹ لیتے ہیں اور بجلی اور گیس کے ظالمانہ بل بھیجتے ہیں۔

    قومی ایجنڈا
    ہمیں قوم کو روشنی کے گرد اکٹھا کرنا ہے، اُمید کی شمع روشن کرنی ہے۔ ہم محروموں، مظلوموں، مزدوروں اور مجبوروں کو پیغام دیتے ہیں کہ جماعت اسلامی عام آدمیوں اور غریب عوام کی اصل جماعت ہے۔ یہاں موروثی اور خاندانی سیاست نہیں ہے۔ یہاں کوئی گدی نشین نہیں ہے۔ آئیے ہم سب مل کر مٹھی بھر کر پٹ اشرافیہ کی کرپٹ فیملی کا مقابلہ کریں۔ اسلامی پاکستان کے لیے، جمہوری پاکستان کے لیے، فلاحی پاکستان کے لیے، پروگریسیو پاکستان کے لیے ایک ہوجائیں تاکہ محمود و ایاز ایک ہی صف میں نظر آئیں۔
    ہم یہاں ہر فرد کو خوش حال اور پُرامن دیکھنا چاہتے ہیں۔ فرد خوش حال ہوگا تو قوم خوش حال ہوگی، پھر ریاست بھی خوش حال ہوگی۔ اس کے لیے انقلابی جدوجہد کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے ہم قومی ایجنڈا پیش کرتے ہیں:
    * روزگار کی فراہمی اور بے روزگاروں کے لیے الاؤنس: ہمارے نوجوانوں کے ہاتھوں میں ڈگریاں ہیں ، مگر یہ کارآمد نہیں ہیں، اور نہ ان سے روزگار ملتا ہے۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ ہر بے روزگار نوجوان کو باعزت روزگار دے یا بے روزگاری الاؤنس۔ ہمارے ہنرمند اور قابل نوجوان روزگار کی تلاش میں باہر کیوں بھاگ رہے ہیں۔ حکومت ان کو بلاسود قرضے کیوں نہیں دیتی۔ جب اسلامی حکومت قائم ہوگی تو ہر بے روزگار ہنرمند نوجوان کو روزگار دیں گے ، اور روزگار ملنے تک بے روزگاری الاؤنس دیں گے۔
    * مفت تعلیم اور اُردو ذریعۂ تعلیم:کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ہمارے ملک میں بدترین طبقاتی نظامِ تعلیم مسلط ہے۔ ہمارا عزم ہے کہ اسلامی حکومت قائم ہوگی تو یکساں نظامِ تعلیم کو رواج دیں گے۔ یکساں ماحول ہوگا تو پتا چل جائے گا کہ کون ہیرو ہے اور کون زیرو؟
    ہمارے معاشرے میں ۵۱فی صد خواتین ہیں۔ اس شرح سے ان کے لیے سکول، کالج اور یونی ورسٹیاں بھی ہونی چاہییں مگر تنگ نظر حکومتوں نے ان کو بھی تعلیم سے محروم رکھا ہے۔ اڑھائی کروڑ بچے بچیاں سکول سے باہر رہ جاتے ہیںیا نکل جاتے ہیں۔
    ہم غیرترقیاتی اخراجات کو کم کرکے تعلیم کو مفت اور عام کریں گے۔ میٹرک تک تعلیم لازمی ہوگی۔ تعلیم کا ذریعہ قومی زبان ہونا چاہیے اور قومی اور علاقائی زبانوں کو ان کا قرار واقعی مقام ملنا چاہیے۔ انگریزی اہم ہے لیکن انگریزی کو ذریعۂ تعلیم بنانا اوراس کی بالادستی قائم کرنے سے اجتناب ضروری ہے۔ انگریزی زبان کی بالادستی میں کروڑوں نوجوان زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ تعلیم دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اسلامی پاکستان میں، علم کے نور سے منور پاکستان میں تعلیم مرکز اور محور ہوگی۔
    * مفت علاج: ملک کے پرائیویٹ ہسپتال مہنگے ترین، جب کہ سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات نہیں ہیں، نہ ڈاکٹر ہیں نہ دوائیاں، نہ مریضوں کے لیے بستر اور خدمت گار۔ وہاں بھی کرپشن نے اپنا اثر دکھایا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں سردرد کی دوا بھی نہیں ملتی۔ غریب یہاں پہنچ کر اپنی موت کا انتظار کرتا ہے مگر وہ بھی اپنے وقت پر ہی آتی ہے۔ اسلامی فلاحی حکومت قائم ہوگی تو علاج کی بنیادی سہولت ہر ایک کو حاصل ہوگی اور بڑی بیماریوں کا علاج مفت ہوگا۔
    * پیداوار میں مزدور اور کسان کی شراکت: اسلامی پاکستان میں کارخانوں کے منافع میں مزدورشریک ہوگا اور جاگیرداروں اور زمین داروں کی پیداوار امیں کسان اور ہاری شریک ہوں گے۔
    * غریبوں کے لیے سستی اشیا کی فراہمی: پاکستان ایک اسلامی جمہوری اور فلاحی ریاست ہوگی تو اس میں ہر وہ پاکستانی جس کی ماہانہ آمدن ۳۰ہزار سے کم ہو، اس کو آٹا، دال، چاول، گھی، چینی اور چائے پر سبسڈی (رعایت) دیں گے۔ عیش و عشرت کی چیزوں پر ٹیکس لگائیں گے۔
    * عمر رسیدہ لوگوں کے لیے الاؤنس:عمر رسیدہ لوگ آخری عمر میں اپنے آپ کو زمین پر بوجھ سمجھتے ہیں۔ ان کی نہ سماجی زندگی ہوتی ہے، نہ بڑھاپے کے اخراجات کا کوئی انتظام اور اس طرح وہ موت کے منتظر ہوتے ہیں۔ اسلامی حکومت قائم ہوگی تو ان کو ان کی زندگی آسان بنانے کے لیے اولڈ ایج سوشل الاؤنس دیں گے۔
    * ائمہ مساجد کے لیے تنخواہ: پاکستان میں لاکھوں مساجد ہیں۔ یہاں ائمہ پانچ وقت قوم کی امامت کرتے ہیں، بچوں کو قرآن پڑھاتے ہیں۔ اسلامی حکومت قائم ہوگی تو پاکستان کے دوسرے محکموں کی طرح ان کے لیے بھی تنخواہیں مقرر کرے گی اور یہی مساجد عبادت کے مراکز تو ہیں ہی، علمی مراکز بھی بنیں گی۔ منبر ومحراب کو قوم کو منظم اور متحد کرنے کے لیے اور علم کے نور کو عام کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
    * غیرمسلموں کے لیے تحفظ: ہم اپنے غیرمسلم پاکستانیوں کو بھی یقین دلاتے ہیں کہ اسلامی حکومت میں آپ کی جان و مال اور عز ت و آبرو کو تحفظ حاصل ہوگا۔ پچھلے ڈیڑھ ہزار سال میں مذہبی اقلیتوں کو سب سے زیادہ تحفظ اگر ملا ہے تو مسلم حکمرانی میں ملا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ’’جس مسلمان نے کسی غیرمسلم کا حق مارا یا اسے اپنے ظلم کا نشانہ بنایا، روزِقیامت میں اس مسلمان کے خلاف دعویٰ لے کر خود کھڑاہوں گا‘‘۔ جس غیرمسلم کی طرف سے وکیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں، کیا ہم اسے تکلیف دے سکتے ہیں۔ ملک کے وسائل پر ان کا بھی اسی طرح حق ہے جس طرح مسلمانوں کا ہے۔
    * سود کے خلاف اعلانِ جنگ: سود اور سودی کاروبار نے معاشرے میں تصادم پیدا کیا ہے۔ ہم سود کے خلاف جنگ کا اعلان کرتے ہیں۔ بنک مال داروں کو قرضے دیتے ہیں لیکن جھونپڑی والوں کو گھر بنانے کے لیے قرضہ نہیں دیتے۔ بچوں کو تعلیم کے لیے قرضہ نہیں دیتے۔ ہم اس سودی نظام کو ختم کرنے اور اسلام کے اصول انصاف پر مبنی نظام کو قائم کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔اسلامی حکومت قائم ہوگی تو بنکوں کے دروازے عام لوگوں کے لیے کھل جائیں گے۔ حکومت اسلام کے معاشی نظام کو اپنائے گی تو عام آدمی ترقی کرے گا۔
    ہم حکومت سے بھی کہتے ہیں کہ وہ سود کے حوالے سے سپریم کورٹ سے اپنی اپیل واپس لے ۔ سودی نظام کی وجہ سے مہنگائی ہے۔ عالمی بنک کے قرضے بھی امیروں پر خرچ ہوتے ہیں اور ہتھکڑیاں غریبوں کو پہنائی جاتی ہیں۔ ہم زکوٰۃ کا نظام نافذ کریں گے کہ ہر بیوہ اور یتیم کی کفالت کا سامان ہوسکے۔ غریب کے لیے مفت علاج کا انتظام ہوسکے اور جو مظلوم عدالت میں اپنا فیصلہ، اپنا کیس خود نہیں چلا سکتا تو سرکار ان کو یہ سہولت دے گی۔
    * ناجائز جاگیروں کی غربا میں تقسیم: جس ملک میں بھی جاگیرداری نظام ہے، وہاں انسان ترقی نہیں کرسکتا۔ یہاں انگریزوں نے اپنے جن کارندوں کو ملک و ملّت سے غداری کے عوض بڑی بڑی جاگیریں دی تھیں، ہم ان کو واپس لے کر غریبوں میں تقسیم کریں گے، اور قومی خزانے کو جس نے بھی لوٹا ہے اس کا احتساب کریں گے۔
    * منصفانہ انتخابات اور متناسب نمایندگی: ہم چاہتے ہیں کہ عام انتخابات سے قبل پورے انتخابی نظام کی اوور ہالنگ کی جائے۔ الیکشن کمیشن کی تشکیل نو ہونی چاہیے۔ عوام الیکشن کے نام پر سلیکشن قبول نہیں کریں گے۔ بیلٹ بکس پر ووٹروں کا اعتماد ختم ہو رہا ہے۔ خدا کے لیے عوام کے فیصلے عوام کو کرنے دیں۔ الیکشن کا راستہ ہی تبدیلی کا راستہ ہے۔ جب پُرامن جدوجہد کے راستے بند ہوجاتے ہیں پھر مسلح جتھے بنتے ہیں۔
    عوام کا مطالبہ ہے کہ متناسب نمایندگی کی بنیاد پر الیکشن ہو تاکہ کوئی ووٹ ضائع نہ ہو۔ موجودہ طریقے میں پارٹی اور لیڈر جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور دولت مندوں کے ہاتھوں یرغمال ہوتے ہیں۔ متناسب نمایندگی میں لوگ پارٹی کو ووٹ دیں گے، منشور کو ووٹ دیں گے، اور میرٹ کی بنیاد پر آگے آئیں گے۔
    * آزاد خارجہ پالیسی: ہم آزادخارجہ پالیسی کے قائل ہیں۔ تمام ممالک سے دوستی کا رشتہ استوار کرنا چاہتے ہیں اور خصوصیت سے پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات کے قائل ہیں۔ ہم دوسروں کے معاملات میں عدم مداخلت کے قائل ہیں لیکن یہ کہ وہ آقا اور ہم غلام کی حیثیت سے ہوں، ایسی خارجہ پالیسی کو ہم یکسر مسترد کرتے ہیں۔ پاکستان کی آزادی، حاکمیت، خودمختاری اور نظریاتی تشخص اور ملک کے مفادات کا تحفظ ہماری خارجہ پالیسی کا اصل ہدف ہوں گے۔

    قوم سے اپیل
    ہم پاکستان کو ایک اسلامی جمہوری فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں۔ ایک ایسی ریاست جہاں حاکمیت اور شریعت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی ہوگی اور حکومت عوام کے مخلص نمایندوں کی۔ اس مقصد کے لیے عوام ہمارا ساتھ دیں۔ ہمارے پاس وژن ہے، ہمارے پاس ماہرین اور مخلص کارکنان کی ٹیم ہے۔ ہم عوام کے تعاون سے ’اسٹیٹس کو‘ کو شکست دیں گے۔
    جماعت اسلامی ہی کرپشن کا سومنات توڑ سکتی ہے۔ ہم نے ہردور میں قربانی دی ہے۔ پاکستان کی محبت میں جماعت اسلامی کے قائدین کے جنازے جیلوں سے نکل رہے ہیں۔ ہم زلزلوں اور سیلاب کی مصیبت میں عوام کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ ہم نے ہمیشہ فلسطینیوں کا ساتھ دیا۔ کشمیر کے بھارتی تسلط سے نجات کی جدوجہد کا ساتھ دیا ہے۔ عالمِ اسلام اور دنیا کے تمام مظلوم انسانوں کی اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کی بھرپور تائید کی ہے ؂
    سر جلائے ہیں مشعلوں کی طرح
    یوں بھی لوگوں کی رہبری کی ہے
    ہمارا ایجنڈا قوم نے قبول کیاتو ہم آپ کو ایک ایسی حکومت دیں گے جس میں کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہوگا۔ ایک ایسی حکومت جس کا وزیراعظم صحیح معنوں میں ۱۸کروڑ عوام کی قیادت کرسکے۔ مسجد میں امامت بھی کرسکے اور اقوام متحدہ میں ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی نمایندگی بھی کرسکے۔ مَیں ساری جماعتوں سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس ملک کی خاطر ہمارے ایجنڈے کے مطابق پاکستان کی تعمیرنو کے لیے ہمارا ساتھ دیں، اور ہم سب مل کر وہ جدوجہد کریں جس کے نتیجے میں یہ ملک ترقی کرسکے اور اپنی اصل منزل کی طرف پیش قدمی کرسکے۔ یہ ایک پارٹی کا نہیں پوری قوم کا ایجنڈا ہے اور ہم سب کو ہمہ گیر مشترکہ جدوجہد کے لیے پکار رہا ہے۔

     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس