Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

عزیز و ! انشا ءاللہ جنت میں ملیں گے

  1. عزیزو ! آپکا بھی جدا ہو نے کو جی نہیں چاہ رہا اور میرا بھی دل نہیں کر رہا مگر انشا ءاللہ جنت میں ملیں گے ،اللہ کی رحمت میں ملیں گے ، میرے سا تھ بیٹھی میری عزیز اور میرے قا ضی کی بیٹی کلثوم را نجھا اپنے آنسووں سے بھیگے چہرے کو صاف کرتے ہو ئے بولی کہ آغا جان آج ہمیں کیسے رخصت کر رہے ہیں ؟پنڈا ل میں بیٹھی بہت سی خو اتین اس وقت بھی یہ کلمات سن کر آ بدیدہ تھیں اور آج بھی عزیز م نعمان شاہ کے ترا نے میں آغاجان کے یہ الفا ظ سن کر دل بھر آتا ہے ۔لیا قت بھا ئی جان کا ننھا پو تا احمد ریان آغا جان کا ترا نہ سنا کر یہ الفاط ایسے ادا سی کے عا لم میں کہتا اور ساتھ ہی خود سے ایک جملے کا اضا فہ بھی کرتا ہے کہ ”میں جا رہا ہو ں اور جما عت اسلامی کا خیال رکھنا “ اسکی دادی جان اسماءبھابھی کہہ رہی تھیں کہ ہمیں سمجھ ہی نہیں آتی کہ اس نے کہاں سے یہ الفاظ سیکھے اور نہ جانے اس کے ننھے دل میں آغا جان کی اتنی ڈ ھیروں محبت کس نے ڈا ل دی ۔ ویسے تو کو ئی دن ایسا نہیں گزرتا جب آغا جان کی یاد نہ آئی ہو مگر جب سے محترم امیر جما عت سراج الحق بھائی نے اجتما ع کا اعلان کیا ہے وہ بے طرح یا د آتے ہیں ۔
    مجھے ۹۸ ءکا اجتماع یا د آرہا ہے جب امیر جما عت کا حلف اٹھا نے کے بعد انھوں نے کا رکنان جما عت میں ایک جوش وولولہ بھر دیا تھا اور مینار پا کستان پر اپنے پر عزم سا تھیوں کے ہمرا ہ ایک نیا جہان آباد کیا تھا ۔ہمارے شیر دل بھا ئی جان لیاقت بلوچ اس بستی کو آباد کرنے کے ذمہ دار تھے مینا ر پا کستان کو جا نے والے چو ک پر خو بصورت لکڑی کا خو بصورت قد آدم ڈ یزائن بنا ہوا تھا جس پر سورج کی ابھرتی ہو ئی کر نیں ،قرآن کریم کا ما ڈل اور پا کستا ن کی منزل اسلامی انقلاب لکھا تھا ۔
    آغاجان اس اجتماع کے لیے اپنے پورے خاندان کوجمع کئے ہوئے تھے۔ہمارا خاندان دیوبندکے اکابر علماءکاخاندان تھاجسے وہ جماعت اسلامی کی دعوت دے رہے تھے۔میںکوئٹہ سے اپنی جماعت کی بہنوںکے ساتھ اجتماع گاہ میں بنے خواتین کے گوشے وادی فاطمہ میں اپنی ڈیوٹی ادا کرنے کے لیے جارہی تھی۔وہ اپنے خطابات کے لیے بہت تیاری کے ساتھ جاتے تھے۔چھوٹے چھوٹے پرزوں پر قرآن کی آیات عربی متن کے ساتھ احادیث کلام اقبال اورمتعلقہ موضوع پرمولانامحترمؒ کے لٹریچرسے اقتباسات اُنکا ہمیشہ سے معمول تھا۔ہمیںاسی طرح سے انہوںنے اس سارے علمی ورثے سے آشناکیا۔لیکن اجتماع عام کے لیے وہ بہت فکرمندی اوربڑی دلجمعی کے ساتھ تیاری کررہے تھے کہ اتنے ہزاروںلوگ،قومی اوربین الاقوامی شحضیات اورمیڈیا ہماراپیغام صحیح طورسے اخذکرلے اورہم اس اجتماع عام سے اپنے مقاصدحاصل کر پائیں۔ 25سال پہلے کے اس اجتماع کے بعدایک جگہ لکھاہے۔”نصف صدی پہلے مشرقی پنجاب کے شہر پٹھان کوٹ سے ایک قافلہ سخت جاں چلا تھا جس میں سالار قافلہ سمیت 75افرادتھے ۔آغازسفرکے وقت حالات بہت کٹھن تھے لیکن سفر کرنے والوںنے ہرحالات میںسفر جاری رکھنے کافیصلہ کیاتھا۔سوحادثے پیش آتے رہے لیکن قافلہ چلتا رہا۔آج پچاس سال بعدان 75افرادمیںجولوگ حیات ہیںان بزرگوںکی بوڑھی آنکھیںخوشی ومسرت اورشکر واطمینان کے جذبوںکے ساتھ ان قافلوںکودیکھ رہی تھیں جو ان کے شریک سفربن گئے ہیں۔یہ سفرجاری رہے گا اور قافلے کی تعدادمیںاضافہ ہوتاچلاجائے گاکامیابی وناکامی تواللہ جل جلالہ کے ہاتھ میںہے لیکن اُس کی راہ میںچلنے والے راستے کی رکاوٹوںکی پرواہ کے لیے بغیرچلتے رہیںگے اس قافلے کے سالارنے ایک مرتبہ کہاتھا”کہ اگرکوئی میراساتھ نہیں دے گاتومیں اکیلاہی اس راہ پرچلتارہوںگاجسے میں منتخب کر چکاہوں“
    سالارقافلہ اپنے جاںنثارساتھیوںسمیت چلتارہاحتیٰ کہ موت کی کوٹھڑی میں پہنچادیاگیالیکن وہ وہاںپرایسی گہری نیندسوتاتھاکہ لوگ حیران رہ جاتے ۔اس نے شہادت حق کی ایسی تکبیریںروشن کیںکہ ایک عالم منورہوگیا۔روشنی ہی روشنی ،تاحدنظراس دعوت پرلبیک کہنے والے مستانوںکاگروہ اپناسفرجاری رکھے ہوئے ہے۔
    سواسی سفرمیں چلتے چلتے یہ قافلے 89ءاور95ءمیں مینارپاکستان،98ءمیں فیصل مسجداسلام آباد،2000ءمیں قرطبہ ،2004ءمیں اضاخیل نوشہرہ اور2008ءمیںپھر مینار پاکستان پرپڑاﺅڈالتے رہے۔عالمگیری مسجد کے میناربھی اسے دیکھتے رہے۔میرے آغاجان 12برس کی عمرمیںاِس قافلے کے راہی بنے تھے ۔30 برس کے نوجوان تھے جب پشاورشہرکے امیر بنے اورپھرقریباً45سال تک مختلف ذمہ داریاں اداکرتے ہوئے اپنے رب کے حضورحاضرہوگئے۔
    انہوںنے اپنی زندگی کے ہرلمحے کواپنے رب کی امانت سمجھ کراستعمال کیا۔عصرحاضر کے تقاضوں،بدلتے ہوئے حالات اورماحول میںاصولوںپرقائم اورحکمت عملی تبدیل کرتے رہے۔وہ ہمیں بتاتے تھے کہ ان اجتماعات کے بغیرنہ کوئی جماعت بن سکتی ہے اورنہ چل سکتی ہے۔وہ خرم جاہ مرادصاحب کی اس بات کااکثرذکرکرتے تھے۔کہ اجتماعات جان دارہوںتوجماعت میںزندگی دوڑتی رہتی ہے اور افراد عزائم اورجذبوں سے سرشاررہتے ہیں،اجتماعات موثر ہوں تو جماعت کو قوت حاصل ہوتی رہتی ہے اجتماعات نتیجہ خیزہوں توجماعت اعلی کارکردگی کےساتھ اپنی منزل کی طرف پیش رفت کرتی رہتی ہے ۔اورجب اجتماعات جاندار،موثر اورنتیجہ خیزہوںتووہ ایک جماعت کادل بن جاتے ہیںجواِس کے سارے جسم میں خون پمپ کرتاہے،ریڑھ کی ہڈی بن جاتے ہیں جس کے بل پراِسکاوجود قائم رہتاہے،دماغ بن جاتے ہیں جواس کو سوچ اورفکردیتے ہیں اورہاتھ پاﺅں بن جاتے ہیں جن کے ذریعے سے جماعت چلتی اورآگے بڑھتی ہے۔“
    آغاجان فروری 1990ءکے ترجمان القرآن کے اشارات میںلکھتے ہیں”میرایہ ذاتی مشاہدہ ہے کہ جماعت کے کام کوسمجھنے کے لیے محض لٹریچرکاپڑھناکافی نہیں ہے جب تک کوئی فرد ہمارے اجتماعات میںشرکت کرکے ہمارے کام کوعملاً کرتاہوانہ دیکھ نہ لے وہ سارا لٹریچرپڑھ کربھی اس پورے کام کوٹھیک سے نہیں سمجھ پاتاجوجماعت کے پیش نظرہے۔“اللہ کے زمین پراللہ کے نظام کوکیسے چلایاجائے اس کے لیے اس گروہ کومنظم کرنااوراس کی عملی تربیت کرنا ایسا کار نامہ ہے جومولانا مودودی رحمتہ اللہ علیہ نے سرانجام دیا۔نظم جماعت کوقائم رکھنااوراس کی مسلسل وسعت پذیری کے لیے اجتماعات کاانعقادلازمی ہے۔اجتماع کے بغیرکارکنوںکے اندریہ تصور پیداکرناکہ وہ ایک جماعت کاحصہ ہیں اورسمع وطاعت کے ایک نظام میں بندھے ہیں،ممکن نہیں ہے۔
    میں نے اپنے کارکن آغاجان کوالخدمت کے ٹرکوں کے ساتھ جاتے ہوئے بھی دیکھاہے اور8 اونچے اسیٹجوں سے لاکھوں کے مجمع کوخطاب کرتے اوروقت کے طاغوتوںکوچلنج کرتے بھی دیکھا۔وہ بتاتے تھے کہ حجة الوداع میں نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنادین سکھایااورصحابہ کرام ؓ نے جتناسیکھاوہ اس کاثبوت ہے کہ جمع ہونااوراجتماعیت ہی دراصل اللہ کومطلوب ہے۔جماعت کے اجتماعات میں بہت بڑی تعدادمیں لوگوں کی شمولیت کے باوجودایک وقار اور تمکنت ہوتی ہے۔یہ محض ہجوم اورہڑبونگ نہیں بلکہ تعلیم اور تربیت کے لیے شامیانوں سے بسائے ہوئے شہرمیں اٹھتے بیٹھتے اورسوتے جاگتے رہتے ہیں۔یہ مِنی پاکستان ہوتاہے جہاں پورے ملک کے ہرچپے سے لوگ آکربستے ہیں۔ ہر رنگ ہرلباس ،ہرقبیلے اور پاکستان کی سب زبانیں بولنے والے موجودہوتے ہیں مگرکوئی لسانی اورعلاقائی عصبیت نہیں ہوتی۔دوری نہیں بلکہ یگانگت ہوتی ہے ۔ایثا ر،قربانی ،الفت اوربھائی چارے کی فضا ہوتی ہے۔ اس اجتماع میں خواتین اور بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد موجودہوتی ہے جو اس پروگرام کو غور سے سنتی اور اپنے امیر کی ہدایات پر عمل کرتی ہے۔ خواتین کانفرنس اس اجتماع کااہم عنوان ہواکرتا ہے۔ خواتین کاکردار اور خاندان کا استحکام ان کانفرنسوں کے ذریعے اُجاگر کیاجاتاہے۔ اس دفعہ بھی ہماری کانفرنس 22 نومبر2014ءبروز ہفتہ ۲ بجے مینار پاکستان پر منعقد ہوگی جس کا عنوان ہے ”بدلتی دنیا میں عورت کاکردار“ آغا جان ہمیشہ ہماری بہت حوصلہ افزائی کرتے۔ ہمارے ناقص کاموں کی ایسی تحسین کرتے کہ ہم بہت اعتماد کے ساتھ اپنے کاموں میں لگ جاتیں۔ آج جب اجتماع عام کے دن قریب آ رہے ہیں تو مجھے اپنے بہت ہی محبوب آغا جان بہت یاد آرہے ہیںکیونکہ محبت کرنے والا باپ نہ رہے تو زندگی بڑی خاموش ہوجاتی ہے۔ یہ بے لوث رشتہ بڑابھرپور ہے۔ سرپر سایہ بھی اور منزل کانشان بھی۔ اپنے ہاتھ خالی سے لگنے لگے ہیں کیونکہ جس انگلی کو پکڑ کر چلنا سیکھاتھا۔ جن قدموں کے نشان پر بے خطر چلی تھی کہ یہ ہمیشہ منزل تک ہی لے جائیں گے اور جن کاندھوں کو ہمیشہ سے اپنے سامنے یوں پھیلے ہوئے دیکھاتھا کہ اُن سے گزر کر کوئی مشکل مجھ تک پہنچی ہی نہ تھی ۔ وہ اچانک یوں چلے جائیں گے کبھی سوچاہی نہ تھامگر ایسے ہوگیا ہے۔ اناﺅں ،نفرتوں ،خودغرضیوں کے ٹھیرے پانی میں محبت گھولنے والے میرے آغا جان اللہ کی رحمتوں میں آسودہ رہیں ۔ ان کی متحرک زند گی کے ساتھ جب ہم کبھی اس رفتا ر سے گا مزن نہ ہو پا تے تو اکثر ہمیں یہ شعر سناتے :
    عاقبت منزل ما وادی ¿خاموشان است
    حالیہ غلغلہ درگنبد افلاک خیز!
    آخر کار تو منزل خاموش وادی یعنی قبر ستان ہے مگر آج تو آو ¿ نہ کہ ایک ایساحشر بر پا کر دیں کہ آسمان بھی گونج جا ئیں ۔مگر انہوںنے ہمیں اپنی انقلابی جماعت جسے میں اپنا جماعتی خاندان بھی کہتی ہوں کا کارکن بنایاہے جسے ہم اُنہی کی طرح بلند آہنگ کے ساتھ آگے بڑھانے کی لگن میں پھر جمع ہو رہے ہیں۔ مینار پاکستان پر آغا جان کی یہ وصیت یاد آ رہی ہے جسے اُن کے بیٹے سراج الحق پورا کرنے کے لیے اپنی پوری توانائیوں کے ساتھ پورا کرنے کاعزم کیے ہوئے ہیں۔
    جلال آتش و برق و سحاب پیداکر
    اجل بھی کانپ اُٹھے وہ شباب پیدا کر
    تو انقلاب کی آمد کاانتظار نہ کر
    جو ہوسکے تو ابھی انقلاب پیداکر


 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس