Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اسلامی پاکستان، خوشحال پاکستان

  1. عالم اسلام میں تمام اسلامی تحریکوں کا منبع تین شخصیات کی فکری وعلمی اور تنظیمی کاوشوں کو قرار دیا جاسکتا ہے۔ ترکی میں بدیع الزمان سعیدنورسیؒ (1877-1960ئ)  عالم عرب میں سیدحسن البناءشہیدؒ (1906-1949ئ) اور برصغیر میں سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ (1903-1979ئ) کو یہ اعزاز حاصل ہے۔
    برصغیرکی تحریک اسلامی مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ کی تجویز پر اگست 1941ءمیں قائم ہوئی۔ اس تحریک نے فکری محاذ پر بھی کام کیا اور سیاسی محاذ پر بھی۔ ساتھ ہی زندگی کے تمام شعبوں میں اپنی تنظیم کو منظم کیا۔ فلاحی، تعلیمی اور طبی میدانوں میں بھی محروم طبقات تک اپنی خدمات پہنچائیں نیز ملک میں جب بھی ارضی وسماوی آفات آئیںتو متاثرین کی بڑھ چڑھ کر مدد کی۔ قیام پاکستان کے بعد تقسیم ہندکی وجہ سے جماعت دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ جماعت اسلامی ہند کے نام سے انڈیا میں جماعت نے کام شروع کیاجبکہ سید مودودیؒ کی قیادت میں پاکستان میں جماعت اسلامی پاکستان نے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ کا سب سے بڑا کارنامہ پاکستان کے دستور میں قرارداد مقاصد کو شامل کرانا اور دستور کو اسلامی، جمہوری، پارلیمانی اور وفاقی خصویات سے مزین کراناہے۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد مطالبہ اسلامی دستور کی مہم کو جماعت اسلامی کے کارکنان نے اتنے منظم انداز میں چلایا کہ ہرگلی اور محلے میں اس کی صدا گونجی۔
    مولانا مودودیؒ نے فکری میدان میں تفسیرقرآن (تفہیم القرآن) سے لے کر دورِ جدید کے تمام مسائل ومعاملات تک ہرموضوع کو قرآن وسنت کی روشنی میں حل کرنے کے لیے اپنی تحقیق وتالیف کے ذریعے کتب کا ایک بہت قیمتی ذخیرہ اپنے پیچھے چھوڑاہے۔ اس طویل جدوجہد کے دوران مولانا مودودیؒ اور جماعت کی قیادت کو بارہاجیل جانا پڑا۔ مولانا مودودی کو تو 1953ءمیں سزائے موت بھی سنائی گئی تھی اور جماعت اسلامی کے کل پاکستان اجتماع عام لاہور(1963ئ) میں ان پر گولیاں بھی چلیں، مگر وہ نہ سزائے موت سے گھبرائے، نہ گولیوں کے سامنے سرنگوں ہوئے ۔
    مولانا مودودیؒ کو اللہ نے علم کے ساتھ حلم اور تدبر کے ساتھ جرا ¿ت واستقامت بھی عطا فرمائی تھی۔ انھوں نے تمام لادین طبقات اور ظالم حکمرانوں کو ہر موقع پر للکارا، مگر علما ئے دین نے جب بھی ان کے خلاف محاذ قائم کیے تو مرحوم نے خاموشی اختیار کی۔ وہ فرماتے تھے کہ میں اگر علمائے کرام سے الجھا تو شیطان بہت خوشی منائے گا، نیز مجھے جو اہم کام کرنے ہیں، وہ تعطل کا شکار ہوجائیں گے۔ وہ علما کے اشتعال کے جواب میں بھی ان کے لیے ادب واحترام ہی کے الفاظ استعمال کرتے تھے۔ مولانا حقیقت میں ایک مربی تھے اور مربی کا حوصلہ بڑا، عمل بے ریا اورارادے عظیم ہوتے ہیں۔ حکمرانوں کی شرارتوں پر وہ نہ تو کبھی اشتعال میں آئے اور نہ ہی کسی ظالم کے سامنے جھکے۔ وہ صحیح معنوں میں ایک مردِ مومن تھے۔
    ہرلحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن
    گفتار میں کردار میں اللہ کی برہان!
    قہاری وغفّاری و قدوسی وجبروت
    یہ چار عَناصِر ہوں تو بنتا ہے مسلمان!
    مولانا مودودی کے بعد جماعت اسلامی پاکستان کی قیادت کا باریکے بعددیگرے میاں طفیل محمدؒ مرحوم(از1972ءتا1987ئ)، قاضی حسین احمدؒ مرحوم(1987ءتا 2009ئ) ، سیّدمنورحسن حفظہ اللہ(2009ءتا2014) اور موجودہ امیر جناب سراج الحق سلمہ اللہ کے کندھوں پر ڈالا گیا۔ اللہ تعالیٰ ان سب قائدین کی کاوشوں کو قبول فرمائے اور موجودہ امیر جماعت کو ہمت واستقامت کے ساتھ قیادت کا فریضہ ادا کرنے کی سعادت بخشے۔ سراج الحق صاحب نے حلفِ امارت اٹھانے کے بعد مشاورت سے طے کیا کہ اس سال جماعت اسلامی کا کل پاکستان اجتماعِ عام منعقد کیا جائے۔ 2008ءکے بعد یہ پہلا اجتماع عام ہورہا ہے۔ اس موقع پر امیر جماعت کا یہ نعرہ ”اسلامی پاکستان، خوشحال پاکستان“ زبان زدِ عام ہے۔ 21تا23نومبر2014ءمینارِ پاکستان پر یہ اجتماع عام ایک نئے اور پرعزم سفر کا نقطہ ¿ آغاز ثابت ہوگا۔ ان شاءاللہ! جماعت اسلامی اور دیگر اسلامی تحریکیں موروثی نہیں ہیں۔ یہاں قیادت کا معیار خاندانی تعلق نہیں بلکہ تعلق باللہ اور اپنے نظریے اور مقصد کے ساتھ وابستگی میں فوقیت ہے۔ جماعت اسلامی کے پانچوں امرا میں سے کسی دو کا بھی آپس میں خاندانی رشتے داری کا تعلق نہیں۔ سب حبل اللہ یعنی اللہ کی رسی میں ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ موروثی جماعتیں تحریکیں نہیں کہلاسکتیں۔
    جماعت اسلامی پاکستان کے علاوہ ہندستان،بنگلہ دیش، سری لنکا، مقبوضہ کشمیراور آزاد کشمیر میں بھی اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے اپنے اپنے ملکی وجغرافیائی اور سیاسی حالات کے مطابق سرگرم عمل ہے۔ جماعت اسلامی کے وابستگان نے دنیا کے ہر ملک میں اپنے دعوتی حلقے قائم کررکھے ہیں، جو اپنے اپنے مرکز سے مربوط ہیں۔ بنگلہ دیش میں اس وقت جماعت اسلامی شدید مشکلات اور آزمایشوں سے گزر رہی ہے۔ جماعت کے ایک راہنما عبدالقادر مُلّاکو نہایت سفاکی کے ساتھ جھوٹے الزامات کے تحت پھانسی لگایا جاچکا ہے، جبکہ باقی قائدین بھی جیلوں میں بند ہیں۔ کئی ایک کو سزائے موت سنائی گئی ہے اور پروفیسر غلام اعظم کو نوے سال قید کی سزادی گئی تھی۔ 23اکتوبر کو جیل ہی میں وفات پاگئے یعنی راہِ حق میں شہید ہوگئے۔ ان سے قبل مولانا اے کے ایم یوسف (نائب امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش) بھی جیل ہی میں9فروری 2014ءکو شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش ان ساری آزمایشوں کے باوجود اللہ کے فضل وکرم سے میدان عمل میں ڈٹی ہوئی ہے اور بے پناہ قربانیاں دے رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے ان مخلص بندوں کی مدد فرمائے۔
    مقبوضہ کشمیر میں بھی جماعت اسلامی بھارتی جارحیت کے سامنے جذبہ ¿ جہاد اور شوق شہادت کے ساتھ سینہ سپر ہے۔ ہزاروں شہدا کی قربانیاں پیش کی جاچکی ہیں اور ہزاروں لوگ جیلوں میں بند ہیں۔ جہاد کے محاذ پر سیدعلی گیلانی اپنی پیرانہ سالی اور بیماریوں کے باوجود جس پامردی سے ڈٹے ہوئے ہیں وہ بھی تاریخی کارنامہ ہے۔ اللہ انھیں سلامت رکھے۔ وہ پاکستانی حکمرانوں کی بے وفائیوں کے باوجود پاکستان کے سچے اور مخلص وفادار ہیں۔
    مذکورہ بالا تینوں عالمی تحریکوں سے متاثر ہو کر دیگر ممالک میں بھی اسلامی تحریکیں مختلف ناموں سے وجود میں آئیں۔ انڈونیشیا، ملائیشیا، افغانستان اور بہت سے دیگر خطوں میں سیدمودودیؒ کی فکر سے متاثر ہونے والے اہلِ ایمان منظم انداز میں کام کررہے ہیں۔ ہرصاحبِ نظر جو ان تحریکوں اور ان کے بانیان کی تاریخ وسوانح سے واقف ہے وہ یہ یقین کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ان کے دنیا سے رخصت ہوجانے کے باوجود ان کا فیض آج بھی جاری ہے۔ ان کی پھیلائی ہوئی روشنی باطل کے طوفانوں سے بجھ نہیں سکتی۔ ظلمتِ شب میں اگر کوئی طالب منزل روشنی کا طلب گار ہو تو اس فکرِ بلند سے فیض یاب ہوسکتا ہے، جو ان مجدّدین نے قرآن وسنت سے اخذ کیا اور اسے اپنے ابنائے وطن کے لےے بطور امانت چھوڑ گئے۔ بدیع الزمان سعید نورسیؒ، حسن البنا شہیدؒ اور سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ زبانِ حال سے آج بھی بقول اقبالؒ پیغام دے رہے ہیں :
    صفتِ برق چمکتا ہے مرا فکرِ بلند
    کہ بھٹکتے نہ پھریں ظلمتِ شب میں راہی!
    ان ساری تحریکوں کا واضح اور دوٹوک موقف ہے کہ اللہ کے بندوں پر اللہ کا دیا ہوا نظام نافذ کیا جائے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے جدوجہد پرامن اور برسرزمین ہونی چاہیے ۔ خفیہ کارروائیوں اور تشدد سے کسی معاشرے میں تبدیلی لانا ان تحریکوں کے نزدیک درست نہیں ہے۔ البتہ جہاں غیرمسلم قوتوں نے مسلمان علاقوں اور آبادیوں کو اپنے استبدادی پنجے میں جکڑ رکھا ہے وہاں مسلّح جدوجہد شروع کرنے کا فیصلہ ہوجائے تو اس کی مدد کرنا دینی لحاظ سے فرض ہے اور اس کی مخالفت کرنا کفر کی قوتوں کی تائید کے زمرے میں آتا ہے۔
     

     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس