Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

لو وہ بھی کہہ رہے ہیں کہ بے ننگ و نام ہے

  1. کاش اس ملک کے رہنماؤں،حکمرانوں ، دانشوروں اور صاحبان علم میں سے کوئی ہوا جو اقوام متدتہ کے خصوصی ایلچی اور برطانیہ کے سابق وزیراعظم گورڈن براؤن کو آئینہ دکھاتا۔ اسے یاد دلاتا کہ تم لوگوں نے اپنے گھر تو تباہ کرلیے ،اپنے معاشروں میں شادی کو ایک معاشرتی اور معاشی بوجھ بناکر پیش کیا،اس مقدس ادارے کی بنیادوں اور ہیئتِ ترکیبی کومذاق بنایا، عورت کو گھر سے محبت چھڑا کر کیریئر کی سیڑھیوں پر چڑھایا،جنسی تلذذ کو پورے تعلقات کا محور بناکر اولاد کی پرورش کو ثانوی بلکہ ادنیٰ حیثیت پر پہنچایا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مفکرین ، نفسیات دانوں اور ماہرین معاشرت نے شادی کو معاشی طور پر مستحکم معاشرتی طور پر ذمہ دار اور ذہنی طور پر بلوغت کی معراج پر پہنچنے سے منسلک کردیا۔ ہر کسی نے دیر سے شادی کو کامیابی کی ضمانت قراردیا۔ برٹرینڈرسل جیسے فلسفی نے پینتیس سال سے قبل شادی کرنے کے نقصانات پردلائل کے انبار لگادیے۔ شادی کی تیاریوں میں ایک دوسرے کو جاننے، قربتوں کے سفر پر نکلنے اور ہوسکے تو جسمانی تعلق سے بھی ایک دوسرے کی چاہت کو پرکھنے کو لازمی قراردیاگیا بلکہ شادی کے لیے لکھی جانے والی رہنما کتابوں میں اس دور کو ایک سنہرا دور قراردیاگیاگیا ہے جسے وہ Courtshipکہتے ہیں۔ اس کی یادوں کو ایسا افسانہ بنایا گیا جو شادی کے تلخ ایام میں بھی رہ رہ کریادآئے۔ اس سارے ماحول میں عین عالمِ شباب میں ش ادی کو ایک احمقانہ فعل بناکررکھ دیاگیا۔ آدمی کو معاشی جدوجہد اور معاشرتی مقام کے جھنجھٹ میں الجھا کر ایک انفرادی دوڑ میں لگا دیا ۔ مرد ہو یا عورت، ہر کوئی پہلے کیریئر کی بلندیوں پر پہنچنے ، معاشی طور پر مضبوط ہو اور اپنے مستقبل کومحفوظ کرنے پر توجہ مرکوز کرے اور جب یہ منزلیں طے ہوجائیں تو شادی کی طرف آئے۔ اس دوران اس کی جسمانی ضروریات کے لیے وہ تمام اخلاقی معیارات ختم کرتے گئے جو انسانی تہذیب نے صدیوں سے اپنائے ہوئے تھے۔ کمی سنی یا نوجوانی کی شادی تو ختم ہوگئی بلکہ بہت حد تک شادی ایک معمولی ساتعلق بن کردہ گئی مگر اس طرح ان معاشروں کے ساتھ جو بیتی، وہ ایک تاریخی انسانی المیہ ہے۔ انسان کی جبلی خواہشات پر پابندی کا نتیجہ یہ نکلا کہ پورا مغرب ایسی ماؤں سے آباد ہوگیا جو کم سن تھیں،انہوں نے شادی نہیں کی تھی مگر ان کی گود میں بچے تھے۔
    امریکہ کے شہر نیو یارک میں اقوام متحدہ کا ہیڈ کوارٹر ہے اور اس ادارے کا خصوصی ایلچی گورڈن براؤن یہ اعلان کرتا ہے کہ ہم پاکستا ن میں ایسے علاقے مخصوص کریں گے جہاں کم عمری کی شادیاں نہ ہوں ۔ اسی امریکہ میں ان کم سن ماؤں کے اعداد وشمار پر نظر دوڑائیں تو روح کانپ اٹھتی ہے ۔ صرف ایک سال کے اعدادوشمار ہی پورے معاشرے کی کیفیت کا احاطہ کرنے کے لیے کافی ہیں۔ یہ سرکاری طور پر اکٹھے کیے جاتے ہیں۔ اور The Alan guttmeacher instituteاسے ہرسال اپ ڈیٹ کرتا ہے۔ اس وقت 2002ء کے اعدادو شمار میسر ہیں۔ اس سال امریکہ میں ساتھ لاکھ پچاس ہزار بچیاں یعنی جن کی عمر 18سال سے کم تھی، حاملہ ہوئیں۔ ان میں سے چار لاکھ 25ہزار بچیوں نے اولاد کو جنم دیا۔دولاکھ پندرہ ہزار نے اسقاط حمل کروایا اور ایک لاکھ دس ہزار کے حمل ضائع ہوگئے۔ ان کم عمر کی بچیوں میں سے 20فیصد ایسی تھیں جو اس سے پہلے ایک بچے کی ماں بن چکی تھیں اور 25فیصد ایسی تھیں جو اس عمر سے پہلے دو بچے جنم دے چکی تھیں اور یہ تیسرا تھا۔ ان میں سے 90فیصد بچیاں وہ تھیں جن کے ہاں اولاد شادی کے مقدس بندھن میں بندے بغیر ہوئی اور غیر شادی شدہ مائیں سب 17سال سے کم تھیں۔ ان میں سے 75فیصد ماؤں کے عشاق نے انہیں پانچ سال سے کم عرصے میں چھوڑدیا۔ بچہ پیدا کرنے کی وجہ سے یہ تعلیم چھوڑکرگھر آبیٹھی تھیں، اس لی ان کو ریاست کی رفاہی امداد کا سہارا لینا پڑا۔ ان کم سن ماؤں کے خاوند عموما ناکام عاشق، بے کار یا بہت کم کمانے والے ہوتے ہیں۔ صرف ایک ریاست کیلیفورنیا کاان کم سن ماؤں کو مستقل مدد دینے پر سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالر خرچ آتا ہے۔پوری ریاست میں ان ماؤں اور بچوں کے پیدائش کے خرچے ، ہسپتال کے اخراجات اکٹھے کیے جائیں، جن میں ان ماؤں کی نوکری چھوٹنا بھی شامل ہے توکل سالانہ خرچہ ساڑھے تین ارب ڈالر بنتا ہے۔ صرف ایک چھوٹے سے شہر اور نج کاؤنٹی کا بوجھ دو کروڑ23لاکھ ہے۔ میں اعداد و شمار سے تحریر کو بوجھل نہیں کرنا چاہتا، ورنہ یورپ کے کسی بھی مہذب اور ترقی یافتہ کہلانے والے ملک کے سرکاری ذرائع سے حاصل کی گئی معلومات اٹھالیں تو نقشہ امریکہ سے مختلف نہ ہوگا۔ خود گورڈن براؤن کا اپنابلک برطانیہ کم سن ماؤں اور خصوصا غیر شادی شدہ ماؤں کے معاملے میں پورے یورپ میں سرفہرست ہے۔
    آپ نے قانون بنادیے، آپ کے ہاں قانون پر سختی سے عمل بھی کروایاجاتا ہے لیکن انسان کی جبلی ضروریات نے تو راستہ نکالنا تھا۔ اس نوجوان نسل نے شادی کے مقدس ، اہم او رمعاشری طور پر تسلیم شدہ ادارے پر لعنت بھیجی اور بغیر شادی بچے پیدا کرنا شروع کردیے۔ کیاان سے اخراجات میں کمی آگئی ؟ کای ان سے صحت کے معیارات بلند ہوگئے؟ کیا اس سے انسانوں میں معاشرتی ذمہ داری بڑھ گئی؟ نہیں جناب نہیں، بلکہ ہو ا یہ کہ وہ سب کچھ ہوا جو شادی سے وابستہ تھا لیکن بقول مغربی دانشوروں کے ’وہ شادی کے نفسیاتی ، معاشی ، اور معاشرتی ذمہ داریوں کے بوجھ سے آزاد رہا۔ کیونکہ وہ اسے اٹھانے کے قابل نہ تھا،۔ لیکن حیرت ہے کہ ان مسلمان معاشروں کے معاشی، طبی اور معاشرتی ماہرین پر جو اسلام کا بنیادی فلسفہ نہیں سمجھ پاتے۔ اسلام اس معاشرے میںا یک احساس ذمہ داری کے تصور کو اجاگر کرتا ہے اور پورے معاشرے کو اس کا پابند بناتا ہے ۔ اس کے نزدیک ہر جنسی تعلق شادی کے رشتے سے وابستہ ہے تاکہ پوری دنیا کو علم ہو کہ سب تمہاری ذمہ داری ہے۔ اسلام اگر عدل کے ساتھ دوسری شادی کی اجازت دیتا ہے تو معاشرے میں چوری چھپے آشنائیوں ، طوائفوں اور کھیلوں سے خفیہ تعلقات سے منع کرتا ہے اور پھر مرد کو ذمہ داری کے طوفان میں لاکھڑا کرتا ہے۔ اور کہتا ہے کہ اتنے مرد بنتے ہو تو لاؤ پانی معشوقہ کو اپنے گھر، شادی شادی کرو اور پھر انصاف بھی کروا ور اگرتم نے انصاف نہ کیا تو قیامت ک دن تمھیں آدھے دھڑ سے اٹھایاجائے گا(مفہوم حدیث)۔ اسلام نے اگر جنگ میں لوندی رکھنے کی اجازت دی تو وہ بھی اس لیے کہ جس اللہ نے مرد کو پیدا کیا ہے وہ جانتا ہے کہ اس کی جبلت کیا ہے۔ دنیا کی کون سی ایسی جنگ ہے جس میں لاکھوں کروڑوں عورتیں جنسی تشدد کا نشانہ بنی ہوں اور پھر دنیا بھر میں طوائفوں کی طرح بیچی نہ گئی ہوں۔ صرف جنگِ عظیم دوم کے بعد کی تعداد گن لی جائے تو انسانیت کا سرشرم سے جھک جاتا ہے۔ اسلام کہتا ہے کہ جنگ میں عورت تمہارے ہاتھ ، آئے نہ تم اس سے جنسی زیادتی کرسکتے ہو اور نہ ہی اسے طوائف کی زندگی گزارنے پر مجبورکرسکتے ہوں۔ اتنا شوق ہے تو لاؤ اسے اپنے گھر اور پھر شرادئط دیکھو: جو خود کھاتے ہو، وہ اسے کھلاؤ،جو خود پہنچے ہو وہ اسے پہناؤ۔ لیکن اس کے باوجود بھی ہم کس قدر ظالم ہیں کہ والدین کم سن بچوں کی بے راہ روی برداشت کرتے ہیں لیکن شادی نہیں کرتے ۔ بیویاں اپنے خاوند کی گرل فرینڈ اور کھیل برداشت کرتی ہیں، سوکن نہیں اور جنگوں کی تباہی سے جنس کے بازار سجاتے ہیں ، گھرلاکر اسے پناہ نہیں دیتے۔
     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس