Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

جماعت اسلامی: انتخابِ امیر اور ہمارے اہداف

  1. مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے دعوتی زندگی کا آغاز ۱۹۳۳ء میں ترجمان القرآن کے ذریعے کیا۔ آٹھ سال کی مسلسل جدوجہد کے ذریعے فکری میدان میں باطل نظریات پر ضربِ کاری لگائی اور اسلامی فکر کی تشکیلِ نو اور محکم دلائل سے اس فکر کی بالادستی کو وقت کی اصل ضرورت قرار دیا۔ اس سلسلے میں انھوں نے چومکھی لڑائی لڑی اور مسلمانوں کے سامنے اسلام کی روشن شاہراہ واضح کرکے اصل منزل کی ان کے سامنے نشان دہی کردی۔ برعظیم پاک و ہند کی، اس وقت کی ذہنی فضا میں ، جہاں یہ ایک منفرد اور چونکا دینے والی آواز تھی، وہیں قرآن و سنت کی اصل دعوت کے احیا کے لیے یہ ایک انقلابی اقدام بھی تھا۔

    اسلامی احیا کا یہ تصور ہمارے معاشرے میں اپنی جڑیں رکھتا تھا، جو ہمارے اکابر کی علمی، فکری اور دعوتی جدوجہد کا فطری اور منطقی نتیجہ تھا۔ برعظیم کے مسلمانوں پر مغربی تہذیب اور یورپی استعمار کے فکری اور سیاسی و تہذیبی غلبے کے خلاف اور اسلامی احیا کے لیے سیّداحمدشہید، سیّداسماعیل شہید، مولانا قاسم نانوتوی، شبلی نعمانی، مولانا محمودحسن، مولاناابوالکلام آزاد، مولانا اشرف علی تھانوی، اور علامہ محمداقبال اپنے اپنے انداز میں مسلسل جدوجہد کرتے رہے۔ مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودی نے اسلام کے احیا اور دین حق کی اقامت کی جدوجہد کو مسلمانوں کے اصل اور حقیقی مقصدِ زندگی کے تصور کے طور پر پیش کیا۔ انھوں نے اقامتِ دین کے تصور کو مدلل، منطقی اور دعوتی اسلوب میں قرآن و سنت کے محکم دلائل کے ساتھ واضح کیا۔ تجدید و احیاے دین کے سلسلے کی ۱۴سو سال پر پھیلی ہوئی مسلمانوں کی تابناک تاریخ کے پس منظر میں انھوں نے بتایا کہ اسلام کا اصل مدعا اور مقصود کیا ہے، اور مسلمانوں کی اصل پہچان اور ان کی زندگی کا حقیقی مشن کیا ہے۔
    دراصل اسلام نام ہے اللہ کو اپنا رب تسلیم کرنے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا پیغمبر اور انسانوں کا اصل ہادی اور راہبر ماننے، اور اپنی پوری زندگی کو اللہ کی بندگی اور اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت میں د ے دینے کا۔ لا الٰہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ کا اقرار اور اعلان پوری زندگی کے لیے ایک راستہ اور نظام کار طے کرنے کا عہد ہے۔ یہ عہد محض چند الفاظ کے زبان سے ادا کرنے اور چند عبادات کا اہتمام کرنے سے عبارت نہیں ہے۔ عقیدہ اور عبادات وہ دو ستون ہیں جن پر اسلام پوری زندگی کی عمارت تعمیر کرتا ہے۔
    مولانا مودودی نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت اور اسوۂ حسنہ کے اس پہلو کو اُجاگر کیا کہ اسلام عقیدے اور عمل کا ایک حسین امتزاج ہے اور قرآن و سنت کی روشنی میں انسانی زندگی کے لیے ایک مکمل نظامِ زندگی کا نقشہ پیش کرتا ہے، تاکہ انسان، زندگی کے ہر میدان میں طاغوت کی غلامی سے نجات پاسکے اور اپنی انفرادی اور اجتماعی، روحانی، اخلاقی اور مادی زندگی کے ہرپہلو کی تشکیل جدید کے ذریعے، اُسے آخرت میں کامیابی حاصل ہو۔جماعت اسلامی اسی وژن کی حامل ہے اور اس دعوت کو عملی طور پر مسلمانوں کے لیے اور بالآخر پوری انسانیت کے لیے جاری و ساری کرنے کی اجتماعی کوشش کا نام ہے۔ اس کا پیغام اصولی اور آفاقی ہے، البتہ اس کی عملی جدوجہد کا مرکز و محور وہ خطۂ زمین ہے، جہاں اس نظامِ زندگی کو قائم کرکے اُمت مسلمہ اور انسانیت کے لیے ایک نمونہ پیش کیا جاسکتا ہے۔

    جماعت اسلامی: انتخابی روایت کا تسلسل
    ان معروضات کی روشنی میں آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے کہ جماعت اسلامی اپنی اصل کے اعتبار سے ایک نظریاتی، فکری اور تہذیبی تحریک ہے۔ یہ محض ایک مذہبی یا سیاسی جماعت نہیں، بلکہ وسیع معنی میں ایک اصولی تحریک (Ideological Movement) ہے اور قرآن و سنت کی فراہم کردہ ہدایت کو زندگی کے ہر شعبے میں عملاً نافذ کرنا چاہتی ہے۔ یہ جماعت کوئی قوم پرست یا محض وطن پرست جماعت بھی نہیں ہے، بلکہ اس کا نظریۂ حیات عالم گیر ہے اور پوری انسانی تہذیب کی تشکیل نو اس کے پیش نظر ہے۔ یہ پوری زندگی کو اللہ کی بندگی اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فراہم کردہ ہدایت اور ان کے سکھائے ہوئے منہج کے مطابق استوار کرنا چاہتی ہے۔ صرف مسلمانوں ہی کی اصلاح و نجات اس کے پیش نظر نہیں، بلکہ وہ پوری انسانیت کی فلاح اور اس کی دنیوی اور اُخروی کامیابی چاہتی ہے۔ اس جامع نصب العین کو اس کے دستور میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:
    جماعت اسلامی پاکستان کا نصب العین اور اس کی تمام سعی و جہد کا مقصود عملاً اقامتِ دین (حکومت الٰہیہ یا اسلامی نظامِ زندگی کا قیام) اور حقیقتاً رضاے الٰہی اور فلاحِ اُخروی کا حصول ہوگا(دفعہ ۴)۔
    الدین، حکومت الٰہیہ اور اسلامی نظام زندگی تینوں ہم معنی الفاظ ہیں اور اصطلاح ’اقامت دین‘ ان تینوں کی جامع ہے۔ دستور میں اس کی تشریح یوں کی گئی ہے:
    اقامتِ دین سے مقصود دین کے کسی خاص حصے کی اقامت نہیں ہے، بلکہ پورے دین کی اقامت ہے، خواہ اس کا تعلق انفرادی زندگی سے ہو یا اجتماعی زندگی سے۔ نماز، روزہ اور حج و زکوٰۃ سے ہو یا معیشت و معاشرت اور تمدن و سیاست سے۔ اسلام کا کوئی حصہ بھی غیرضروری نہیں ہے۔ پورے کا پورا اسلام ضروری ہے۔ ایک مومن کا کام یہ ہے کہ اس پورے اسلام کو کسی تجزیے و تقسیم کے بغیر قائم کرنے کی جدوجہد کرے۔ اس کے جس حصے کا تعلق افراد کی اپنی ذات سے ہے، ہرمومن کو اسے بطورِ خود اپنی زندگی میں قائم کرنا چاہیے اور جس حصے کا قیام اجتماعی جدوجہد کے بغیر نہیں ہوسکتا، اہلِ ایمان کو مل کر اس کے لیے جماعتی نظم اور سعی کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اگرچہ مومن کا اصل مقصدِ زندگی رضاے الٰہی کا حصول اور آخرت کی فلاح ہے، مگر اس مقصد کا حصول اس کے بغیر ممکن نہیں ہے کہ دنیا میں خدا کے دین کو قائم کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس لیے مومن کا عملی نصب العین اقامتِ دین اور حقیقی نصب العین وہ رضاے الٰہی ہے جو اقامتِ دین کی سعی کے نتیجے میں حاصل ہوگی۔
    زندگی کا یہ تصور اور اس کا یہ مشن جماعت اسلامی کا اصل امتیاز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی تنظیم، اس کا اسلوبِ کار، اس کا دائرۂ عمل اور اس کی سرگرمیوں کا پھیلاؤ محض ایک سیاسی جماعت جیسا نہیں۔ بلاشبہہ جب پاکستان کی پہلی دستور سازاسمبلی نے مارچ ۱۹۴۹ء میں قراردادِمقاصد منظور کی، تو اس کے بعد سے وہ معروف معنی میں ایک سیاسی جماعت کی حیثیت سے کام کررہی ہے۔ لیکن وہ محض ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ اسلام کے مشن کے مطابق ایک ہمہ گیر نظریاتی اور تہذیبی انقلاب کی داعی جماعت ہے۔ یہی اس کی امتیازی حیثیت ہے، یہی اس کی بہت سی خوبیوں اور خصوصیات کی بنیاد ہے اور یہی اس کی متعدد تحدیدات (limitations) کا سبب بھی ہے جسے سمجھنا اور جاننا بہت ضروری ہے۔
    جماعت اسلامی کے قیام کے پہلے دن سے ’نظامِ امر‘ کو ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے لیکن یہ ’نظامِ امر‘ ایک دستور اور اس کے مطابق ضابطہ کار اور روایات سے عبارت ہے، جس کی صورت گری قرآن و سنت کی ہدایات اور تحریکِ اسلامی کی ضروریات اور تجربات کی روشنی میں کی گئی ہے۔
    اس نظامِ جماعت میں وفاداری کا اصل مرکز وہ نصب العین ہے، جس کے حصول کے لیے جماعت قائم ہوئی ہے اور اس کے پورے نظام کی تشکیل و تعمیر ایک تحریری دستور کے ذریعے کی گئی ہے، جو خود بلاشبہہ ارتقائی مراحل سے گزرتا رہا ہے۔ تاہم یہ ہردور میں اور ہرسطح کے لیے نقشۂ کار فراہم کرتا ہے۔ جو صرف تبرک کے لیے نہیں بلکہ معاملات کو طے کرنے میں اصل رہنما اور کارفرما حیثیت رکھتا ہے۔ الحمدللہ جماعت اسلامی اور اس کے تمام ادارے دستور کے مطابق کام کرتے ہیں اور یہی وہ چیز ہے جو جماعت اسلامی کو دوسری جماعتوں سے ممتاز کرتی ہے۔ جماعت اسلامی میں کسی ایک فرد، گروہ یا خاندان کی بات نہیں چلتی بلکہ سب ایک خاندان کی طرح، ایک دستور کے تحت، اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ اجتماعی زندگی میں پالیسی سازی، ڈسپلن، اطاعت، تعاون، ہم آہنگی، مشاورت اور تنقیدو احتساب کا وہ ماحول پیدا کرنے کوشش کی گئی ہے جو اسلام کا منشا اور اچھی حکمرانی (good governance)کی ضرورت ہے۔
    جماعت اسلامی کا پورا نظام، اس کے دستور اور ضابطہ کار کے مطابق کام کر رہا ہے اور اس کی اصل پہچان اسلامی اصولوں پر مبنی جمہوری اور شورائی نظام ہے۔ انسانوں کی جماعت ہونے کے ناتے کوتاہیوں اور کمزوریوں سے کوئی پاک نہیں لیکن الحمدللہ، بحیثیت مجموعی اس جماعت میں مشاورت اور احتساب کا ایک مضبوط نظام قائم ہے، جس پر پوری شفافیت کے ساتھ عمل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں شخصی وفاداری، خاندانی سیادت اور گروہ بندی کا کوئی کردار نہیں۔ دستور کے مطابق ایک نظامِ مشاورت و احتساب قائم ہے۔ اس نظام میں جہاں ایک دوسرے کی معاونت اس کا لازمی حصہ ہے، وہیں غلطیوں اور کمزوریوں کی اصلاح بھی ہرشریکِ کار کی ذمہ داری ہے۔
    مارچ ۲۰۱۴ء میں جماعت اسلامی میں امارت کا تیرھواں انتخاب دستور کے مطابق ہوا جس میں ارکانِ جماعت نے کثرت راے سے برادرم سراج الحق کو امیر جماعت اسلامی پاکستان منتخب کیا اور ۹؍اپریل ۲۰۱۴ء کو منصورہ میں منعقدہ ایک روح پرور اجتماع میں انھوں نے جماعت اسلامی کے پانچویں امیر* کی حیثیت سے امارت کا حلف اُٹھا کر اللہ سے وفاداری، دستورِ جماعت کی پاس داری اور نظامِ جماعت کے سامنے جواب دہی کا عہد کیا اور بڑے انکسار کے ساتھ اللہ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے دین کی سربلندی کی اس جدوجہد کے لیے اپنی ساری توانائی کو صرف کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اللہ تعالیٰ قدم قدم پر ان کی رہنمائی فرمائے، انھیں اس عظیم ذمہ داری کو ٹھیک ٹھیک ادا کرنے کی توفیق سے نوازے، وہ اس تاریخی امانت کے سچے امین ثابت ہوں، تحریک کے قدم آگے بڑھیں اور ان کی قیادت میں اللہ تعالیٰ اس تحریک، اس ملک اور اس ملت کو دنیا اور آخرت کی کامیابیوں سے شادکام فرمائے، آمین! تحریک اسلامی کے تمام ساتھیوں اور پاکستان اور اُمت مسلمہ کے تمام خیرخواہوں کی دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔
    (*مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودی ۱۹۴۱ء سے ۱۹۷۲ء جماعت کے امیر رہے۔ تاہم، ان کی گرفتاریوں کے اَدوار میں محترم عبدالجبار غازی، مولانا عبدالغفار حسن، مولانا امین احسن اصلاحی، اور شیخ سلطان احمد نے بھی مختلف مدتوں کے لیے امراے جماعت کی حیثیت سے خدمات انجام دی ہیں۔ اسی طرح محترم چودھری غلام محمدصاحب نے ۵۷۔۱۹۵۶ء اور محترم چودھری رحمت الٰہی صاحب نے ۱۹۹۴ء میں محترم قاضی حسین احمد کے دورِ امارت کے دوران ایک ہنگامی دور میں یہ ذمہ داری ادا کی۔ محترم میاں طفیل محمد صاحب (۸۸۔۱۹۷۲ء) ، محترم قاضی حسین احمد (۲۰۰۹ء۔۱۹۸۸ء) اور محترم سیّد منور حسن (۲۰۱۴ء۔۲۰۰۹ء) ا میرجماعت کی ذمہ داری پر فائز رہے۔)
    نظامِ جماعت اور نظامِ انتخاب
    جماعت اسلامی میں قیادت کے انتخاب کے باب میں ایک منفرد پہلو یہ ہے کہ اس میں امارت ایک عہدہ نہیں بلکہ ایک بڑی گراں بار ذمہ داری ہے۔ امیر کا انتخاب جماعت کے دستور کے مطابق ارکانِ جماعت ہر پانچ سال کے بعد کرتے ہیں۔ یہاں امارت کے لیے کوئی مدعی اور طالب نہیں ہوتا اور نہ کوئی انتخابی مہم ہوتی ہے۔ ایک ضابطے کے مطابق مرکزی شوریٰ تین نام تجویز کرتی ہے وہ بھی صرف رہنمائی کے لیے۔ ارکان ان مجوزہ تین ناموں میں سے کسی ایک کو یا ان کے علاوہ بھی، اپنی نگاہ میں کسی اور اہل تر فرد کو اس ذمہ داری کے لیے ووٹ دے سکتے ہیں۔ باہر کی دنیا کے لیے یہ عمل خواہ کتنا ہی اجنبی ہو، لیکن اسلامی تحریک کے مزاج اور اس کی ضرورت کے لیے اس سے بہتر انتظام مشکل ہے۔ انتخابِ امیر کے اس انتظام اور تحریکِ اسلامی کے مزاج کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ جماعت کی تاسیس کے وقت، اس جماعت کی جو خصوصیات داعیِ تحریک نے بیان کی تھیں، وہ ہرلمحے سامنے رہیں۔ آج شاید ان کا جاننا اور ذہن نشین رکھنا یقیناًاس سے بھی کچھ زیادہ ضروری ہے ،جتنا تاسیس جماعت کے وقت تھا۔ اس وقت داعیِ تحریک مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودی مرحوم نے فرمایا تھا:
    جو لوگ ایک ہی عقیدہ، ایک ہی نصب العین اور ایک ہی مسلک رکھتے ہوں، ان کے لیے ایک جماعت بن جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ ان کا ایک جماعت بن جانا بالکل ایک فطری امر ہے.... اب، جب کہ آپ کی جماعتی زندگی کا آغاز ہورہا ہے۔ تنظیم جماعت کی راہ میں کوئی قدم اُٹھانے سے پہلے آپ کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اسلام میں جماعتی زندگی کے قواعد کیا ہیں؟
    میں اس سلسلے میں چند اہم باتیں بیان کروں گا:
    * خیرخواہی کا جذبہ:
    پہلی چیز یہ ہے کہ جماعت کے ہر فرد کو نظامِ جماعت کا بحیثیت مجموعی اور جماعت کے افرادکا فرداً فرداً سچے دل سے خیرخواہ ہونا چاہیے۔ جماعت کی بدخواہی یا افرادِ جماعت سے کینہ، بُغض، حسد، بدگمانی اور ایذارسانی وہ بدترین جرائم ہیں، جن کو اللہ اور اس کے رسولؐ نے ایمان کے منافی قراردیاہے۔
    * دوسری جماعتوں سے فرق:
    دوسری چیز یہ ہے کہ آپ کی اس جماعت کی حیثیت دنیوی پارٹیوں کی سی نہیں ہے، جن کا تکیہ کلام یہ ہوتا ہے کہ ’’میری پارٹی، خواہ حق پر ہو یا ناحق پر‘‘، نہیں، آپ کو جس رشتے نے ایک دوسرے سے جوڑا ہے، وہ دراصل اللہ پر ایمان کا رشتہ ہے، اور اللہ پر ایمان کا اوّلین تقاضا یہ ہے کہ آپ کی دوستی اور دشمنی، محبت اور نفرت جو کچھ بھی ہو، اللہ کے لیے ہو۔ آپ کو اللہ کی فرماں برداری میں ایک دوسرے سے تعاون کرنا ہے، نہ کہ اللہ کی نافرمانی میں___ تَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَ التَّقْوٰی وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ (المائدہ ۵:۲)۔ اللہ کی طرف سے جماعت کی خیرخواہی کا جو فرض آپ پر عائد ہوتا ہے، اس کے معنی صرف یہی نہیں ہیں کہ بیرونی حملوں سے آپ اس کی حفاظت کریں، بلکہ یہ بھی ہیں کہ ان اندرونی امراض سے بھی اس کی حفاظت کے لیے ہروقت مستعد رہیں، جو نظامِ جماعت کو خراب کرنے والے ہیں۔ جماعت کی سب سے بڑی خیرخواہی یہ ہے کہ اس کو راہِ راست سے نہ ہٹنے دیا جائے۔ اس میں غلط مقاصد اور غلط خیالات اور غلط طریقوں کے پھیلنے کو روکا جائے۔ اس میں نفسانی دھڑے بندیاں نہ پیدا ہونے دی جائیں۔ اس میں کسی کا استبداد نہ چلنے دیا جائے۔ اس میں کسی دنیوی غرض یا کسی شخصیت کو بت نہ بننے دیا جائے، اور اس کے دستور کو بگڑنے سے بچایا جائے۔
    اسی طرح اپنے رفقاے جماعت کی خیرخواہی کا جو فرض آپ میں سے ہرشخص پر عائد ہوتا ہے، اس کے معنی یہ ہرگز نہیں ہیں کہ آپ اپنی جماعت کے آدمیوں کی بے جا حمایت کریں اور ان کی غلطیوں میں ان کا ساتھ دیں، بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ معروف میں ان کے ساتھ تعاون کریں، اور مُنکر میں صرف عدم تعاون ہی پر اکتفا نہ کریں، عملاً ان کی اصلاح کی بھی کوشش کریں۔ ایک مومن دوسرے مومن کے ساتھ سب سے بڑی خیرخواہی جو کرسکتا ہے، وہ یہ ہے کہ جہاں اس کو راہِ راست سے بھٹکتے ہوئے دیکھے، وہاں اُسے سیدھا راستہ دکھائے، اور جب وہ اپنے نفس پر ظلم کر رہا ہو تو اس کا ہاتھ پکڑلے۔ البتہ آپس کی اصلاح میں یہ ضرور پیش نظر رہنا چاہیے کہ نصیحت میں عیب چینی اور خُردہ گیری [نکتہ چینی ] اور تشدد کا طریقہ نہ ہو، بلکہ دوستانہ دردمندی و اخلاص کا طریقہ ہو۔ جس کی آپ اصلاح کرنا چاہتے ہیں، اس کو آپ کے طرزِعمل سے یہ محسوس ہونا چاہیے کہ اس اخلاقی بیماری سے آپ کا دل دُکھتا ہے، نہ کہ اس کو اپنے سے فروتر دیکھ کر آپ کا نفسِ متکبر لذت لے رہا ہے۔
    * جتھہ بندی اور نفسانی رقابت سے اجتناب:
    تیسری بات جس کی طرف مَیں ابھی اشارہ کرچکا ہوں ، مگر جس کی اہمیت اس کی متقاضی ہے کہ اسے واضح طور پر بیان کیا جائے، یہ ہے کہ جماعت کے اندر جماعت بنانے کی کوشش کبھی نہ ہونی چاہیے۔ سازشیں، جتھہ بندیاں، نجویٰ (convassing)، عہدوں کی اُمیدواری ، حمیتِ جاہلیہ اور نفسانی رقابتیں، یہ وہ چیزیں ہیں جو ویسے بھی جماعتوں کی زندگی کے لیے سخت خطرناک ہوتی ہیں، مگر اسلامی جماعت کے مزاج سے تو ان چیزوں کو کوئی مناسبت ہی نہیں ہے۔ اسی طرح غیبت اور تنابز بالالقاب اور بدظنی بھی جماعتی زندگی کے لیے سخت مہلک بیماریاں ہیں، جن سے بچنے کی ہم سب کو کوشش کرنی چاہیے۔
    * مشاورت اور اس کی روح:
    چوتھی بات یہ ہے کہ باہمی مشاورت جماعتی زندگی کی جان ہے، اس کو کبھی نظرانداز نہ کرنا چاہیے۔ جس شخص کے سپرد کسی جماعتی کام کی ذمہ داری ہو، اس کے لیے لازم ہے کہ اپنے کاموں میں دوسرے رفقا سے مشورہ لے، اور جس سے مشورہ لیا جائے اُس کا فرض ہے کہ نیک نیتی کے ساتھ اپنی حقیقی راے کا صاف صاف اظہار کرے۔ جو شخص اجتماعی مشاورت میں اپنی صواب دید کے مطابق راے دینے سے پرہیز کرتا ہے، وہ جماعت پر ظلم کرتا ہے اور جو کسی مصلحت سے اپنی صواب دید کے خلاف راے دیتا ہے، وہ جماعت کے ساتھ غدر کرتا ہے، اور جو مشاورت کے موقعے پر اپنی راے چھپاتا ہے اور بعد میں جب اس کے منشا کے خلاف کوئی بات طے ہوجاتی ہے تو جماعت میں بددلی پھیلانے کی کوشش کرتا ہے، وہ بدترین خیانت کا مجرم ہے۔
    * اختلاف راے اور راے پر اصرار:
    پانچویں بات یہ ہے کہ جماعتی مشورے میں کسی شخص کو اپنی راے پر اتنا مُصر نہ ہونا چاہیے کہ یا تو اس کی بات مانی جائے، ورنہ جماعت سے تعاون نہ کرے گا، یا اجماع کے خلاف عمل کرے گا۔ بعض نادان لوگ بربناے جہالت اس کو ’حق پرستی‘ سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ صریح اسلامی احکام اور صحابہ کرامؓ کے متفقہ تعامل کے خلاف ہے۔ خواہ کوئی مسئلہ کتاب و سنت کی تعبیر اور نصوص سے کسی حکم کے استنباط سے تعلق رکھتا ہو یا دُنیوی تدابیر سے متعلق ہو، دونوں صورتوں میں صحابہ کرامؓ کا طرزِعمل یہ تھا کہ جب تک مسئلہ زیربحث رہتا، اُس میں ہرشخص اپنے علم اور اپنی صواب دید کے مطابق پوری صفائی سے اظہارِ خیال کرتا اور اپنی تائید میں دلائل پیش کرتا تھا، مگر جب کسی شخص کی راے کے خلاف فیصلہ ہوجاتا تو وہ یا تو اپنی راے واپس لے لیتا تھا، یا اپنی راے کو درست سمجھنے کے باوجود فراخ دلی کے ساتھ جماعت کا ساتھ دیتا تھا۔ جماعتی زندگی کے لیے یہ طریقہ ناگزیر ہے، ورنہ ظاہر ہے کہ جہاں ایک شخص اپنی راے پر اس قدر مصر ہو کہ جماعتی فیصلوں کو قبول کرنے سے انکار کردے، وہاں آخرکار پورا نظامِ جماعت درہم برہم ہوکر رہے گا۔
    * امارتِ جماعت ، گراں بار ذمہ داری:
    آخری چیز جو جماعتی زندگی کے لیے اہم ترین ہے، وہ یہ ہے کہ ’’اسلام بغیر جماعت کے نہیں ہے، اور جماعت بغیر امارت کے نہیں ہے‘‘۔اس قاعدۂ کلیہ کے بموجب آپ کے لیے ضروری ہے کہ جماعت بننے کے ساتھ ہی آپ اپنے لیے ایک امیر منتخب کرلیں۔ امیر کے انتخاب میں آپ کو جو اُمور ملحوظ رکھنے چاہییں، وہ یہ ہیں کہ کوئی شخص جو امارت کا اُمیدوار ہو، اُسے ہرگز منتخب نہ کیا جائے، کیونکہ جس شخص میں اس کارِعظیم کی ذمہ داری کا احساس ہوگا، وہ کبھی اس بار کو اُٹھانے کی خود خواہش نہ کرے گا، اور جو اس کی خواہش کرے گا، وہ دراصل نفوذ و اقتدار کا خواہش مند ہوگا، نہ کہ ذمہ داری سنبھالنے کا۔ اس لیے اللہ کی طرف سے اس کی نصرت و تائید کبھی نہ ہوگی۔ انتخاب کے سلسلے میں لوگ ایک دوسرے سے نیک نیتی کے ساتھ تبادلۂ خیالات کرسکتے ہیں، مگر کسی کے حق میں یا کسی کے خلاف نجویٰ اور سعی نہ ہونی چاہیے۔ شخصی حمایت و موافقت کے جذبات کو دل سے نکال کر بے لاگ طریقے سے دیکھیے کہ آپ کی جماعت میں کون ایسا شخص ہے، جس کے تقویٰ، علمِ کتاب و سنت، دینی بصیرت، تدبر، معاملہ فہمی اور راہِ خدا میں ثبات و استقامت پر آپ سب سے زیادہ اعتماد کرسکتے ہیں۔ پھر جو بھی ایسا نظر آئے، اللہ پر توکّل کر کے اُسے منتخب کرلیجیے، اور جب آپ اُسے منتخب کرلیں تو اس کی خیرخواہی، اس کے ساتھ مخلصانہ تعاون، معروف میں اس کی اطاعت اور مُنکر میں اس کی اصلاح کی کوشش آپ کا فرض ہے۔(رُوداد جماعت اسلامی، اوّل، ص۲۱۔۲۵)
    چنانچہ ۱۹۴۱ء میں جب تاسیس جماعت اور حلفِ رکنیت کے بعد، امیر کے انتخاب کا مرحلہ آیا تو فطری طور پر نظر انتخاب داعیِ تحریک مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودی پر پڑی اور انھیں متفقہ طور پر امیرجماعت منتخب کیا گیا۔ اس وقت تاسیسی ارکان کا خیال یہ تھا کہ امیر کا انتخاب تاحیات ہونا چاہیے، لیکن مولانا مودودی نے اس وقت کسی فقہی بحث میں پڑے بغیر ،ارکانِ جماعت پر واضح کیا کہ وہ امارت کو تاحیات جاری رکھنے کے قائل نہیں اور ارکان کو ہراجتماع کے موقعے پر انتخابِ نو کا موقع دیں گے۔ بعد میں دستورِ جماعت میں امیر کے لیے پانچ سال کی مدت اور فطری طور پر نئے انتخاب کا ضابطہ مقرر کردیا گیا، جس پر آج تک پوری دیانت داری سے عمل ہورہا ہے۔

    جماعت کا نظامِ امر اور اس کا مزاج
    ۲۷؍اگست ۱۹۴۱ء کو امیر کے انتخاب کے بعد، مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے جو تقریر کی، وہ بھی جماعت کے نظامِ امر اور اس کے مزاج کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔ الحمدللہ یہ جماعت اس روایت کی سچی امین ہے:
    میں آپ کے درمیان نہ سب سے زیادہ علم رکھنے والا تھا، نہ سب سے زیادہ متقی، نہ کسی اور خصوصیت میں مجھے فضیلت حاصل تھی۔ بہرحال، جب آپ نے مجھ پر اعتماد کر کے اس کارِعظیم کا بار میرے اُوپر رکھ دیا ہے، تو مَیں اب اللہ سے دعا کرتا ہوں اور آپ لوگ بھی دعا کریں کہ مجھے اس بار کو سنبھالنے کی قوت عطا فرمائے اور آپ کے اس اعتماد کو مایوسی میں تبدیل نہ ہونے دے۔ مَیں اپنی حد وسع تک انتہائی کوشش کروں گا کہ اس کام کو پوری خدا ترسی اور پورے احساسِ ذمہ داری کے ساتھ چلاؤں۔ میں قصداً اپنے فرض کی انجام دہی میں کوئی کوتاہی نہ کروں گا۔ میں اپنے علم کی حد تک کتاب اللہ و سنتِ رسولؐ اللہ اور خلفاے راشدینؓ کے نقشِ قدم کی پیروی میں کوئی کسر نہ اُٹھا رکھوں گا۔ تاہم، اگر مجھ سے کوئی لغزش ہو اور آپ میں سے کوئی محسوس کرے کہ مَیں راہِ راست سے ہٹ گیا ہوں، تو مجھ پر یہ بدگمانی نہ کرے کہ مَیں عمداً ایساکر رہا ہوں، بلکہ حُسنِ ظن سے کام لے اور نصیحت سے مجھے سیدھا کرنے کی کوشش کرے۔
    آپ کا مجھ پر یہ حق ہے کہ مَیں اپنے آرام و آسایش اور اپنے ذاتی فائدوں پر جماعت کے مفاد اور اس کے کام کی ذمہ داریوں کو ترجیح دوں، جماعت کے نظم کی حفاظت کروں، ارکانِ جماعت کے درمیان عدل اور دیانت کے ساتھ حکم کروں، جماعت کی طرف سے جو امانتیں میرے سپرد ہوں ان کی حفاظت کروں، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنے دل و دماغ اور جسم کی تمام طاقتوں کو اس مقصد کی خدمت میں صَرف کردوں، جس کے لیے آپ کی جماعت اُٹھی ہے۔
    میرا آپ پر یہ حق ہے کہ جب تک مَیں راہِ راست پر چلوں، آپ اس میں میرا ساتھ دیں، میرے حکم کی اطاعت کریں، نیک مشوروں سے اور امکانی امداد و اعانت سے میری تائید کریں اور جماعت کے نظم کو بگاڑنے والے طریقوں سے پرہیز کریں۔ مجھے اس تحریک کی عظمت اور خود اپنے نقائص کا پورا احساس ہے۔ مَیں جانتا ہوں کہ یہ وہ تحریک ہے جس کی قیادت اولوالعزم پیغمبروں ؑ نے کی ہے، اور زمانۂ نبوت گزرجانے کے بعد وہ غیرمعمولی انسان اس کو لے کر اُٹھتے رہے ہیں، جو نسلِ انسانی کے گُل سرسَبد تھے۔ مجھے ایک لمحے کے لیے اپنے بارے میں یہ غلط فہمی نہیں ہوئی کہ مَیں اس عظیم الشان تحریک کی قیادت کا اہل ہوں، بلکہ مَیں تو اس کو ایک بدقسمتی سمجھتا ہوں کہ اس وقت اس کارِعظیم کے لیے آپ کو مجھ سے بہتر کوئی آدمی نہ ملا۔ مَیں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اپنے فرائضِ امارت کی انجام دہی کے ساتھ مَیں برابر تلاش میں رہوں گا کہ کوئی اہل تر آدمی اس کا بار اُٹھانے کے لیے مل جائے اور جب مَیں ایسے آدمی کو پاؤں گا تو خود سب سے پہلے اُس کے ہاتھ پر بیعت کروں گا۔ نیز مَیں ہمیشہ ہر اجتماعِ عام کے موقعے پر جماعت سے بھی درخواست کرتا رہوں گا،کہ اگر اب اس نے کوئی مجھ سے بہتر آدمی پالیا ہے تو وہ اُسے اپنا امیر منتخب کرلے، اور مَیں اس منصب سے بخوشی دست بردار ہوجاؤں گا۔ بہرحال، مَیں ان شاء اللہ اپنی ذات کو کبھی خدا کے راستے میں سدِّراہ نہ بننے دوں گا، اور کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ دوں گا کہ ایک ناقص آدمی اس جماعت کی رہنمائی کر رہا ہے، اس لیے ہم اس میں داخل نہیں ہوسکتے۔
    نہیں، مَیں کہتا ہوں کہ کامل آئے اور یہ مقام جو آپ نے میرے سپرد کیا ہے ہر وقت اس کے لیے خالی ہوسکتا ہے، البتہ مَیں اس کے لیے تیار نہیں ہوں کہ اگر کوئی دوسرا اس کام کو چلانے کے لیے نہ اُٹھے تو مَیں بھی نہ اُٹھوں۔ میرے لیے تو یہ تحریک عین مقصدِ زندگی ہے۔ میرا مرنا اور جینا اس کے لیے ہے۔ کوئی اس پر چلنے کے لیے تیار ہو یا نہ ہو، بہرحال مجھے تو اسی راہ پر چلنا اور اسی راہ میں جان دینا ہے۔ کوئی آگے نہ بڑھے تو مَیں بڑھوں گا۔ کوئی ساتھ نہ دے گا تو مَیں اکیلا چلوں گا۔ ساری دنیا متحد ہوکر مخالفت کرے گی تو مجھے تن تنہا اُس سے لڑنے میں بھی باک نہیں ہے۔ (رُوداد جماعت اسلامی، اوّل،ص ۲۹۔۳۱)
    یہی وہ جذبہ اور اسپرٹ ہے جو بعدازاں بھی جماعت کے امرا میں موجود رہی ہے۔ مولانا محترم سے لے کر سیّدمنورحسن تک ہر ایک نے جب یہ محسوس کیا کہ وہ اس عظیم ذمہ داری کے تقاضوں کو پورا کرنے کی طاقت اپنے میں نہیں پارہے تو ازخود ارکان سے ذمہ داری سے فراغت کی درخواست کی، اور اگر اس کے باوجود جماعت نے کوئی ذمہ داری ان پر ڈالی تو وہ ہر قربانی دے کر اسے انجام دینے کے لیے سینہ سپر ہوگئے۔ اس تحریک میں جو جس مقام سے بھی، جو خدمت بھی انجام دے سکے، وہ ایک سعادت اور اعزاز ہے۔ اور ہر ایک کی خواہش، کوشش اور دعا ہوتی ہے کہ وَ لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَo(اٰلِ عمرٰن ۳:۱۰۲) ’’تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو‘‘۔
    تحریکوں کی مثال دریا کی سی ہے جس کی بلارکاوٹ روانی کا انحصار نئے پانی کی آمد پر ہے۔ اب جماعت کی تیسری نسل امارت کی ذمہ داری کو سنبھال رہی ہے۔ مولانا محترم اور میاں طفیل محمد صاحب بانی ارکان میں سے تھے۔ محترم قاضی حسین احمد اور برادرم سیّدمنور حسن کا تعلق دوسری نسل سے تھا۔ الحمدللہ، اب قیادت تیسری نسل کی طرف منتقل ہوئی ہے اور ان شاء اللہ یہ سلسلہ اسی خوش اسلوبی کے ساتھ چلتا رہے گا۔ تحریک کی زندگی اور قوت کا راز تسلسل اور تبدیلی میں ہے۔ اگرکسی تحریک میں تبدیلی کے راستے بند ہوجائیں تو وہ جمود کا شکار ہوجاتی ہے اور دریا ’جوے کم آب‘ کا منظر پیش کرتا ہے۔ وہ تبدیلی جو تسلسل سے اپنا رشتہ توڑلیتی ہے، کٹی ہوئی پتنگ بن جانے کے خطرے سے اپنے کو دوچار رکھتی ہے۔ ’بحر بے کراں‘ وہی تحریک ہوتی ہے جس کا امتیاز تسلسل اور تبدیلی دونوں کا امتزاج ہو۔ اور سماں یہ ہو کہ ؂
    فصلِ بہار آئی ہے، لے کررُت بھی نئی، شاخیں بھی نئی
    سبزہ و گل کے رُخ پر لیکن، رنگ قدامت آج بھی ہے

    جماعت اسلامی اور خود احتسابی
    جماعت اسلامی کے حالیہ انتخابِ امیر کا ایک قابلِ غور پہلو وہ ردعمل بھی ہے جو پاکستان کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اور سیاسی ، مذہبی اور دانش ور حلقوں کی طرف سے سامنے آیا ہے۔ غالباً پاکستان کی تاریخ میں کسی جماعت کی مرکزی قیادت کے انتخاب پر ایسا بھرپور ردعمل نہیں ہوا اور یہ ملک کے سوچنے سمجھنے والے حلقوں کی جماعت اسلامی میں دل چسپی ہی کا مظہر نہیں، بلکہ کئی حیثیتوں سے ملک کی سیاسی زندگی کے کچھ پہلوؤں پر بڑی روشنی ڈالنے والا عمل ہے اور خود جماعت اور اس کی قیادت کے لیے بھی اس میں غوروفکر کا بڑا سامان ہے۔ اس لیے چند پہلوؤں پر کچھ اشارات کرنا مفید محسوس کرتا ہوں۔
    سب سے پہلے مَیں ان تمام افراد کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، جنھوں نے اپنے اپنے نقطۂ نظر سے اور اپنے اپنے انداز میں ہمارے انتخابی عمل اور نتائج پر تبصرہ کیا ہے اور جماعت اسلامی، اس کے نظام کار، سیاسی کارکردگی اور مستقبل کے کردار کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ان میں سے ہر تحریر میں ہمارے لیے سوچنے کا کچھ نہ کچھ مواد موجود ہے، اس لیے جماعت بلاتفریق سبھی نقطہ ہاے نظر سے واقفیت اور استفادے کی کوشش کرے گی۔ البتہ اس حقیقت کا اِدراک بھی ضروری ہے کہ مختلف تحریروں اور تجزیوں میں جماعت کا جو امیج پیش کیا گیا ہے، وہ حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ بہرحال ہماری جن کمزوریوں کی نشان دہی کی گئی ہے، ہمیں ان کی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے اور جو آرا غلط فہمیوں، معلومات کی کمی اور تعصب اور مخاصمت پر مبنی ہیں، ان کے بارے میں یہ کوشش ہونی چاہیے کہ مذاکرے اور بہتر ربط و ارتباط (dialogue, engagement and communication) کے ذریعے اپنے نقطۂ نظر کی توضیح و تشریح کریں۔
    صاف نظر آرہا ہے کہ جماعت اسلامی کے نصب العین، اس کے نظامِ کار، اس کی خدمات، اس کی پالیسیوں اور جو تبدیلیاں پاکستان میں لانا چاہتی ہے، ان سے صحیح معنوں میں واقفیت اور اِدراک کے باب میں بڑی کمی ہے۔ اس کی ذمہ داری بڑی حد تک خود ہم پر بھی آتی ہے کہ ہم اپنی بات قوم اور اس کے بااثرطبقات تک مناسب انداز میں لے جانے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود ہم اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ دوست اور مخالف سب اس امر کا اعتراف کررہے ہیں کہ جماعت اسلامی ہی وہ جماعت ہے، جس میں باقاعدگی سے انتخابات منعقد ہوتے ہیں، جس کے ارکان اپنی آزاد مرضی سے اپنی قیادت کو منتخب کرتے ہیں، جس میں شخصی، موروثی یا گروہی قیادت کا کوئی تصور نہیں، جس میں دولت اور سیاسی اثرورسوخ کا کوئی کردار نہیں ہے، جس میں متوسط طبقے کے افراد کو ان کی صلاحیت، دیانت، مقصدِ تحریک سے وابستگی اور وفاداری اور تحریک اور عوام کی خدمت کی بنیاد پر قیادت کی ذمہ داریاں سونپی جاتی ہیں۔
    الحمدللہ، جماعت اسلامی میں خود احتسابی کا عمل بھی زندہ ہے۔ جس میں عہدوں کی بندربانٹ بھی نہیں ہوتی بلکہ عہدے کا تصور ہی بدل گیا ہے___ یہاں قیادت کے لیے باہمی کوئی مقابلہ نہیں ہوتا اور نہ کسی کی ’فتح‘ یا ’شکست‘ کا کوئی تصور پایا جاتا ہے۔ امارت اور قیادت ایک ذمہ داری ہے جسے ارکان اپنے میں سے زیادہ سے زیادہ مناسب فرد کے سپرد بطور امانت کرتے ہیں، جو اسے عبادت کے جذبے سے انجام دیتا ہے۔ جس پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہ ادایگیِ فرض کے جذبے سے اس بوجھ کو اُٹھاتا ہے، اور جو اس ذمہ داری سے بچ جاتا ہے، وہ ایک حد تک خود کو سبک بار محسوس کرتا ہے لیکن اس کی وفاداری اور سرگرمی کا مرکز و محوریہی دعوت اور تحریک ہی رہتی ہے۔ یہ ایک دوسری ہی نوعیت کا جماعتی کلچر ہے، جس کی حکمت، تاثیر اور لذت سے وہ آشنا نہیں جو اس قافلے کے ہم سفر نہ ہوں۔

    جماعت اسلامی ’پاکستان‘ میں کیا تبدیلی چاہتی ہے؟
    جماعت اسلامی کا اصل ہدف فرد، معاشرہ اور ریاست کی سطح پر ان تبدیلیوں کو برپا کرنا ہے جو اسلام کو مطلوب ہیں۔ اس کی کوشش ہے کہ نہ صرف افراد بلکہ پورے معاشرے اور ریاست کو اسلامی اخلاق و آداب کا آئینہ دار بنایا جائے۔ اس کام کو انجام دینے کے لیے زندگی کے ہر شعبے میں ایک ایسی قیادت بروے کار لائی جائے جو اسلام کی صحیح نمایندہ ہو۔ اس کے لیے دعوت و ارشاد، تعلیم و تربیت، ترغیب و ترہیب، معاشی اور سماجی اصلاح، اور قانون اور میڈیا، سب کا استعمال اپنے اپنے دائرے میں ضروری ہے۔
    اس تبدیلی کا آغاز انسان کے قلب سے ہوتا ہے۔ اس کے فکروذہن کی اصلاح کے ساتھ اخلاق و آداب کی اصلاح، خاندان اور معاشرتی اداروں کی تشکیلِ نو اور انفرادی اور اجتماعی وسائل کا مؤثر استعمال ضروری ہے۔ اس تاریخی عمل میں فرد اور معاشرے کے ساتھ ریاست کا کردار بھی فیصلہ کن ہے۔ اس لیے جماعت اسلامی ضروری سمجھتی ہے کہ دستورِ پاکستان نے وطن عزیز کو ایک اسلامی، فلاحی اور جمہوری ریاست بنانے کے لیے جو نقشۂ کار دیا ہے، اس پر پوری دیانت اور بہترین صلاحیت کے استعمال سے کام کیا جائے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے، جب اقتدار ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں ہو، جو اپنے فکرونظر، اخلاق و کردار اور صلاحیت کار کے اعتبار سے اسلام کے اچھے نمایندے ہوں اور ریاست کے وسائل کو امانت تصور کرتے ہوئے عوام کی خدمت اور پاکستان کی اسلامی خطوط پر تعمیروترقی کے لیے استعمال کریں۔
    اسی غرض کے لیے جماعت اسلامی پُرامن، آئینی اور جمہوری طریقوں سے نظامِ حکومت کو بدلنا چاہتی ہے۔ اس کے پیش نظر پاکستان کو ایک ایسی ریاست بنانا ہے:
    * جو قرآن و سنت کے اِتباع کی پابند اور خلافتِ راشدہ کے نمونے کی پیرو ہو اور جس میں اسلام کے اصول و احکام پوری طرح کارفرما ہوں،
    *جوبُرائی کو مٹائے، نیکی کو پروان چڑھائے اور دنیا میں اللہ کا کلمہ بلند کرے،
    * جوظلم، استحصال اور اخلاقی بے راہ روی کی ہرشکل کو مٹائے،
    *جو اسلامی اقدار کی بنیاد پر معاشرے کی تعمیر نو کرے اور زندگی کے ہر پہلو میں عدل قائم کردے،
    * جوایک خادمِ خلق ریاست ہو، ہر شہری کو اُس کی بنیادی ضروریات (غذا، لباس، مکان، تعلیم اور علاج) کی فراہمی کی ضمانت دے، رزقِ حلال کے دروازے کھولے، کسبِ حرام کے دروازے بند کرے۔ تمام جائز ذرائع سے ملک کی دولت بڑھائے اور اس دولت کی مُنصفانہ تقسیم کا انتظام کرے،
    *جولوگوں کے چیخنے چلّانے سے پہلے اُن کی ضرورتوں کو سمجھے، اور فریاد سے پہلے اُن کی مدد کو پہنچے،
    *جودرحقیقت عوام کی خیرخواہ ہو اور عوام اس کے خیرخواہ، جس میں لوگوں کے تمام بنیادی حقوق پوری طرح محفوظ ہوں،
    *جوصحیح معنوں میں ایک جمہوری حکومت ہو، عوام اپنی آزاد مرضی سے جن لوگوں کو اس کا اقتدار سونپنا چاہیں، وہی انتخابات کے ذریعے سے برسرِاقتدار آئیں، اور عوام جنھیں اقتدار سے ہٹانا چاہیں انھیں انتخابات کے ذریعے سے بآسانی ہٹایا جاسکے۔
    یہ ہیں جماعت اسلامی کے مقاصد___ جو لوگ اِن مقاصد سے اتفاق رکھتے ہوں، انھیں ہم دعوت دیتے ہیں کہ وہ ان کے حصول میں ہمارے ساتھ تعاون کریں۔ (منشور جماعت اسلامی)
    جماعت اسلامی، ماضی کی طرح آج بھی فرد، معاشرے اور حکومت کی سطح پر ان تمام تبدیلیوں کو رُوبہ عمل لانے کے لیے مصروفِ عمل ہے، جو اسلام کو مطلوب ہیں اور جو ایک حقیقی اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کے لیے ناگزیر ہیں۔ ان شاء اللہ، نومنتخب امیر جماعت کی قیادت میں ہمارا سفر روزِاوّل کے سے عزم اور ایمان و ایقان کے ساتھ جاری رہے گا!
     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس