Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

دور جدید کی عظیم اسلامی تحریک

  1. جماعت اسلامی وطن عزیز کی واحد دینی و سیاسی جماعت ہے ، جس میں ہر سطح پر مشاورت اور ارکان و کارکنان کی رائے کا احترام کیا جاتاہے ۔ اسلام کی روح ہی مشاورت اور باہمی اعتماد و اخوت کے بنیادی اصولوں پر مبنی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو براہ راست اللہ تعالیٰ سے ہدایات بذریعہ وحی ملا کرتی تھیں ۔ اس لحاظ سے آپ انسانی مشوروں سے بے نیاز ہو سکتے تھے مگر اللہ نے اپنے محبوب نبی کو بھی حکم دیا کہ وہ اہم معاملا ت میں صحابہ کرام ؓ سے مشورہ کیا کریں ۔ یہ دراصل امت کی رہنمائی اور اس کے لیے اسوہ حسنہ کا اہتمام فرمانے کی ایک ربانی ہدایت اور نبوی عمل تھا۔
    جماعت اسلامی نے ہر دور میں اپنا دعوتی و اصلاحی کام جاری رکھا اور علامہ اقبال ؒ کے بقول ” بہار ہو کہ خزاں لاالہ الا اللہ “ کا نغمہ ملک کی فضاﺅں میں گونجتا رہاہے ۔ آج بھی ملک پر ایک بدترین خزاں مسلط اور ایک شیطانی آسیب کا سایہ محیط ہے ۔ مشرق و مغرب ہر جانب سے دشمن کارروائیاں کر رہاہے یہ حالات دوں ہمتی اور بزدلی نہیں ، جرات و بہادری اور عالی ہمتی کا تقاضا کرتے ہیں ۔ انہی حالات میں جماعت اسلامی کی قیادت نے مجلس عاملہ اور مجلس شوریٰ کے مشورے سے کل پاکستان اجتماع عام منعقد کرنے کا فیصلہ کیاہے جو 21 تا 23 نومبر انشاءاللہ مینار پاکستان پر ہوگا۔ اس کا سلوگن اور بنیادی فکر ” ان الحکم الا للہ “ ’ اسلامی پاکستان ، خوشحال پاکستان ‘ ہے ۔
    جماعت اسلامی کی تاسیس ۶۲ اگست ۱۴۹۱ءکو عمل میں آئی تھی ۔یہ قافلہ جانب منزل چلا تو کل ۵۷ افراد تھے ۔ یہی جماعت کے تاسیسی ارکان تھے ۔ اس ملک میں قرار داد مقاصد منظور کرانے کے لیے جماعت اسلامی کی دستوری مہم ، مطالبہ تنفیذ قرآن و سنت اور اس کے بالاتر قانون ہونے کی جدوجہد اور تبدیلی قیادت کے لیے دی جانے والی قربانیوں کی ایک طویل تاریخ ہے ۔ جماعت اسلامی نے روز اول سے اپنا راستہ شورائی نظام کے ذریعے متعین کیا ۔ اس کے دستور میں کوئی خفیہ کارروائی ، غیر قانونی عمل اور تخریب کاری کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ۔ شورائی جماعتوں میں قیادت ارکان ہی کے ذریعے منتخب ہوتی اور انہی کے سامنے جوابدہ قرار پاتی ہے ۔ قیادت موروثی نہیں ہوتی اس کی بنیاد اہلیت و صلاحیت ہوتی ہے۔ اہم فیصلے مشاورت کے بغیر نہیں کیے جاسکتے ۔ مشاورت کے مختلف ادارے وجود میں لائے جاتے ہیں ۔ دستوران کی مکمل درجہ بندی اور حدود متعین کرتا ہے ۔ ارکان جماعت نے اس سال اپریل 2014 ءمیں محترم سراج الحق صاحب کو جماعت اسلامی کے پانچویں امیر کے طور پر منتخب کیا ۔ نئے امیر جماعت نے مشاورت سے طے کیا کہ کل پاکستان عام منعقد کیا جائے جو بوجوہ 2008 ءکے بعد سے اب تک منعقد نہ ہوسکا تھا ۔ اس عظیم الشان اجتماع عام میں ملک سے لاکھوں مرد و خواتین ، بچے بوڑھے اور نوجوان شرکت کریں گے ۔ ان کے علاوہ دنیا بھر سے اسلامی تحریکوں کے سینکڑوں قائدین بھی اجتماع عام کو رونق بخشیں گے ۔
    اس وقت وطن عزیز نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے ۔ ملک کا متفقہ دستور عملاً معطل اور بازیچہ اطفال بنا کر رکھ دیا گیاہے ۔ تمام ادارے تباہ ہیں ، جمہوریت نام کی حد تک موجود تو ہے مگر اس کی روح کہیں نظر نہیں آتی ۔ ملک کا بنیادی تشخص ،اسلام، پارلیمانی جمہوریت اور وفاق سب کچھ ختم ہو کر رہ گیاہے ۔ سیاسی جماعتیں افراتفری اور افتراق کاشکار ہیں ۔ دینی جماعتوں کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے مگر یہاں بھی گونا گوں مسائل درپیش ہیں ۔ ان حالات میں وقت کا تقاضا ہے کہ جماعت اسلامی جیسی اسلامی تحریک جس کی سیاسی و دینی جدوجہد کے دوست دشمن سبھی معترف ہیں اپنا کردار ادا کرے ۔ ملک کی سا لمیت سے لے کر اس کے متفقہ دستورتک ، بنیادی تشخص سے لے کر تہذیبی وثقافتی اقدار تک، تعلیم سے لے کر عدلیہ تک ہر شعبہ کسمپرسی کے عالم میں ہے اور فوج کا تو حال سبھی سے پتلا ہے ۔ اپنے ہی ملک میں اس کے ہزاروں جوان اور افسران موت کے گھاٹ اتر چکے ہیں اور یہ سلسلہ بدقسمتی سے روز افزوں ہے۔مٹھی بھر اشرافیہ نے ملک کے تمام وسائل پر غاصبانہ قبضہ جما رکھاہے ۔ عام آدمی پس گیاہے ، مہنگائی اور بے روزگاری نے ہر خاندان کو مصیبت میں ڈال دیاہے ۔ نہ بجلی ہے نہ گیس ۔ رشوت ستانی ، کرپشن اور لاقانونیت کا دور دورہ ہے ۔ بیماروں کے لیے صحت اور طلبہ کے لیے تعلیم کی سہولت مفقود ہے۔ ایسے میں اسلامی پاکستان ہی خوشحال پاکستان ثابت ہوسکتاہے ۔ امیر جماعت اس اجتماع کے موقع پر تحریک پاکستان کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے لائحہ عمل پیش کریں گے ۔
    یہ ملکی حالات شدت سے تقاضا کرتے تھے کہ کوئی انقلابی فیصلے کیے جائیں اور محض یہ فیصلے ہی نہ ہوں ، ان پر عمل درآمد کے لیے جدوجہد بھی کی جائے ۔ اس کے لیے جماعت نے طے کیا کہ فوری طور پر اجتماع عام منعقد کیا جائے ۔ اجتماع کا انعقاد بحالات موجودہ مشکل اور کٹھن کام تھا مگر اس کے بغیر چارہ کار بھی نہ تھا ۔ اس اجتماع کی تاریخیں بھی بہت سوچ بچار کے بعد طے ہوئیںجو21 تا23 نومبر ہیں اور مقام کا تعین بھی اجلاس میں کیا گیا ۔ جماعت اسلامی پاکستان کے اس سے قبل ملکی سطح پر جو اجتماعات عام ہوتے رہے ہیں، اللہ کے فضل سے کامیاب رہے، ان کی تفصیل درج ذیل ہے :۔
    متحدہ پاکستان میں :
    ۱۔ 6تا8 مئی 1949ء اجتماع عام بمقام لاہور
    ۲۔ 10تا 13 نومبر 1951 = کراچی
    ۳ 20تا 22 نومبر 1955 = =
    ۴۔ 25 تا27اکتوبر1963ء = لاہور
    مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد
    ۵ ۔ 8 تا10 نومبر1989 اجتماع عام لاہور
    ۶۔ 8 تا10 نومبر1995 = =
    ۷۔ 23تا25 اکتوبر 1998ء اجتماع عام اسلام آباد
    ۸۔ 27تا29 اکتوبر2000ء اجتماع عام قرطبہ اسلام آباد
    ۹۔ یکم تا3 اکتوبر2004ء: اجتماع عام اضا خیل نوشہرہ
    ۱۰۔ 24تا26 اکتوبر2008ء: اجتماع عام مینار پاکستان لاہور
    امیر جماعت نے تمام پاکستانی بھائی بہنوں کو مذہب و نسل سے بالاتر ہو کر دعوت دی ہے ۔ وہ آپ سب کا مینار پاکستان پر استقبال کرنا چاہتے ہیں ۔ امید ہے آپ ان کی دعوت کا مثبت جواب دیں گے ۔ اللہ آپ کو ہمیشہ خوش و خرم رکھے ۔ مینار پاکستان کے پاس ہی مزار اقبال سے یہ صدا سنائی دے رہی ہے ۔
    اسی دریا سے اٹھتی ہے وہ موجِ تند جولاں بھی
    نہنگوں کے نشیمن جس سے ہوتے ہیں تہ و بالا !


 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس