Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

جماعت اسلامی پاکستان کااجتماعِ عام

  1. لاہور میں مینارِ پاکستان پر،21،22،اور 23 نومبر 2014 ءکے اجتماع عام کاماٹو ”اسلامی پاکستان،خوشحال پاکستان“ہے۔اس میں پاکستانیوں کے لئے ایک واضح پیغام ہے اور یہ پیغام تحریک پاکستان کی جدوجہد سے جڑا ہوا ہے۔جس کا نعرہ تھا ”پاکستان کا مطلب کیا،لاالہ الااللہ“۔لیکن یہ خواب67سال سے تشنہ تعبیر ہے۔مینارِ پاکستان اس مقام پر یادگار کے طور پر تعمیر کیا گیا ہے جہاںپر23مارچ1940۱ءکو قیامِ پاکستان کی قرارداد پاس ہوئی تھی۔اجتماعِ عام کے لئے مینارِ پاکستان کا انتخاب ،حقیقت میں اس بات کا اعلان ہے کہ جماعت اسلامی ،قیامِ پاکستان کے مقاصد کی تکمیل کے عہد کی تجدید کرنے جا رہی ہے۔کیونکہ پاکستان میں آنے والی ہر حکومت نے پاکستان کے اس مقصد کو نہ صرف پسِ پشت ڈالا بلکہ پاکستان میں اسلامی نظام کی راہ میں روڑے اٹکائے اور پورے حکومتی وسائل کو برئے کار لاکر،عوام کو اسلام سے بدظن کرنے کی بھر پور کوشش کی۔ میڈیا کوخاص طور پراس مذموم مقصد کے لئے استعمال کیا گیا۔
    تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ قائدِ اعظم ؒ نے، قیامِ پاکستان کے فوراً بعد،جماعت اسلامی کے بانی مولانا سید ابوالاعلیٰ ؒ کو task دیا تھاکہ وہ میڈیا پر ،اسلامی نظامِ حیات کے اصولوں کا ابلاغ کریں ۔اس پرمولانا مرحوم نے ریڈیوپر تقاریرکا ایک سلسلہ شروع کردیا تھا۔لیکن چند ماہ بعد ہی قائدِ اعظم وفات پا گئے اور یہ سلسلہ منقطع ہوگیا۔مذکورہ تقریریں ”اسلامی نظامِ حیات “ کے عنوان سے کتابی صورت میں شائع ہو چکی ہیں اور ریڈیو پاکستان کا ریکارڈ بھی اس کا گواہ ہے۔ قائدِاعظم ؒ کی وفات کے بعدیہ تنازعہ کھڑا کر دیا گیا کہ پاکستان اسلا م کے نام بنا ہی نہیں۔علماءنے اس حقیقت کو متنازعہ بنانے کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اسمبلی سے ”قراردادِمقاصد“پاس کروائی۔جس میں اسلام کو پاکستان کے قیام کے مقصد کے طور پر طے کر دیا گیا۔
    اس قرار دادِ مقاصد کی منظوری کے باوجود۹سال تک ملک کا آئین بنانے سے گریز کیا گیا۔اب عذر تراشا گیا کہ ”کونسا اسلام ؟ “۔اس کے جواب میں مختلف مسالک کے 31 علماءنے اپنے متفقہ ۲۲نکات پیش کر دیئے۔یوں 1956ءمیں ِ پاکستا ن کا پہلا آئین بناتو اس میں اسلامی شقیں رکھی گئیں اور طے کیا گیا کہ پانچ سال کے اندر اندر،تمام غیر اسلامی قوانین ختم کردیئے جائیں گے اور ان کی جگہ اسلامی قوانین نافذ ہو جائیں گے لیکن ابھی پانچ سال گزرنے نہ پائے تھے کہ مارشل لاءحکومت نے اس متفقہ آئین کو منسوخ کر دیاتاکہ نہ رہے بانس ،نہ بجے بانسری۔یوں سول حکومت بھی باز پرس سے بچ گئی۔پھر اسلامی اور جمہوری قوتوں کے دباو پر،1962ءکا آئین بنا۔اس میں بھی مذکورہ بالا مقاصد کے لئے پانچ سال کی مدت کا تعین ہوا۔لیکن یہ مدت پوری ہونے سے قبل ہی ایک بار پھر مارشلءحکومت نے سول حکومت کو ”اسلامائزیشن“سے ریلیف دلادیا۔
    اس سیاسی کشمکش میں پاکستان دولخت ہو گیا۔یوںایک بار پھر اسلامی اورجمہوری قوتوں کے دباو پر،نیا پاکستان بنانے والوں نے1973ءکا آئین بنایا اور مقاصدِ پاکستان کی تکمیل کے لئے،نئے سرے سے پانچ سال کا عرصہ لے لیا۔لیکن چار سال بعدحسبِ سابق ، پھر مارشل لاءحکومت نے،اسلام اور جمہوریت کے نام پر،سول حکومت کو ”اسلامائزیشن“سے ریلیف دلادیااور یہ آئین معطل ہوگیا۔۔دس سال بعد یہ آئین بحال ہوا تویکے بعد دیگرے چار سول حکوتیں آئیں گئیں اور پانچ سالہ مدت میں توسیع ہوتی رہی۔1999ءمیں چوتھی بار مارشل لاءحکومت آئی اوراس آئین کودوبارہ معطل کردیاگیا۔دس سال بعد یہ آئین پھر بحال تو ہوگیا لیکن” قراردادِ مقاصد“کی تکمیل کی منزل ہنوز دور است ۔تاہم جماعت اسلامی کی قیادت نے، اسلامائزیشن کی اس پوری آئینی جنگ میں ،ہراول دستے کا کردار ادا کیا ہے۔اب اس نے اس جدوجہد کو حتمی منزل تک پہنچانے کا تہیہ کیا ہے اور مینارِ پاکستان پر،اجتماعِ عام کا انعقاد اسی جدوجہد کا نکتہ آغاز ثابت ہو گا۔ان شاءاللہ
    آج67 سال گزرنے کے بعد اور سول اور مارشل لاءحکومتوں کی متعدد باریوں کے باوجود عوام کے مسائل میں روز بروز اضافہ ہی ہوا ہے۔آخر اس کا سبب کیا ہے ! مارشل لاءحکومتیں ،ان مسائل کا ذمہ دار سول حکومتوں کو ٹھہراتی ہیں تو یہ حکومتیں اس کی ذمہ داری ان پر ڈالتی ہیں۔اب اس blame.game کی نوبت یہاںتک آن پہنچی ہے کہ سیاسی قیادتیں آپس میں گتھم گتھا ہیں۔ایک پارٹی ،دوسری کوموردِ الزام ٹھہرا رہی ہے تو وہ جواب میں، اس کی قیادت پردشنام طرازی کر رہی ہے۔۔مگر ان میں سے کوئی بھی ٹھہر کریہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کررہا کہ آخر ہم سب ناکام کیوںہیں !۔ اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ایک سے ایک بڑھ کر ماہرامور ہونے کے باوجود ناکامیاں مقدر بنی ہوئی ہیں۔
    جماعت اسلامی پاکستان کا یہ اجتماعِِ عام ،اسی سوال کا جواب لئے ہوئے ہے کہ ”اسلامی پاکستان“ ہی ”خوشحال پاکستان“کی ضمانت ہے ۔کوئی ”نیاپاکستان“ پاکستانی عوام کے مسائل کا حل نہیں دے سکتا اور نہ ہی اسلام سے ہٹ کر کوئی بھی” انقلاب “پاکستان کو ترقی سے ہمکنار کر سکتا ہے۔یہ صرف اور صرف اسلامی نظام ہی ہے جو انسانوں کے لئے تمام دنیاوی اور اخروی کامیابیوں اور کامرانیوں کی ضمانت دیتا ہے۔ اسلامی نظام کی برکات سے محروم رکھ کر،۷۶ سال سے پاکستانی عوام کے ساتھ دھوکہ ہی نہیں بلکہ ظلم کیا گیاہے۔ اس ظلم سے نجات ،پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ ہی سے مل سکتی ہے۔موجودہ غیر اسلامی فرسودہ نظام کی اسلامی نظام کی صورت میں تبدیلی ہی عوام کے مسائل کا حل ہے۔ اسلام کے بغیرمحض چہروں کی تبدیلی،ایک کی جگہ کسی دوسرے کو بٹھانے سے نہ کبھی کرپشن ختم ہوگی اور نہ ہی بد امنی ،امن میں بدلے گی۔نہ بے روزگاری کا خاتمہ ہوگا اور نہ ہی مہنگائی پر قابو پایا جا سکے گا۔
    ہمارا ایمان ہے کہ اسلام ہی مکمل ضابطہ حیات ہے اوراسلام میں پورے کے پورے (فرد اور نظام )کے داخل ہونے سے ہی مسائل کے حل کا سرا مل سکتا ہے۔ جماعت اسلامی کی دعوت ،تزکیہ ِ نفس اوراسلامی نظام کے نفاذ ہی کی دعوت ہے۔ ہم انفرادی اور اجتماعی دونوں لحاظ سے اپنے اللہ سے جڑیں گے تو وہ ہم سے راضی ہو گا۔ہم پاکستانی بحیثیتِ قوم ،عوام وخاص سب ہی دانستہ یا نادانسہ، اللہ سے اپنے باندھے ہوئے عہدکو توڑ نے اوراس سے کئے ہوئے وعدے کو بھلادینے کے مرتکب ہوئے ہیں۔”پاکستان کا مطلب کیا،لاالہ الا اللہ “کیا تھا ؟ ایک عہد اور ایک وعدہ ہی تو تھا۔ دین ِ اسلام میںتو اللہ کے بندوں سے عہدوپیمان اور وعدوں کی بھی اہمیت ہے ۔یہ ہے ہمارے مسائل کی اصل جڑ۔اس سرے کو پکڑیں گے تو ہمارے دلدّر دور ہوں گے۔
    جماعت اسلامی پاکستان کا یہ اجتماعِ عام پاکستانی قوم کو اللہ سے کئے ہوئے اسی وعدے کی یاددہانی اور اپنے اسی عہد کی پاسداری کا سبق یاد دلانے کا اہتمام اور پروگرام ہے۔جماعت اسلامی ،لاکھوں پاکستانیوں کو مینارِ پاکستان پر اکٹھا کرکے”پاکستان کا مطلب کیا ،لاالہ الا اللہ “کے نعرے کو ایک بار پھر زندہ کرنا چاہتی ہے۔جماعت اسلامی، تحریک پاکستان کو تکمیل کی طرف لے جانے کی جدوجہد کا ،ایک نئے جذبے کے ساتھ احیاءکرنا چاہتی ہے۔جماعت اسلامی ،اسلامیانِ پاکستان کو ،تحریکِ پاکستان کے اسی ولولہِ تازہ سے ہمکنار کرنا چاہتی ہے جو قیام ِپاکستان کے وقت موجزن تھاتاکہ ہمارا رب ہم سے راضی ہو جائے اور ہمارے مسائل کے حل کا کوئی راستہ نکلے۔ہمارا ملک پاکستا ن خوشحال ہواور عالمی برادری میں ہم سربلند ہوں۔اسلامی پاکستان سے محبت رکھنے والوں اورپاکستان کو خوشحال دیکھنے والوں کودعوتِ عام ہے کہ اس جدوجہد میں وہ جماعت اسلامی کاساتھ دیں۔اسی طرح ہرطرف نغمہِ توحید گونجے گا تو ”قراردادِ ِپاکستان “اور”قراردادِ مقاصد“ کی تکمیل کی منزل کا حصول ممکن ہوگا۔پھر۷۶سالہ پرانا”سٹیٹس کو“ بھی ٹوٹے گا اورپاکستان عالمِ اسلام کی رہبری کے مقام پر فائز بھی ہو سکے گا۔ ان شاءاللہ


 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس