Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ اورجماعت اسلامی !

  1. 26اگست 1941ءکو لاہور میں پورے برصغیر پاک و ہند سے کچھ لوگ جو پہلے ہی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی تحریروں سے متاثر تھے اور ماہنامہ ترجما ن القرآن کے ذریعے ان کے افکار و نظریات اور ان کی ذات گرامی سے بخوبی واقفیت بھی رکھتے تھے ان کی دعوت پر جمع ہوئے اور”جماعت اسلامی“ کے نام سے ایک مختصر سی نئی جماعت وجود میں لائے۔ اس جماعت کی پشت پر وہ فکری رہنمائی تھی جو کئی سال سے مولانا مودودیؒ انفرادی طور پر فراہم کر رہے تھے اور جس میں خود علامہ اقبال مرحوم کے مشورے بھی شامل تھے۔ مولانا مودودیؒ اور علامہ اقبال ؒ کے درمیان گہرا تعلق اس امر سے واضح ہوجاتا ہے کہ مشرقی پنجاب میں پٹھانکوٹ کے نزدیک ”دارالاسلام “ کے نام سے جماعت اسلامی کا جوپہلا مرکز قائم ہوا ، اس کے لیے زمین علامہ اقبالؒ کے توسط سے فراہم ہوئی تھی۔ یہ زمین علامہ اقبال ؒ کو پنجاب کے ایک زمیندار چوہدری نیاز علی صاحب نے اس مقصدکے لیے پیش کی تھی کہ اس پر دین کا کام کرنے کے لیے کوئی مرکز بنائیں ۔ علامہ اقبال ؒ نے اس کے لیے مولانا مودودیؒکا انتخاب کیا اور ان کو دعوت دی کہ وہ اس پر ایسا مرکز بنائیں ۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جس کو نہ تو کوئی جھٹلا سکتا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی انکار کرسکتا ہے ۔ یہ تاریخی حقیقت ان تمام اعتراضات اور الزامات کی بھی تردید کردیتی ہے جو پاکستان کی مخالفت کے سلسلے میں مولانا مودودیؒ پر لگائے جاتے ہیں۔ مفکر پاکستان حضرت علامہ اقبال ؒ نے خود پورے برصغیرہند و پاک میں مولانا مودودیؒ کو اس قابل سمجھا کہ وہ ایک ایسی بستی اور مرکز کی بنیاد رکھیں جہاں سے برصغیر ہند و پاک کے مسلمانوں کی ٹھیک اور درست رہنمائی ہوسکے۔ وہ زمین تو اب ہندوستان میں متروکہ املاک میں شامل ہے لیکن وہ لوگ جنھوں نے یہ زمین دی تھی وہ اب بھی جماعت اسلامی کے زیر انتظام ادارہ دارالاسلام جوہر آباد سے وابستہ ہیں اور جماعت کا ان کے ساتھ رابطہ اور تعلق بھی قائم ہے ۔
    جماعت اسلامی کی تنظیم کیوں قائم کی گئی ۔ اس کی کیا ضرورت تھی جبکہ اس وقت مسلم لیگ اور مسلمانوں کی دیگر جماعتیں پہلے ہی سے موجود تھیں ۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کوئی ایسے آدمی نہیں تھے کہ محض ایک اضافی جماعت بنانے کے لیے یا اپنی لیڈر شپ چمکانے کے لیے ان کو کسی نئی جماعت کی ضرورت پڑتی ۔ انھوں نے ترجمان القرآن میں تفصیل کے ساتھ وہ وجوہات اور اسباب بیان کردےے تھے جس کے نتیجے میں وہ اس فیصلے پر پہنچے کہ ایک ایسی نئی جماعت کی ضرورت ہے جو ان مقاصد کی حامل اور اس طریق کار پر کاربند ہو جیسی اللہ کے حکم پر حضور نبی کریم انے صحابہ کرامؓ کی معیت میں بنائی تھی، جس کے نتیجے میں ایک انقلاب برپا ہوا تھا اور اس کی متابعت میں آج کوئی ایسی جماعت موجود نہیں ہے ۔ حدیث میں ہے کہ اس امت کے آخر میں بھی اصلاح اسی طریقے پر ہوگی جس طریقے سے اس امت کی اصلاح ابتداءمیں ہوئی تھی ۔ حضورنبی کریم انے جن مقاصد کے لیے اور جس طریق کار کی بنیاد پر جماعت بنائی تھی آج انھی مقاصد کے لیے اور اسی طریق کار کی بنیاد پرجو جماعت بنے گی تو ہی امت کی اصلاح ہوسکے گی ۔ اللہ اور اس کے رسول انے امت کی جو ذمے داری بیان کی ہے اس کے لیے امت کو دوبارہ مجتمع اور متحد کرنا ناگزیر ہے اور اس کے لیے ایک منظم جماعت کی ضرورت ہے جس کی وضاحت مولانا مودودیؒ نے قرآن و سنت کی روشنی میں تاسیس جماعت سے پہلے کردی تھی ۔ یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ مولانا مودودیؒنے اپنی طرف سے کوئی نئی فقہ نہیں دی ہے بلکہ قرآن و سنت کی رہنمائی میں امت مسلمہ کو ایک مقصد کی طرف متوجہ کیا ہے ۔ تاہم بعض لوگوں نے انھیں بھی علامہ اقبال کی طرح موضوع تہمت بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ۔
    علامہ اقبال مرحوم نے اپنی ایک فارسی نظم میں بحضوررحمت اللعالمین ا فریاد کی ہے کہ لوگ مجھ پر طرح طرح کے الزامات لگا رہے ہیں ۔ کوئی مجھے انگریزوں کا ایجنٹ کہتا ہے اور کوئی یہ کہتا ہے کہ میں مسلمانوں کو اسلام سے دور کرنا چاہتا ہوں۔ وہ حضورنبی کریم اکے حضورفریاد کرتے ہیں:
    گر دلم آئینہ بے جوہر است
    ور بہ حرفم غیر قرآں مضمر است
    روز محشر خوار و رسوا کن مرا
    بے نصیب از بوسہ پاکن مرا۔
    ”میری زبان ‘ میرے کلام اور میری فکر میں اگر قرآن کے علاہ کوئی چیز چھپی ہوئی ہے تو مجھے روز محشر خوار و رسوا کردے اور اپنے بوسہ پاسے بے نصیب کردے ۔“
    علامہ اقبالؒ اپنی اس طویل نظم میں حضور اسے یہ فریاد بھی کرتے ہیں کہ انھوں نے تو مسلمانوں کو حق پیش کیا ہے اور تیری طرف بلایا ہے اور تیرے ہی سامنے ان کے جملہ امراض کو پیش کرکے اس بیمار اور مریض کو تیرے حضورلا کر اس لیے پیش کیا ہے کہ آ پ اس کاعلاج کردیں ۔ پھر علامہ اقبال ؒ حضوراسے اپنے لیے دعا کی التجا کرتے ہیں:
    عرض کن پیش خدائے عزو جل
    عشق من گرد د ہم آغوش عمل
    ”خدائے عزو جل کے حضورمیرے حق میں دعا کیجیے کہ اللہ، اس کے رسول اور اس کے دین کے ساتھ میرا جو عشق اور محبت ہے تو وہ میرا عمل بھی اس کے مطابق کردے۔“
    علامہ اقبال ؒ کو حضورنبی کریم اکے ساتھ عشق تھا۔ قرآن و سنت کی تعلیمات کو وہ جانتے تھے ۔ انھیں معلوم تھا کہ امت کی اصلاح قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق ہی ہوسکتی ہے ۔ امت کی اصلاح کے اس کام کے لیے جن افراد اور مردان کارکی ضرورت تھی وہ ان کے پاس نہیں تھے ۔ مولانا مودودیؒکے پاس بھی ایسے مردان کار نہیں تھے ۔ فرد واحد کے لیے یہ بہت ہی بڑا مشکل کام تھا ۔ تن تنہا بالکل ابتداءسے ایک کام کا آغاز کرنا جو ئے شیرلانے کے مترادف تھا ۔ کام کی ابتداءکے لیے جہاں علم و فراست کے وافرسرمائے کی ضرورت ہوتی ہے وہاں بہت بڑا خوف بھی دامن گیر رہتا ہے ۔ اس کے لیے دوربینی اور بلند ہمتی کے ساتھ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے پہلی اینٹ رکھی ۔
    پورے برصغیر ہندو پاک سے پچھترآدمی اکٹھے ہوئے ۔ ان میں سے چندایک جید علماءتھے جو اپنے علم اور تقویٰ میں ممتاز تھے ، چند ایک اچھے اور مخلص لوگ تھے اور کچھ ان میں عام لوگ تھے جو مولانا مودودیؒکی تحریروں سے متاثر ہو کر آئے تھے۔ ان تھوڑے سے لوگوں نے جو غریب تھے انتہائی قلیل سرمائے سے ایک نئی جماعت کی بنیاد رکھی ۔ انھوں نے اس جماعت کا کوئی عقیدہ اور کوئی مقصد اپنی طرف سے پیش نہیں کیا بلکہ کتاب و سنت کی روشنی میں جماعت کے عقیدے اور مقصد کا تعین کیا جو جماعت اسلامی کے دستور میں پوری تشریح کے ساتھ بیان کردیا گیا ہے کہ ہمارا عقیدہ لاالہ الااللہ محمدرسول اللہ ہوگا۔ یہ وہ عقیدہ ہے جو اللہ رب العالمین نے سکھایا ہے اور حضورنبی کریم انے امت کے ہرفرد کو اس کی تعلیم دی ہے ۔ مولانا مودودیؒ نے اپنے عقیدے کے بارے میں وہی بتایا جس پر تمام امت کو مجتمع اور متحد کیا جاسکتا ہے ۔ کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا کہ امت کا بنیادی عقیدہ صرف لاالہ الااللہ محمدرسول اللہ ہے جس پر پوری امت کو اکٹھا کیا جاسکتا ہے ۔ اس کی تشریح وہی معتبر اور درست ہے جو قرآن اور سنت میں کردی گئی ہے ۔ عقیدے کی من مانی تشریحات ہی کے نتیجے میں اختلافات رونما ہوئے ہیں ۔
    کتاب و سنت کے مطابق عقیدے کی تفصیلی تشریح کے ساتھ ساتھ مولانا مودودیؒنے یہ بھی بتایا کہ جماعت اسلامی کا مقصد حقیقی کیا ہے؟انہوں نے واضح کیا کہ ہمارا مقصد صر ف اللہ رب العالمین کی رضا کا حصول ہے ۔ ہماری ساری جدوجہد اس لیے ہے کہ اللہ ہم سے راضی ہوجائے اور آخرت میں ہمیں فلاح اور کامیابی نصیب ہو ۔ اس مقصد حقیقی کو قرآن حکیم میں یوں بیان کیا گیا ہے ۔
    (ترجمہ) یقینا حضورنبی کریم ا کی مبارک زندگی میں بہترین نمونہ ہے ان لوگوں کے لیے جو اللہ کی رضا اور آخرت کی فلاح چاہتے ہیں اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے ہیں۔ (الاحزاب)
    مقصد حقیقی جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے خود بیان فرمایا ہے وہ اللہ کی رضا اور آخرت کی فلاح کا حصول ہے ۔ اس کے لیے راستہ کون سا ہے ؟ اسے لقدکان لکم فی رسول اللہ اسوة ً حسنہ کے الفاظ ربانی میں واضح کر دیاگیا ہے کہ تمام مسلمانوں کے لیے رسول اللہ ا کی زندگی بہترین نمونہ ہے ۔ اسی کی پیروی میں اللہ کی رضا بھی ہے اور آخرت کی کامیابی بھی۔
    اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کی فلاح کے حصول کے لیے وہی طریق کار اپنا نا ہوگا جو حضورنبی کریم ا نے اپنایا تھا۔ اس طریق کار کی نشاندہی جماعت اسلامی نے واضح طور پر کردی ہے کہ دعوت صرف دعوت الی اللہ ہوگی ۔ لوگوں کو اللہ کی طرف بلائیں گے ۔ مولانا مودودی،ؒجماعت اسلامی یا کسی بھی حزب ‘ امیرجماعت یا کسی بھی شخصیت کی طرف نہیں بلائیں گے ۔ قرآن حکیم نے بھی اسی طریق کار کو درست قرار دیتے ہوئے اسے دوٹوک طریقے سے بیان کردیا ہے۔
    (ترجمہ) اے نبی ا ! آپ کہہ دیجیے کہ میرا راستہ تو یہ ہے کہ میں اللہ کی طرف دعوت دیتا ہوں ۔ میں اور میری پیروی کرنے والے پوری روشنی میں اپنا راستہ دیکھ رہے ہیں۔(یوسف)
    ہم نے بنیادی طور پر دعوت الی اللہ کے لیے یہ جماعت بنائی ہے، جماعت بذات خود مقصود نہیں ہے بلکہ دعوت الی اللہ کے اصل مقصود کے لیے ایک ذریعہ ہے ۔ علمائے کرام کے درمیان اس موضوع پر بڑی بحث و تمحیص ہوئی ہے کہ دعوت الی اللہ کے لیے کوئی جماعت بنانی درست ہے یا امت کا ہر فرد اس کام کو انفرادی طور پر انجام دے ۔آخرکار سیدمودودیؒ اس نتیجے پر پہنچے کہ کسی گروہ کو منظم کیے بغیر دعوت کا یہ کام موثر نہیں ہوسکے گا ۔ اس کے لیے بہرحال ایک گروہ کومنظم اور تیار کرنا ناگزیر ہے لیکن ساتھ یہ بھی واضح طور پر کہا گیا کہ دعوت الی اللہ کے کام کے لیے تشکیل پانے والی کوئی بھی جماعت یہ دعویٰ نہیں کرے گی کہ اس میں شامل نہ ہونے والے لوگ غلط راستے پر ہیں ۔ چونکہ ایک منظم جماعت کی شکل میں دعوت الی اللہ کا کام کرنا حضورنبی کریم ا کا طریقہ ہے چنانچہ اسی طریقے سے امت کی اصلاح کے لیے ہم جماعت کی صورت میں اکٹھے ہوئے ہیں ۔جن کو ہم سے اتفاق ہو وہ ہمارے ساتھ مل کر کام کریں اور جن کو ہم سے اتفاق نہ ہو انھیں چاہیے کہ وہ دعوت الی اللہ کے کام کو انجام دینے کے لیے بہرحال ایک اجتماعی اور منظم طریقہ اختیار کریں ۔ حضورنبی کریم ا کے سوا کوئی بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ جو میری اتباع نہ کرے وہ گمراہ ہے ۔ یہ بات صرف خدا کا نبی ہی کہہ سکتا ہے۔ حضورنبی کریم اکے بعد کوئی دوسرا نبی آنے والا نہیں ہے لہٰذا انھوں نے دعوت الی اللہ کے لیے جو جماعت بنائی تھی اسی کو یہ دعویٰ زیباتھا کہ جو اس جماعت میں شامل نہیں ہے وہ گمراہ ہے ۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒنے یہ نیامذہب ایجاد نہیں کیا ہے اور نہ کوئی نیا فرقہ بنایا ہے اور نہ لوگوں سے یہ کہا ہے کہ جو ہمارے ساتھ نہیں آئے گا وہ غلط یا گمراہ ہے۔
    جماعت اسلامی نے کتاب و سنت کی تعلیمات کے مطابق جو عقیدہ،مقصد اور طریق کار اختیار کیا ہے اسی کے تحت وہ لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتی ہے ۔ جو لوگ اس دعوت کو قبول کرلیتے ہیں حضورنبی کریم ا کے طریقے کے مطابق جماعت ان کی فکری اور عملی تربیت اور ان کا تزکیہ نفس کرکے ان کے اندر سے نفاق ‘ تناقص اور دورنگی کو ختم کرنے اور اسلام کے انسانِ مطلوب کے اوصاف پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے ۔ اس طرح ان کی سیرت سازی کرکے انھیں ایک ایسے منظم گروہ میں ڈھال دیتی ہے جو معاشرے کی اصلاح کے لیے سرگرم عمل ہوجاتا ہے ۔ اسی منظم گروہ کے ذریعے اسلامی حکومت کے قیام کے لیے جدوجہد بھی جاری رکھی گئی ہے تاکہ اقتدار کی باگ ڈور غلط لوگوں سے اچھے لوگوں کی طرف منتقل ہوجائے ۔ حضورنبی کریم ا نے ایک اسلامی حکومت بنائی تھی اور قیادت غلط لوگوں سے لے کراچھے لوگوں کی طرف منتقل کردی تھی تاکہ حکومت اچھے لوگوں کے ہاتھ میں ہو۔
    حضورنبی کریم ا،خلفائے راشدین اور صحابہ کرامؓکے مبارک دور میں اصلاح کے لیے جو طریق اختیار کیا گیا تھا اس کے تمام اصولوں کو کتاب و سنت کی روشنی میں جمع کرکے ان کے مطابق جماعت اسلامی کی تنظیم کی گئی ہے ۔ جماعت اسلامی کی تشکیل کے موقع پر وقت کے علمائے کرام کو بھی شریک مشورہ رکھا گیا تھا ۔ تاسیس جماعت سے پہلے علامہ اقبالؒبھی مشورے میں شامل رہے ہیں ۔ ابتدائی ارکان جنھوں نے جماعت کی تاسیس میں حصہ لیا تھا ، ان میں دو بہت بڑے نام ہیں اگرچہ وہ بعد میں جماعت میں نہ رہے لیکن وہ جماعت اسلامی کی تشکیل میں نہ صرف شریک مشورہ رہے ہیں بلکہ جماعت کا دستور بھی انھی کے مشوروں سے بنا ۔ اس میں ایک نام مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒکا ہے جو مولانا مودودیؒ کی طرح سارے عالم اسلام اور پورے عالم عرب میں ایک معروف شخصیت کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کی کتابوں کو پورے عالم اسلام میں قبولیت عامہ حاصل ہے ۔ دوسرا نام مولانا محمد منظور نعمانی ؒ کا ہے جو ایک سو سال کی عمر میں فوت ہوئے ۔ صاحب تصنیف عالم دین تھے اور علماءکے تمام گروہ ان کا احترام کرتے تھے۔
    لاہور کے ایک بہت بڑے عالم دین محترم مولانا حامد میاںؒ جو حضرت مولانا حسین احمد صاحب مدنی ؒ کے خلیفہ مجاز بھی تھے،ان سے میرا ایک دیرینہ اور مخلصانہ تعلق تھا ۔ ان کے ہاں میری آمد و رفت رہتی تھی ۔ ایک موقع پر انھوں نے مجھ سے فرمایا:اس اختلاف کو ختم کرنے کی ضرورت ہے میں نے کہا :کوئی راستہ بتادیں ۔ انھوں نے جواب دیاکہ ہر بڑے عالم دین کی بعض مسائل پر شاذ رائے موجود ہے۔ مولانا مودودی ؒ کی بھی کچھ مسائل میں منفرد رائے ہے۔ آپ ان کی برات بھی نہ کریں اور یہ بھی نہ کہیں کہ ان کی رائے غلط ہے۔ آپ صرف یہ کہہ دیں کہ مسائل میں ہم مولانا مودودی ؒ کی رائے کے پابند نہیں ہیں تو یہ اعتراض ختم ہو جائے گا کہ جماعت اسلامی کوئی نیا فرقہ یا کوئی نیا مکتب فکر ہے جو اپنی نئی فقہ بنا رہی ہے۔ میں نے کہا: مولانا مودودی ؒ نے تو یہ بات خود کہی ہے کہ مجھ پر پابندی نہ لگائیںاور آزادی کے ساتھ علمی کام کرنے دیں ،اور میں آپ پر کوئی پابندی نہیں لگاتا کہ آپ تمام مسائل میں میری ضرور پیروی کریں ۔ جماعت کے دستور میں جب ہم یہ کہتے ہیں کہ معیار حق صرف اللہ اور اس کا رسول ہے، باقی ہر ایک کے قول اور فعل پر کتاب و سنت سے دلیل مانگی جائے گی تو اس سے ہمارا مطلب یہی ہے کہ کسی کی بھی غیر مشروط پیروی کے ہم پابند نہیں ہیں۔ مولانا مودودی ؒ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔ ان سے بھی کتاب و سنت کے حوالے سے دلیل مانگی جائے گی۔جماعت اسلامی اپنے دستور اور شوریٰ کے فیصلوں کی پابند ہے ۔ دستور کو قرآن اور سنت کے مطابق مرتب کیاگیا ہے اور شوریٰ میں جو بھی فیصلے ہوتے ہیں وہ بھی قرآن و سنت کے مطابق کیے جاتے ہیں ۔ اس پر مولانا حامد میاںؒ نے کہا :یہ تو بہت اچھی بات ہے، دستور جماعت اور مولانا مودودیؒ کی تحریروں میں سے اس موقف پر مبنی اقتباسات سامنے لائے جائیں،چنانچہ مرکز علوم اسلامیہ منصورہ کے شیخ الحدیث مولانا عبدالمالک صاحب اور مولانا مودودیؒ کے دیرینہ ساتھی مولانا محمد سلطان صاحب کو میں نے اس کام پر لگایا ۔ ان دونوں نے مل کر دستور جماعت اور مولانا مودودیؒکی کتابوں میں سے مذکورہ موقف کے بارے میں اقتباسات نکال کر یکجا کردےے ۔ اس مجموعے کی ایک فوٹو سٹیٹ کاپی مولانا حامد میاں صاحب کو پہنچا دی گئی ۔ انھوں نے تسلیم کرلیا کہ اختلافات ختم کرنے کے لیے یہ کافی ہے لیکن چھ مہینوں کی کوششوں کے بعد انھوں نے معذرت کرلی اور افسوس کے ساتھ یہ بات کہی کہ وہ اپنے ساتھیوں کو اس پر آمادہ نہ کرسکے۔
    جامعہ اشرفیہ لاہور کے صاحبزادہ عبدالرحمن اشرفی اور مولانا عبیداللہ صاحب نے خود مجھے یہ واقعہ سنایا ہے کہ ان کے والد مفتی محمد حسن مرحوم فرمایا کرتے تھے :مولانا مودودیؒ ان کے ہاں جامعہ اشرفیہ کی جامع مسجد میں نماز جمعہ پڑھنے کے لیے آتے تھے ۔اچھرہ سے جامعہ اشرفیہ کی مسجد قریب ہی تھی ۔ نماز کے بعد نشست بھی ہوتی تھی ۔ ایسی ہی ایک نشست میں کسی موقع پر مفتی محمد حسن صاحب نے مولانا مودودیؒسے کہا :جماعت اسلامی اور آپ کے حوالے سے حضرت مولانا احمد علی صاحب لاہوریؒکا اختلاف بہت بڑھ رہا ہے ۔ اس اختلاف کو ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔ میں ان کو بھی بلا لوں گا آپ بھی آجائیں تو افہام وتفہیم سے مسئلہ حل کرکے اختلاف کو ختم کردیں گے ۔ مولانا مودودیؒ نے ان سے اتفاق کرتے ہوئے کہا :آپ انھیں بلالیں ‘ میں بھی آجاﺅں گا ۔ آپ ان کی بات بھی سن لیں اور میری بات بھی سن لیں پھر اس کے بعد جس طرح آپ چاہیں فیصلہ کردیں وہ مجھے منظور ہوگا۔ مولانا احمد علی لاہوریؒنے پہلے تو یہ بات مان لی کہ وہ آجائیں گے لیکن بعد میں کچھ لوگ ان کے پاس چلے گئے اور انھیں کہا :حضرت!یہ لوگ بڑے چالاک ہیں آپ جوبات بھی کریں گے وہ اسے اپنی مطلب برآوری کے لیے استعمال کریں گے۔ اس طرح انھیں باہم مل بیٹھنے سے منع کردیا گیا چنانچہ انھوں نے آنے سے معذرت کردی۔ مفتی محمد حسن مرحوم ایک مخلص عالم دین تھے ۔ مولانا مودودیؒنے ان کو ہی مختلف مکاتب فکر کے معتمد الیہ 31علماءکو اکٹھاکرنے کاذریعہ بنایا تھا جنھوں نے جنوری 1951ءمیں ایک اسلامی ریاست کے لیے متفقہ 22نکات تجویز کیے تھے۔
    مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ ہمیشہ کوشاں رہے کہ اکابر امت متحد ہوجائیں ۔ جو لوگ ان کے ساتھ نہ آسکے ان کے بارے میں کبھی انھوں نے یہ نہیں کہا کہ وہ غلط راستے پر ہیں ۔ جماعت اسلامی امت کو متحد کرنے کی ایک تحریک ہے جسے مولانا مودودیؒ نے شروع کیا تھا ۔متحدہ مجلس عمل الحمد للہ انھی مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے ۔ اگر جماعت اسلامی کوئی فرقہ ہوتی اور ہم کوئی مکتب فکر ہوتے تو ہم اتحاد اور اتفاق کے لیے کوئی خدمت انجام نہ دے سکتے ۔ یہ خدمت اسی لیے سرانجام دینے کے قابل ہیں کہ ہم نے کسی خاص مکتب فکر کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ نہیں کیا ہے۔
    لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ ہمارا عقیدہ ہے اور دعوت الی اللہ ہمارا طریق کار ہے ۔ جولوگ اس عقیدے اور طریق کا رکو قبول کرلیں،قرآن اور سنت کے مطابق جماعت ان کی تربیت کرکے انھیں معاشرے کی اصلاح اور اسلامی حکومت کے قیام کی جدوجہد میں لگادیتی ہے تاکہ وہ اللہ کی رضا اور آخرت کی فلاح کو پاسکیں ۔ اس عقیدے اور طریق کار پر کسی بھی مسلمان کا چاہے وہ کسی بھی مکتب فکر سے تعلق رکھتا ہو کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ اس لیے جب ہم بلاتے ہیں تو سب لوگ آجاتے ہیں۔ جب ہمیں بلایا جاتا ہے تو ہرگروہ میں ہم چلے جاتے ہیں۔ اعتدال کی بات کرتے ہیں۔ ہم نے اپنے کوئی مخصوص مسائل نہیں بنائے جن پر ہم اصرار کرتے ہوں، اورنہ ہی ہم نے فروعی مسائل کو اپنی پہچان کا ذریعہ بنایا ہے ۔ ہم نے ایک عمومی اور مشترک دعوت دی ہے اور اس پر پوری امت کو متحد کرنے کی ایک تحریک چلائی ہے جس کے نتیجے میں امت کے اندر اتحاد اور اتفاق پیدا ہو رہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ہر مجلس میں جا سکتے ہیں اور ہر ایک سے بات کرسکتے ہیں ۔ ہمارے دلوں میں وسعت ہے جو حضورنبی کریم ا کا طریقہ ہے ۔ انھوں نے فرمایا :یسروا ولاتعسروا بشروا ولاتنفروا!آسانیاں پیدا کرو، تنگیاں مت پیدا کرو، خوشخبریاں سناﺅ ، لوگوں کو دور نہ دھکیلو۔ حضورنبی کریم ا نے وسعت قلبی اختیار کی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ فروعی مسائل میں اختلاف کاتنوع پایا جاتا ہے ۔ نماز کے فقہی مسائل میں بیسیوں اختلافات موجود ہیں، کسی ایک پر اصرار کرنا وسعت قلبی کے خلاف ہے ۔ یہ فروعی اختلافات اسی لیے ہیں کہ حضورنبی کریم ا نے ان کو اہمیت نہیں دی ہے بلکہ اہمیت بنیادی چیزوں کو دی ہے اسی لیے ان میں اختلاف نہیں ہے ۔ نماز میں بنیادی اہمیت کے حامل مسائل یہ ہیں کہ کیا نمازی کا جسم اور اس کے کپڑے پاک ہیں، اس نے وضو کرلیا ہے، اللہ رب العالمین کی عبادت کی نیت سے وہ قبلہ روکھڑا ہے، قیام، رکوع ، سجود اور قاعدہ میں جو کچھ پڑھا جاتا ہے وہ اس نے پڑھا ہے۔ دین میں دراصل اہمیت بنیادی چیزوں کو حاصل ہے ۔ توحید کا عقیدہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے ۔ حکم یہ ہے کہ لوگوں کو اللہ کی طرف بلاﺅ ، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراﺅ۔ حضورنبی کریم اکے نقش قدم پر چلو ۔دےن مےں اپنی طرف سے دوسری چےزےں مت گھڑو اور وقت کا اصل چیلنج جو درپیش ہو اسے قبول کرکے قرآن اور سنت کی روشنی میں اس کا مقابلہ کرنے کے لیے اقدام کرو۔
    اس وقت امت مسلمہ کو جو چیلنج درپیش ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ نے پورے عالم اسلام کے خلاف ایک اعلان جنگ کر رکھا ہے۔وہ دنیا اور اس پر بسنے والی انسانیت پر اپنا نظام ِظلم مسلط کرنا چاہتا ہے۔ اس کے مقابلے میں مسلمانوں کے پاس اللہ رب العالمین کا عطا کردہ اسلام کا نظام رحمت موجود ہے۔ اس نظام کے قیام کے لیے مسلمانوں کو اتفاق اور اتحاد ،اور اس چیلنج کامقابلہ کرنے کے لیے امت مسلمہ کو یکجا اور یکسو کرنے کی ضرورت ہے۔ جماعت اسلامی اسی اتحاد کی داعی ہے۔ اسی لیے جماعت اسلامی نے کوئی الگ مذہب اور فرقہ نہیں بنایا تاکہ وہ امت سے الگ تھلگ ہو کر نہ رہ جائے بلکہ امت کے درمیان رہ کر مسلمانوں کو کلمہ توحید پر جمع کرکے حضور نبی کریم ا کے طریق کار کے مطابق انھیں دعوت الی اللہ کے کام پر مامور کر دے تاکہ کرہ ارضی پر دوبارہ خلافت علیٰ منہاج النبوة قائم ہو سکے۔ وہی اسلامی حکومت جو صحابہ کرام ؓ کے مبارک دور میں خود رسول اللہ ا اور ان کے بعد خلفائے راشدین ؓنے قائم کی تھی ۔
    مسلمانوں کو اس بڑے کام کے لیے مجتمع ، متحد اورمنظم کرنے میں الحمدللہ کافی پیشرفت ہوئی ہے۔ ہم متحدہ مجلس عمل کو بھی اپنی ہی جماعت سمجھتے ہیں ۔ ہم میں سے کوئی یہ خواہش نہیں رکھتا کہ اس اتحاد میں جماعت اسلامی کا جھنڈا سب سے زیادہ بلند ہو یا جماعت اسلامی کا لیڈر ہی سب سے آگے ہو۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ امت مجتمع اور متحدہو کر کفر کے کلمے کو پست اور اللہ کے کلمے کو بلند کر دے کیونکہ اللہ کا کلمہ ہی بلند رہنے کے لیے ہے۔ وکلمة اللہ ھی العلیا۔ اس طرح ہمارا اللہ ہم سے راضی ہو جائے اور آخرت میں ہمیں فلاح اور کامیابی نصیب ہو۔ یہی ایک مسلمان کی آرزو ہے ۔ اصل کامیابی وہاںکی کامیابی ہے اور اصل ناکامی وہاں کی ناکامی ہے۔ اللہ کی رضا اور آخرت کی فلاح کا حصول ہی عظیم کامیابی ہے۔
     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس